اسلام اور سیاست

in Tahaffuz, April 2013, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

اسلام اور سیاست ایک ایساعنوان ہے جیسے الگ نہیں کیا جاسکتا۔اگر اسلام سے سیاست کونکال دیاجائے تو اس کا مطلب اسلام کو بے روح کردیاجائے ۔حضرت شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی نے لکھاکہ فردکی بنیادتین چیزوں پرہے ۔معاشرت ،معیشت اور سیاست ،فلسفہ سیاست کابنیادی تصور ریاست ہے ۔تمام سیاسی خیالات وکردار بلاواسطہ یابالواسطہ اسی سے وابستہ ہیں ۔ریاست ازل سے موجود نہیں اور نہ آسمان سے اُتری ہے ۔وہ انسان کابنایاہواسماجی معاشرہ ہے ۔بغیر کسی قاعدے قانون کے معاشرہ اپنے فطری تقاضے پورے نہیں کرسکتا لہٰذایہاں حکومت اور ریاست لازمی ہے عہدرسالت میں اسلامی فلاحی ریاست کاقیام درجہ بہ درجہ مدینہ منورہ سے ہوا۔پہلی اسلامی ریاست میں آپ علیہ السلام نے امور خارجہ ،دفاع،تجارت عدل وانصاف ،قانون ،صحت ،صنعت ،تعلیم وحقوق انسانی سے متعلق واضح نظام ریاست بنایابلکہ دنیاکوامور حکومت چلاناسکھایا۔بعدازاں خلفائے راشدین کے ادوار میں یہ نظام اور مربوط ومنظم ہوااور حقوق انسانی کوتحفظ حاصل ہوابلکہ جانوروںکو بھی حقوق دیئے گئے جس کی دنیاکے کسی نظامِ ریاست میں مثال نہیں مل سکتی ۔ معاشرے اور ریاست کے حوالے سے مفکریں کے دوطبقے پائے جاتے ہیں۔ایک گروہ کاخیال ہے کہ اسلامی ریاست کے قیام سے پہلے اسلامی معاشرہ ضروری ہے ۔اسلامی معاشرہ ہی نہیں ہوگاتواسلامی ریاست کیسے قائم ہوگی ۔جبکہ دوسرے گروہ کی رائے یہ ہے کہ اسلامی فلاحی ریاست قائم کرکے معاشرے کواسلامی اقدار کاپابندبناکر مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔معاشرہ وقت کے ساتھ بدلتارہتاہے ۔لہٰذا اس کے قوانین بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔اسلامی ریاست الہامی قوانین پر ہوتی ہے جوکہ بدلتے نہیں تاہم ان قوانین کے نفاذمیں اجتہادی طریقہ کار اور فطرت کے مطابق بہتری لائی جاتی ہے جس میں افراد وریاست دونوں کو فائدہ ہوتاہے ۔وہ ریاست ہی ہے جس کے ذریعے ایک ملک کے باشندے ایک باقائدہ حکومت کی شکل میں اپنا اجتماعی نظام قائم کرتے ہیں ۔قرآن پاک اس اہم ادارے کے لئے واضح ضابطہ اخلاق فراہم کرتاہے ۔اسلام اخلاقی اقدار اور سیاست کے مابین تعلق کوایک بنیادی حقیقت کے طور پر پیش کرتاہے یہی وجہ ہے کہ اسلام میں دین اور سیاست دوعلیحدہ چیزیں نہیںاسلامی سیاست ہی بکھری قوم کو یکجاکرسکتی ہے اسلام کااپنامعاشرتی معاشی اور تہذیبی و تمدنی نظام ہے۔اپنافوجداری اور دیوانی قانون ہے ۔ریاست کاحسن اُس کاجمہوری اورشورائی مزاج اور ریاست کی حدود میں رہنے والے ہر فردِمسلم اور غیر مسلم کومساوی ریاستی وبنیادی حقوق کاحاصل ہوناہے ۔جبکہ سیکولرازم اور مغربی طرزِسیاست مادر پدر اخلاقی اقدار سے آزاد ہوتی ہے ۔انقلاب ِفرانس سے قبل چرچ کی اجاراداری کے خلاف فرانسیسی فلسفی  وولٹائر ، جس نے۱۷ ویں ۱۸ و یں صدی عیسوی دیکھی یعنی ۱۷ویں صدی کے آخری میں پید اہوا۱۸ویں صدی میں انتقال ہوا۔نوے (۹۰)جلدوں میں فلسفہ سائنس پرکتابیں لکھیں ۔وولٹائر نے فکردی کہ مذہب انسان کا ذاتی عمل ہے اگرچاہے تو بت پرستی کرلے اور چاہے تو الہامی مذاہب اختیار کریں یہ انسان کا ذاتی عمل ہے ،اور نہ حکومت کااور نہ سیاست کامذہب سے کوئی تعلق ہے ۔اسی نظریہ کی بنیاد پر سیکولرازم کوفروغ دیاگیا۔انقلاب فرانس کے نتیجے میں یہ نظریہ پورے یورپ میں پھیلادیاگیا کہ دین اور سیاست علیحدہ ہے ۔

اسلام اور سیاست میں تفریق

نبی کریم ﷺاورخلفائے راشدین کے بعد مسلمانوں کی سیاسی تعلیم وتربیت کی جانب کماحقہ توجہ نہیں دی گئی ۔خلافت راشدہ کے تکمیل(خلافت منہاج النبوہ ۳۰ سال ہیں) اور ملکوکیت وبادشاہت سے اسلام کی اصل روح دھند لاگئی ۔عوام کو جذباتی نعروں اور اشخا ص کے گرد گھمایاجاتارہا۔تہذیبی وسیاسی قدریں کمزور سے کمزور ہوتی چلی گئی ۔نتیجہ وہ سیاسی (ریاستی )امور سے لاتعلق ہوتے گئے بلکہ یہ دانستہ طور پر کیا گیا۔ 1884ء؁میں انڈونیشیاپر ہالینڈکا قبضہ تھا اور وہ اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا تھا کہ ایک نو مسلم ’’ہیروگرونک ‘‘نامی شخص کو مکہ معظمہ بھیجا تاکہ وہ اسلامی علوم میں مہارت حاصل کرے ،یہ شخص جب مکہ معظمہ سے واپس آیا تو استعمار (انگریز) نے اس کو انڈونیشیا کے فوجی حکمرانوں کا قومی مشیر مقررکردیا ۔اس نے فوری طور پر تعلیمی پروگرام وضع کرکے نافذ کیا اس منصوبے کاخلاصہ یہ ہے کہ اسلام کوعام اور خاص دوحصوں میں تقسیم کیاجائے ۔دین کوسیاست سے الگ کردیاجائے اس نے نظام حکومت چلانے والوں کومشورہ دیاکہ وہ دینی طبقہ جو معاشرتی مسائل وسیاسی امور میں مداخلت نہیں کرتااُن کے ساتھ خصوصی طور پر پیش آیاجائے اور اس کے برعکس وہ لوگ جو معاشرتی وسیاسی مسائل کا ادراک رکھتے ہیں اور ا س میں دخل دیتے ہے ان کے مقابلے میں لبرل ازم کے علمبردار ہی کافی ہیں روشن خیالی کے نام پر مسائل کا ادراک رکھنے والے دینی طبقے کی حوصلہ شکنی کی جائے انہیں قومی وملکی ترقی میں رکاوٹ تصور کروایاجائے ۔اسی پروگرام کے مطا بق دین میں سیاست اور سیاست میں دین نہیں یہ نظریہ باقی اسلامی ممالک میں پھیلادیا گیا۔بالخصوص اُن ممالک میں جو کہ سامراج (انگریز )کے زیر اثر تھے ا س فکر کو برصغیرپاک وہند میں سرسید احمد خان نے پروان چڑھایاپھر کیا تھا آج اچھے خاصے عوام تو عوام علماء اورعقل وفہم رکھنے والے بھی گفتگواور دوران خطاب اپنے آپ کو غیر سیاسی کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ سیاست دین سے جدانہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے ۔اسلام میںسیاست سے متعلق واضح احکامات موجود ہیں اگرکہناچاہے تو یہ کہہ کہ ہم موجودہ انتخابی سیاست اور موجودہ ماحول جسمیں مکار قسم کے لوگ سیاست میں شامل ہوگئے اُس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہم اسلامی فلاحی ریاست کے حصول پر مبنی سیاست کے حامی ہے مگر افسوس کہ وہ لوگ جو کہ دین کی اصل روح سے اپنے آپ کو لا تعلق رکھتے ہیں وہ دینی فہم وفراست سے محروم ہے اس طرح مسلمان کئی طبقوں میں بٹ گئے تو کچھ لوگ ذکروں اذکا ر کی محافل تک محدود ہوگئے توکچھ لوگوں نے اپنے آپ کو عقائد کے پرچار کے لئے وقف کرلیا تو کچھ مسائل شرعیہ کی ترویج واشاعت میں مصروف ہوگئے اس طرح مسلمانوں کا عظیم اور اہم طبقہ اس سے لاتعلق ہوگیا کہ ہمارے حکمراں وسیاست داں کیاکررہے ہیں،ہمارے ملک میں کیاہورہاہے اور یو اسلامی وحدت ختم ہوگئی ۔دشمنان اسلام اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ۔اُمت مسلمہ میں سیاسی شعور ختم ہوگیا یاکردیاگیا،چھوٹی چھوٹی باتوں میں جنگ وجدل اور آپس میں تقسیم ہونے لگے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سازشوں ،خودغرضی اور مالی مفادات کے حصول نے اخلاقی اقدار ختم کردیئے جس سے ملی ،مذہبی اور اجتماعی مفادات کوشدید نقصان پہنچا ۔ہم پاکستان سے باہر کی دنیا میں نظر دوڑائیں تودیکھیں مسلمان پھر عرب وعجم میں تقسیم ہوگئے ۔گذشتہ دنوں افریقی ملک لیبیا کی اندرونی سیاسی خلفشار میں امریکی ومغربی ممالک کی بے جامداخلت اور کرنل قذافی کے قتل پر عرب لیگ کی حمایت اور دوسری طرف عوامی بغاوت کے نتیجے میں عرب ملک تیونس کے مفرور صدر کی سعودی عرب میں پناہ پاکستان میں جاسوسی اور پاکستانیوں کے قتل میں ملوث گرفتار امریکی ،سی ۔آئی ۔اے کے ایجنڈ ریمنڈڈیوس میں سعودی عرب کی خصوصی دلچسپی اور مغربی طاقتور کے وفادار سیاستدانوں اور مقتدر قوتوں کی سرپرستی میں اُس کی باوقار رہائی ہمارے سامنے ہیں ۔ہم اسلامی طرز سیاست ومعاشرت کے خواہشمند تو ہیں مگر غیر سیاسی کے نعرے مسلسل بلند کرکے خود کو سیاسی امور سے لاتعلق رکھ کر سیاست کو پیشہ ور سیاست کاروں کے سپرد کرکے اسلامی معاشرے کی کوششوں کا پر فریب دعویٰ کیا معنی رکھتاہے ۔حضرت فاروق اعظم صکی سیرت بیان کرتے ہوئے کہا جاتاہے کہ وہ بیس لاکھ مربع میل رقبے پر حکمراں تھے اور سب سے زیادہ فتوحات بھی حضرت عمر فاروق صکے دور میں ہوئی کیا حضرت عمرفاروق ص نے فتح شدہ علاقے یونہی سابقہ طریقے پر چھوڑ دیئے یا اسلامی فلاحی ریاست کاحصہ بناتے ہوئے اسلامی فلاحی ریاست کے احکامات جاری کئے؟معرکہ کربلامیں حضرت امام حسین صاور یزیدکے درمیان کیا ایمان کفرکی جنگ تھی ؟نہیں بلکہ یزید جس نے ملوکیت کی انتہا پر پہنچ کر اسلامی معاشرے کو کھوکھلاکردیا ،حدود اﷲکی خلاف ورزیاں، شریعت ِمحمدی ﷺمیں تبدیلی ،حرام وحلال کے امتیازات کو ختم اور عوام کو محکوم بناکر محاصل(ٹیکس )اپنی ذا ت اور امراء پر خر چ کرتاتھا ۔اس ماحول میں عوام کی دعوت واصرار پر امام حسین صنے اسلامی تہذیب اور سیاسی قدروکی بحالی کیلئے کربلا کاسفر کرکے یزیدی سیاست کوہمیشہ کیلئے ملیامیٹ کرکے دین نبی ﷺکی بالادستی اور اسلامی فلاحی حکومت کی بحالی کیلئے اپنی اوراپنے رفقاء کی قربانیاں دی ۔یہ سیاست نہیں توکیاہے ۔ہم بھول گئے کہ جغرافیائی اعتبارسے دنیا کی سب سے بڑی ریاست (حکومت )خلافت ِعثمانیہ جو کہ دوسوسال پر محیط تھی ۔اس کے روح رواں بھی راسخ العقیدہ مسلمان ہی تھے ۔خلافت عثمانیہ کاخاتمہ عیسائی جنگوں کی کارستانی تھی (موجودہ مغربی وامریکی ونیٹو) خلافت عثمانیہ ترکی سے نکل کریورپ کو متاثرکررہی تھی اور آنے والے وقت میں پورایورپ خلافت عثمانیہ کے ماتحت ہوسکتاتھا۔

اسلامی نظام سیاست ہی کیوں ؟

فی زمانہ اسلامی ریاست وسیاست پربڑے بڑے مباحثے سیمینار کانفرنسزاور لٹریچرزکے ذریعے ایک گروہ نظام سیاست کو اسلام سے آزاد اور ایک گروہ اسلامی نظام سیاست پر دلائل دیتا ہے ۔آئیے ! اسلامی نظام سیاست اور دیگر نظام کا مختصراًسرسری جائزہ لیں ۔

سیکولرازم

سیکولرازم کی تحریک کا باقاعدہ آغاز1832ء ؁میں ہوا جب جیکب ہولیگ نے سیاست کو مذہب سے جدارکھنے کے نظریہ کا پر چار شروع کیا ۔سیکولرسیاست جو اپنے معاملات چلانے کیلئے مذہبی اور الہامی ہدایت پر عمل نہیں کرتی بلکہ عقل مفاہمت ،مصلیحت پر اعتماد کرتی ہے ۔اُن کا کہنا ہے کہ مذہب ہرشخص کاانفرادی معاملہ ہے لہٰذا مذہب کادائرہ انفرادی زندگی تک محدود رکھناچاہیے ۔ابتداء صرف مذہبی معاملات میں غیر جانبداری تھی بعد میں اس تحریک کا ایک حصہ مذہب مخالف جارحانہ مادیت پرست اور اشتراکیت کا داعی بن گیاجس نے مغرب کو اخلاقی وروحانی طور پرشدیدنقصان پہنچایا۔جبکہ اسلام اخلاقی اقدار وکردار پرمبنی فلاحی معاشرے کے قیام اور انسانی ہمدردری ،رواداری اور اجماعیت کاتصور دیتاہے ۔

تھیاکریسی

تھیاکریسی معنی اورسٹم کے اعتبار سے غلط نہیںتھیاکریسی وہ نظام حکومت ہے جس میں حکمرانی کے اختیارات خداکوہوں ۔مذہبی رہنما  پیشوا اس کے نمائندے کی حیثیت سے یہ کام انجام دے ۔تھیاکریسی میں حاکمیت کے عملی اختیارات ایک مخصوص گروہ کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں ،جو سیاہ اورسفید کے مالک ہوتے ہیں جس پر ہرکوئی تنقیدنہیں کرسکتاجو خداکے سارے اختیار ات بلاروک ٹوک استعمال کرتے اورکرواتے ہیں اور کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتے اس کے برعکس اسلام میں ایسے کسی طبقے کاکوئی وجو د نہیں اسلام کی تعلیمات انسانوں کیلئے ایک کھلی کتاب کی طرح ہے نظام حکومت چلانے والے خدااور اُمت (عوام )دونوں کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں ۔اسلامی تاریخ میں ہمیں کبھی ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں پاپائیت نظر آتی ہو۔

اشتراکیت

اشتراکیت مذہب کی نفی پرمبنی آمرانہ نظام حکومت ہے ۔ریاست کے اختیارات کومحدودکردیتا ہے ۔شخصی اور سیاسی آزادی کی کوئی حقیقی ضمانت نہیں دیتا جبکہ اسلامی فلاحی ریاست عوام کے مشورے کی پابند ہوتی ہے ۔شخصی اور سیاسی آزادی کی ضمانت دیتی ہے ۔

نیشنل ازم

نیشنل ازم ،سیکولرازم کاتسلسل ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ،قوم کووطن اور زبان کی بنیادپرقائم کیا جاتاہے جس کے لغوی معنی قوم ،نسل اور وطن کی بنیاد پر بنتی ہے جس میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہوتے ہیں لیکن اسلام قرآن حدیث سے ثابت ہے قوم ،نسل وطن کی بنیادپرنہیں بنتی بلکہ دین سے بنتی ہے اور دینی رشتہ ہی وہ رشتہ ہے جو ساری انسانیت کوایک جسم کی مانند بنا دیتا ہیں ۔آج مسلمانوں کوجس ذلت اور رسوائی کاسامنا ہے اس کی بنیادی وجوہات میں نیشنل ازم کانعرہ تھا ۔ماضی قریب میں مسلمانوں کی اجماعیت خلافت عثمانیہ اپنی تمام تر کمزروریوں کے باوجو د مسلمانوں کیلئے وحدت تھی لیکن انگریزنے جنگ عظیم کے موقع پر عربوں کو ترکیوں کے خلاف بھڑکایااور عرب لیگ قائم کی اوردوسری طرف ترکی میں مصطفی کمال پاشا کے ذریعے نیشنل ازم ترکی قومیت کو اُجاگر کیا گیااور یومسلم وحدت ٹکڑوں میں بٹ گئی (ترکی کی موجودہ حکومت نے ایک بار مسلم اُمہ کی قیادت کا جھنڈا اُٹھالیا ہے اور اُمیدکی جاسکتی ہے کہ مستقل قریب میں اسلامی وحدت کاتصور اُجاگر ہوگا )گذشتہ دنوں عرب دنیا میں سیاسی بیداری کی لہر اُٹھی جس سے تیونس اور مصرمیں تبدیلی آئی ،عرب لیگ نے تیونس اور مصر کے غاصب حکمرانوں کی مددکی اور سعودی حکومت نے عرب ازم کی بنیاد پرتیونس کے حکمرانوں کو سیاسی پنا ہ دی ۔لیبیا جو کہ غیر عرب ہے لیبیائی عوام کی مددکے نام پر امریکی جارحیت میں عرب لیگ معاون اور مددگار بن گئی اور امریکی اور مغربی بمباری کی عرب لیگ نے حمایت کی ۔اسلام کا حکم جانیے ۔’’ایک مرتبہ ایک انصاری اور ایک مہاجر کے درمیان جھگڑا ہوگیا،انصار اور مہاجر دونوں نے اپنے اپنے حامیوں کو مدد کیلئے پکاراجس پر نبی کریم  ﷺنے فرمایا (جس کامفہوم یہ ہے )یہ بدبودار نعرہ ہے ۔آپ ﷺنے فرمایا مددہمیشہ حق کی کرنی چاہیے وہ اپنی قوم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو،نتیجہ یہ نکلا کہ قوم مسلم کی طاقت زبان اور نسل میں نہیں بلکہ دین میں ہے ‘‘الغرض اسلامی سیاست سیکولرازم ،تھیاکرسی اور اشتراکیت سب سے جداہے انسان دوست اور فلاحی نظام سیاست ہے ۔

پاکستان اور نظام سیاست

اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان دوقومی نظریے کی بنیاد پر قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میںپر عزم مسلمانوں نے حاصل کیا ۔تاریخ پاکستان کے صفحات پر یہ بات موجود ہیں چوہدری اعتزازاحسن نے اپنی کتاب’’ سندھ ساگر ‘‘میں لکھاکہ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں تیزی اُس وقت آئی جب تحریک خلافت سے وابستہ علماء مشائخ نے غیر مشروط طور پر مسلم لیگ کا ساتھ دیااور مسلم لیگ میں شامل ہوکر حصول پاکستان کی تحریک وتاریخ کا حصہ بن گئے ، علماء ومشائخ اور عوام کی ایک بڑی تعداد آل انڈیاسنی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے اتحاد اور اُن کے حقوق کیلئے کوشاں تھی ۔قیام پاکستان کی پر زور حمایت اور جدوجہدکی اور مسلم لیگ کا ساتھ دیا جن میں قابل ذکر مولاناعبدالحامد بدایونی ،مولاناشاہ عبدالعلیم صدیقی ،مولاناعبدالستار خان نیازی ،مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ،پیر امین الحسنات مانکی شریف،پیر شائستہ گل ،پیر سید جماعت علی شاہ ،پیر عبدالطیف زکوری شریف اور برصغیر پاک وہند کی تمام خانقاہوں کے گدی نیشوں وپیرا ن عظام نے حصہ لیا ( تفصیلات کیلئے علامہ سیدشاہ تراب الحق قادری کی تصنیف تخلق پاکستان میں اہل سنت کا کردار پڑھیے )جن کی جدوجہد کا ثمر14اگست 1947ء؁  کو پاکستان کی صورت میں ا ٓیا ۔’’اس سے قبل 1857ء کی جنگ آزادی میں علماء ومشائخ کا لازوال اور ناقابل فراموش کردار جس میں امام حریت علامہ فضل الحق خیر آبادی ،مولانارحمت اﷲکیرانوی ،علامہ احمد اﷲمدراسی ،مفتی کفایت علی کافی سمیت 25ہزار سے زائد علماء مشائخ کی قربانیاں تاریخ کے صفحات پر موجودہیں‘‘پاکستان اسلامی نظرے کی بنیاد پر حاصل کیا مگر بدقسمتی یہ کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی سازشوں کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے ،قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات اور لیاقت علی خاں کے قتل کے بعداَن دیکھی قوتوں نے سیاسی بحران پیداکیا ،غلام محمد اور سکندر مرزاجیسے بیوروکریٹس حکمرانوں کی اقرباپروری ،جنرلایوب جس نے تحریک پاکستان کے معماروں کودیوارسے لگاکر پاکستان کو امریکی غلامی میں دھکیل دیا۔

جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں نفرتوں کا جو بیج بویاگیا جنرل یحییٰ کے دور میں تناور درخت بنا 1970ء؁ میں اکثریتی منتخب عوامی لیگ کواقتدارمنتقل نہ کرنے کی وجہ سے مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا قوم کو سقوط ڈھاکہ کا صدمہ برداشت کرناپڑا بعدازاشوشلزم کے نام پر ذوالفقار علی بھٹوکی پیپلزپارٹی نے اقتدار سنبھالااسی اسمبلی میں موجودتحریک پاکستان کے علماء مشائخ کے وارث علماء نے اسلامی اقدار پر مبنی آئین میں مسلمانوں کی تعریف اور دس سالوںمیںملکِ پاکستان کو شریعت مصطفی میںمنتقل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا مگر بدقسمتی کہ جنرل ضیاء کے مارشل لاء نے ایک بارپھر قوم کو اندھیروںمیں دھکیل دیالاقانونیت عدم برداشت تشدد لسانی وفرقہ وارانہ فسادات اس ملک کا مقدر بن گیا۔ پاکستان میں 65سے روشن خیالی ،لبرل ازم اور سیکولرازم کے نام پر اقتدار میں آنے والے قوم وطن کو کچھ نہیں دے سکے ۔قوم وملک کو حقوق ِحقیقی صرف اسلامی طرزسیاست وریاست میں ہی مل سکتے ہے ۔خوف خدااور عشق مصطفی کے جذبے سے سرشار قیادت ہی ملک کو بحرانوں سے نکال کر ٹکڑیوں میں بٹی قوم کو یکجا کرسکتی ہیں آج پاکستان میں اسلامی اقدار اور قانونِ تحفظ ناموس رسالت  ﷺ موجود ہے اس کا سہرا1970اور 1985کی اسمبلیوں میں موجودمنتخب نمائندوں کے سر ہے جنہوں نے اسمبلیوں میں بیٹھ کر قوم کی ترجمانی کی آج ان اسمبلیوں میں کیا ہورہا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنا بے معنی ہے۔

حرف آخر

ہمیں اسلاف کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی طرز سیاست کے فروغ کیلئے اپنا کردار اد اکرنا ہوگا۔ساری تحریرکا مقصد ماضی کے شاندار کردار اور اسلامی طرز سیاست کے فوائد کی روشنی میں پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد کرنی ہیں جہاں ہر انسان رنگ ونسل ،زبان ، سے ماوراامن وسکون اور سلامتی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے کسی کی حق تلفی نہ ہوایک انسان دوسرے انسان کے حقوق کا پاسبان ہوں۔
اب آپ کیا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔