حضرت نظام الدین اولیاء

in Tahaffuz, April 2013, خان آصف, د ر خشا ں ستا ر ے

’’اے پیر تشریف لایئے… اے پیر تشریف لایئے‘‘

اسی طرح جب کسی شیر کے دھاڑنے کی آوازآئی تو مولانا عوض وہی الفاظ دہرا دیئے۔

’’اے پیر! تشریف لایئے‘‘

الغرض رات بھر جنگل میں مولانا عوض کی آواز گونجتی رہی۔ یہاںتک کہ صبح ہوگئی۔ سورج طلوع ہوتے ہی یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے مولانا عوض سے دریافت کیا۔

’’محترم! یہ کون پیر ہیں جنہیں آپ رات بھر پکارتے رہے ہیں؟‘‘

مولانا عوض نے جواباً کہا…

’’میں شیخ فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ کو پکارتا تھا۔ اﷲ نے ان کے صدقے میں ہمارا یہ مشکل ترین سفر آسان کردیا‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ جیسے ہی مولانا عوض نے حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ کا ذکر کیا۔ میرے دل پر ایک خاص اثر ہوا۔ حالانکہ اس سے پہلے میں جانتا بھی نہیں تھا کہ حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ کون بزرگ ہیں؟

دہلی پہنچ کر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اپنی والدہ محترمہ اور ہمشیرہ کے ساتھ ایک سرائے میں قیام کیا۔ یہ سرائے دہلی کے ایک بازار میں بنائی گئی تھی اور ’’سرائے نمک‘‘کے نام سے مشہور تھی۔ سید امیر خورد علیہ الرحمہ کی روایت کے مطابق حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے مادر گرامی اور ہمشیرہ کو اسی سرائے میں ٹھہرایا اور خود سرائے کے سامنے ایک کمان ساز کے مکان میں ٹھہرے۔ عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کا مکان بھی اسی محلے میں تھا۔ اس وقت حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی عمر مبارک ۱۶ سال تھی۔

جب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دہلی تشریف لائے تو اس وقت یہ شہر اہل کمال کا مرکز تھا، جس طرح دیگر علوم و فنون کے ماہرین یہاں جمع ہوگئے تھے۔ اسی طرح ممتاز علمائے دین نے بھی اپنے قیام سے دہلی کو شرف بخشا تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کچھ دنوں تک مختلف علماء کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے لیکن کسی مجلس میں آپ کو ایسی کشش محسوس نہیں ہوئی کہ اس جگہ سر تسلیم خم کردیتے۔ پھر ایک دن آپ مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کی بارگاہ علم میں حاضر ہوئے۔ اس مجلس کا انداز ہی کچھ اور تھا۔ درودیوار تک سے ہیبت و جلال کی بارش ہوتی تھی کہ ہر آنے والا مبہوت ہوکر رہ جاتا تھا۔ مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ سے تعارف کے بغیر ہی لوگ سمجھ لیتے تھے کہ یہ کسی مرد قلندر کی مجلس ہے، جس نے صرف اپنے اﷲ کی مرضی کے لئے علم حاصل کیا ہے اور اﷲ کی رضا کی خاطر ہی اس دولت لازوال کو اس کے بندوں میں تقسیم کررہاہے۔

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے پہلے دن ہی یہ محسوس کرلیا تھا کہ مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ پوری دہلی میں تنہا ایسے عالم دین ہیں جن کی تعلیم و تربیت سے انسانی دل و دماغ روشن ہوسکتے ہیں۔ آخر درس شروع ہوا۔ مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کی پرجلال آواز گونجی اور تمام اہل مجلس کے جسموں پر لرزہ طاری ہوگیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ شدید حیرت کے عالم میں مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کا رخ تابناک دیکھنے لگے۔ آپ نے اپنی زندگی میں پہلی بار علم کے سمندر کو موجزن دیکھا تھا۔ درس کے دوران حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ بار بار ایک ہی بات سوچتے رہے کہ آپ کا یہ سفر رائیگاں نہیں گیا اور شوق طلب نے آپ کو صحیح مقام تک پہنچا دیاہے۔

پھر جب درس ختم ہوا تو مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ نے پچھلی صفوں کی طرف دیکھا۔ وہاں آپ کاایک شاگرد سر جھکائے بیٹھا تھا۔ حضرت مولانا نے اس کا نام لے کر مخاطب کیا۔ شاگرد فوراً کھڑا ہوگیا مگر بار ندامت سے اس کی گردن جھکی ہوئی تھی۔ مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ نے بھری مجلس میں اپنے اس شاگرد سے دریافت کیا۔

’’کل تم کہاں تھے؟ کیا تمہیں حصول علم سے بھی زیادہ کوئی ضروری کام تھا؟‘‘ مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کے لہجے میں انتہائی ناخوشگواری کا اظہار ہورہا تھا۔

شاگرد کے پاس مولانا علیہ الرحمہ کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ بدستور خاموش کھڑا رہا۔

آخر مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ نے نہایت شگفتہ لہجے میں اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔

’’میرے بچے! مجھے اتنا بتادو کہ میں نے تمہارا کیا قصور کیا تھا جوتم میرے درس میں نہیں آئے؟ خدا کے لئے میری غلطی کی نشاندہی کرو تاکہ آئندہ بھی میں اسی غلطی کو دہراؤں اور تم اسی طرح درس میں شامل نہ ہوسکو۔ یہاں تک کہ میں مسلسل غلطیاں کرتا رہوں اور پھر تم مستقل طور پر میرے درس میں آنا چھوڑ دو‘‘

مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کی اس گفتگو سے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اندازہ کرلیا تھا کہ یہ نادرِروزگار انسانی ہجوم سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے اور صرف ان ہی لوگوں کو اپنا علم منتقل کرنا چاہتا ہے جو حقیقتاً اپنے سینوں میں علم کی طلب نہیں، بھڑکتی ہوئی آگ رکھتے ہیں۔

پھر جب تمام طالب علم درس ختم ہونے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ نے ایک ایسے نوجوان کو دیکھا جو دست بستہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ مولانا کو حیرت ہوئی۔ آج سے پہلے آپ نے اس نوجوان کو اپنی مجلس میں شریک ہوتے نہیں دیکھا تھا۔

’’میرے قریب آؤ!‘‘

بالآخر مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو مخاطب کیا۔
جب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ قریب پہنچے تو مولانا نے آپ سے سوال کیا۔

’’تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے نہایت عجزوانکسار کے ساتھ اپنا مختصر تعارف پیش کیا۔

’’یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘

مولانا نے دوسرا سوال کیا۔

’’علم کی طلب مجھے بدایوں سے دہلی لائی تھی‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے لہجے میں شوق کے ساتھ روح کا وہ سوز بھی شامل تھا، جو قدرت کی طرف سے کسی انسان کو بخشا جاتا ہے۔

’’دہلی پہنچ کر مجھ پر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ اس شہر میں علم کا سمندر بھی موجود ہے‘‘

مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ بہت غور سے نوجوان کی باتیں سن رہے تھے۔ وہ عالم جو بڑے بڑے اہل کمال کو خاطر میں نہیں لاتا تھا، اسے ۱۶ سال کے طالب علم نے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔

’’تم جسے علم کا سمندر کہہ رہے ہو، وہ کون ہے؟‘‘

مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سے دریافت کیا۔

’’وہ سمندر آپ ہیں‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے لہجے سے انتہائی عقیدت کا اظہار ہورہا تھا۔

’’تم سمندر اور دریا میں تمیز کرسکتے ہو؟‘‘

مولانا شمس الدین علیہ الرحمہ نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سے پوچھا۔

’’کیا تمہارے پاس اس دعوے کی کوئی دلیل ہے جس کی بنیاد پر تم مجھے علم کا سمندر کہہ رہے ہو؟‘‘

’’نہیں! میں کوئی دلیل نہیں رکھتا‘‘

مولانا کے اس سوال پر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو اپنی عاجزی کا شدت سے احساس ہونے لگا تھا۔

’’میں اپنے محسوسات کو لفظوں کی زبان نہیں دے سکتا‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا جواب سن کر مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے پھر بدایوں سے آنے والے نوجوان کو مخاطب کرکے فرمایا۔

’’حصول علم سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ تم دیکھ رہے ہو کہ ہزاروں انسان علم حاصل کررہے ہیں۔ اپنے کاندھوں پر کتابیں لادنے والوں کا ایک ہجوم ہے۔ آخر تم اس ہجوم میں کیوں شامل ہونا چاہتے ہو؟‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے پاس بظاہر اس سوال کاکوئی ایسا جواب نہیں تھا جو مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ جیسے عالم و فاضل انسان کو مطمئن کردیتا مگر پھر بھی آپ نے لب کشائی ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔

’’بس میرا دل چاہتا ہے کہ آپ میرے جسم پر بھی کتابیں لادیں۔ یہ بوجھ جہالت اور بے علمی کے بوجھ سے تو کہیں بہتر ہوگا‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے بصد احترام عرض کیا۔

’’میں زندگی بھر کم سے کم اس تصور سے تو سرشار رہوں گا کہ میرے جسم پر یہ بوجھ حضرت مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ نے لادا ہے اور مولانا شمس الدین، آخر شمس الدین ہیں‘‘

بدایوں کے ایک ۱۶ سالہ نوجوان نے مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ جیسے امام وقت کو اس قدر متاثر کیا کہ آپ کچھ بھی نہ کہہ سکے۔ اگر کچھ کہا بھی تو بس یہ کہا

’’بابا جاؤ! تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح آتے رہنا۔ میں تمہارے جسم پر بھی کتابیں بار کرتا رہوں گا‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا مقصد پورا ہوچکا تھا۔ آپ بے تابانہ اپنی نشست سے اٹھے اور مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کی دست بوسی کا اعزاز حاصل کیا اور الٹے قدموں واپس چلے گئے۔

دوسرے دن جب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ،مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کی بارگاہ علم میں حاضر ہوئے تو استاد گرامی نے ایک خاص انداز سے آپ کی جانب دیکھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے چند لمحوں میں اس نگاہ کا مفہوم سمجھ لیا۔ یہ وہی نگاہ تھی جو دلوں کے رشتے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے دل ہی دل میں اپنے اﷲ کا شکر ادا کیا کہ مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ آپ سے راضی ہوگئے تھے۔
اگر کسی دن شدید بیماری کے سبب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ شریک درس نہ ہوتے تو دوسرے روز آپ کو دیکھتے ہی مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ بلند آوازمیں فرماتے۔

’’سید! تم تو غیر حاضر ہوکر مجھے آزار نہ پہنچایا کرو‘‘

مولانا شمس الدین علیہ الرحمہ کے اس ایک جملے نے تمام حاضرین مجلس اور شاگردوں کی کثیر جماعت پر یہ بات واضح کردی تھی کہ مستقبل میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ہی مولانا خوارزمی علیہ الرحمہ کے علم کی امانت کا بار گراں اٹھائیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا چند روز بعد ہی مولانا علیہ الرحمہ نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو اپنے مخصوص حجرے میں طلب کرکے فرمایا۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں