کراچی میں امن جمہوریت کا ضامن

in Tahaffuz, April 2013, اشعر نجمی, متفرقا ت

لوگ پریشان ہیں کہ کراچی جل رہا ہے، کراچی کا امن تباہ ہو گیا ہے، پولیس رینجرز اور دیگر سیکیورٹی ادارے ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے ہیں کہ کہیں سے ملزمان مل جائیں تو کچھ کارکردگی دکھائیں۔ یہ چند ہفتوں کی مہمان حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ایسا کام کیوں نہیں کر جاتی کہ عوام اس حکومت کو اچھے الفاظ میں یاد کر سکیں۔ اب تک اس حکومت نے عوام کو مسائل سے دوچار اور ملک کو بحرانوں میں مبتلا کیا ہے۔ پہلے وزیراعلیٰ سندھ، پھر آئی جی سندھ اور اب کمشنر کراچی کا یہ کہنا بڑی جسارت، دیدہ دلیری اور دہشت گردی کے ہاتھوں پہلے سے زخم خوردہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے کہ کراچی و اندرون سندھ میں امن و امان کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ آئے دن چوری، ڈکیتی، لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور عوام پر ظلم و ستم کی داستانیں ذرایع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں۔

کراچی سندھ کا ہی نہیں، پورے پاکستان کا آئینہ ہے جس کے بارے میں حکومتی عہدیداران کے اس طرح کے غیر ذمے دارانہ بیانات اہل شہر کیساتھ سنگین مذاق ہی نہیں بلکہ عوام کی آواز کو جھٹلانے کے مترادف بھی ہے۔ عوام کے بعد کراچی کے تاجروں نے بھی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری سے تنگ آ کر صوبائی حکومت سے کراچی میں فوج بلا کر حالات پر قابو پانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اگر حکومت سندھ اہل ہوتی تو اس کے دور میں کراچی میں ہزاروں افراد دہشت گردوں کے ہاتھوں لقمہ اجل کیوں بنتے۔ اہلیان کراچی عجیب کشمکش اور اضطراب کا شکار ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری نے انھیں حد درجہ خوف زدہ، محتاط اور حساس بنا دیا ہے۔ شہر میں ہر طبقہ فکر کے لوگ بیدردی سے قتل کیے جا رہے ہیں۔
علمائے کرام، مفتیان، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا، تاجر برادری، پولیو ورکرز اور محنت کش مزدور طبقہ دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔ مسلسل ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے خلاف عوام کی چیخ و پکار تو صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے اب تو تاجر بھی مائل بہ ہڑتال ہیں۔ لیکن مجال ہے کہ حکومت ٹس سے مس ہوئی ہو یا اس کے ماتھے پر کوئی شکن نمودار ہوئی ہو۔ حکومت اور انتظامیہ کی ناکامی کے بعد بالآخر عدالت عظمیٰ کو اس کا نوٹس لینا پڑا۔ سپریم کورٹ نے بھی سندھ حکومت اور پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمی کے لارجر بینچ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے، دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دیدی گئی ہے، پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد سیاسی وابستگی اور جرائم پیشہ گروہوں سے ملی ہوئی ہے۔ اس وقت بھی کراچی پولیس کے 49 افسران و اہلکار 54 کے قریب مقدمات میں ملوث ہیں جن میں قتل جیسے سنگین مقدمات کی تعداد بھی 16 ہے۔
کم و بیش دو کروڑ نفوس پر مشتمل انتہائی گنجان آباد شہر، عروس البلاد کراچی جسے اس کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کے اعتبار سے چھوٹا پاکستان بھی کہا جاتا ہے، ایک عرصے سے بدترین سیاسی، لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے اور روزانہ درجنوں افراد ناحق قتل کیے جا رہے ہیں، کروڑوں روپے کی قیمتی املاک کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کے اس سب سے بڑے اور غریب پرور شہر میں حکومت کی رٹ کئی حوالوں سے کہیں نظر نہیں آتی۔ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور اور فرقہ پرست بلا روک ٹوک دندناتے پھرتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں آگ اور خون کا بازار گرم کر کے رفو چکر ہو جاتے ہیں، پورا شہر پیشہ ور قاتلوں کے رحم و کرم پر ہے۔
شہر میں ہر طرف خوف و ہراس کا عالم ہے، کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں۔ کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے حکم دیا تھا کہ شہر میں تمام غیر قانونی اسلحہ ضبط کیا جائے، پولیس کو سیاسی اثر سے پاک کیا جائے، لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کے لیے قانون سازی کی جائے، اسلحہ لائسنس نادرا کے ذریعے جاری کیے جائیں اور شہر کے مختلف علاقوں سے نوگو ایریاز ختم کیے جائیں۔ ان احکامات پر کلی طور پر تو کیا، جزوی طور پر بھی عملدرآمد بھی نہیں ہوا۔ شہر میں بدستور غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ روز ہی شہر کے کسی نہ کسی علاقے میں کریکر یا دستی بم کا دھماکا ہو رہا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ کراچی خون میں نہایا ہوا ہے، پوری قوم سراپا احتجاج ہے مگر اس صورت حال کی ذمے داری حکومت قبول کر رہی ہے نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے۔ تخریبی عناصر کے حوصلے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ پولیس اور رینجرز کے گشت پر مامور اہلکاروں کو بھی حملے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے کبھی موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگا دی جاتی ہے تو کبھی موبائل فونز کا نیٹ ورک جام کر دیا جاتا ہے مگر صورتحال جوں کی توں ہے۔
دہشت گردوں نے منظم منصوبہ بند ی کے ذریعے امام بارگاہوں، مساجد اور ماتمی جلوسوں میں کارروائیاں کر کے مذہبی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی تو کبھی قومی یکجہتی کو متاثر کیا۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ کراچی میں تین چار ہزار کے قریب طالبان موجود ہیں اور دو ہزار کے قریب پیشہ ور قاتل بھی دندناتے پھر رہے ہیں جو پاکستان کی اقتصادی شہ رگ کو مستقل طور پر مفلوج کرنے کی سازش پر عمل پیرا ہیں۔ شہر کی صورتحال سنبھلنے کے بجائے روز بروز بگڑ رہی ہے۔ فائرنگ، دھماکے، اغوا اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ بدامنی کی اس فضا میں بعض حلقے خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ عام انتخابات کا پر امن انعقاد کس طرح ممکن ہو گا۔ حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
حکومت کو جمہوریت کے استحکام اور عام انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنانے کے لیے امن و امان کی بحالی کی خاطر غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ امن کے بغیر جمہوریت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا اور انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ جمہوریت امن ہی سے مضبوط ہوتی ہے۔ جہاں بدامنی اور بدنظمی ہو وہاں پر امن اور شفاف انتخابات کو ممکن بنانے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت میں تعاون اور مفاہمت ملک و قوم کے مفاد میں ہو گی، خود سیاسی قوتوں کو بھی امن و امان کے حوالے سے باہمی تعاون کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
حکومت اس امر کی پابند ہے کہ عام آدمی کے جان و مال، روزگار، ضروریات زندگی، سماجی و معاشرتی انصاف اور عزت نفس کا تحفظ کیا جائے۔ عوام کے مسائل حل نہ کیے جائیں تو ملک میں بے چینی، بدامنی اور انتشار پھیلتا ہے جو جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ حکومت کے بلند بانگ دعوے اپنی جگہ مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ بد امنی، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ معیشت زوال کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ سرمایہ کاری رک گئی ہے، کارخانے اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نے صنعتوں کے علاوہ گھریلو صارفین کا بھی ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ مگر نیرو ہے کہ چین کی بانسری بجائے چلا جا رہا ہے۔ یہ جو کراچی میں صبح شام اندھے قتل ہو رہے ہیں، یہ اتنے بھی اندھے نہیں کہ ان کا ارتکاب کرنیوالوں کا کسی کو پتہ ہی نہ ہو۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پکڑنیوالے خود ان پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتے ہیں۔ ہاں البتہ شریف اور امن پسند محنت کش شہریوں کو جگہ جگہ بلا جواز روک کر ان کی تلاشی لینا، گاڑیوں کے کاغذات کو الٹ پلٹ کر کے اس میں کوئی قانونی سقم تلاش کرنا، بیچ سڑک پر موبائلیں لگا کر اسنیپ چیکنگ کے نام پر گھنٹوں ٹریفک جام کا باعث بننا ہماری پولیس کا آسان اور پسندیدہ فعل ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اہل کراچی خود بھی خاموش نہ بیٹھیں کیونکہ یہ ان کی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ کراچی میں امن و سکون ایک شہر کے لوگوں کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے، اس کے سود و زیاں میں ملک کے ہر صوبے، ہر علاقے کے لوگ شریک ہیں جو روزگار یا کاروبار کی خاطر یہاں مقیم ہیں، اس لیے کراچی کو ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنانے کے لیے پوری قوم کو اٹھنا پڑے گا، اپنے شہر کو درندہ صفت دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہرگز نہیں چھوڑا جا سکتا۔