عیسائی پوپ بینڈکٹ

in Tahaffuz, May-June 2013, سید رفیق شاہ

کیتھولک عیسائی فرقے کے265 ویں پوپ بینڈکٹ نے 11 فروری 2013ء کو پوپ کے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ گزشتہ 600 برس میں مستعفی ہونے والے پہلے اور عیسوی تاریخ کے چھٹے پوپ ہیں۔ کیتھولک عیسائی فرقے میں پوپ اپنے انتخاب سے تامرگ پوپ ہی رہتا ہے۔ چرچ قوانین کے مطابق پوپ استعفیٰ دے سکتا ہے۔ استعفیٰ کسی فرد یا کمیٹی (فورم) کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ خود سپریم اتھارٹی ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا فیصلہ سنانا ہی حتمی شمار ہوتا ہے۔ عیسوی تاریخ میں سب سے مختصر ترین مدت کے متنازعہ عمر رسیدہ پوپ کا استعفیٰ 28 فروری 2013ء رات آٹھ بجے سے شمار کیا جائے گا۔ پوپ کا انتخاب 19 اپریل 2005ء کو ہوا تھا۔ پوپ بینڈکٹ اسلام مخالف شمار ہوتے ہیں۔ اسلامی ملک انڈونیشیا کے عیسائی اکثریتی علاقے مشرقی تیمور میں خود مختار عیسائی ریاست مشرقی تیمور کے قیام میں ان کا منفی و بنیادی کردار تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، وہیں 12 ستمبر 2006ء میں جرمن یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے نبی کریمﷺ، اسلام اور جہاد پر تنقید کرکے دنیا بھر بالخصوص عالم اسلام میں خود کو متنازعہ ترین پوپ ثابت کردیا تھا۔ ماضی کے برعکس مستعفی پوپ کے شہرت اچھی نہیں رہی۔ دنیا میں مختلف مذاہب سے وابستہ افراد میں امن، بھائی چارے، رواداری کے فروغ کے بجائے ایک مخصوص فکر و نظریہ کا پرچار کیا۔ اسلام مخالف نظریہ ان پر غالب رہا۔ گزشتہ دنوں جب ایک پادری نے قرآن پاک کو نذر آتش کیا اس پر پوپ صاحب نے سردمہری کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح یورپی ممالک میں آزادی اظہار کے نام پر حضرت محمدﷺ کی ذات بابرکات پر تنقید کی گئی۔ کارٹون و فلم بنائے گئے۔ قرآن اور تعلیمات محمدیﷺ کو دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے جوڑ کر مسلمانوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا گیا۔ ان کے ساتھ سفر و تجارت، لین دین سے گریز کیا، وہیں مساجد اور اسلامک سینٹروں پر حملے کئے گئے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود پوپ صاحب نے اپنا فرض منصبی ادا نہیں کیا۔ تاریخ میں انہیں اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا جائے گا۔