مغربی وہند وانہ رسم ورواج اور تہذیب وتمدن نے اسلامی تہذیب وتمدن اور مشرقی روایات کو دھندلادیاہے جس کے نتیجے میں ویلنٹائن ڈے ،بسنت ،اپریل فُول جیسے لایعنی وفضولیات پرمبنی ایام مناناہمارے معاشرے کا لازمی جزبن چکا ہے ۔الیکڑانک وپرنٹ میڈیا ،ملٹی نیشنل کمپنیاں اور مغرب سے مرعوب اشرافیہ اس کے فروغ میں دن رات مصروف عمل ہے لاکھوں وکڑوڑوں روپے تفریح کے نام پر اس میں جھو ک دیئے جاتے ہیں مال ودولت کے اسراف کے علاوہ کئی قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہے جس کا کوئی پرسان حال وجواب دے نہیں ہوتاہے ۔اپریل فول بھی ان ہی فضولیات میں سے ایک دن ہے جھو ٹ بولنے اوردھوکہ دینے کے عمل کو تفریح وشغل قرار دیا جاتاہے ۔اپریل فول ہرسال یکم اپریل کومنایاجاتاہے اس رسم کی ابتداء اور کب اور کیسے ہوئی مورخین حتمی رائے قائم کرنے سے قاصر ہیں اور نہ ہی اس سے متعلق معلومات کتب تاریخ میں دستیاب ہیں۔فرانس میں سترھویں صدی سے پہلے سال کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوتاتھا ۔اس مہینے کو رومی اپنی دیوی وینس کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھتے تھے وینس کا ترجمہ یونانی زبان میں Aphroditeکیا جاتا تھا اور شاید اسی یونانی سے مشق کرکے اپریل ہوگیا اسی انسائیکلو پیڈیابرٹینکا (encyclopedia britannica )کے مطابق 21مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوجاتی ہیں اِن تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا کہ قدرت ہمارے ساتھ مذاق کرکے ہمیں بے وقوف بنارہی ہیں (معاذ اﷲ) ایک اور وجہ اس دن سے متعلق انسائیکلو پیڈیابیلاروس نے بیان کی ہے ۔یہودیوںاور عیسائیوںکی بیان کردہ روایات کے مطابق یکم اپریل وہ تاریخ ہے جس میں اہل روم اور یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوتمسخیر کانشانہ بنایاگیا ۔انجیلوں میں اس واقع کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں الوفاانجیل کیمطابق جو آدمی اسے (حضرت مسیح علیہ السلام )گرفتار کئے ہوئے تھے اس کوہنسی ومذاق میں اڑاتے اور اس کی آنکھیں بند کرکے اس کے منہ پر طمانچے مارتے تھے اور اس سے یہ پوچھتے تھے کہ نبوت (یعنی الہام )سے بتاکہ کس نے تجھ کو مارا اور طعنے مارمار کر بہت سی اور باتیں اس کے خلاف کہتے ۔اپریل فول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کامذاق اُڑانے اور تکلیف پہنچانے کی بھی یاد گار ہے ۔مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام اﷲتعالیٰ کے حکم سے آسمان پر اٹھالیے گئے ہے اور قیامت قریب میں حضرت امام مہدیصکے زمانے میں دوبارہ زمین پر نزول فرمائیں گے شریعت محمدی کی پابندی کرینگے ،قرآن مجیدکے سواتمام آسمانی کتابیں وصحیفے منسوخ ہوچکے ہے ۔تاریخ اسلام کا اہم المناک واقعہ جسے مسلم مفکرین نے نظر اندازکیا وہی مغربی مورخین ومحققین نے عیسائی دنیاکے ماتھے پر لگا سیاہ داغ کو دانستہ طور پر تاریخ کا حصہ نہیں بنے دیا اُندلس( مسلم اسپین) میں جب مسلمان آٹھ سوسال کے اقتدار کے آخری ایام میں عیسائی جنگجوؤں کی بربریت اور دہشت سے اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہے گئے تو عیسائی جنگجوؤ ںنے مسلمانوں سے ہمیشہ کیلئے نجات کیلئے مسلمانوں کوپیغام دیاکہ وہ ضروریات زندگی کا سامان لے کر ساحل سمندر پر لنگر انداز جہاز کے ذریعے جہاں چاہے چلے جائیںمسلمان اپنے گھر بار چھوڑ کر ساحل سمند ر کی طرف جارہے تھے تو ان کے سامنے ہی عیسائیوں نے ان کے گھروں اورباقی بچے کوچے سامان کو لوٹ کر آگ لگادی مسلمان جہاز پر پہنچے تو ان جہازوں میں سوراخ کرکے انھیں ڈبودیاگیا،یہ دن یکم اپریل تھا ۔
محقق ومذہبی اسکالر علامہ نسیم احمد صدیقی کے مطابق مسلم مفکرین نے اسے نظر انداز نہیں کیا بلکہ صرف ایک واقعہ کی حدتک محدود رکھا، اس دن کو اسپین کی مسلمانوں سے آزادی اور ان کے آٹھ سوسالہ اقتدار سے حتمی خاتمے کا دن قرار دیا ان کے خیال میں مسلمانوں کو چالاکی اور دھوکے سے شکست دی اس لئے وہ یکم اپریل کو فول ڈے یعنی بے وقوف بنانے کا دن کہتے ۔ان حوالوں کی روشنی میں ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اپریل فول کو جہاں جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے کی تاریخ سے یاد کیا جاتا ہے وہ ہی کفریاں عملیات اور ایام کی یادسے منسلک ہیں جھوٹ فساد کے جڑ ہے ایک جھوٹ چھپانے کیلئے سوجھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور مذاق میں بھی جھو ٹ ودھوکہ دینا دونوں اسلام میں ناجائز وحرام ہے بدقسمتی سے ہمارے معاشرے سے حلال وحرام کے امتیازات ختم ہوچکے ہے اچھی باتیں ونصیحتیں کان میں چبنے لگتی ہے ۔بغیر سوچے سمجھے کسی بھی تہوار و رسم میں شریک ہوجانافیشن بن چکاہے ۔چندلمحوں کے زبان کے چسکے کی خاطر ہر حدود وقیو د پار کر جاتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے جب حقیقت سے آشنائی ہوچکی ہے تو ایسے ایام وتہواروں سے اپنے آپ کو دُور رکھیں جس سے ہماری تہذیب و تمدن اعلیٰ اخلاقی وروحانی قدروں پر آنچ آتی ہوں۔