شکاگو تحریک اور شہادت کے تقاضے

in Tahaffuz, May-June 2013, ڈاکٹر نور احمد شاہتاز

دنیا کی دیکھا دیکھی پاکستان میں بھی ہر سال ’’یوم مئی‘‘ یوم محنت اور یوم مزدور کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ اس دن مزدور یونین جلسوں‘ جلوسوں اور ریلیوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ مزدور لیڈر تقاریر کرتے ہیں اور مزدوروں کی انجمنیں رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کرتی ہیں۔ وزیر محنت اور دیگر حکومتی ارکان کے بیانات و تصاویر اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ گویا سرکاری سطح پر مزدوروں کی پذیرائی (چند کلمات کی صورت میں) کرنے کی رسم ادا کی جاتی ہیٍ جبکہ عملی صورت حال کسی سے مخفی نہیں کہ عالم انسانیت کا سب سے زیادہ کمزور اور پسا ہوا طبقہ یہی مزدور طبقہ ہے جس کا کام سب سے مشکل اور اجرت و مراعات سب سے کم ہیں۔
وہ طبقہ جسے اس وقت عالمی سطح پر سب سے زیادہ بے وقوف بنایا جارہا ہے‘ وہ بھی شاید مزدوروں ہی کا ہے کہ ان کی مالی مشکلات کا ازالہ اور ان کی معاشی بدحالی کے سدباب کا کوئی منظم پروگرام اور کوئی ٹھوس منصوبہ‘ دنیا کی کسی بڑی سے بڑی حکومت کے پاس بھی نہیں مگر زبانی جمع خرچ کے اعتبار سے ہر ملک اور ہر حکومت ایک دوسرے سے گویا سبقت لے جانے کی کوشش میں ہے اور تو اور جو کل مزدوروں کے قاتل تھے‘ وہ آج اپنے آپ کو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ وہ جن کے ظلم و ستم نے مزدوروں کو پابند سلاسل کیا اور پھانسی کے پھندوں تک پہنچایا جن کی ہٹ دھرمی اور بربریت نے مزدور تحریک کو جنم دیا اور یکم مئی یوم مزدور قرار پایا۔ وہی آج عالمی سطح پر مزدوروں کے حامی اور ان کے سب سے بڑے ہمدرد ہونے کے دعویدار ہیں۔
یوم مئی کیوں منایا جاتا ہے‘ اس کی ایک تاریخ ہے جس کے حوالہ سے ہر سال دنیا بھر کے اخبارات میں مضامین چھپتے اور میڈیا سے پروگرام نشر کئے جاتے ہیں۔ یہ تاریخی اعتبار سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاں کام کرنے والے مزدوروں پر آج سے ایک سو دس سال قبل ڈھائے جانے والے مظالم‘ تشدد‘ بربریت اور استحصال کے خلاف مزدوروں کے منظم احتجاج کی یادگار ہے۔ پس منظر اس کا یہ بتایا جاتا ہے کہ ۱۸۲۷ء میں فلاڈالفیا کے مقام پر پندرہ یونینوں کے ایک اتحاد نے ’’مکینکس یونین آف ٹریڈ ایسوسی ایشن‘‘ کے نام سے مزدوروں کی فلاح وبہبود کے لئے کام شروع کیا اور سب سے پہلا مطالبہ یہی پیش کیا کہ مزدوروں کے ڈیوٹی کے اوقات کا تعین ہونا چاہئے ‘کیونکہ اس وقت تک مزدوروں سے غیر معینہ مدت تک روزانہ کام کیا جاتا تھا چنانچہ مذکورہ ایسوسی ایشن نے دس گھنٹے یومیہ کام کا مطالبہ کیا اور امریکہ حکومت کے خلاف پر روز احتجاجی تحریک چلائی تاکہ حکومت مزدوروں کا استحصال بند کردے‘1861ء میں امریکہ کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور کان کنوں نے بھی اپنے آپ کو منظم کرلیا 1862ء تک امریکہ میں مزدوروں کی کم وبیش بیس 20 انجمنیں قائم ہوگئیں‘ جو سب کی سب مزدوروں کے اوقات کار میں کمی کا مطالبہ کررہی تھیں‘1863ء میں سگار بنانے والے اور بحری جہازوں کے مزدور اور 1865میں اینٹیں بنانے والے امریکی مزدور بھی اس کارواں میں شامل ہوچکے تھے ‘20اگست1866ء کو امریکہ کی تمام ریاستوں کی مزدور تنظیموں کے نمائندوں نے بالٹی مور کے مقام پر جمع ہوکر ایک مشترکہ تنظیم ’’نیشنل یونین لیبر‘‘ قائم کی اور یہ طے پایا کہ اوقات کار آٹھ گھنٹے مقرر کیے جائیں اور امریکہ کی تما م ریاستوں میں آٹھ گھنٹہ یومیہ کا شیڈول نافذ کرنے کا تقاضا کیا اس مطالبہ  کے نتیجہ میں امریکہ صنعتوں سے ایسے مزدوروں کا اخراج شروع ہوگیا جو نیشنل لیبر یونین کے حمایتی یا اس کے مطالبات کے حق میں تھے اور ان کی جگہ ایسے مزدوروں کو بھرتی کیا جانے لگا جو سرکاری اوقات کے مطابق کام کرنے کو تیار تھے حکومت کی پشت پناہی نے صنعتی اداروں اور ان کے سرمایہ دار مالکوں کو دلیر کردیا چنانچہ ہزاروں محنت کش بے روزگار ہوگئے۔1873ء میں امریکہ کے شہر شکاگو میں ایک بھرپور مظاہرہ کیا گیا جو امریکہ کی تاریخ میں امریکہ حکومت کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ تھا اس میں حکومتی پالیسی اور سرمایہ داروں پر کڑی تنقید کی گئی اور ہڑتالیں شروع ہوگئیں ‘ہڑتالی ملازمین  نے صنعتوں میں کام کرنے والے ان مزدوروں کو بھی اپنی ہمنوا بنالیا جو فارغ کئے گئے مزدوروں کی جگہ کام کررہے تھے‘1875ء میں مزدور تحریک کے دس گرم کارکنوں کو جابر امریکی حکومت نے سزا موت دی اور یوں مزدوروں کے بارے میں سرکاری اور سرمایہ دارانہ امریکی نظام کا اضل رخ سامنے آیا‘ اس اقدام سے محنت کشوں میں شدید درعمل پیدا ہوا اور تام صنعتی اداروں کے مزدور امریکی ظالم حکومت کے خلاف میدان میں اتر پڑے ‘ مزدوروں کو منظم کرنے اور انہیں صنعتی انقلاب کی جانب بڑھانے کا کام امریکہ میں موجود سوشلسٹ تنظیموں نے انجام دیا‘چنانچہ1880ء میں جرمن سوشلسٹوں کی تنظیم ورکنگ مینز ملٹری سوسائٹی نے شکاگو کی مزدور تنظیموں کو سرمایہ داروں کے خلاف مسلح مزاحمت کے لئے تیار کیا‘1881ء میں انقلابیوں کے نمائندوں نے ایک سوشلسٹ تنظیم انقلابی سوشلسٹ پارٹی کے نام سے قائم کرلی تھی جس کے قائدین میں پارسز‘ اگست اسپائسز اور پیٹرسن ‘ پیش پیش تھے گویا اب مزدورں کی قیادت سو شلسٹوں کے ہاتھ میں تھی اور ان مزدور تنظیموں اور انجمنوں میں جو امریہ میں صنعتی انقلاب کے لئے راہ ہموار کررہی تھی کوئی بھی مسلم تنظیم یا مسلم لیڈر نہ تھا اورنہ کارکنوں میں مسلم عنصر کا کوئی ذکر ملتا ہے بلکہ یہ خالصا مقامی آبادی کے یہودی النسل اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی ایسی مزدور انجمنیں تھیں مذہب سے کوئی سروکار نہ تھا اور اشترا کی رہنماء اس تحریک کی قیادت اور پشت پناہی کررہے تھے۔
اکتوبر 1884 ء میں فیڈریشن آف ٹریڈ یونین نے ایک قرارداد منظور کی جس کی رو سے طے پایا کہ یکم مئی 1886ء تک اگر سرکاری طور پر ڈیوٹی کے اوقات کار آٹھ گھنٹہ کرنے کے سلسلہ میں ضروری کارروائی نہ ہوئی تو کام بند کردیا جائے گا‘ اس اعلان کے ساتھ مزدوروں کے خلاف امریکی حکومت نے تشدد میں اضافہ کردیا اور محنت کشوں پر مظالم کی رفتار بڑھادی‘ مزدوروں کی انجمنیں بدستور جلسے جلوسوں کا اہتمام کرتی رہیں‘ یکم مئی 1886ء سے قبل بھی ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا جس سے پارسز‘ اسپائز ‘فیلڈن‘ شواب اور کئی دیگر سوشلسٹ مزدور رہنمائوں نے خطاب کیا یکم مئی 1886 ء کو ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے ہوئے تین مئی کو پکاروس بہروکس نامی ادارہ کے ہڑتالی ملازمین نے احتجاجی جلسہ کیا جس پر امریکہ پولیس فورس نے لاٹھی چارج کردیا اور پھر فائرنگ کر کے پانچ مزدوروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرڈالا۔
چار مئی کو ان ہلاک و زخمی ہونے والے مزدوروں کے حق میں شدید مظاہرے ہوئے ایک مرکزی احتجاجی جلسہ سے مزدوروں کے نمائندے فیڈن خطاب کررہے تھے کہ پولیس نے مداخلت کرکے زبردستی جلسہ ختم کرانے کی کوشش کی اسی اثناء میں زور دار شیلنگ شروع ہوگئی اور ایک بم مجمع میں پھینک دیا گیا، پولیس نے گرفتاریوں شروع کردیں اور سوشلسٹ مزدور رہنمائوں مسٹر اگست اسپائز ‘ ایڈوولف فشر‘ مائیکل شواب‘ سیمو یل فیلڈن‘ جارج رینجل وغیرہ کو گرفتار کرلیا اور ان پر مقدمات قائم کردیئے گئے۔
19اگست1886ء کو عدالت نے گرفتار شدگان میں سے سات افراد کو سزا موت اور ایک کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی‘ رحم کی اپیلیں کی گئیں اور عام معافی کے لئے تحریک چلی مگر اس کے باوجود 11نومبر 1887ء کو پاسز‘ اسپائز‘ فشر اور رینجل کو پھانسی دے دی گئی اب سر سال عالمی سطح پر ان مزدوروںکی اس تحریک اور محنت کشوں کے حقوق کے لئے جدجہدو کرتے ہوئے مارے جانے والے یا پھانسی پانے والے مزدور لیڈروں کی خدمات کو سراہنے کی خاطر یوم مئی منایا جاتا ہے‘ انتہائی مختصر الفاظ میں یہ یوم مئی کا تاریخی پس منظر ہے پاکستان میں سر سال یوم مئی کے موقع پر میڈیا سے مزدوروں کے لئے خصوصی پروگرام نشر ہوتے ہیں ‘ اخبارات و جرائد میں مضامین شائع ہوتے ہیں ‘ دانستہ  یا نا دانستہ طور پر شکاگو (امریکہ) میں چلنے والی مزدور تحریک میں مارے جانے والے مزدورں کو شہدائے شکاگو کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے‘ میرے سامنے گزشتہ چند برسوں کے یوم مئی کے اخبارات کے ایڈیشن ہیں ان میں سے ایک یکم مئی 1991ء کا خصوصی ایڈیشن ہے جس میں محنت کش عوام کی کامیاب لڑائی کا یادگار دن کے عنوان سے ایک مضمون ہے‘ مضمون نگار(سوار خان) محنت کشوں کی کامیاب لڑائی کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

3مئی کو پکاروس ابہروکس نامی ادارے کے ہڑتالی مزدوروں پر پولیس نے حملہ کرکے پانچ مزدوروں کو شہید اور بیسیوں کو زخمی کردیا‘ 4مئی کو مزدوروں نے اپنے شہید اور زخمی ہونے والے ساتھیوں کی حمایت میں بہت بڑا جلوس نکالا۔

ایک مضمون نگار محمد اشرف عباسی یوم مئی کی عظمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیںآج شکاگو کے شہداء کی یاد میں پوری دنیا میں یوم مئی کے موقع پر بڑے اجتماع، جلسے ،جلوس اور ریلیاں منعقد کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔

ایک اخبار میں ماضی کے ایک سابق وزیر محنت کا بیان ان الفاظ کے ساتھ شائع ہوا ہے

’’شکاگو کے شہیدوں کو سرخ سلام‘‘ریڈیو اور ٹی وی پر یوم مئی کی مناسبت سے پیش کئے جانے والے پروگراموں میں بھی بعض مقرریں شکاگو کے ان سوشلسٹ مزدوروں کے لئے شہید کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو مزدور تحریک میں جاں بحق ہوئے‘ ہمارا  خیال ہے کہ میڈیا سے اس طرح کے بیانات و کلمات کا استعمال نا دانستگی ہی میں ہوتا رہا ہے کیونکہ ایک مسلم ملک کے میڈیا کے ذمہ دار اور کار پرداز ان یہ بات ضرور جانتے ہوں گے کہ شہید کا لفظ اسلام ہی نے متعارف کروایا اور یہ صرف مسلمانوں ہی کے لئے مخصوص ہے شہید کی تعریف عربی زبان کے معروف کتاب العرب میں یوں بیان ہوئی ہے شہید کے معنی ہیں اﷲ کی راہ میں قتل کیا جانے والے اور شہید کو شہید اس لئے کہا جاتا ہے کہ اﷲ اور اس کے رسول اور اس کے فرشتے اس کے جنتی ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور شہید کا مرتبہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر  موجودہ امتوں کے احوال پر گواہ بنیں گے ‘ شہید وہ ہے جو اﷲ کے لئے اور اس کے نام کی سربلندی کے لئے میدان جہاد میں مارا گیا ہو۔
احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم میں شہید کے معنی ایک ایسے شخص کے ہیں جو کفار  کے ساتھ جنگ کرکے اپنی جان اﷲ کی راہ میں قربان کردے اور اپنے ایمان پر سچائی کی مہر لگادے ‘ شہیدوں کے لئے حدیث رسول میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ وہ جنت کے اعلی مقامات پر فائز ہوں گے ۔
امام مالک رحمتہ اﷲ علیہ کے نزدیک شہید وہ مسلم ہے جو مشرکین سے جہاد کرتے ہوئے مارا جائے۔
امام احمد بن حنبل کے نزدیک شہید کی تعریف یہ ہے کہ ایسا مسلمان جو دشمنوں کے ہاتھوں لڑائی میں مارا جائے۔
مندرجہ بالا اقوال و احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی کہ شہید کا لفظ صرف مسلمان کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے غیر مسلم یا یہود مقتول کے لئے نہیں‘ شہید کے مفہوم میں احادیث نبوی سے وسعت بھی ثابت ہوئی ہے مثلا یہ کہ جو کوئی مسلمان پیٹ کے مرض میں مرجائے یا مرض طاعون میں انتقال کرجائے یا فاقہ کشی ‘ پیاس‘ غرقانی ‘ زندہ درگو‘زہر خوانی یا آسمانی بجلی گرنے کے نتیجہ میں مر جائے وہ بھی شہید کے مفہوم میں داخل ہے مگر جومرتبہ میدان جہاد میں مارے جانے والے شہید کا ہے وہ ان سب کا نہیں ‘ ایسی طرح کوئی مسلمان سفر حج  میں انتقال کرجائے یا دیار غیر میں بے یارو مددگار مرجائے یہ بھی شہادت کے زمرے میں ہے ‘ مگر یہاں بھی اسلام شرط ہے اور یہ شہادت بھی جہاد فی سبیل اﷲ والی شہادت کے برابر نہیں گویا مرتبہ شہادت پانے یا شہید کہنے کہلانے کے لئے جو شرطیں ہیں ان میں سے شرط اول مسلمان ہونا ہے۔
ممکن ہے کوئی شخص یہ کہے کہ چونکہ 1886ء کے مزدوروں نے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کی اور اپنے حق کے لئے لڑنا جہاد ہے اور جہاد میں مارا جانے وانے والا شخص شہید ہے لہذا شکاگو میں مرنے والے شہید ہوئے تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ اولاً تو اپنے حق کے لئے جدوجہد کرنا بھی اسلام ہی میں جہادکہلائے گا اور غیر مسلم کا کسی بھی مقصد کے لئے لڑنا جہاد نہیں اور نہ کسی غیر مسلم کا مارا جانا اسے شہادت کے درجہ پر فائز کرسکتا ہے کیونکہ اس کا تعلق صرف اسلام سے ہے نہ کہ ہر قوم و مذہب کے لئے۔
یوم مئی کے موقع پر سرخ سلام کے الفاظ بھی سننے میں آتے ہیں‘ حالانکہ اسلام تو سلامتی کی دعا کا نام ہے اور دعائیں نہ سرخ ہوتی ہیں نہ سبز‘ پھر السلام اﷲ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کے ساتھ سرخ یا سبز کا استعمال کسی صورت بھی جائز نہیں کم از کم اہل اسلام تو ایسی حماقت نہیں کرسکتے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ہم ہرچیز دیگر اقوام سے بلا سوچے سمجھے لے کر اپنا لیتے ہیں‘ سلام نہ سرخ ہے نہ سفید سلام تو امن و سلامتی کے فروغ کے لئے ایک کلمہ خیر ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ یوم مئی کے موقع پر غیر ذمہ دارانہ بیانات ‘ کافرانہ رسومات اور مشرکانہ کلمات کے استعمال سے مکمل اجتناب کیا جائے‘ اپنی ثقافت اور اپنے دستور حیات کے مطابق محنت کی عظمت کو اجاگر کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر مغرب کی اندھی تقلید کہاں کی دانشمندی ہے۔
یوم مئی دراصل ایسی قوتوں کے خلاف نفرت کے جذبات کے اظہار کا موقع ہے جنہوں نے اسلام کی ابدی تعلیمات سے منہ موڑ کر مزدوروں پر ظلم کیا جو 1886 ء میں بھی اسلام کے سنہری اصولوں کے خلاف چل رہی تھیں اور مزدوروں کے استحصال کا باعث بن رہی تھیں اور جو آج بھی اسلام کے نظام عدل اجتماعی کے خلاف سرگرم عمل ہیں اور آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کا استحصال کر رہی ہیں‘ نبی کریم صلی علیہ وسلم کی تعلیمات ہی وہ واحد راستہ ہے جن پر چل کر مزدور آقا بن سکتا ہے اور آقا غلاموں کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے‘ اس نظام کے علاوہ کسی اور نظام میں عدل تلاش کرنا عبث ہے۔
یوم مئی موقع ہے 1886ء کی اس ظالم فکر اور نظام کے خلاف احتجاج کا جس نے اس دور میں کمزوروں کی آواز دبانے کے لئے طاقت کا استعمال کیا اور جو آج بھی کمزوروں کی آواز دبانے کے لئے طاقت کے استعمال پر یقین رکھتی ہے۔
یوم مئی موقع ہے ان طاقتوں کے خلاف جذبات نفرت کے اظہار کا جنہوں نے مزدوروں کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے قبل ادا کرنے کے اصول کو1886ء میں بھی پامال کیا اور جو آج بھی ایسے سنہری اصولوں کی پامالی کے درپے ہیں۔
عالم اسلام کے مسلم مزدوروں کو مبارک ہو کہ ان کے ہادی و رہنما حضرت محمد ﷺنے خود محنت  کی ‘ مزدوروں کی طرح پتھر اٹھائے اور مزدوروں کے حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے ایسے اصول و ضوابط مقرر کیے کہ جو ہر دور میں انسانیت کی فلاح اور مزدوروں کے حق کی بقاء کا سامان فراہم کرتے رہیں گے۔
یوم مئی کے موقع پر اسلامی دنیا کے آجروں کو سوچنا چاہئے کہ ان کے زیر اثر کام کرنے والے مزدور کیا اسلام کے مقررہ اصولوں کے مطابق اپنی محبت کا اجر پارہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم شکاگو کے مزدوروں پر ہونے والے ظلم کے خلاف تو واویلے سراپا احتجاج بنے اور پھانسی کے پھندوں تک پہنچے۔
یوم مئی اسلامی ملکوں کے سربراہوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص کلچر اور اپنے سچے مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے ملک کے مزدوروں کے لئے ایسی آسائشیں اور مراعات مہیا کریں کہ دنیا بھر کے مزدور یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ مزدور کی قدر صرف اور صرف اسلام جانتا ہے یا مسلمان ۔مجھے اسلامی دنیا کے باسیوں سے یہ کہنا ہے کہ وہ یوم مئی محنت سے منائیں مگر اسلامی اقدار کو نہ بھولیں مسلمانوں کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ اپنے شعائر کی حفاظت کریں اور کسی کو ان شعائر کی بے حر متی یا غلط استعمال کی اجازت نہ دیں۔