شادی کی ترنگ سے میدان جنگ تک

in Tahaffuz, April 2013, متفرقا ت

حبش کی تپتی ہوئی خاک سے اڑ کر جن ذروں نے عرش کی بلندیوں پر اپنا آشیانہ بنایا تھا۔ ان میں ایک حبش نژاد عبداﷲ اسود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی ہیں۔
غلامی کی زندگی نے ان کے دل کی خاکستر کو اس طرح روند ڈالا تھا کہ ایک بجھے ہوئے چراغ کی طرح ان کی زندگی کی ساری امنگوں نے دم توڑ دیا تھا۔
کہتے ہیں کہ زلف جاناں کی جو خوشبو مدینے سے اڑ کر خطۂ زمین میں دور دور تک پھیل گئی تھی۔ ایک دن انہیں بھی محسوس ہوئی، کسی راہ گیر نے ان سے کہا۔
’’تم نے کچھ سنا ہے؟ دنیا کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کے لئے مدینہ میں ایک نئی پناہ گاہ کھلی ہے، رحمتوں کے پیکر میں آسمان سے کوئی عجیب و غریب انسان اترا ہے۔ دلوں کے کتنے ہی ویرانے اس کے قدم کی آہٹ سے آباد ہوگئے ہیں۔ مظلوموں، زیر دستوں اور مسکینوں کے لئے اس کی شفقتوںکی گود ہمیشہ کھلی رہتی ہے۔ اس کی پلکوں کے سائے میں ہر وقت کام کا دریا لہراتا رہتا ہے۔ اس کی شاداب نگاہیں جلتے ہوئے زخموں کے لئے تسکین کا مرہم ہیں۔ اس کے ہونٹوں کا تبسم بجھی ہوئی خاکستر کے لئے زندگی کی بشارت ہے۔
جلدی کرو! امیدوں کے قافلے زمین کے کناروں سے سمٹتے ہوئے آرہے ہیں۔ تم بھی ان کی اڑائی ہوئی گرد میں شامل ہوجائو۔ اگر خوبیٔ قسمت سے تم مدینے کے نخلستان میں پہنچ گئے تو تمہاری پامالی زندگی جگمگا اٹھے گی‘‘
یہ خبر سن کر حضرت عبداﷲ کی آنکھیں فرط مسرت سے چمک اٹھیں۔ انہوں نے عالم تحیر میں دریافت کیا۔
’’کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟ اپنی سرشت کاکوئی نیا انسان ہو تو البتہ ایسا ہوسکتا ہے ورنہ آج کی بھری دنیا میں مظلوموں اور زیر دستوں کا کون حامی ہے؟ روئے زمین کے جو غم نصیب میٹھے بول کے لئے ترس گئے ہیں، بھلا انہیں شفقتوں کی گود میسر آسکتی ہے۔ اگر کوئی ایسا واقعہ رونما ہوا ہے تو بہت اچھنبے کی بات ہے‘‘
راہ گیر نے پرجوش لہجے میں جواب دیا ’’اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو مدینہ اسی خطۂ زمین پر واقع ہے، تم وہاں جاکر تجربہ کرلو، میں کہہ رہا ہوں کہ وہ انسانی پیکر میں ضرور ہے۔ لیکن وہ اس دنیا کا انسان نہیں معلوم ہوتا۔ اس کے وجود کا سررشتہ کسی اور عالم سے جا ملتا ہے‘‘
اس گفتگو کے بعد عبداﷲ کے سینے میں ایک ایسی آتش شوق بھڑک اٹھی جس نے ان کی ہستی کا صبر وقرار چھین لیا۔ آنکھوں سے نیند اڑ گئی، بیتاب آرزوئوں کی راتیں قیامت کی طرح دراز ہوگئیں۔ ویرانوں سے انس بڑھ گیا۔ آبادیوں سے وحشت ہونے لگی۔ یکایک ایک دن انہیں پتہ چلا کہ ملک شام کا کوئی تجارتی قافلہ مدینہ کے نخلستان سے ہوتا ہوا مکہ جارہا ہے۔ یہ خبر معلوم کرکے خوشی سے ان کا چہرہ کھل گیا۔ ان کی پیشانی سے بشاشت کا نور ٹپکنے لگا۔ وہ اضطراب شوق سے بے خودی میں اٹھے اور قافلے کی گزرگاہ پر کھڑے ہوگئے۔ کئی دن کے انتظار کے بعد ایک دن دور سے انہیں اڑتے ہوئے غبار کا طوفان نظر آیا۔ قافلے کی علامت دیکھ کر ان کی روح پر فرحت و انبساط کے بادل چھاگئے۔ تھوڑی دیر کے بعد قافلے میں شامل ہوتے ہی ان کے دل کی دنیا بدل گئی۔ غم کا سارا بوجھ اتر گیا۔ شب و روز چلتے چلتے بالاخر ایک دن وہ حجاز کی سرحد میں داخل ہوگئے۔ کچھ دور فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک منزل پر قافلے کے لوگوں نے مدینے کے راستے کی نشاندہی کرکے انہیں رخصت کردیا۔
اب وہ اکیلے ہی مدینے کی طرف چل رہے تھے۔ جذب شوق کے علاوہ ان کا شریک سفر نہیں تھا۔ متواتر کئی دن کی مسافت طے کرنے کے بعد انہیں کھجوروں کے جھنڈ نظر آئے۔ ان کے دل نے بے ساختہ آواز دی۔ شاید یہی مدینے کا وہ نخلستان ہے جس کی گود میں مظلوموں کی پناہ گاہ ہے اور کچھ فاصلہ طے کیا تو مدینے کی پہاڑیاں چمکنے لگیں۔ چند قدم چل کر اب مدینے کی وہ آبادی نظر کے سامنے تھی جہاں پہنچنے کے لئے دل میں جذبہ شوق کا تلاطم برپا تھا۔
ایک وارفتہ حال دیوانے کی طرح جیسے ہی وہ مدینے میں داخل ہوئے، گلی کوچوں میں لوگوں سے اپنی منزل مقصود کا پتہ پوچھنا شروع کردیا۔ ان کی بے قراری دیکھ کر ایک صاحب انہیں مسجد نبویﷺ شریف کے دروازے تک پہنچا کر واپس ہوگئے۔ مسجد نبوی کے فرش پر کونین کے شہنشاہﷺ مدینے کے مسکینوں کو اپنی آغوش رحمت میں لئے بیٹھے تھے۔
حضرت عبداﷲ کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پیش آئی۔ جمال ونور کی زیبائی خود آواز دے رہی تھی کہ آئو کعبہ مقصود یہاں ہے۔ جیسے ہی چہرہ انور پر نظر پڑی تودل کا عالم زیرو زبر ہوگیا۔ جذبہ شوق کی بے خودی میں آگے بڑھے اور قدموں پر سر رکھ دیا۔ آنکھوں کی راہ سے قلب و روح کا سارا غبار دھل گیا۔ روئے زمین کی روندی ہوئی ایک مشت خاک اب اس قدم کے نیچے آگئی تھی جو کائنات کی سب سے باعزت جگہ تھی۔
ایک پیاسی روح چشمہ رحمت سے سیراب  ہوچکنے کے بعد اسلام و ایمان کے سررشتے سے ہمیشہ کے لئے منسلک ہوگئی تھی۔
اکرام و آسائش کے باغ فردوس میں پہنچ کر بالکل پہلی مرتبہ وہ روحانی مسرتوں کی ایک نئی زندگی سے روشناس ہوئے۔ اب عبداﷲ اسود کسی رہگزر کا سنگریزہ نہیں تھے۔ سینہ صدف میں پرورش پانے والے گوہر کی طرح محفوظ تھے۔ جدھر نکل جاتے، ایسا لگتا کہ شفقت و اعزاز کی ہر آغوش انہی کے لئے کھلی ہوئی ہے۔ کبھی جس چوکھٹ پر کھڑا رہنا باعث عار تھا۔ آج اسے پلکوں پر جگہ مل گئی تھی۔ آسمان سے اترنے والے اس ’’نئے انسان‘‘ کی آواز میں کتنا حیرت انگیز اعجاز تھا جس نے پلک جھپکتے ہزاروں برس کا مزاج بدل دیا تھا۔ مدینے میں انسانی زندگی کا جو نیا پیمانہ رائج تھا، اسے دیکھ دیکھ کر حضرت عبداﷲ حیران رہا کرتے تھے۔
بارگاہ رسالت کی شفقتوں نے انہیں اس طرح سینے سے لگالیا کہ وہ اپنی پامال زندگی کا سارا غم بھول گئے۔ مسجد نبوی کا صحن ان کی ساری امیدوں کا آشیانہ بن گیا تھا۔ کونین کی نعمتوں کے مرکز میں ان کے لئے کس بات کی کمی تھی۔ ہروقت عشق و عرفان کی سرمستی میں وہ نہال و مسرور رہا کرتے تھے۔
ایک دن شام کا خوشگوار موسم تھا۔ زلف معنبر کی خوشبو سے سارا مدینہ مہک اٹھا تھا۔ جلوئوں کی بکھری ہوئے چاندنی میں درودیوار چمک رہے تھے۔ اسی عالم میں حضرت عبداﷲ اسود اپنی جگہ سے اٹھے اور بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔ آج ان کی حاضری کا انداز بالکل نرالا تھا۔ منہ کھول کر کچھ کہنا چاہتے تھے۔ سرکارﷺ نے بھی ان کے مچلتے ہوئے شوق کا عالم محسوس کرلیا ۔ ارشاد فرمایا ’’کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘
یہ سننا تھا کہ اچانک صبر وضبط کا پیمانہ ٹوٹ گیا۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور روتے بھی کہاں؟ آخر اس سرکارﷺ کے سوا اس گیتی پر اشکوں کے گوہر کا شناسا بھی کون تھا۔
سرکارﷺ نے آستین میں ان کے آنسوئوں کو جذب کرتے ہوئے فرمایا ’’اس طرح پھوٹ پھوٹ کر مت روئو، رحمت و کرم کا آبگینہ بڑا نازک ہوتا ہے۔ میں تمہارا معروضۂ شوق سننے کے لئے ویسے ہی تیار ہوں۔ اپنا مدعا بیان کرو۔ اپے دل گیر چذبات پر قابو پانے کے بعد انہوں نے اپنی تمنا کا یوں اظہار کیا۔
سرکارﷺ کے قدموں کی پناہ میں آجانے کے بعد زندگی کی ساری آرزو پوری ہوگئی۔ آخرت کا بھی کوئی غم نہیں ہے کہ اس کے لئے سرکارﷺ کے دامن کا سہارا بہت کافی ہے۔ اب زندگی کی رفاقت کے لئے عہد شباب کی صرف ایک تمنا باقی رہ گئی ہے اور وہ ہے شادی حضورﷺ کئی جگہ نکاح کا پیغام بھیجا لیکن کہیں بھی قبول نہیں کیا گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایک سیاہ فام حبشی جس کا نہ کوئی گھر ہے، نہ در ہے نہ کوئی کمائی ہے، نہ دھمائی ہے۔ ایسے خانہ بدوش شخص کو کون اپنی لڑکی دے گا؟
حضورﷺ کی چوکھٹ سے لگے رہنے کے علاوہ میرے پاس ہنر ہی کیا ہے کہ میں زندگی کے اسباب فراہم کروں۔ ساری کونین تو اسی در پر سمٹ آئی ہے۔ اب میں اسے چھوڑ کر کہاں جائوں گا۔ سرکارﷺ کے دست کرم میں کیا نہیں ہے۔ قسمت کا یہ بیچ بھی کھل ہی جائے گا۔ بس ایک نگاہ کرم کی دیر ہے۔
کچھ اس دردناک عجزونیاز کے ساتھ انہوں نے اپنی سرگزشت بیان کی کہ رحمت و مجسم کو پیار آگیا۔ تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’اپنے دل کو آزردہ مت کرو تمہارے رشتہ نکاح کا میں ذمہ لیتا ہوں۔ جائو! بنی کلب کے قبیلے کے سردار کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کردے‘‘
یہ حکم سنتے ہی حضرت عبداﷲ کا چہرہ فرط مسرت سے پھول کی طرح کھل گیا۔ وہ جانتے تھے کہ جو لوگ حضورﷺ کے حکم پر اپنی جان دے رہے ہیں،وہ اپنی لڑکی دینے سے کیونکر انکار کرسکیں گے۔ انہیں سب سے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ عرب کی سب سے حسین و جمیل دوشیزہ بارگاہ رسالت سے ان کے عقد نکاح کے لئے نامزد کی گئی تھی۔
دوسرے دن وہ علی الصبح خوشی کے ترنگ میں اٹھے اور سیدھے بنو کلب کے قبیلے کی طرف روانہ ہوگئے۔ آج کامیابی کی نشاط میں ان کے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ انہیں زندگی میں بالکل پہلی مرتبہ یہ خوشی کا لمحہ میسر آیا تھا۔
قبیلے کے سردار کے دروازے پر پہنچ کر انہوں نے دستک دی۔ اندر سے آواز آئی ’’کون ہے؟‘‘ جواب دیا ’’میں رسول اﷲﷺ کا قاصد ہوں۔ سردار قبیلہ کے نام ان کا ایک ضروری پیغام لایا ہوں‘‘
رسول اﷲﷺ کا نام نامی سنتے ہی دلوں کی سرزمین ہل گئی۔ سارے گھر میں خوشی کا ایک تہلکہ مچ گیا۔ دوڑے ہوئے آئے اور یہ کہتے ہوئے دروازہ کھولا ’’اے زہے نصیب! میرے آقاﷺ نے کیا پیغام بھیجا ہے؟ اس سے بڑھ کر اور کیا میری زندگی کی معراج ہوگی کہ آج سرکارﷺ کی چشم کرم میری طرف متوجہ ہوگئی‘‘
قاصد کو اعزاز کی مسند پر بٹھایا گیا اور خود گوش بر آواز بن کر کھڑے ہوگئے۔ گھر کی مستورات اور فرخندہ فال صاحبزادی بھی دروازے سے لگ کر کھڑی ہوگئیں۔
انتہائی شوق انتظار کے عالم میں حضرت عبداﷲ نے سرکارﷺ کا یہ پیغام سنایا۔
حضور انورﷺ نے آپ کی صاحبزادی کے نام میرے لئے نکاح کا پیغام بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ آپ اسے قبول کرلیں
یہ سن کر سردار قبیلہ پر ایک سکتے کی کیفیت طاری ہوگئی۔ ایک عجیب کشمکش کا عالم ان پر طاری ہوگیا۔ ایک آقائے کونینﷺ کا حکم تھا جو کسی طرح بھی ٹالا نہیں جاسکتا تھا اور دوسری طرف اپنی شہرہ آفاق بیٹی کا مستقبل جسے نظر انداز کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس شش و پنج کے عالم میں وہ دیر تک خاموش کھڑے رہے۔
حضرت عبداﷲ نے ان کی یہ خاموشی سے محسوس کیا کہ انہیں یہ رشتہ منظور نہیں ہے۔ فورا یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ’’شایدآپ کو یہ رشتہ منظور نہیں ہے۔ اس لئے میں اب واپس جارہا ہوں۔ سرکارﷺ کے سامنے آپ کی اس کیفیت کا اظہار کردوں گا‘‘
یہ کہہ کر جیسے ہی وہ دروازے کے باہر نکلے۔ سردار قبیلہ کی صاحبزادی چہرہ پر نقاب ڈالے ہوئے دروازے پر آکھڑی ہوئی اور ایک مضطربانہ انگیز کیفیت میں آواز دی۔
رسول عربیﷺ کے معزز قاصد واپس لوٹ آئو۔ اﷲ کے رسولﷺ کا بھیجا ہوا پیغام میرے نام ہے۔ میرے باپ کے نام نہیں۔ آرزوئے خاطر ہوکر نہ جائو۔ مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔
یہ سنتے ہی قاصد کے قدم رک گئے۔ وہ واپس لوٹ آیا۔ اس کے بعد صاحبزادی اپنے باپ سے مخاطب ہوئی۔
’’ابا جان! آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ دونوں جہاں میں اس سے زیادہ معزز رشتہ اور کہاں مل سکتا ہے۔ آپ یہ خیال نہیں فرماتے کہ کل محشر کی سرزمین پر سارے جہاں کی لڑکیوں میں یہ فخر صرف آپ کی بیٹی کو حاصل ہوگا کہ اس کا رشتہ سرور کونینﷺ نے طے فرمایا تھا۔ اصل اعزاز وہاں کا ہے یہاں کی جھوٹی عزت و شہرت میں کیا رکھا ہے۔ ہمارے خاندان کے لئے رہتی دنیا تک برقرار رہنے والی یہ عزت کیا کم ہے کہ خدا کے حبیب کی نگاہ انتخاب ہمارے گھر پر پڑی ہے۔ غلاموں کی بھری آبادی میں لڑکیوں کی کیا کمی تھی لیکن یہ تو ہماری قسمت ہے کہ سرکارﷺ کی نوازش بے پایاں کے ہم مستحق ہوئے۔
بیٹی کی یہ گفتگو سن کر باپ کے سوچنے کا انداز اس طرح یکلخت بدل گیا جیسے کوئی چونک کر کسی پرپیچ راستے سے واپس لوٹ آئے۔ فورا ہی اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے قاصد کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’سرکارﷺ  سے عرض کردینا کہ فرمان عالیشان میری آنکھوں پرہے۔ وہ جب چاہیں، میں عقد نکاح کی مہم سرانجام دینے کیلئے حاضر ہوں‘‘
یہ جواب سن کر حضرت عبداﷲ اسود کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ مسرتوں کے خمار میں وہ بارگاہ رسالت میں لوٹے۔ خدمت اقدس میں حاضر ہوتے ہی یہ بشارت سنائی۔
حضورﷺ! قبیلے کے سردار نے رشتہ نکاح منظور کرلیا۔ اس کی بیٹی بھی سرکارﷺ کے حکم کی تعمیل میں سربکف ہے‘‘
یہ سن کر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تو پھر اب دیر کیا ہے؟ جائو نکاح کا انتظام کرو۔ بازار سے ضروری سامان خرید لائو۔ سامان کی خریداری کے لئے سرکار رسالتﷺ نے انہیں چند درہم عنایت فرمائے اور بازار کی طرف روانہ ہوگئے۔
راستے میں جس سے بھی ملاقات ہوئی۔ اسے خوشی کی ترنگ میں خبر سناتے ہوئے کہا ’’سرکارﷺ نے فلاں سردار کی بیٹی سے میرا رشتہ نکاح طے فرمادیاہے۔ نکاح کی مجلس میں آپ ضرور تشریف لایئے گا‘‘
بازار میں جیسے ہی انہوں نے قدم رکھا۔ ایک منادی کی آواز کان میں گونجی۔
میدان جنگ سے اسلام نے اپنے جانثاروں کو آواز دی ہے۔ سرفروش مجاہدین کا لشکر تیار کھڑا ہے۔ کوثر کی شراب کے متوالو! چلو خون سے بھیگی ہوئی سرزمین پر جنت کے اترنے کے دن آگئے۔ خوش بختیوں کے میدان میں جو بھی سبقت لے جانا چاہتا ہے، آگے بڑھے اور بے نقاب جلوئوں کا تماشا دیکھے‘‘
یہ آواز سن کر حضرت عبداﷲ چونک گئے۔ فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ سے زیادہ کی تاخیر نہیں ہوئی۔ انہوں نے سوچا مومن کی ساری خوشی تو اسلام ہی کے دامن سے وابستہ ہے۔ دین کی عزت کا پرچم سلامت رہا تو زندگی میں مسرت و نشاط کی سینکڑوں شامیں آسکتی ہیں اور خدانخواستہ اسلام ہی کا سورج گہن میں آگیا تو شادی کے لمحات کو خون آلودہ ہونے سے کون بچا سکتا ہے۔ یہ سوچ کر فوراً انہوں نے اپنا ارادہ تبدیل کردیا اور جو پیسے وہ شادی کا سامان خریدنے لائے تھے، ان سے سامان جنگ خرید لیا اور چپکے سے لشکر کے ساتھ ہوگئے۔ اس اندیشے سے کہ سرکارﷺ ہمیںواپس نہ کردیں۔ انہوں نے سارا جسم کمبل میںڈھانپ لیا تاکہ کوئی پہچان نہ سکے اور اسی ڈر سے جب تک میدان جنگ تک نہیں پہنچ گئے، لشکر کے بیچ میں نہیںآئے، کنارے چلتے رہے۔
اسلام کی زندگی کے لئے ذرا سرفروشی کا یہ اشتیاق تو ملاحظہ فرمایئے۔ وہ اس لئے چھپ رہے تھے کہ کوئی انہیں میدان جنگ کی طرف جانے سے نہ روک سکے اور آج کا نوجوان اس لئے سر چھپانے کی جگہ تلاش کرتا ہے کہ کوئی اسے میدان کی طرف نہ کھینچ کر لے جائے۔ میدان جنگ میں پہنچ کر دونوں طرف کی فوجیں صف آراء ہوگئیں۔ جب خون گھمسان کارن چھڑ گیا تو حضورﷺ نے دور سے دیکھا کہ کالے کمبل میں لپٹا ہوا کوئی شخص بجلی کی طرح تلوار چلا رہا ہے۔ صرف اس کا ہاتھ نظر آرہا تھا۔ باقی سارا بدن چھپا ہوا تھا۔
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاتھ کی گردش کا انداز بتا رہا ہے کہ یہ عبداﷲ اسود ہیں۔ لیکن وہ یہاں کیسے؟ وہ تو مدینے میں نکاح کی تیاریاں کررہے تھے۔ چندصحابہ نے بھی اس کی تصدیق کی کہ یہ عبداﷲ اسود ہی معلوم ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کی فتح مبین پر جب جنگ ختم ہوئی تو سرکارﷺ نے حکم دیا کہ شہیدوں اور زخمیوں کی لاشیں الگ الگ کی جائیں۔ چند شہدائے کرام کی لاشیں اکھٹی کی گئیں تو دیکھا کہ عبداﷲ اسود کی گردن پر خون کی ایک سرخ لکیر پھیلی ہوئی تھی، آنکھیں بند تھیں اور پھول کی طرح چہرہ کھلا ہوا تھا۔ ان کی نعش جیسے ہی نظر کے سامنے آئی۔ سرکار مدینہﷺ آبدیدہ ہوگئے اور ارشاد فرمایا

“میں دیکھ رہا ہوں کہ عبداﷲ اسود کے لئے جنت کو دلہن کی طرح سنوارا گیا ہے۔ حوران جناں انہیں اپنے جھرمٹ میں لئے ہوئے عالم جاوید کا دولہا بنا رہی ہیں”