ذیل نظر مضمون میں دیئے گئے دو اشعار امام اہل سنت، مجددِ دین وملت، پروانۂ شمع رسالت سیدی الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کے نعتیہ کلام’’حدائق بخشش‘‘کی ایک نعت’’سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے‘‘سے لئے گئے ہیں۔ جس کی شرح حضور فیض ملت، مفسراعظم پاکستان، شیخ التفسیر والحدیث، خلیفہ مفتیٔ اعظم، عاشقِ رضا حضرت علامہ الحاج الحافظ محمد فیض احمد اُویسی رضوی نوراللہ مرقدہ نے ’’الحقائق فی الحدائق عرف شرح حدائق بخشش‘‘جلد ۷ میں فرمائی ہے ۔یاد رہے کہ حدائق بخشش شریف کی شرح حضور فیض ملت علیہ الرحمہ نے 25جلدیں لکھی ہیں جن میں سے14شائع ہوکر منظر عام پر آگئی ہیںبقیہ عاشقانِ رضا کودعوتِ طباعت دے رہی ہیں۔(جگر گوشۂ حضور فیض ملت مفتی محمد فیاض احمد اُویسی رضوی )

آنکھ سے کاجل صاف چُرالیں وہ چور بلا کے ہیں
تیر ی گٹھڑی تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے

حل لغات:۔کاجل(اردو)چراغ کا دھواں جو ٹھیکرے پر مارتے ہیں یہاں وہ معروف کاجل مراد ہے جو آنکھوں میں حسن کو نکھارنے کے لئے سرمہ کی طرح لگاتے ہیں ، آنکھ کا کاجل چرانا چوری کے فن میں کمال عیار ہونا ۔ بلا ، مصیبت ،دکھ ، چڑیل، بھوتنی۔ تاکی از تاکنا، گھورنا ، دیکھنا ، پہلے سے جان رکھنا، جھانکنا تاڑنا، انتظار کرنا ، نشانہ باندھنا ۔ نیند نکالنا ، نیند کا سبب بنانا ، سوجانا۔

شرح:۔یہاں کے چور بلا کے ہیں انتہائی مفسد اور اپنے فن کے بڑے ماہر کاجل یعنی سرمے کو بھی چرالیتے ہیں یعنی وہ سامان جو ہزاروں اسباب و وسائل سے پوشیدہ اور مشکل ترین جگہ پر محفوظ ہو تو بھی اس کا اڑانا ان کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ وہ دوسروں کی چوری کے بجائے اب وہ تیری گٹھڑی یعنی سامان اُڑانے کی گھات میں ہیں لیکن تونے بے پرواہ ہوکر نیند کی تیاری کررکھی ہے۔

بھولے بھالے سنیوں کو انتباہ:۔سنی عوام بھولے بھالے مذہبی بھروپیوں کے دام تزویر میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں اور مکار مذہبی بھروپیا مکر وفریب میں بڑا عیار او ر چالاک ہوتاہے ۔ عوام کو پھنسانے کے ہر طرح کے حربے جانتا ہے سب سے پہلا حربہ عملی تقیہ ہے اور اس کی اسے باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے ۔ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نے عوام کو اس پر انتباہ فرمایا ہے کہ مکار دشمن اب سنی کی گٹھڑی اڑانے کی تاک میں ہے اسی لئے اے سنی بھائیوں غفلت کو چھوڑ کر اپنے ایمان کے بچانے کی سوچو اور ان مذہبی بھروپیوں سے دور رہو۔

فائدہ:۔امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کا یہ انتباہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق ہے۔

فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَo (پارہ۷، سورۂ الانعام، آیت ۶۸)

تویاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔

احادیث :۔إِنَّ بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ کَذَّابِینَ فَاحْذَرُوہُمْ۔

(صحیح مسلم جلد۳ صفحہ۱۴۵۳حدیث۱۸۲۲مطبوعہ بیروت)

بیشک قیامت سے پہلے بہت جھوٹے لوگ ہوں گے پس ان سے بچو۔

فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے

انظروا من تجالسون وعمن تأخذون دینکم فإن الشیاطین یتصورون فی آخر الزمان فی صور الرجال فیقولون حدثنا وأخبرنا، وإذا جلستم إلی رجل فاسألوہ عن اسمہ وأبیہ وعشیرتہ فتفقدونہ إذا غاب۔

(کنزالعمال جلد۱۰صفحہ ۲۱۴، حدیث۲۹۱۲۹مطبوعہ بیروت)

جس کے پاس بیٹھو اور دین کی سمجھ حاصل کرو اسے پہلے خوب دیکھ لو کیونکہ آخر زمانہ میں شیطان انسانوں کی شکلوں (گمراہ کرنے کے لئے )حدیثیں پڑھ پڑھ کر سناتے پھریں گے اور کہتے پھریں گے ’’حدثنا وأخبرنا ‘‘او ر جب تم کسی مرد کے پاس بیٹھنے کا قصد کرو توپہلے اس سے اس کا نام اور باپ اور قبیلہ کے متعلق پوچھ لو کیونکہ اس کے غائب ہوتے ہی پھر تم اسے نہیں پاسکوگے وہ مفقود ہوجائے گا۔

امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا دور:۔مذکورہ بھروپیوں کی ہرزمانہ میں کمی نہیں رہی لیکن امام احمد رضا قدس سرہ کے دورمیں خصوصیت سے مذہبی بھروپیوں نے مختلف بھیسوں میں عوام کے ایمان بگاڑنے میں ہر طرح کی لوٹ مار کررہے تھے۔ تفصیل تاریخ کی کتب میں ہے فقیر صرف ایک نمونہ عرض کررہاہے۔
اسلام کے خلاف دشمنانِ اسلام کی تخریبی سازشوں کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو بہت سی ایسی جماعتیں معلومات کے اُجالے میں آجائیں گے جن کا سلسلۂ نسب کسی عیار دشمن کے فتنہ پرداز ذہن سے جاملا ہوگا۔مثال کے طور پر ہندوستان میں قادیانی جماعت کو لیجئے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس کا وجود سراسر انگریزی سامراج کا شرمندہ احسان ہے جیساکہ خود قادیانی جماعت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے مکذوب کے الفاظ یہ ہیں ’’میں اپنا کام نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں ، نہ روم میں نہ شام میں ، نہ ایران میں نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔‘‘(تبلیغ رسالت جلد۶ صفحہ ۶۹)

مرزائیوں کی عیاری و مکاری نے اسلام او ر مسلمانوں کے خلاف جوکچھ کیا یا کررہے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا معاملہ نہیں ۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے مذہبی اتحاد کو توڑنے کے لئے انگریزوں کا یہ پہلا مورچہ تھا جو نہایت کامیاب ثابت ہوا لیکن چونکہ قادیانی جماعت اپنے کھلے ہوئے امتیاز اور چونکا دینے والے نام ونشان کی وجہ سے عام مسلمانوں میں بار نہیں پاسکتی تھی اس لئے انگریزوں کو ایک ایسی مذہبی تحریک کی ضرورت پیش آئی جس کے چلانے والے اپنے ظاہر کے اعتبار سے مسلمانوں میں باریاب ہونے کی فنکارانہ صلاحیت رکھتے ہوں تاکہ ان کے ذریعہ مسلمانوں کو مذہبی انتشار میں مبتلا کیا جاسکے۔
تبلیغی جماعت کا انگریز سرپرست نمبر1:۔اس عظیم مقصدکے لئے انگریزوں نے مالی امداد کا سہارا دے کر مولانا الیاس کو کھڑا کیا جیساکہ دیوبندی جمعیۃ العلماء کے ناظم اعلیٰ مولاناا حفظ الرحمن نے اپنے ایک بیان میں خود اس کا اعتراف کیا ہے چنانچہ ’’مکالمۃ الصدرین‘‘ نامی کتاب کا مرتب ان کی ایک گفتگو کا سلسلہ نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے اسی ضمن میں مولانا حفظ الرحمن صاحب نے کہا کہ مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی تبلیغی تحریک کو ابتداً حکومت کی جانب سے بذریعہ رشید احمد کچھ روپیہ ملتا تھا پھر بند ہوگیا۔(مکالمۃ الصدرین صفحہ ۸ شائع کردہ دیوبند)

فائدہ:۔غورفرمایئے! خالص مذہب کے نام پر کس تحریک کو چلانے کے لئے ایک دشمن اسلام کی امداد کا مصرف سوا اس کے اور کیا ہوسکتاہے کہ ایک مذہب کو دوسرے مذہب سے لڑ ا کر اہلِ اسلام کی روحانی ، اخلاقی اور اجتماعی قوتوں کو نقصان پہنچایاجائے۔

تبلیغی جماعت کا سرپرست نمبر2

مولانا اشرف علی تھانوی:۔اسلام کے نام پر ایک تبلیغی جماعت کی بنیاد ڈال دینے کے بعد طے شدہ مقاصد کے رُخ پر کام کرنے کے لئے اب ایسے فکری مواد کی ضرورت پیش آئی جو دماغوں میں سرایت کرنے کے بعد ایمان کی توانائی سلب کرسکیں اور مسلمانوں میں مذہبی خانہ جنگی کا ایک ایسا سلسلہ شروع کردیں جو کبھی ختم نہ ہوسکے چنانچہ اس اہم کام کی تکمیل کے لئے مولانا اشرف علی تھانوی کی قلمی خدمات حاصل کی گئیں جیساکہ اسی مکالمۃ الصدرین میں مولانا شبیر احمد عثمانی کایہ بیان نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے مولانا حفظ الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہادیکھئے ! حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے آپ کے مسلم بزرگ و پیشوا تھے ان کے متعلق بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ان کو چھ سو روپے ماہوار حکومت کی جانب سے دیئے جاتے تھے ۔ (مکالمۃ الصدرین صفحہ ۱۱ شائع کردہ دیوبند)

فائدہ:۔ظاہر ہے کہ حکومت برطانیہ کچھ ان کی مرید نہیں تھی کہ اس رقم کو ’’پیرمغاں‘‘کا نذرانہ سمجھا جائے اور پھر نذرانے کی رقم بھی ایک آدھ بار پیش کی جاتی ہے ماہ باماہ وظیفہ دینے کا مصرف سوا اس کے اور کیا ہوسکتاہے کہ وہ ایک طے شدہ خدمت کا معاوضہ تھا۔

انگریز کا تنخواہ کا گوارا:۔اسی کے ساتھ یہ خبر بھی ذہن میںرکھئے تو اس را ز سربستہ کی ساری گرہ کھل جائے گی کہ مظہر علی نام کے کوئی تھانوی صاحب کے بھائی تھے جو حکومت کے تنخواہ دار سی آئی ڈی افسر تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان سارے مراحل میں وہی درمیان کی کڑی تھے جیساکہ خود مولانا حسین احمد صاحب نے اپنے مکتوب میں ایک جگہ لکھا ہے مولانا مرحوم (تھانوی)کے بھائی محکمۂ سی آئی ڈی میں بڑے عہدیدار اخیر تک رہے ان کا نام ’’مظہر علی‘‘ہے انہوں نے جو کچھ کیا ہو مستبعد نہیں ۔(مکتوبات شیخ الاسلام جلد۲ صفحہ ۲۹۹)

راز سربستہ:۔مولوی الیاس کی تربیت کے لئے مولوی اشرف علی تھانوی کا انتخاب کیوں حالانکہ مولوی الیاس کا مرشد مولوی رشید احمد گنگوہی ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ گنگوہی عوام کو دام تزویر میں پھنسانے کا ہنر نہیں رکھتا تھا اور مولوی اشرف علی تھانوی اس فن کا اُستاد نکلا کہ اُس نے سنیوں کے مرکز میں گھس کر اپنا ہمنوا بنانے کے کئی کارنامے سرانجام دیئے۔ان میں سے ایک نمونہ حاضر ہے۔

تھانوی کا ایک کارنامہ:۔تھانوی صاحب کسی زمانے میں کانپور مدرسۂ جامع العلوم میں مدرس تھے ۔ اس وقت وہاں کا ماحول چونکہ سرتا سر عشق رسول کی طہارت میں ڈوبا ہوا تھا اس لئے گھر گھر میلاد وذکر رسول کی نورانی محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں چنانچہ حالات کے دباؤ کے تحت ایک عرصۂ دراز تک موصوف بھی اپنے عقیدے کے خلاف میلاد و قیام کے مراسم ادا کرتے رہے۔ جب دیوبندی جماعت کے بعض اکابر کی طرف سے بازپُرس کی گئی تو اس کا جواب موصوف نے یہ دیا وہاں میں نے بدون شرکت میلاد ، قیام کرنا قریب بمحال دیکھا اور منظور تھا وہاں رہنا کیونکہ منفعت بھی ہے کہ مدرسہ سے تنخواہ ملتی ہے۔(سیف یمانی مرتبہ مولوی منظور علی نعمانی صفحہ ۲۴)

اس مقام پر ہر دین دار مسلمان کو دعوتِ فکر دیتا ہوں وہ غیر جانب دار ہوکر اپنا فیصلہ صادر فرمائیں کہ کیا یہی ایک ’’مقدس رہنما‘‘کا کردار ہے کہ وہ محض چند پیسوں کی خاطر اپنے مذہب ، اپنے ضمیر اور اپنے اعتقاد کا اس طرح خون کرے۔ تھانوی صاحب کو اگر اپنا دین پیارا ہوتا تو خدا کی زمین بہت وسیع تھی کہیں بھی وہ اپنے مذہبی تقاضوں کوپامال کئے بغیر رزق حاصل کرسکتے تھے لیکن کسی کی نگاہ میں سکہ رائج الوقت ہی اگر سب کچھ ہو تو پھر عقیدہ ہی کیا ہے وہ تو اپنے آپ کو بھی بیچ سکتاہے جیساکہ مولانا شبیر احمد عثمانی کی روایت سے یہ راز بھی آشکارا ہوگیاہے۔

’’اگر میرے پاس دس ہزار روپیہ ہو سب کی تنخواہ کردوں پھر خود ہی وہابی بن جائیں‘‘(الافاضات الیومیہ جلد۳صفحہ ۶۷)

معاذ اللہ! ذرا وہابیت کے ساتھ عشق تو دیکھئے کہ تنخواہ دے کر کسی کومسلمان بنانے کی خواہش نہیں پیدا ہوئی لیکن مسلمان کووہابی بنانے کی تمنا میں جگر کا خون سوکھتا رہا۔ اب اس کے بعد بھی تبلیغی جماعت کی چلت پھرت کا مطلب کوئی نہ سمجھے تو اس کے حق میں سوا اس کے اور کیا کہا جاسکتاہے کہ اب اسے خدا ہی سمجھے۔

انگریزوں کے دو ایجنٹوں کا باہمی رشتہ:۔اوپر گزر چکا ہے کہ انگریزوں نے اس تبلیغی تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کی مذہبی آسائش کا خرمن جلانے کے لئے مولانا الیاس اور مولانا تھانوی کی خدمات حاصل کیں اب ذرا اس سلسلے میں ایک آقا کے دو مشترک ایجنٹوں کا باہمی ارتباط بھی ملاحظہ فرمالیجئے تاکہ کام کی نوعیت اور تخریبی سازشوں کا پس منظر سمجھنے میں آسانی ہو۔

حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت بڑا کام کیا ہے بس میرا دل چاہتاہے کہ تعلیم تو ان کی ہو اورطریقۂ تبلیغ میرا ہو کہ اس طرح ان کی تعلیم عام ہوجائیگی(ملفوظاتِ الیاس صفحہ ۵۷)

اب ’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘کی صحیح تصویر دیکھنا چاہتے ہوں تو مولانا الیاس کے حق میں تھانوی صاحب کا ’’جواب آں غزل‘‘ملاحظہ فرمایئے ۔ مولوی محمد یوسف صاحب اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں حضرت اقدس تھانوی صاحب قدس سرہ العزیز کی عادت مبارکہ (تبلیغی) جماعتوں کے پہنچنے کے وقت یہ سنی گئی کہ ان کی دعوت فرماتے، دعا فرماتے ، بعض دفعہ اصول سے مستثنیٰ فرماتے تھے   یہ بھی سنا گیا کہ فرمایا الیاس نے یا س کو آس سے بدل دیا۔(چشمۂ آفتاب صفحہ ۱۴)
اب جہاں تک تھانوی صاحب کی تعلیمات اور ان کی تصنیفات کے ذریعہ مسلمانوں میں مذہبی خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ انتشار کے برپا ہونے کا سوال ہے جو انگریزوں کا اصل مدعاتھا تو اس کے کچھ نمونے پچھلے اوراق میں سپردِ قلم کرچکا ہوں ۔ انہیں پڑھنے کے بعد آپ خود بھی محسوس کریں گے کہ نہایت ایمان داری کے ساتھ چھ سو روپے ماہوار کا حق نمک ادا کیا گیا ہے۔

اور پھر فریضۂ منصبی کی یہ ادائیگی اپنے اپنے طور پر دونوں نے کی ہے ۔ ایک نے فتنہ پرور لٹریچر تیار کرکے اور دوسرے نے تبلیغ و دعوت کا دلفریب طریقہ ایجاد کرکے۔(تبلیغی جماعت از علامہ ارشد القادری مدظلہ العالی)

آنکھ سے کاجل صاف چرالیں:۔امام احمد رضا محدث بریلوی قد س سرہ نے ان جیسے مکاروں کو فرمایا ہے چور بلا کے ہیں اور ان کی مکر و فریب کی کاروائی کو آنکھ سے کاجل صاف چرالیں سے تعبیر فرمایاہے ان چوروں کی بلا کی چوری کی کیفیت آج دنیا آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ اہل سنت کے مراکز کوکس طرح تاڑا اور پھر کس صفائی سے ایمان کی گٹھڑی چرائی اگرچہ یہ داستان طویل ہے لیکن چند نمونے علامہ ارشدالقادری مدظلہ کے ملاحظہ ہوں ۔

علامہ فرماتے ہیں کہ میرے ایک سوال پر مولوی یوسف بن مولوی الیاس نے کہا جب لوگ تبلیغ کا ڈھنگ نہیں جانتے تو کس نے کہہ دیا کہ وہ تبلیغ کریں یہاں مجھے تبلیغ کرتے ہوئے بیس سال ہوگئے میں نے کسی سے بھی نہ کہا کہ میلادو فاتحہ چھوڑ دو حالانکہ جاننے کی حد تک سب جانتے ہیں کہ میرا بھی عقیدہ ومسلک وہی ہے جو اکابر دیوبند کا ہے لیکن میں نے اچھی طرح تجربہ کرلیا ہے کہ ان چیزوں سے براۂ راست روکنے کے بجائے اب لوگوں کا ذہن بدلنے کی ضرورت ہے ۔ تبلیغی گشت اور مرکز میں چلہ گزارنے کا راز یہی ہے کہ لوگوں کو اپنے علماء کی صحبت میں زیادہ سے زیادہ اُٹھنے بیٹھنے کا موقعہ فراہم کیا جائے۔یہاں کے ماحول میں ذہن ڈھل جانے کے بعد لوگ خود بخود ان چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اپنے عقیدے میں اتنے سخت ہوجاتے ہیں کہ دوسروں کو راۂ راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میری طرف رُخ کرکے حضرت جی نے حکیمانہ انداز میں فرمایا مولوی صاحب آپ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہم لوگ ابھی اس ملک کے اندر اقلیت میں ہیں جب کہ بدعتیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ان حالات میں اپنا مذہب پھیلانے کے لئے ہمیں اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ مکر سے کام لیں ۔ آخر مکر بھی کوئی چیز ہے کفر وشرک سے پھیرنے کے لئے مکر سے کام لینا قطعاً کوئی گناہ کی بات نہیں ہے حق پرستی کے جوش میں آکر اگر ہم تقویۃ الایمان اور بہشتی زیور وغیرہ کے عقائد برملا بیان کردیں تو لوگ ہمیں مسجدوں میں نہ گھسنے دیں۔

اس لئے میں تمام تبلیغی کارکنوں کو سخت تاکید کرتاہوں کہ وہ بدعتیوں کے ساتھ مکر سے کام لیں یعنی مصلحت کا تقاضا ہو تو میلاد وقیام بھی کرلیں بلکہ اگر ضرورت پیش آجائے تو اپنے علماء کو بُرا بھلا بھی کہہ دیں جیسے بھی ہو اُن کے ساتھ لگے رہیں انہیں اپنے ہمرا ہ لے کر جماعتوں میں پھرآئیں کبھی نہ کبھی ان میں سے لوگ ٹوٹ کر ادھر آہی جائیں گے۔

مولوی صاحب دیکھو! یہاں مجھے بیس سال ہوگئے تبلیغ کا کام سنبھالے ہوئے اختلافی مسائل تو بڑی چیز ہے اس کی ہوا بھی میں نے کسی کو نہیں لگنے دی بس اتنا کیا کہ تبلیغی گشتوں ،لگاتار چلوں اور اجتماعات کے ذریعہ اپنے بزرگوں کی عقیدت ان کے دلوں میں بٹھا دی ۔ کسی کو دیوبندلے کر حضرت شیخ الاسلام سے مرید کرادیا کسی کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کی طرف رجوع کرایاجس کو جیسا پایا اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کیا۔

یہ جو تم ہزاروں آدمیوں کو دیکھ رہے ہو جو تبلیغ میں دن رات لگے ہوئے ہیں ان میں سے اکثر لوگ کٹر بدعتی اور قبرپرست تھے لیکن اپنے علماء کی عقیدت کے زیر اثر خود ہی ان کاذہن بدل گیا یہاں تک جن شرکیہ رسموں کو کہنے پر بھی وہ نہیں چھوڑ سکتے تھے اب بغیر کہے سنے چھوڑ دیا ۔ تبلیغی جماعت نے اسی راز کو پالیا ہے کہ جس کی عقیدت دل میں پیدا ہوجاتی ہے آدمی اس کا مذہب بھی قبول کرلیتاہے۔

حضرت جی اپنا سلسلۂ گفتگو ختم کرکے جب خاموش ہوگئے تو میں نے درخواست کی کہ آپ اپنی یہ ہدایات قلم بند کردیں تو آپ کو لوگوں تک پیغام پہنچانے میں بڑی مدد ملے گی۔ اس درخواست پر حضرت جی نے تیور بدل کر کہا پھر تم نے غلط سوال کیا ہمارے یہاں سارا کام زبان سے چلتاہے قلم استعمال نہیں کیا جاسکتا بجز اس کے کہ کارکنوں اور طالبین کے خطوط کے جوابات دے دیئے جاتے ہیں ۔ تبلیغی جماعت کا کاروبار کتنا پھیل گیا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن لکھت پڑھت کے لئے ایک رجسٹر بھی تم ہمارے یہاں نہیں پاؤ گے؟

علامہ ارشد القادری مدظلہ فرماتے ہیں کہ حیدر آباد دکن کا امیر جماعت تبلیغی میر ے ساتھ گفتگو میں دلچسپی لیتے ہوئے اطمینان سے بیٹھ گیا۔ وہ تبلیغی جماعتوں کے قصے سناتے رہے اور میں خاموشی سے سنتا رہا ۔ تبلیغی جماعت کے متعلق اسی سلسلہ میں انہوں نے حیدرآباد کی تبلیغی جماعت کی کارگزاریوں کا بھی تذکرہ چھیڑ دیا جب وہ کہہ چکے تو میں نے اُن سے ایک سوال کیا حیدر آباد تو درگاہوں ، خانقاہوں اور مزاراتی روایات کا بہت بڑا گڑھ تھا وہاں تبلیغی جماعت کو قدم جمانے کا موقعہ کیونکر ہوا۔

اس سوال پر وہ اس طرح مسرور ہوگئے جیسے میں نے ان کے حسن تدبر اور ذہانت کا لوہا مان لیا ہو۔ اسی کے بعد اسی جذبۂ مسرت کی ترنگ میں انہوں نے یہ کہانی سنائی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حیدرآباد عہد قدیم سے بدعتیوں کا بہت بڑا مرکز تھا ، قدم قدم پر کفر و شرک کے بے شمار اڈے تھے ،وہاں کی اٹھانوے فیصدی مسلم آبادی شرکیہ رسموں اور بدعات ہی کو اسلام سمجھتی تھی اس لئے بہت ہی حسن تدبیر اور ذہانت کے ساتھ ہمیں اس مرحلے سے گزرنا پڑا۔
عرس و فاتحہ کی مخالفت کرنے کے بجائے ہم نے یہ طریقہ اپنایا کہ جہاں کہیں عرس کا میلہ لگتا ہم اپنا تبلیغی وفد لے کر وہاں پہنچ جاتے اور لوگوں کو کلمہ ونماز کی تبلیغ کرتے ۔ اصرار کرکے بعض زائر ین کو بھی گشت میں اپنے ساتھ رکھتے ۔ اس طریقہ کار سے ہمیں دوفائدے پہنچے پہلا فائدہ تو یہ پہنچا کہ ایک بالکل اجنبی حلقے میں ہماری آواز پہنچ گئی اور دوسرا سب سے بڑا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ کبھی بدعتی مولویوں نے اپنے عوام کو ہماری طرف سے بدظن بھی کرنا چاہاکہ یہ بدعقید ہ اور عرس و فاتحہ کے مخالف لوگ ہیں تو اُنہی کے عوام نے اُنہیں جھٹلادیا کہ یہ لوگ عرس و فاتحہ کے مخالف ہوتے تو فلاں فلاں عرس میں کیوں دیکھے جاتے۔
اپنی کارگزاریوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہمیں ان گدی نشین پیروں سے بھی کافی مدد ملی جو بریلویوں کی طرح اپنے مسلک میں سخت نہیں ہیں ۔ ہم ان کی خانقاہوں میں حاضر ہوئے اور ایک خوش عقیدہ نیاز مند کی طرح ہم نے ان کی دست بوسی کی او ر انہیں اپنے اجتماع میں شریک ہونے کی دعوت دی کئی بار کی آمدورفت کے بعد جب وہ تیار ہوگئے تو انہیں نہایت اعزاز و تکریم کے ساتھ اپنے اجتماع میں لے آئے ۔ ان کی ہمرکابی میں ان کے مریدین کا جو دستہ آیا تھا اس نے جب اپنے پیر کے ساتھ ہمارا نیاز مندانہ رویہ دیکھا تو ہم سے کافی حدتک مانوس ہوگیایہاں تک کہ ان کے اپنے دوستوں اور پیر بھائیوں میں ہماری خوش عقیدگی کا ایک اچھا خاصا اشتہار بن گیا۔

اس طرح رفتہ رفتہ ہم بغیر کسی فکری تصادم کے وہاں کے اجنبی حلقوں میں داخل ہوتے گئے یہاں تک کہ ان حلقوں کی بہت بڑی تعداد نہ صرف یہ کہ تبلیغی جماعت کی ہمنوا بن گئی ہے بلکہ ہم نے انہیں ذہنی طور پر اتنا بدل دیا ہے کہ اب اگر ان کے پیر صاحبان بھی ہم سے قطع تعلق کا انہیں حکم صادر فرمائیں تو وہ اپنے پیر سے قطع تعلق کرسکتے ہیں لیکن اپنی جماعت کے خلاف کچھ سننا برداشت نہیں کریں گے۔

یہاں پہنچ کر ان کا لب ولہجہ بدل گیا انہوں نے فاتحانہ لہجہ میں کہا مولانا شکر ادا کیجئے کہ تبلیغی جماعت کی خاموش جدوجہد کے نتیجہ میں اب وہاں کفر و شرک کے مراکز کی وہ دھوم دھام باقی نہیں ہے ۔ میلاد وفاتحہ اور بدعات کی چہل پہل بھی اب دن بدن ماند پڑتی جارہی ہے ، ہماراجذبۂ جہاد اسی طرح سلامت رہ گیا تو وہ دن دور نہیں ہے کہ جب ان مزاروں پر مکھیاں بھنبھنائیں گی اور ہم ان صنم خانوں کی ویرانی پر شکرانے کے نوافل ادا کریں گے۔

گفتگو کے اس آخری حصے پر میراپیمانۂ صبر لبر یز ہوگیا میں نے تیور بدل کر ان سے کہا آپ کی کارگزاریوں کی روداد سننے کے بعد ایسا محسوس ہوتاہے کہ اس دنیا میں دجل و فریب کی آخری تربیت گاہ کا نام اب تبلیغی جماعت ہے ۔ یہ دنیا اپنی عمر کے آخری حصے سے گزررہی ہے ہوسکتا ہے قدرتی طور پر دجال کا کیمپ آپ ہی لوگوں کے ہاتھوں تیارکرایا جارہا ہو۔ اس جواب پر وہ ہکا بکا سے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے بڑا دھوکہ ہوا میں آپ کو اپنا سمجھ رہاتھا۔
گذشتہ دنوں پاکستا ن شیعہ پولیٹکل پارٹی کے چیئرمین سید سکندر حسین شاہ کو قتل کر دیا گیا جس کی نمازِ جنازہ جامعۃ المنظر کے پرنسپل حافظ سید ریاض حسین نجفی نے پڑھائی اور مولوی عبدالقادر آزاد دیوبندی نے شیعہ کی اقتداء میں شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھی جس کا فوٹو روزنامہ جنگ لاہور یکم جون ۱۹۹۲ء؁ میں موجود ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ سپاہ صحابہ مارچ ۱۹۹۲ء؁ کے الیکشن کے بعد پھر سے ’’کافر کافرشیعہ کافر‘‘کے نعرے لگارہی ہے (اس کی تفصیل’’طرفہ تماشہ‘‘ میں ملاحظہ فرمایئے)اس نے مولوی عبدالقادر آزد کے بارے میں کیا سوچا؟

آیئے اس کی سوچ پر قربان ذرا نرم ہی ہاتھ رکھا ہے تاکہ ’’اپنی کچھ اچ دوئیاں دی ہتھ اچ‘‘کا قول صحیح ثابت ہوجائے ۔کہروڑ پکا میں سپاہ صحابہ صوبہ سندھ کے صدر علی شیر حیدری نے کہا ہے کہ ’’مولانا عبدالقادر آزاد نے ایک دوسرے فرقہ کے عالم کے پیچھے نمازِ جنازہ ادا کرکے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے اس لئے وہ قوم سے معافی مانگیں اور ایسی حرکت سے باز رہیں‘

(روزنامہ جنگ لاہور ۱۲جون۱۹۹۲ )

پاؤں اُٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے مونھ

مینھ نے پھسلن کردی ہے اور دُھر تک کھائی نالی ہے

حل لغات:۔ٹھوکر کھائی ، ٹھوکر کھانا ، پتھر سے پاؤں ٹکرانا ، پاؤں کی چوٹ کھانا ، الجھ کر گر پڑنا ، نقصان اُٹھانا ، بھولنا چوکنا، دھوکہ کھانا ۔ اوندھے منہ ، اُلٹے منہ۔مینھ ، بارش ۔ پھسلن ، رپٹن ، لغزش۔ کھائی ، خندق ، وہ گڑھا جو قلعہ یا شہر کے ارد گرد کھودتے ہیں ۔ نالی ، موری ، ورزش کرنے کا گڑھا۔
شرح:۔ایسے سخت اور غلیظ ماحول میں احیائے دین کے لئے امام احمد رضا قدس سرہ خود کو میدان میں لے آئے تو ابھی پاؤں اُٹھا تو ہزاروں مصائب کے پہاڑ ٹکرائے جن سے ذرا سی پریشانی آئی اس سے سنبھلے ہی تھے کہ اور شدید مصائب سامنے آئے ان سے مقابلہ پر سخت بحران میں مبتلاہوئے لیکن جہاں بارش نے ماحول کو سراپا پھسلن بنارکھا ہے اس کا کیا کیا جائے اور پھر بچنا بھی مشکل ہی ہے کہ منزل تک پہنچنے کے آگے بڑا گھڑا اور اتنا گہرا کہ گرتے ہی ڈوب جانے کا خطرہ ہے۔

مردِ میدان:۔اس شعر میں امام احمد رضا قدس سرہ نے اپنی ساری زندگی کی پُر کٹھن داستان کو سمیٹا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جس ماحول میں امام احمد رضا قدس سرہ نے آنکھ کھولی اس کا حال یہ ہے کہ برطانوی سامراج برصغیر پاک وہند پر اپنے استبدادی پنجے گاڑچکا ہے ، مسلمان غلامی کی شب دیجور کو اپنا مقدر سمجھ کر انگریز کی اطاعت کو مشیت ایزدی سے تعبیر کررہے ہیں ، احساسِ زیاں دلوں سے رخصت ہوچکا ہے ، انگریز اپنی استبدادیت کو مضبو ط تر کرنے کے لئے مسلمانوں پر بار بار ضربِ کاری لگا رہا ہے ، امام فضل حق خیر آبادی ، مفتی عنایت احمد کاکوری ، مولانا کفایت علی کافی ، مولانا احمد اللہ مدراسی جیسے آزادی پسند علماء کے تصور سے اسے دہشت آتی ہے ۔ وہ وقت کے ابوالفضل اور فیضی ڈھونڈ رہا ہے ۔ ملت اسلامیہ برصغیر کے اجتماعی ضمیر پر ضربِ کاری لگانے کے لئے وہ قادیانیت کی صورت میں ایک پودا لگاتا ہے کہ ایک روز یہ نخل ثمر آور بنے گا ۔ رافضیت و خارجیت مسلمہ عقائد کا وجود خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں ۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبہ لاہوتی کو ختم کرنے کے لئے نجد کے صحراؤں سے ایک آندھی اُٹھتی ہے جسے محمد بن عبدالوہاب کی تائید حاصل ہوتی ہے اور بہت سے سادہ لوح مسلمان توحید پرستی کے زعم میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فراموش کربیٹھتے ہیں جو کہ ایمان کی اساس ہے ۔ مسلم زعماء ڈھڑا دھڑ ایسی تصانیف پیش کررہے ہیں جن سے جہاد کی مذمت اور انگریزکی اطاعت کی تعلیم ملتی ہے ۔ انگریزی سامراج کے سائے میں پرورش پانے والا ہندو مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کے لئے فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکا رہاہے ۔ وطن پرستی کے نام پر ہندو مسلم زعماء کے ایک طبقے کو شیشے میں اتا رکر ہندو مسلم سکھ بھائی بھائی کا نعرہ لگا کر دو قومی نظریہ اسلام کی دھجیاں بکھیرنے پر تلاہوا ہے۔ مسلم زعماء کی اسلامی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ خلافت کی تحریک چلاتے ہیں تو برصغیر کے سب سے بڑے اسلام دشمن مسٹر گاندھی کو منبر ومحراب کی زینت بنانے لگتے ہیں ۔ مصلحت آمیز کے اسیر ان مسلمانوں کو سبھاش چندر بوس اور پٹیل میں عظمت اسلاف کی جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔ مسلم تہذیبی اداروں کو ہندو سیاست کا مرکز بنایا جارہا ہے ۔ اصلاحِ عقائد کے نام پر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ، آپ کے کردار اور لامتناہی علم کو چیلنج کیا جارہا ہے حتیٰ کہ امکانِ کذب باری کے سلسلے میں خدا کی ذات بھی احتساب سے بالاتر نظر نہیں آتی ۔ یہ دور کٹھن بھی ہے اور پُرفتن بھی ، تحریک ترک موالات کے نام پر پہلے سے پسماندہ مسلمانوں کے گھر لٹوائے جارہے ہیں ۔ مسائل بے شمار ہیں مگر اتنے مصلحین ایک ہی وقت میں کس طرح دستیاب ہوسکتے ہیں؟

اہلِ ایمان روشنی کی کرن کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ ۱۰ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ؁ کو حضرت مولانا نقی علی خان کے گھر جنم لینے والے امام احمد رضا محدث بریلوی کی صورت میں برصغیر کے مسلمانوں کو وہ شخصیت عطا ہوتی ہے جو گفتار کی غازی اور کردار کی دھنی ہے ۔ جس کی زبان محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر سے فیض ترجمان بن چکی ہے ۔ اس دانائے راز کی نظر مسلمانوں کی سیاسی ، اخلاقی اور مذہبی ابتری کے ساتھ ساتھ اسلام دشمن تحریکات پر بھی پڑتی ہے ۔ اس کے ارادوں میں سنگ خارا کی سختی اور سمندروں کی فراخی ہے اور اس کا حوصلہ پہاڑوں سے سربلند اور فہم انسانی کی وسعتوں سے ماورا ہے۔ اسے احساس ہے کہ اسے چومکھی جنگ لڑنا ہے اسے ایک ہی وقت میں کئی دشمنوں سے جنگ کرنا ہے وہ مدافعت کا ہی نہیں بلکہ غنیم کی صفوں پر آگے بڑھ کر حملہ کرنے کے انداز بھی جانتا ہے۔

امام احمد رضا محدث بریلوی نے امت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دلوں کو عقیدت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تپش سے آشنا کرنے کے لئے اپنی تمام فکری ، نظری ، علمی ، عملی ، روحانی ، قلمی اور ادبی وشعری صلاحیتوں سے کام لیا ۔ اعلیٰ حضرت بجاطور پر سمجھتے تھے کہ جب تک امت اسلامیہ عشقِ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خضرراہ نہیں بنائے گی اُس وقت تک منزل آشنا نہیں ہوسکے گی ۔ عشق مصطفویٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شمعیں ضوفگن کرتے ہوئے جب آپ نے ماحول پر ایک نظر ڈالی تو ایسی کتب کثیر تعدا د میں نظر آئیں جن میں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص اور گستاخی کے پہلو غالب تھے اس پر اعلیٰ حضرت کا دل تڑپ اُٹھا آپ نے ان کتب کے مصنفین کی توجہ کفریہ عبارات کی طرف مبذول کروائی تو بجائے اس کے کہ یہ حضرات بارگاۂ مصطفویٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں معذرت کے طالب ہوتے انہوں نے اسے اناکا مسئلہ بنالیا او ر اپنی گستاخانہ عبارات کی حمایت میں کتب پیش کرنے لگے۔ اب اعلیٰ حضرت کا قلم حرکت میں آچکا تھا اس دور میں جب کہ ہمارے بیشتر علماء ’’رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا‘‘کے مصداق غفلت کی نیند سو رہے تھے اعلیٰ حضرت نے کاروانِ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ اور خصائل و فضائل واضح کرنے کے لئے درجنوں تحقیقی اور تاریخی کتب تصنیف فرمائیں ۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ’’حدائق بخشش‘‘ عشق حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی کامل دستاویز ہے ۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں آپ کے بدترین مخالف بھی آپ کی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو آپ کے لئے توشۂ آخرت جانتے تھے ۔ اعلیٰ حضرت کے وصال پر جناب اشرف علی تھانوی کا اظہارِ تعزیت اور آپ کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے کہ میرے دل میں احمد رضا کا بے حد احترام ہے وہ ہمیں کافر کہتا ہے لیکن عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بناء پر کہتا ہے کسی اور غرض سے تو نہیں کہتا۔(چٹان لاہور ۲۳ اپریل ۱۹۶۲ء؁)

خلاصہ یہ کہ وہ ایک فردِ واحد تھا مگر پوری ملت کا ترجمان وہ ایک مردِ حق تھا مگر پوری ملت اسلامیہ کے عقائد کا پاسبان و ہ غوث الاعظم کا پرچم بردار ، امام اعظم ابو حنیفہ کے مسلک کا پاسدار ، غزالی کے تدبر کا افتخار ، رازی کی گرہ کشائیوں کا امانت دار ، شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تعلیمات کا شارح ، مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی کی شانِ تجدید کا آئینہ دار، امام فضل حق خیرآبادی کی حق گوئی کا علمبردار اور علامہ کفایت علی کافی کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درِ شاہوار تھا ۔ اس کا اپنا کوئی نہیں تھا وہ تو عمر بھر عظمت وشانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مصروفِ جہاد رہا ۔ وہ کسی نئے فرقے کا بانی نہیں تھا بلکہ وہ تو زندگی کی آخری ساعتوں تک اسلام کی نشاط ثانیہ کے لئے محوعمل رہا ۔ وہ کسی جدید نظریئے کا خالق نہیں تھا بلکہ اس کے دل کی دھڑکنیں گنبدخضراء کی نورانی طلعتوں سے حیاتِ نو لیتی ہیں مگر اس کے باوجود اس کا نام برصغیر پاک وہند میں ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں سنیت کا اظہار اور عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا اعزاز بن چکا ہے ۔ اب وہ محض ایک شخص ہی نہیں رہا بلکہ اس کا نام لیتے پوری صدی کی داستان عشق وعقیدت کا ایک ایک ورق ہماری عقیدتوں کا خراج لے کر اس کے وجودِ تنہا کو پوری صدی پر محیط کردیتاہے۔

آخروہ مجددِ ملت جو ٹھہرا
آخر وہ ہمہ صفت موصوف جو ٹھہرا
(معارفِ رضا کراچی ۱۹۹۲ء؁ ملخصاً)