داتا نگر پر خارجیت کی یلغار

in Tahaffuz, April 2013, آ ئينہ کيو ں نہ دوں, عثمان محی الدین

یوں تو تاریخ میں ہمیں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جن میں مزارات کی منتقلی کئی وجوہات سے کی جاتی ہے۔ بعض مزارات اس لئے منتقل کئے گئے کہ وہاں سمندر یا دریا کے پانی نے اپنا راستہ بنالیا تھا اور بعض مزارات کی منتقلی کی وجہ توسیعی پروگرام بنے، لیکن مزارات کی منتقلی بہت اہتمام اور علماء کرام کو اعتماد میں لے کر گئی۔ باقاعدہ طور پر علماء سے فتویٰ لیا جاتا اور عوام الناس کی موجودگی میں منتقلی کا عمل انجام پاتا۔
لیکن جب اس عمل میں تخریب کاری پائی جائے، علمائے کرام کو اعتماد میں نہ لیا جائے، عوام الناس کو اس معاملے سے دور رکھا جائے اور رات کے اندھیرے میں مزارات کی بے حرمتی کی جائے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خارجی فکر اس عمل کے پیچھے کارفرما ہے جو اپنے مذموم مقاصد کو کسی بہانے سے پورا کرنا چاہتی ہے۔

اس طرح کا ایک سانحہ 12 اور 13 ستمبر 2012ء کی درمیانی شب تقریبا رات 2 بجے لاہور میں پیش آیا، جب سڑک کی توسیع کی آڑ میں ضلعی انتظامیہ نے بیک وقت لاہور کے 5معروف مزارات کو آناً فاناً شہید کرڈالا۔ اس واقعہ کا مجرمانہ اور خارجی فکر کی عکاسی کرتا ہوا پہلو بار بار ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ سڑک کی توسیع تو ایک بہانہ ہے اصل مقاصد کچھ اور ہیں

یہاں قارئین کے سامنے پوری دیانتداری سے اس واقعہ کی پوری تفصیلات بیان کی جائیں گی اور فیصلہ قارئین کے سپرد ہوگا کہ وہ اس واقعہ میں ملوث انتظامیہ کی نیک نیتی یا بدنیتی کا تعین کریں۔

اس دلخراش واقعہ کا آغاز لٹن روڈ یوڑ والا چوک نزد جنازہ گاہ میں موجود حضرت سید سخی حسین شاہ ولی کے مزار سے کیا جاتا ہے۔

data-darbar1 data-darbar2 data-darbar3 data-darbar4 data-darbar6 data-darbar5

حضرت سید سخی حسین شاہ ولی

تحقیق کے مطابق آپ کا مزار تقریبا 300 سال پرانا ہے۔ آپ کی تاریخ وصال اور حالات زندگی انتہائی کوشش کے باوجود معلوم نہ ہوسکی۔
حضرت کے مزار ژکے مجاور جن کا نام حامد محمود ہے، کے بیان کے مطابق تقریبا 40 سالوں سے وہ مزار کے انتظامی امور چلا رہا ہے اور 14,13 ربیع الاول کو آپ کے عرس کی تقریب منعقد کرتا ہے۔

آیئے مزار کے مجاور حامد محمود سے اس سانحہ کی تفصیلات معلوم کرتے ہیں۔

رپورٹ: یہ واقعہ کب پیش آیا؟
مجاور: 12 اور 13 ستمبر کی درمیانی شب تقریبا رات 2 بجے
رپورٹر: کیا آپ کو مزار کی منتقلی کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی؟
مجاور: مجھے کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ یہ سارا واقعہ اچانک پیش آیا۔
رپورٹر: مزار کی منتقلی کے وقت کیا آپ وہاں موجود تھے۔
مجاور: ضلعی انتظامیہ اپنے ساتھ 150 پولیس اہلکار لائی تھی جنہوں نے چاروں طرف سے مزار کو گھیر لیا تھا اور کسی کو بھی مزار کے پاس جانے کی اجازت نہیں تھی۔ مجھے پولیس والوں نے اپنی وین میں بٹھالیا تھا۔
رپورٹر: مزار کو کس انداز میں شہید کیا گیا؟
مجاور: ضلعی انتظامیہ اپنے ساتھ ہیوی مشینری لائی تھی جس نے آناً فاناً مزار کی چار دیواری گرادی۔ مزار کا احاطہ 20 فٹ چوڑا اور 30 فٹ لمبا تھا جس میں حضرت کی قبر شریف اور کمرہ تعمیر تھا۔ سب کچھ گرادیاگیا۔ پھر حضرت کی قبر کشائی کی گئی اور تقریبا 30 فٹ کھدائی کے بعد جسد مبارک سامنے آیا۔
رپورٹر: کیا آپ نے جسد مبارک کو قبر سے باہر نکالا؟
مجاور: نہیں! میرے بیٹے نے چند پولیس اہلکاروں کے ہمراہ جسد مبارک باہر نکالا۔ جب قبر کھولی گئی تو سارا احاطہ خوشبو سے مہک گیا جس کی گواہی آپ کو وہاں موجود لوگوں سے مل سکتی ہے۔
رپورٹر : جسد مبارک کی کیا کیفیت تھی؟
مجاور: جیسا کہ میں نے بتایا کہ میرے بیٹے نے جسد مبارک کو قبر سے نکالا لیکن وہ چہرہ کی زیارت نہ کرسکا۔ البتہ جسم کے اعضاء صحیح سالم تھے اور باقاعدہ جسم پر گوشت واضح محسوس ہورہا تھا۔

سید قمر علی شاہ اور پیر سید دشندی

ان دونوں بزرگوں کے مزار ایک ہی احاطہ میں مین فیروز پور روڈ جیل کیمپ کے ساتھ واقع تھے۔ دونوں بزرگوں کے حالات زندگی اور تاریخ وصال معلوم نہ ہوسکے۔

12 اور 13 ستمبر کی درمیانی شب ان دونوں بزرگوں کے مزارات کو شہید کردیا گیا اور میانی صاحب قبرستان کے انتہائی مختصر سے احاطے میں منتقل کردیا گیا ہے۔ قبر کی کشائی کے وقت موجود لوگوں نے بتایا کہ جسد مبارک بالکل صحیح سلامت تھا۔

غازی سید کمال شاہ

12 اور 13 ستمبر 2012ء کی درمیانی شب غازی روڈ پر واقع اس مزار شریف پر شب خون مارا گیا اور پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں مزار شریف منتقل کردیا گیا۔ منتقلی کے وقت موجود لوگوں نے بتایا کہ جسد پاک صحیح سالم تھا اور قبر شریف سے خوشبو آرہی تھی۔

صوفی سلامت علی المعروف بابا جی چھتری والے

حضرت کا مزار لاہورشہر کا معروف مزار ہے جوکہ مینار پاکستان کے نزدیک راوی روڈ پر واقع تھا۔ حضرت کو وصال کئے ہوئے تقریبا 40 سال کا عرصہ گزر گیاہے۔ حضرت کا شمار مجذوب اولیاء میں ہوتا ہے۔ 12 اور 13 ستمبر 2012ء کی درمیانی شب جب ضلعی انتظامیہ پولیس کی بھاری نفری لے کر مزار شریف کو شہید کرنے پہنچی تو حضرت کے عقیدت مندوں نے بھرپور مزاحمت کی لیکن ضلعی انتظامیہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوئی۔ اہل علاقہ نے گواہی دی کہ حضرت کا جسد مبارک بالکل صحیح سالم تھا۔ حضرت کے مزار کو سگیاں پل کے قریب منتقل کردیا گیا ہے۔