نعت خوانی کا اہتمام

حدیث: عن عائشۃ قالت: کان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یضع لحسان منبراً فی المسجد یقوم علیہا قائماً یفاخر عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم او ینافح ویقول رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم، ان اﷲ یوید حسان بروح القدس مانافح او فاخر عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم،

رواہ البخاری (مشکوٰۃ، باب البیان و الشعر، ص ۴۱۰)

حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اﷲﷺ حضرت حسان کے لئے مسجد نبوی میں منبر رکھتے تھے اور حضرت حسان اس پر چڑھ کر کھڑے کھڑے رسول اﷲﷺ کی شان کے بارے میں فخریہ اشعار پڑھتے یا حضورﷺ کی طرف سے مشرکین کی ہجو کا جواب دیتے تھے اور حضورﷺ فرماتے تھے کہ جب تک حسان میری طرف سے مدافعانہ جواب دیتے یا میرے بارے میں فخریہ اشعار پڑھتے رہتے ہیں، حضرت جبرئیل علیہ السلام ان کی مدد فرماتے رہتے ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا

اس حدیث کو روایت کرنے والی ام المومنین حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نور نظر اور دختر نیک اختر ہیں۔ ان کی والدہ کا نام ’’ام رومان‘‘ ہے۔ حضور اقدسﷺ نے نبوت کے دسویں سال شوال کے مہینے میں ہجرت سے تین سال قبل بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مکہ میں نکاح فرمایا اور آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا شوال ۲ھ میں مدینہ منورہ کے اندر کاشانہ نبوت میں داخل ہوگئیں اور ۹ برس حضور اقدسﷺ کی صحبت سے مشرف رہیں۔ امہات المومنین میں سب سے زیادہ بارگاہ رسالت میں محبوب ترین تھیں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ کسی بیوی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نہیں اتری مگر حضرت بی بی عائشہ جب میرے ساتھ بستر نبوت پر سوتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ فقہ وحدیث کے علم میں ان کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ دو ہزار دو سو دس حدیثیں انہوں نے حضورﷺ سے روایت کی ہیں۔ ان کی روایت کی ہوئی حدیثوں میں سے ایک سو چوہتر حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں اور چون حدیثیں ایسی ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیں اور اڑسٹھ حدیثیں وہ ہیں جن کو صرف مسلم نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق کا بیان ہے کہ حضرت بی بی عائشہ ہمیشہ روزانہ تہجد پڑھنے کی پابند تھیں اور حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ فقہ وحدیث کے علوم کے علاوہ میں نے حضرت بی بی عائشہ سے بڑھ کر کسی کو اشعار عرب کا جاننے والا بھی نہیں پایا۔ آپ کے شاگردوں میں صحابہ اور تابعین کی ایک بہت بڑی جماعت ہے۔ ۱۷ رمضان شب سہ شنبہ ۵۷ھ یا ۵۸ھ میں مدینہ منورہ کے اندر وفات پائی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیت کے مطابق رات میں لوگوں نے آپ کو جنت البقیع کے قبرستان میں دوسری امہات المومنین کی قبروں کے پہلو میں دفن کیا۔ (اکمال و حاشیہ اکمال وغیرہ)

حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ

یہ دربار رسالت کے خاص الخاص شاعر اور مداح رسول ہیں۔ ان کی کنیت ابوالولید ہے۔ ان کے والد کا نام ’’ثابت‘‘ اور ان کے دادا کا نام ’’منذر‘‘ اور پردادا کا نام ’’حرام‘‘ ہے اور ان چاروں کے بارے میں ایک تاریخی لطیفہ ہے کہ ان چاروں کی عمریں ایک سوبیس برس کی ہوئیں جو عجائبات عالم میں سے ہے۔ (حاشیہ بخاری بحوالہ کرمانی: ج ۲، ص ۵۹۴)

حضرت حسان کی ایک سو بیس برس کی عمر میں سے ساٹھ برس جاہلیت میں اور ساٹھ برس اسلام میں گزرے۔ یہ انصار کے قبیلہ ’’خزرج‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ شعراء عرب میں بہت مشہور ہیں بلکہ ’’ابوعبیدہ‘‘ نے یہاں تک فرمایا کہ عرب کے شہری شاعروں میں یہ سب سے اونچے درجہ کے شاعر ہوئے ہیں۔ امیرالمومنین حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ۴۰ھ سے قبل آپ کی وفات ہوئی (اکمال)

فوائد و مسائل

یہ بخاری شریف کی حدیث ہے۔ یہ حدیث ان لوگوں کیلئے تازیانہ عبرت ہے جو ہم سنیوں کی محفل میلاد شریف یا نعت خوانی کی مجالس کا مذاق اڑاتے ہیں اور ہم پر پھبتیاں کستے رہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ لوگ جتنی دیر تک میلاد شریف پڑھتے یا نعت خوانی کرتے رہے ہیں۔ اتنی دیر تک قرآن شریف کی تلاوت کریں۔ ہم کہتے ہیں کہ تلاوت قرآن کے اجر وثواب پر ہمارا ایمان ہے مگر خدا کے لئے علماء دیوبند کا کوئی بڑے سے بڑا ’’محدث‘‘ مجھ کو بتا تودے کہ کیا تلاوت قرآن کے لئے بھی کبھی حضور اکرمﷺ نے یہ اہتمام فرمایا کہ کسی قاری یا حافظ کے لئے خاص طور پر مسجد نبوی میں منبر پر بچھایا ہوا اور وہ قاری یا حافظ جب قرآن پڑھ رہا ہو تو حضورﷺ نے اس کو یہ فرما کر داد دی ہو کہ جبرئیل علیہ السلام کی مدد کررہے ہیں۔
مجھے امید ہے کہ اگر یہ لوگ بخاری کی اس حدیث کو دیدۂ عبرت سے دیکھیں گے اور ان میں نورِ سعادت کی ادنیٰ سی کرن بھی ہوگی تو ان شاء اﷲ تعالیٰ ان کے سینوں کے بند دروازے کھل جائیں گے اور وہ میلاد شریف اور نعت خوانی کی اہمیت کا اعتراف کرکے یا تو خود بھی ان محفلوں کو سنت سمجھ کر ان میں شرکت کرنے لگیں گے یا کم از کم ان محفلوں کی برائی اور مذاق اڑانا چھوڑ دیں گے اور اگر خدانخواستہ ان کے دلوں پر شقاوت کی مہر ہی لگ چکی ہوگی۔ جب تو یہ حدیث کیا پوری حدیثوں کے دفتر اور پورا قرآن بھی ان کے لئے ذریعہ ہدایت نہیں بن سکتا۔