حضرت سید طاہر اشرف جیلانی قدس سرہ

in Tahaffuz, April 2013, شخصیات, مخدوم زادہ سیدمحمد اشرف جیلانی

اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ہمیشہ ہی سے امت محمدیہ پر یہ کرم رہا ہے کہ وہ اس دنیا میں معصیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لئے ایسی یگانہ روزگار ہستیاں بھیجتا رہا جنہوں نے لالچ طمع حرص و ہوس اور ان تمام چیزوں سے بالاتر ہوکر صرف اور صرف دین کی سربلندی کے لئے کام کیا اور شرار بولہبی کے مقابل چراغ مصطفویﷺ کی لو کو ان ہی ہستیوں میں سلسلہ اشرفیہ کی ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت قطب ربانی حضرت ابو مخدوم شاہ سید محمد طاہر اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ کی تھی۔ آپ مسلکاً حنفی مشرباً چشتی اور مولداً دہلوی تھے۔ آپ صحیح النسب سید تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب ۲۶ ویں پشت میں حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ سے اور ۳۹ ویں پشت میں سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمد مصطفیﷺ سے ملتا ہے۔

ولادت باسعادت

حضرت قطب ربانی قدس سرہ کی ولادت ۱۲ ربیع الاول ۱۳۰۷ھ مطابق ۱۸۸۹ء کو دہلی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم والدہ محترمہ سے حاصل کی جو بڑی متقی و پرہیزگار خاتون تھیں۔ جب آپ کی عمر ۴۰ سال چار ماہ چار دن ہوئی تو بڑی دھوم دھام سے آپ کی تسمیہ خوانی کی گئی، بعد ازاں والد گرامی نے اپنے مدرسہ حسین بخش میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ کے والد محترم کا نام حضرت حافظ سید حسین اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ (متوفی ۱۳۱۸ھ) تھا۔ وہ اپنے وقت ژے جید عالم دین اور صوفی باصفا تھے اور خانوادۂ اشرفیہ کی ایک محترم شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ آپ کیونکہ مدرسہ حسین بخش میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس لئے آپ نے اپنے ہونہار فرزند کو بھی اسی مدرسہ میں داخل کروایا اور اپنی نگرانی میں تعلیم کا آغاز کروایا۔ حضرت قطب ربانی نے بڑے ذوق و شوق سے پڑھائی کا آغاز کیا اور ۶ سال کی عمر میں قرآن کریم ناظرہ مکمل کرکے قرأت سیکھنا شروع کی اور بہت جلد اس فن میں کمال حاصل کرلیا۔ آپ کی آواز اس قدر جاذب اور پراثر تھی کہ جب کبھی آپ تلاوت فرماتے تو حاضرین پر عجیب کیفیت طاری ہوجاتی۔ اکثر بزرگان نے آپ کی کم عمری میں ہی آپ کے منازل سلوک پر فائز ہونے کی بشارت دی تھی چنانچہ جب آپ کی عمر ۶ سال تھی تو ایک روز اپنے والد محترم کے پاس تشریف فرما تھے کہ ایک درویش تشریف لائے۔ وہ پہلے تو آپ کو متجسس نگاہوں سے دیکھتے رہے پھر انہوں نے آپ سے سورۂ یوسف سننے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے تلاوت شروع کی۔ اس دوران وہ بزرگ کبھی روتے اور کبھی مسکراتے رہے۔ تلاوت ختم ہونے کے بعد انہوں نے آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا۔ والد گرامی نے جب اس مسکرانے اور رونے کی وجہ دریافت کی تو ان درویش بزرگ نے فرمایا۔ حضور مسکراتا تو یوں ہوں کہ آپ کا یہ نورالعین افق ولایت پر آفتاب بن کر چمکے گا۔ لاکھوں انسان اس سے فیض پائیں گے۔
اور روتا اس لئے ہوں کہ آپ اس کی بہار نہ دیکھ سکیں گے۔ یعنی اس دنیا میں نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد درویش نے حضرت قطب ربانی قدس سرہ کی پیشانی کو ایک مرتبہ پھر بوسہ دیا اور غائب ہوگئے۔ اس کے بعد وہ درویش کبھی نظر نہیں آئے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس واقعہ نے حضرت سید حسین اشرف اشرفی الجیلانی رحمتہ اﷲ علیہ کے دل پر گہرا اثر کیا اور انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ کی روحانی تربیت بھی شروع کردی چنانچہ والد محترم نے آپ کو ۹ سال کی عمر میں سورۂ مزمل شریف کا چلہ کروایا جو آپ نے دریا جمنا میں ناف تک پانی میں کھڑے ہوکر کیا۔ دوران چلہ ایک خونخوار مچھلی نے آپ کے پیر پر کاٹ لیا لیکن آپ نے اسی حالت میں بقیہ چلہ مکمل کیا۔ اس چلہ کی پوری تفصیل حضرت قطب ربانی کی سوانح حیات میں موجود ہے۔

تحصیل علم

قرآن کریم تجوید کے ساتھ ناظرہ مکمل کرنے کے بعد والدہ محترم نے آپ کو عربی و فارسی کی کتب خود پڑھائیں۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ ۱۳۱۸ھ میں آپ سایہ پدری سے محروم ہوگئے۔ والد محترم کے وصال کے بعد پورے گھر کی کفالت کی ذمہ داری آپ پر آگئی لیکن آپ نے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے نہایت خوش اسلوبی سے اس ذمہ داری کو نبھایا اور ساتھ ساتھ تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ آپ نے وقت کے جید علماء سے درس نظامی کی کتب پڑھیں اور دورۂ حدیث شریف کی تکمیل مشہور مفتی و محدث جناب مفتی حبیب احمد علوی قدس سرہ سے کی۔ مفتی صاحب آپ پر بڑی شفقت فرماتے تھے اور کئی کئی گھنٹے آپ کو حدیث شریف پڑھاتے تھے۔ مفتی صاحب نے اپنے شاگرد میں ہونہاری کے آثار دیکھتے ہوئے اپنی صاحبزادی کا عقد آپ سے کردیا۔ شادی کے بعد آپ کی ذمہ داری میں مزید اضافہ ہوگیا۔ چنانچہ آپ نے اس ذمہ داری سے عہدہ براں ہونے کے لئے مدرسہ حسین بخش میں والد محترم کی جگہ درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور کئی سال تک معلمی کے فرائض انجام دیتے رہے۔

مرشد کامل سے شرف بیعت

جب حضرت کمبل پوش صاحب نے آپ کو مرشد کامل کی بشارت دی تو کچھ دنوں بعد مجدد سلسلہ اشرفیہ اعلیٰ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی المعروف اشرفی میاں قدس سرہ متوفی ۱۳۵۵ہ دہلی تشریف لائے۔ آپ کی ذات بابرکات سے سلسلہ اشرفیہ کو جو فروغ حاصل ہوا، وہ بیان سے باہر ہے۔ اشرفی میاں کی نظر خانوادۂ اشرفیہ کے اس ابھرتے ہوئے روشن ستارے پر پڑی تو آپ نے حضرت قطب ربانی کو شرف توجہ بخشا اور بیعت سے مشرف فرمایا۔ معمولات خاندان کی تعلیم دی اور خلعت خاص، خرقہ مبارک اور تاج اشرفی سے سرفراز فرماکر سلسلہ چشتیہ قادریہ، سراجیہ، اشرفیہ میں مجاز بیعت کرکے شجرہ شریف دستخط و مہر سے مزین عطا فرمایا۔ یہ خلعت خاص، خرقہ مبارک تاج اشرفی اور شجرہ شریف تبرکات اشرفی کے طور پر درگاہ عالیہ اشرفیہ اشرف آباد (فردوس کالونی کراچی) میں محفوظ ہیں۔ حضرت قطب ربانی قدس سرہ نے ۱۳۳۲ھ میں اشرفی میاں کے دست مبارک پر بیعت کی تھی، اور بیعت کے فوراً بعد اعلیٰ حضرت اشرفی میاں قدس سرہ نے آپ کو سلسلہ اشرفیہ اور دیگر سلسلہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی۔ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کی علاوہ بھی آپ کو دیگر مشائخ طریقت سے مختلف سلاسل کی خلافتیں عطا ہوئیں ۔

سیاحت اور تبلیغ دین

بیعت اور خلافت کے بعد آپ مرشد کامل اعلیٰ حضرت اشرفی میاں قدس سرہ کے حکم سے تبلیغ دین کے لئے روانہ ہوگئے اور اس سلسلہ میں پہلی تقریر فرمائی تو اسی وقت آپ کی تقریر کے بعد کئی سو ہندو مسلمان ہوئے۔ اس کے بعد آپ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ لوگ جوق در جوق سلسلہ اشرفیہ میں داخل ہونے لگے۔ وہاں سے آپ ضلع ’’گیا‘‘ تشریف لے گئے جو ایک پسماندہ علاقہ تھا۔ مذہب سے دوری اور ہندوانی رسم و رواج عام تھا۔ مسجدیں بہت کم تھیں جبکہ دینی مدارس کا نام تک نہ تھا۔ آپ نے جب یہ صورت دیکھی تو بہت سے تبلیغی اور اصلاحی اقدامات کئے۔ پہلے اپنے مریدیں میں سے چند پڑھے لکھے سمجھدار افراد کو منتخب کرکے انہیں دین کے ضروری احکامات سمجھائے اور پھر انہیں مختلف علاقوں میں بھیجا۔ اس کے علاوہ آپ خود بھی کئی کئی گھنٹے مسلسل درس دیتے تھے اور اصلاحی بیان فرماتے تھے جس میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، طہارت و پاکیزگی وغیرہ کے ضروری احکامات سمجھاتے تھے۔ قرآن کریم کی تعلیم کے لئے آپ نے اپنے مریدین میں سے حفاظ کو منتخب کیا اور حکم دیا کہ ان علاقوں میں جاکرلوگوں کو قرآن کریم پڑھائیں۔ آپ کے حکم کی تعمیل میں ان حفاظ نے بلامعاوضہ قرآن کریم کی تعلیم دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تین سال کے عرصے میں قرآنی تعلیم عام ہوگئی۔ آپ نے ضلع ’’گیا‘‘ اور اس کے گردونواح میں کئی مساجد قائم کیں اور ان میں باقاعدہ امام و موذن مقرر کئے۔ ان علاقوں میں دینی کتب کی کمی تھی۔ جب آپ دوبارہ تشریف لے گئے تو دہلی سے کافی تعداد میں دینی کتب اپنے ساتھ لے کر گئے اور وہاں کی مساجد و مدارس کے علاوہ لوگوں میں مفت تقسیم کیں۔ آپ نے خود بھی بہت سی کتب تصنیف فرمائیںجو اب بھی موجود ہیں اور ان شاء اﷲ تعالیٰ وقتاً فوقتاً شائع کی جائیں گی۔ اس کے بعد آپ کا یہ معمول ہوگیا کہ ہر سال کلکتہ تشریف لے جاتے اور تین مہینے اسلامیہ بلڈنگ میں ذکریا اسٹریٹ پر قیام فرماتے تھے پھر وہیں سے ضلع ’’گیا‘‘ اور اس کے گردونواح کے علاقوں کادورہ کرتے اور تبلیغی کام کا جائزہ لیتے، کلکتہ کے علاوہ بمبئی، پونا، گوالیار، بنارس، بہار اور لکھنؤ وغیرہ میں آپ کے مریدین کی کافی تعداد موجود تھی اور آپ ہر سال ان تمام شہروں کا دورہ فرماتے تھے۔ اس طرح آپ نے ۵۴ سال سیاحت کی، ہزاروں کو مسلمان کیا اور لاکھوں مسلمانوں کو اصلاح کے ذریعے صراط مستقیم پر گامزن کردیا۔ لاکھوں افراد آپ کے دست مبارک پر بیعت کرکے سلسلہ اشرفیہ میںداخل ہوئے۔

ہجرت پاکستان

برکات فیوض اشرفی کی یہ شمع ۱۹۴۷ء تک دہلی میں فروزاں رہی اور تقسیم ملک کے وقت حضرت قطب ربانی قدس سرہ نے معہ اہل و عیال کراچی ہجرت فرمائی۔ آپ پابندی قوانین شریعت پر زور دیتے تھے اور حاضرین مجلس و مریدین کو صوم و صلوٰۃ کی پابندی کی تلقین فرماتے تھے۔ ننگے سر بیٹھنے والے کو سخت ناپسند کرتے تھے اور آداب محفل ملحوظ رکھنے کی سخت تاکید فرماتے تھے۔ ۱۹۵۶ء میں آپ نے ہندوستان کا سفر اختیار کیا اور خصوصیت سے اپنے فرزند اور جانشین حضرت ابو محمد شاہ سید احمد اشرف اشرفی الجیلانی مدظلہ العالی کو ساتھ رکھا اور ۱۸ شہروں کا دورہ کیا۔ آپ نے اپنے مریدین سے فرمایا! اب یہ میرا آخری دورہ ہے۔اس کے بعد تم مجھ سے نہیں مل سکو گے لہذا جس کو مجھ سے ملنا وہ، مل لے۔ لوگ زاروقطار روتے ہوئے آتے تھے اور آپ کی زیارت کرتے تھے۔ اس دورے میں آپ نے مریدین سے فرمایا۔ میرے بعد شریعت و طریقت پر عمل کرنا لیکن شریعت کو ہر حال میں مقدم رکھنا۔

خرابی صحت و وصال

اس دورے کے بعد آپ کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ علالت کے باعث آپ حجرہ مبارک میں رہنے لگے اور سارا کام اپنے جانشین ابو محمد سید احمد اشرفی الجیلانی کے سپرد کردیا۔ آپ کے علاج کے لئے جب ڈاکٹر کرنل شاہ کوبلایا گیا تو انہوں نے کافی دیر آپ کا معائنہ کیا اور بعد میں مریدین سے کہا کہ میں نے اپنی عمرمیں آج تک ایسا مریض نہیں دیکھا کہ جب میں نے ان کے دل پر آلہ لگایا تو ان کے دل سے ’’اﷲ ھو، اﷲ ھو‘‘ کی آواز آرہی تھی۔ ان میں روحانیت کا غلبہ ہے۔ اس علالت کے دوران آپ نے کراچی کے تمام قبرستانوں کی مٹی منگوا کر سونگھی اور فرمایا۔ یہ میری مٹی میں نہیں ملتی۔ ہمارے لئے الگ ہی مقام ہوگا۔ ایک دن آپ چہل قدمی فرماتے ہوئے اسی مقام تک آئے جہاں آپ کا مزار ہے۔ مختلف مقامات سے مٹی اٹھا کر سونگھی اور پھر ایک مقام کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ’’ہماری مٹی اس جگہ کی ہے۔ یہیں ہمارا مدفن ہوگا‘‘ چنانچہ ۱۷ جمادی الاول ۱۹۱۶ء میں حضرت قطب ربانی نے وصال فرمایا۔ آپ کی نماز جنازہ غزالی دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی نور اﷲ مرقدہ نے پڑھائی اور آپ کا مزار مبارک آپ کی نشان کردہ جگہ پر ہی بنایا گیا۔
آپ نے اپنی زندگی میں فرزند ابو محمد شاہ احمد اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کو اپنی خاص نگرانی میں چلہ کشی کروائی اور منازل سلوک عرفان طے کرانے کے بعد وقت کے جید علماء وصوفیاء کی موجودگی میں سلسلہ اشرفیہ اور اس کے علاوہ دیگر سلاسل طریقت کی اجازت و خلافت عطاء فرمائی اور اپنا جانشین مقرر کردیا۔ چنانچہ حضرت ربانی کے وصال کے بعد آپ ہی حضرت کی درگاہ کے سجادہ نشین ہیں۔ آج یہ درگاہ پاکستان میں سلسلہ اشرفیہ کا سب سے بڑا روحانی مرکز ہے۔