تفسیرسورۃ القارعۃ

سورۃ القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں دس آیات ہیں

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)

’’دہل دہلانے والی! کیا (ہے) وہ دل دہلانے والی؟ اور تونے کیا جانا کیا ہے۔ دل دہلانے والی؟ جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے اور پہاڑ ہوں گے، جیسی دھنکی اون تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں، وہ تو من مانتے عیش میں ہیں، اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں، وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے۔ اور تونے کیا جانا کیا ہے نیچا دکھانے والی، ایک آگ شعلے مارتی‘‘
(کنزالایمان از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلی، رحمتہ اﷲ علیہ)

img1

ربط ومناسبت

سورۃ الزلزال میں اعمال یعنی ذرہ بھر نیکی اور ذرہ بھر بدی کا ذکر تھا۔ سورۃ العادیات میں اعمال کے ساتھ دلوں میں چھپی باتوں یعنی ناشکری اور مال کی اندھی محبت کا ذکر کرکے انسان کو قبر کی منزل یاد دلائی گئی۔ اب سورۃ القارعہ میں نیتوں اور اعمال کو جمع کرکے بتایا جارہا ہے کہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے اور اس تول کے نتیجے میں کس کا کیا ٹھکانہ ہوگا۔
سورۃ العادیات میں مردوں کے قبروں سے اٹھائے جانے اور سینوں میں چھپی باتیں کھول دینے کا ذکر تھا جوکہ قیامت سے متعلقہ امور میں سے ہیں۔ اس صورت میں قیامت میں پیش آنے والے دیگر ہولناک امور بیان فرمائے گئے ہیں۔ گویا دونوں سورتوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں آخرت کی فکر پیدا کرتی ہیں۔

القارعۃ مالقارعۃ

سورۃ العادیات کے اختتام پر فرمایا گیا ’’بے شک ان کے رب کو اس دن ان کی سب خبر ہے‘‘ اب سوال پیدا ہوا کہ وہ دن کیسا ہوگا؟ اس سورت میں بتایاگیا ہے کہ وہ دن دھماکہ خیز ہوگا۔ ’’قارعہ‘‘ سے مراد نہایت ہولناک حادثہ یا سخت صدمہ دینے والی مصیبت یا دل دہلانے والی چیزہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

کذبت ثمود وعادم بالقارعۃ (الحاقۃ: ۴)

’’ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا‘‘ (کنزالایمان)

ولایزال الذین کفروا تصیبہم بما صنعوا قارعۃ (الرعد: ۳۱)

’’اور کافروں کو ہمیشہ ان کے کئے کی سخت دھمک پہنچتی رہے گی‘‘ (کنزالایمان)

چونکہ قیامت بھی ہولناک حادثہ، ناگہانی مصیبت اور دل دہلانے والی آفت ہے اس لئے قیامت کا ایک نام ’’القارعۃ‘‘ ہے۔ قرآن مجید میں مذکور قیامت کے چند نام ملاحظہ فرمائیں جو قیامت کے کسی نہ کسی اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں۔
الحاقۃ: وہ حق ہونے والی یعنی ضرور واقع ہونے والی، ناقابل انکار حقیقت
الصآخۃ: کان پھاڑنے والی چنگھاڑ، سخت اور کڑی آواز جو کان کو بہرا کردے
الطآمۃ: عظیم مصیبت جو سب پر حاوی ہو، سب سے بڑا عالم گیر حادثہ
الغاشیۃ: وہ شدید مصیبت جو سب پر چھا جائے، وہ عظیم حادثہ جو سب کو گھیر لے
کسی تمہید کے بغیر اس سورت کاآغاز اس لفظ یعنی ’’القارعۃ‘‘ سے کیا گیا اور پھر سوال کیاگیا۔ ماالقارعۃ:۔ دل دہلانے والا حادثہ یا دہشت ناک کڑک یا کھڑکھڑانے والی ہولناک چیز کیا ہے؟ پھر فرمایاگیا۔ یہ اتنا بڑا ہولناک حادثہ ہے کہ اس کی حقیقت کو سوائے اﷲ تعالیٰ کے کوئی بتا ہی نہیں سکتا۔
یہ قرآن کریم کی جامعیت کی ایک مثال ہے کہ ایسا عظیم الشان مختصر لفظ فرمایا گیا، جس میں خوف بھی ہے اور دہشت بھی، سخت دھمک بھی ہے اور دل دہلانے والی آواز بھی، المناک حادثے کی خبر بھی ہے اور ہیبت و عظمت بھی۔ قیامت کی ہولناک سختی کو ابھارنے کے لئے تین بار یہ لفظ فرمایا گیا اور اس لفظ کے ذریعے گویا قیامت کی منظر کشی کردی گئی ہے۔
یہ نام رکھنے کی متعدد وجوہ ہیں۔ کسی ہولناک حادثہ کے تین اہم اجزاء ہوتے ہیں۔

اول: تصادم، دوم: سخت کڑی آواز اور سوم: دہشت و ہیبت

قیامت کو القارعۃ اس لئے کہا گیا کہ یہ تینوں اجزاء قیامت میں انتہائی درجہ پر ہوں گے۔ تصادم ایسا کہ ستارے اور سیارے پاش پاش ہوجائیں اور پہاڑ ریزہ ریزہ۔ سخت کڑی آواز ایسی کہ جسے سن کر لوگ مرجائیں اور دہشت ایسی کہ سب کو اپنی اپنی فکر ہو۔ ارشاد ہوا:

لکل امری منہم یومئذ شان یغنیہ (عبس: ۳۷)

’’ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے کافی ہے‘‘

قیامت کے دن کے حالات اور صور پھونکنے کے اثرات جو قرآن عظیم میں بیان ہوئے ہیں، ان سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہولناک زلزلہ اور ہیبت ناک حادثہ کس قدر دل دہلانے والا ہوگا جسے اﷲ تعالیٰ نے ’’القارعۃ‘‘ کے نام سے ذکر فرمایا ہے۔
یہ نام رکھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ قیامت اچانک آئے گی۔ سب اپنے اپنے کاموں میں مگن ہوں گے، وہ ہولناک مصیبت اچانک آجائے گی۔

بل تاتیہم بغتۃ فتبھتھم فلا یستطیعون ردھا ولا ہم ینظرون

’’بلکہ اچانک آپڑے گی تو انہیں بے حواس کردے گی پھر نہ وہ اسے پھیر سکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی‘‘ (الانبیاء: ۴۰ ، کنزالایمان)

دوسری وجہ یہ ہے کہ جب قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا تو ایک زبردست چنگھاڑ سنائی دے گی جو دل دہلا دے گی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

فاذا جآء ت الصاخۃ (عبس: ۳۳)

’’پھر جب آئے گی وہ کدن پھاڑنے والی چنگھاڑ‘‘ (کنزالایمان)

پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو سب بے ہوش ہوجائیں گے۔ پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ مر جائیں گے۔ پھر تیسری بار صور پھونکا جائے گا تو سب دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

ان کانت الا صیحۃ واحدۃ فاذاہم جمیع لدینا محضرون
’’وہ تو نہ ہوگی مگر ایک چنگھاڑ جبھی وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر ہوجائیں گے‘‘

(یٰس: ۵۳، کنزالایمان)

تیسری وجہ یہ ہے کہ جب قیامت آئے گی تو سورج چاند ستارے آسمان وغیرہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور ایک ہولناک آواز پیدا ہوگی۔ ارشاد ربانی ہے:

اذا السمآء انفطرت o واذا الکواکب انتثرت o واذا البحار فجرت o واذا القبور بعثرت o علمت نفس ما قدمت واخرت o
’’جب آسمان پھٹ جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہاد یئے جائیں اور جب قبریں کردیئے جائیں، ہر جان، جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے‘‘ (انفطار: ۱۔۵، کنزالایمان)

یوم ترجف الراجفۃ o تتبعہا الرادفۃ o قلوب یومئذ واجفۃ o ابصارہا خاشعۃ o (النٰزاعٰت : ۶،۷)
’’جس دن تھرتھرائے گی تھرتھرانے والی، اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی، کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے، آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے‘‘ (کنزالایمان)

قیامت سے متعلقہ تمام آیات مبارکہ کا مطالعہ فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ اس سورت میں ان آیات کا گویا ایک طرح سے خلاصہ بیان فرمادیا گیا ہے اور انسان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اتنی ہولناک مصیہت اور دل دہلانے والی آفت سے بے پرواہ اور غافل نہ ہوجانا۔ جیسے اگر کسی کو یہ معلوم ہوجائے کہ آج رات کوئی بڑی مصیبت آنے والی ہے یا ہولناک زلزلہ آنے والا ہے تو دہشت اور خوف کی وجہ سے انسان کی نیند اڑ جائے گی، دل لرزنے لگے گا اور ہر لمحہ کھٹکا رہے گا کہ بس اب زلزلہ آیا، اب موت آئی۔
پس انسان کو چاہئے کہ اس دن کے آنے سے قبل اس کے لئے ایسی تیاری کرلے جس کے باعث وہ ان خوش نصیبوں میں سے ہوجائے جنہیں یہ بشارت دی گئی ہے۔

من جآء بالحسنۃ فلہ خیرمنہا وہم من فزع یومئذ اٰمنون o

’’جو نیکی لائے، اس کے لئے اس سے بہتر صلہ ہے، اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے‘‘ (النمل: ۸۹، کنزالایمان)
کالفراش المبثوث

ارشاد ہوا: ’’جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے‘‘ (کنزالایمان)

1۔ اس آیت میں انسانوں کو پھیلے ہوئے پروانوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح برسات میں کثیر تعداد میں پروانے اور پتنگے نکل آتے ہیں اسی طرح قیامت میں جب انسان قبروں سے اٹھیں گے تو پوری زمین لاتعداد انسانوں سے بھر جائے گی۔

یوم ینفح فی الصور فتاتون افواجا (النبا: ۱۸)
’’جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آئو گے فوجوں کی فوجیں‘‘ (کنزالایمان)

2۔ پروانے نہایت کمزور ہوتے ہیں اور ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ہیں، ایسا ہی حال قیامت کے دن انسانوں کا بھی ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وتری الناس سکٰرٰی وما ہم بسکٰرٰی (الحج :۲)
’’اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں (حالانکہ) وہ نشہ میں نہ ہوں گے‘‘

3۔ پروانے ایک سمت میں نہیں اڑتے بلکہ حیران و مضطرب، منتشر انداز میں اڑتے ہیں۔ اسی طرح قیامت میں لوگ حیران و پریشان اٹھیں گے اور گھبراہٹ وبدحواسی میں ادھر ادھر بھاگ رہے ہوں گے۔ ارشاد ہوا۔

یوم یخرجون من الاجداث سراعاً کانہم الیٰ نصب یوفضون o خاشعۃ ابصارہم ترہقہم ذلۃ

(المعارج: ۴۳،۴۴)
’’جس دن قبروں سے نکلیں گے جھپٹتے ہوئے گویا وہ نشانوں کی طرف لپک رہے ہیں، آنکھیں نیچی کئے ہوئے، ان پر ذلت سوار‘‘ (کنزالایمان)

یقول الانسان یومئذ این المفر o کلا لاوزر (القیامۃ: ۱۰،۱۱)
’’اس دن آدمی کہے گا، کدھر بھاگ کر جاؤں، ہرگز نہیں! کوئی پناہ نہیں‘‘

4۔ پروانے ایک دوسرے سے لاتعلق اور بے پرواہ ہوتے ہیں، قیامت میں انسانوں کا بھی یہی معاملہ ہوگا۔ نہ کوئی کسی کا حال پوچھے گا نہ ہی کوئی کسی کی پرواہ کرے گا۔

ولا یسئل حمیم، حمیماً o یبصرونہم یود المجرم لویفتدی من عذاب یومئذ ببینہ o وصاحبۃ واٰخیہ o وفصلیتہ التی تسئویہ o ومن فی الارض جمیعاً ثم ینجیہ o کلاً
’’اور (اس دن) کوئی دوست کسی دوست کی بات نہ پوچھے گا، ہوں گے انہیں دیکھتے ہوئے۔ مجرم آرزو کرے گا، کاش اس دن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں دے دے اپنے بیٹے، اور اپنی بیوی، اور اپنا بھائی، اور اپنا کنبہ جس میں اس کی جگہ ہے اور جتنے زمین میں ہیں سب، پھر یہ بدلہ دینا اسے بچالے؟ ہرگز نہیں‘‘ (المعارج: ۱۰ تا ۱۵، کنزالایمان)

قیامت میں ایمان اور تقویٰ کے سوا کوئی تعلق قائم نہ رہے گا۔ ارشاد ہوا

الا خلآء یومئذ بعضہم لبعض عدو الا المتقین
’’گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار‘‘

کالعھن المنقوش
ارشاد ہوا ’’اور پہاڑ ہوں گے جیسے دھنکی اون‘‘ (کنزالایمان)

اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہاڑوں کے مختلف احوال بیان فرمائے ہیں۔

وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وہی تمر مرا السحاب

’’اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو، خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور (درحقیقت) وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال‘‘ (النمل: ۸۸، کنزالایمان)

پھر وہ پہاڑ ایک آن میں چورا چورا کردیئے جائیں گے۔ ارشاد ہوا:

وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدۃ (الحاقہ: ۱۴)
’’اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعتاً چورا کردیئے جائیں‘‘ (کنزالایمان)

جس طرح دھنکی ہوئی اون کا ریشہ ریشہ الگ ہوجاتا ہے اسی طرح پہاڑ بھی ذرہ ذرہ کردیئے جائیں گے۔ پہاڑوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوا۔

ومن الجبال جدد بیض وحمر مختلف الوانہا وغرابیب سود
’’اور پہاڑوں کے مختلف راستے (یا حصے) ہیں، سفید اور سرخ، مختلف رنگ کے اور کچھ گہرے سیاہ‘‘ (فاطر: ۲۷)

جب قیامت آئے گی تو یہ مختلف رنگوں کے پہاڑ چورا چورا ہوکر ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون ہوتی ہے اور جب یہ اجزاء ہوا میں اڑیں گے تو یوں معلوم ہوگا جیسے دھنکی ہوئی رنگین روئی کے گالے اڑ رہے ہیں۔
غیب بتانے والے آقا و مولیٰﷺ نے جب قیامت کی خبریں دیں تو لوگوں نے پوچھا، کیا پہاڑوں جیسی مضبوط و بھاری چیز بھی تباہ ہوسکتی ہے؟ جواب میں ارشاد ہوا:

ویسئلونک عن الجبال فقل ینسفہا ربی نفسا
’’اور (اے محبوبﷺ) تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں، تم فرمائو! انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑادے گا‘‘ (طٰہٰ: ۱۰۵، کنزالایمان)

گویا قیامت ایسا عظیم حادثہ اور دل دہلانے والی آفت ہے کہ یہ عظیم الشان مضبوط پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر ہوا میں اڑ جائیں گے۔ تو پھر ذرا سوچئے کہ اس دن انسان کس حال میں ہوگا۔ اس سورت میں قیامت کے احوال بیان فرما کر انسان کو نصیحت کی گئی ہے کہ صرف اس زندگی کو ہی پوری زندگی نہ سمجھ لینا۔ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر تم بارگاہ الٰہی میں پیش ہوگے اور جزاء و سزا پاو گے۔

اﷲ یبدوا الخلق ثم یعیدہ ثم الیہ ترجعون (الروم:۱۱)
’’اﷲ پہلے بناتا ہے پھر دوبارہ بنائے گا پھر اسی کی طرف پھرو گے‘‘ (کنزالایمان)

آیت ۶ تا ۸ کی تفسیر

ارشاد ہوا

’’تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں وہ تو من مانتے عیش میں ہیں، اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں، وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے‘‘ (کنزالایمان)
موازین جمع ہے میزان کی جس کے معنی ترازو یا ترازو کے پلے کے ہیں۔ اب مفہوم یہ ہوگا کہ جس کے ترازو کے پلے بھاری ہوں گے وہ پسندیدہ عیش میں ہوگا۔
اگر موازین کا واحد ’’موزون‘‘ ہو جس کے معنی وزن کی ہوئی چیز کے ہیں، تو اب مفہوم یہ ہوگا کہ جس کے نیک اعمال وزنی ہوں گے اس کے لئے خوشخبری ہے۔
درحقیقت دونوں معانی کی اصل ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی جو اعمال لے کر بارگاہ الٰہی میں آیا ہے وہ وزنی ہیں یا بے وزن؟ یا اس کی نیکیوں کا وزن اس کی برائیوں کے وزن سے زیادہ ہے یا کم؟
اعمال کے وزن کا تمام تر انحصار نیت کے اخلاص پر ہے۔ کئی لوگوں کے اعمال نامے میں ظاہری طور پر تو ایک جیسی نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گے لیکن رب تعالیٰ جو سینوں میں چھپی باتیں جانتا ہے، وہ ہر ایک کے اخلاص کے لحاظ سے اسے کم یا زیادہ یا بہت زیادہ اجر وثواب عطا فرمائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قل ہل ننبئکم بالاخسرین اعمالاً o الذین ضل سعیہم فی الحیوٰۃ الدنیا وہم یحسبون انہم یحسنون صنعاً o اولٰئک الذین کفروا باٰیٰت ربہم ولقآئہ فحبطت اعمالہم فلا نقیم لہم یوم القیٰمۃ وزنا
’’تم فرماؤ! کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں؟ ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہوگئی، اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کررہے ہیں۔ یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا (یعنی آخرت کے منکر رہے) تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے۔ تو ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے‘‘ (الکہف: ۱۰۳۔۱۰۵، کنزالایمان)

ان آیات سے معلوم ہوا کہ کافروں کے اچھے اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گا کیونکہ نیک اعمال کی قبولیت کے لئے ایمان کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ رب تعالیٰ نے قرآن کریم میں مشرکوں سے فرمایا:

لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخٰسرین (الزمر: ۶۵)
’’اگر تو نے اﷲ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا‘‘

اور ایمان والوں سے فرمایا:

یاایھا الذین اٰمنوا لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجہروا الہ بالقول کجہر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون o
’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچیں نہ کرو اس غیبت بتانے والے (نبی) کی آواز سے، اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو‘‘ (الحجرات: ۲)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ شرک سے اعمال برباد ہوتے ہیں اور بارگاہ رسالت کا ادب نہ کرنے سے بھی اعمال برباد ہوجاتے ہیں اور اس میں اضافی سزا یہ ہے کہ بے ادب کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ العیاذ باﷲ۔
علامہ قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: آخرت میں لوگوں کے تین گروہ ہوں گے۔ ایک متقین کا گروہ ہوگا جس کے کبیرہ گناہ بالکل نہ ہوں گے۔ ان کی نیکیاں ایک نورانی پلّے میں رکھی جائیں گی اور دوسرا تاریک پلّہ خالی ہوگا۔
دوسرا گروہ کافروں کا ہوگا جن کے کفر اور برے اعمال تاریک پلّے میں رکھے جائیں گے اور اگر کوئی نیکی ہوئی تو دوسرے پلّے میں رکھ دی جائے گی مگر یہ پلّہ خالی پلّے کی طرح ہلکا رہے گا۔ رسول معظمﷺ کا ارشاد ہے، قیامت کے دن ایک بھاری بھرکم آدمی لایا جائے گا مگر اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اس کا وزن مچھر کے پر جتنا بھی نہ ہوگا۔ پھر حضورﷺ نے سورۃ الکہف کی آیت ۱۰۵ تلاوت فرمائی۔ (مسلم)
تیسرا گروہ گناہگار مسلمانوں کا ہوگا۔ ان کی نیکیاں نورانی پلّے میں رکھی جائیں گی اور برائیاں تاریک پلّے میں۔ اگر نیکیوں والا پلّہ بھاری رہا تو وہ جنت میں جائے گا اور اگر برائیوں والا پلّہ بھاری ہوا تو اس کا معاملہ رب تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہوگا۔ وہ چاہے گا تو بخش دے گا اور چاہے گا تو سزا دے گا۔
اگر دونوں پلّے برابر ہوئے تو اسے جنت و جہنم کی درمیانی جگہ ’’اعراف‘‘ میں رکھا جائے گا بشرطیکہ اس کے گناہ حقوق اﷲ میں سے ہوں۔ اگر اس کے گناہ حقوق العباد میں سے ہوئے، تو اسی حساب سے اس کی نیکیاں حقدار کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیوں سے ادائیگی پوری نہ ہوئی تو اس حقدار کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے اور اسے ان کے بدلے میں عذاب ہوگا (تفسیر مظہری)
احمد بن حارث علیہ الرحمہ کا قول ہے۔ قیامت کے دن مسلمانوں کے تین گروہ ہوں گے۔ ایک گروہ اعمال صالحہ میں غنی ہوگا۔ دوسرا گروہ اعمال صالحہ کم ہونے کی وجہ سے فقیر ہوگا اور تیسرا گروہ اعمال صالحہ میں پہلے غنی ہوگا پھر لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کے بعد فقیر ہوجائے گا۔
سفیان ثوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ کوئی شخص رب تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسے ستر گناہ لے کر جائے جو حقوق اﷲ میں سے ہوں، یہ آسان ہوگا بہ نسبت اس کے کہ وہ حقوق العباد میں سے ایک گناہ بھی لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو۔
حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہا کا ارشاد ہے۔ قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہوگا۔ جن کی ایک نیکی بھی گناہوں سے زائد ہوگی وہ جنت میں جائیں گے اور جن کے گناہ نیکیوں سے زیادہ ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے۔ اور جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوئے، انہیں اعراف میں رکھا جائے گا۔ ایسے لوگ پل صراط پر رکے رہیں گے یہاں تک کہ جب ان کو کچھ گناہوں کی سزا دے دی جائے گی تو ان کی نیکیاں بھاری ہوجائیں گی اور پھر انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
علامہ سیوطی علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ جس متقی کا کوئی گناہ نہ ہوگا اس کے اعمال بھی تولے جائیں گے تاکہ اس کی فضیلت اور شرف لوگوں پر ظاہر کردیا جائے اور یونہی کافر کے اعمال اسے ذلیل کرنے کے لئے تولے جائیں گے (مظہری)
یہ اعتراض بالکل لغو ہے کہ ’’اعمال کا وزن کیسے کیا جاسکتا ہے کیونکہ وزن تو مادی چیز کا کیاجاتا ہے‘‘
جواب یہ ہے کہ جب تھرمامیٹر کے ذریعے جسم کی حرارت یعنی بخار کو ناپا جاسکتا ہے، لیبارٹری کے آلات کے ذریعے خون میں کولیسٹرول، شوگر، کیلشیم، پوٹاشیم، سوڈیم اور دیگر بہت ساری غیر مادی چیزوں کا وزن کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ آلات مخلوق کے بنائے ہوئے ہیں تو پھر نیک و بداعمال کا وزن کیوں نہیں کیا جاسکتا جبکہ خالق و مالک کی شان یہ ہے کہ:

انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون
’’اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے تو اس سے فرمائے، ہوجا، وہ فورا ہوجاتی ہے‘‘

(یٰس: ۸۲، کنزالایمان)

فی عیشۃ راضیۃ
’’جس کی نیکیوں کا پلّہ بھاری ہوا، وہ من پسند عیش میں ہوگا‘‘

پسندیدہ زندگی وہ ہے جس کو زندگی بسر کرنے والا دل سے پسند کرے۔ دنیا میں ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہر بات اس کی پسند کے مطابق ہو، لیکن یہاں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتاکہ آدمی یہ کہہ سکے ’’آج کے دن ہر بات میری مرضی اور پسند کے مطابق ہوئی ہے‘‘
وہ ایمان والے جو دنیاوی زندگی میں اﷲ تعالیٰ اور اس کے حبیبﷺ کی مرضی پر اپنی مرضی کو قربان کردیتے ہیں اور ان کے احکامات پر عمل پیرا رہتے ہیں، وہ جنت کے حقدار ہوجاتے ہیں۔ رب تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کے لئے یہ انعام ہے کہ ان کی ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ جنت میں فرشتے ان سے کہیں گے:

ولکم فیہا ماتشتہی انفسکم ولکم فیہا ماتدعون o نزلاً من غفور رحیم (حٰم السجدہ: ۳۱،۳۲)
’’اور تمہارے لئے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے، اور تمہارے لئے اس میں جو مانگو، مہمانی بخشنے والے مہربان (رب) کی طرف سے‘‘ (کنزالایمان)

ایک طبقہ دنیا پرست غافل لوگوں کا ہے جو اس دنیا کی زندگی کو اپنی پسند اور مرضی کے مطابق گزارنا چاہتا ہے۔ آقا ومولیٰﷺ کا ارشاد گرامی ہے

’’دنیا مومن کا قیدخانہ اور کافر کی جنت ہے‘‘ (مشکوٰۃ)

یعنی مومن زندگی کو اپنی خواہشات اور مرضی کے مطابق نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی مرضی کے مطابق گزارتا ہے جبکہ کافر اپنی زندگی اپنی خواہشات اور اپنی مرضی کے مطابق بسر کرتا ہے۔ لہذا کافر کے لئے یہی جنت ہے، اور آخرت میں اس کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔
دنیا پرست اپنی زندگی کو عیش و عشرت سے بھرپور بنانے کے لئے مال و دولت کے حصول ہی کو اپنا مقصد حیات بنالیتے ہیں اور جب جائز و ناجائز ذرائع سے مال حاصل کرلیتے ہیں تو فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ انجام یہ ہوتا ہے کہ ان کی نیکیوں کا پلّہ ہلکا رہتا ہے اور وہ جہنم کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وماظلمہم اﷲ ولکن کانوا انفسہم یظلمون o فاصابہم سیات ما عملوا وحاق بہم ماکانوا بہ یستہزء ون

(النحل: ۳۳،۳۴)
’’اور اﷲ نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے تو ان کی بری کمائیاں ان پر پڑیں اور انہیں گھیر لیا اس عذاب نے جس پر ہنستے تھے‘‘

فامہ ہاویۃ
جس کا نیکیوں کا پلّہ ہلکا ہوگا

اس کا مسکن اور ٹھکانا ہاویہ ہوگا۔ یہاں ٹھکانے کے لئے ’’ام‘‘ کا لفظ بیان ہوا ہے، جس کے معنی ماں کے ہیں اور ’’ہاویہ‘‘ دوزخ کا ایک بہت گہرا گڑھا ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ماں کی گود اس کے بچوں کا ٹھکانا ہوتی ہے اسی طرح نافرمان وبدکار لوگوں کے لئے دوزخ کے اس گہرے گڑھے کے سوا اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا۔
’’ام‘‘ کا ایک اور معنی ’’جڑ‘‘ اور ’’گود‘‘ ‘کا بھی ہے۔ اس لئے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے ’’وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے‘‘
گویا کافروں کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا اور وہ سب سے نچلے مقام یعنی اس کی جڑ تک پہنچ جائیں گے اور ’’ہاویہ‘‘ ان سب اہل دوزخ کو نیچا کر دکھائے گی کیونکہ اسے (نار حامیۃ) فرمایا گیا ہے ’’ایک آگ شعلے مارتی‘‘
اس کے معنی ہیں، انتہائی درجہ کی حرارت والی آگ۔ گویا یہ اس قدر سخت گرم جگہ ہے کہ اس کے مقابلے میں باقی دوزخ کی گرمی کچھ نہیں۔ صحیح بخاری میں حدیث پاک ہے کہ اہل جہنم میں سب سے کم عذاب جس کو ہوگا اسے آگ کے جوتے پہنادیئے جائیں گے جن کی بناء پر اس کا دماغ کھولتے ہوئے پانی کی طرح کھولنے لگے گا۔

اللھم اجرنا من النار بجاہ حبیبک المصطفیٰﷺ