اداریہ۔ جھوٹ وفریب پر مبنی یہودی نظرہولوکاسٹ

in Tahaffuz, March 2013, ا سلا می عقا ئد, سید رفیق شاہ

صہیونی یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ دوسری جنگ عظیم (1939ء سے 1945ء) کے دوران 60 لاکھ یہودیوں کو ہٹلر نے گیس چیمبر میں ڈال کر ہلاک کردیا۔ جسے تاریخ میں ہولوکاسٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ یہودیوں کے اس دعوے کی مخالفت میں بھی محققین کی تحقیق موجود ہے جو اس واقعہ کی حقیقت کا سرے ہی سے انکار کرتے ہیں جبکہ بعض تو 60 لاکھ یہودیوں کی ہلاکت کی بجائے چند سو افراد کی ہلاکت بتاتے ہیں۔ جب کسی تاریخی واقعہ پر دو رائے ہوجائے، اختلاف رائے پیدا ہوجائے، دو نقطہ نظر آمنے سامنے ہو تو وہ تاریخی واقعہ تاریخی نہیں رہتا بلکہ ایک نظریہ بن جاتا ہے۔ ہولو کاسٹ درحقیقت یہودیوں کی منافقت پر مبنی مظلومیت کا نظریہ ہے۔ ہولو کاسٹ کے بارے میں عوامی معلومات ناکافی ہے، بالخصوص عالم اسلام اور پاکستان میں تو بہت ہی کم ہے۔ گستاخانہ فلم کے خلاف تحریک ناموس رسالت کے جواب میں مغربی میڈیا گستاخانہ فلم کو آزادی اظہار سے منسوب کرکے مسلمانان عالم کے جذبات کو مجروح کرنے میں برابر کا شریک رہا جبکہ اسی دوران مسلم دنیا میں شائع ہونے والے اخبارات میں چھپنے والے مضامین میں ہولوکاسٹ کا حوالہ دیا جاتا رہا کہ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے ذریعے مرنے والے یہودیوں پر اظہار رائے یا ان کی تعداد 60 لاکھ میں کمی کرنا یا اس پر تحقیق کو جرم قرار دیا گیا ہے تو کیا آزادی اظہار کے خلاف نہیں، اس لئے ضروری ہے کہ آزادی اظہار اور ہولوکاسٹ کی حقیقت جانیں…!!
دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں کو ہلاک کیا تھا، جسے یہودی اور اہل یورپ ہولوکاسٹ کا نام دیتے ہیں۔ یہودی تاریخ میں ہمیشہ سے ایسے عناصر موجود رہے ہیں جو یہودی ہونے کے باوجود ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں جس سے یہودی مظلومیت کا شور کیا جاسکے۔ صہیونی گروہ اس بات کو شدت سے محسوس کرتے تھے کہ بے خبر یہودی عوام کو اکسانے کے لئے مظلومیت کا شور بہت ضروری ہے۔ ویل ڈیو رائٹ اپنی کتاب تاریخ تمدن میں لکھتا ہے:
عیسائی اسپین میں عقیدے کی بنیاد پر یہودیوں کو گرفتار اور تشدد کرنے والے اہلکار خود یہودیوں کے ہی ماتحت تھے۔ اس پالیسی کا مقصد یہودی عوام پر دبائو بڑھا کر انہیں انقلاب کی جانب دھکیلا جائے۔ جرمنی میں یہودیوں کے قتل کے اعداد و شمار محققین کے نزدیک جعلی و فراڈ ہیں۔ ہٹلر کے اس اقدام کو صہیونیوں کی حمایت حاصل تھی ’’توطۂ کمیونزم اورو سرمایہ داری علیہ بشریت‘‘ نامی کتاب کے مصنف کے خیال میں ہٹلر کی حمایت سے صہیونیوں کا مقصد جرمنی سے یہودیوں کو نکالنا اور اسرائیل کی تشکیل کے لئے انہیں فلسطین کی جانب ہجرت کرنے پر تیار کیا جائے۔ چنانچہ ہٹلر نے ان کی ہجرت کے لئے تمام وسائل فراہم کئے۔ صہیونیوں نے مظلومیت کے نقاب میں اپنا انسانیت دشمن مکروہ چہرہ چھپانے کی ناکام کوشش کی۔ یہودیوں کے خون کا انتقام کا نعرہ لگا کر یہ ظاہر کیا گیا کہ یہودیوں کے پاس دنیا میں کوئی مرکز نہیں۔ اس لئے اس کا حل تلاش کیا جائے۔
معروف کالم نگار سلیم صافی اپنے کالم جرگہ میں لکھتے ہیں ہولو کاسٹ کا براہ راست یہودیوں کے عقیدے، ان کی مقدس شخصیات اور کتابوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہ ایک متنازعہ تاریخی واقعہ ہے جسے یہودی اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے اور سیاسی و مذہبی مفادات کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی تردید ان پر گراں گزرتی ہے اور اس کی تصدیق ان کے لئے فائدے کا موجب بنتا ہے۔ چنانچہ آج مغربی دنیا کے تمام ممالک جن میں جرمنی جیسا ملک بھی شامل ہے، جس سے وہ واقعہ منسوب ہے، قانون سازی کے ذریعے ہولو کاسٹ سے انکار کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
اوریا مقبول جان اپنے کالم میں لکھتے ہیں: ہولو کاسٹ کے مرنے والے یہودیوں کو اس قدر مقدس درجہ حاصل ہوگیا کہ ان کے خلاف بات کرنے والا ان کی چالاکیوں، نمک حرامیوں اور اپنے ہی سے غداری کے بارے میں گفتگو کرنے والے کو نفرت پھیلانے والا قرار دے کر قابل تعزیر بنادیا گیا۔ وہ لوگ جنہوں نے یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں ان یہودیوں کی مکاریوں کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی، ان کا جو حشر ہوا، وہ بھی ایک داستان ہے۔ یہاں صرف چند ایک کا ذکر ملاحظہ فرمایئے جنہوں نے صرف اتنا زبان سے یا قلم سے نکالا کہ یہودیوں نے جو 60 لاکھ تعداد بتائی ہے، وہ غلط ہے بلکہ مرنے والوں کی تعداد تو چند لاکھ سے بھی زیادہ نہیں۔ بعض نے صرف اس طرف اشارہ ہی کیا تھا۔ ان سب کو نفرت پھیلانے کے جرم میں سزائیں بھگتنا پڑیں۔ زنڈل کو پریس میں سب سے پہلے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور پھر ان کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔ ان کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں اور انہیں معاشرے میں نفرت پھیلانے کے جرم میں دربدر ہونا پڑا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ ثابت کیا جائے کہاں کہاں 60 لاکھ یہودی مرے تھے۔ ان میں سے دو دوانٹ  زنڈل اور گریمر روڈلف امریکہ چلے گئے لیکن کچھ عرصے بعد ان دونوں کو امریکہ نے اپنے ملک سے نکال کر جرمنی کے حوالے کردیا جہاں وہ آج کل (2006) نفرت پھیلانے کے جرم میں مقدمے کا سامنا کررہے ہیں۔ آسٹریا وہ ملک ہے جہاں ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنا جرم ہے وہاں ان کے مشہور صحافی ڈیوڈارنگ کو گزشتہ دنوں گرفتار کرلیا گیا کیونکہ وہ اپنی تحریر سے اس پروپیگنڈے کو غلط ثابت کررہا تھا۔ بیلجیم کا ایک اور لکھنے والا سبک فرائیڈ دربیک اپنی تحریریں لکھتا تھا کہ اسے ہالینڈ کی حکومت نے گرفتار کیا اور وہ جرمنی کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے ہالینڈ بدری کا انتظار کررہا ہے۔ وہ جرمنی شہری بھی نہیں لیکن اس کے عالمی وارنٹ جرمن عدالت نے جاری کئے ہیں۔ صرف قانونی کارروائی کی بات نہیں۔ 19 ستمبر 2005ء کو بیلجیم کے ایسے ہی ایک لکھنے والے دیشنٹریونارڈ کے گھر پولیس گھس گئی۔ پورے گھر کو توڑ پھوڑ دیا۔ اسے گرفتار کرلیا گیا اور کہا گیا کہ اسے تب رہا کیا جائے گا، اگروہ پاگلوں کے ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کروائے اور یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے خلاف لکھنا اور بولنا بند کردے۔ یہ سب تو ان ممالک میں ہوا جو سرور دوعالمﷺ کے توہین آمیز کارٹون (گستاخانہ فلم) بنانے اور چھاپنے پر پریس کی آزادی کا بہانہ بناتے ہوئے کارروائی سے انکار کررہے ہیں لیکن اس دنیا کے چہرے پر ایک طمانچے کا ذکر ملاحظہ فرمایئے۔ 19 جون 2004ء کو اسرائیل کی پارلیمنٹ نے حکومت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی، کسی بھی جگہ کوئی شخص اگر 60 لاکھ کی تعداد کو کم بتانے کی کوشش کرے، اس پر مقدمہ چلا سکتی ہے اور اس ملک سے اسے نفرت پھیلانے کے جرم میں Hate Criminal کے طور پر مانگ سکتی ہے، گرفتار کرسکتی ہے، سزا دے سکتی ہے یعنی اس کو لکھنے والے جرمنی، آسٹریا کی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ وہ کل اسرائیل کی درخواست پر اس کی جیل میں ہوں گے۔ یہودیوں جن کی دنیا میں تعداد ڈیڑھ کروڑ اور ملک ایک اسرائیل ہے۔ یورپ کے 34 ممالک میں Anti-Semitism اور ہولوکاسٹ کے خلاف قوانین موجود ہیں جن کے تحت اس بارے میں ہر نوعیت کا منفی اظہار رائے جرم ہے جس پر قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اسرائیل نے ہولوکاسٹ پر تحقیق اور اس پر اظہار رائے کا قابل تعزیر جرم قرار دلوادیا ہے۔
تحقیق کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ ہولوکاسٹ پر تحقیق کرنا بھی تعزیر جرم ہے۔ آسٹریا بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے 1992ء میں ہولوکاسٹ پر قانون سازی کی برطانوی مصنف ڈیوڈارونگ نے 1989ء میں ہولوکاسٹ کو افسانہ قرار دیا تھا، جب وہ 2006ء میں آسٹریا گیا تو اسے گرفتار کرکے تین سال کی سزا دی گئی۔ خاتون کالم نویس و صحافی فریحہ ادریس اپنے کالم ’’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی‘‘ میں لکھتی ہیِ: گستاخانہ فلم کے خلاف پاکستان کے عوام کتنے مشتعل ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف احتجاج کرنے سے اسلام کی توہین کا یہ گستاخانہ عمل رک جائے گا؟ کیا اب وقت نہیں آیا ہے کہ اسلام کی توہین روکنے کے لئے یورپی ممالک اور امریکہ پر اسلامی ممالک کی جانب سے دبائو ڈالا جائے کہ جس طرح انہوں نے مٹھی بھر یہودیوں کی مذہب کے تحفظ کے لئے قانون بنائے ہیں، اسی طرح دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے مذہب کی توہین روکنے کے لئے بھی قوانین بنائے جائیں۔ جرمنی میں یہودی صرف ایک لاکھ انیس ہزار ہیں جبکہ مسلمانوں کی تعداد 45 لاکھ ہے۔ مگر جرمنی میں یہودیت کی توہین اور دوسری جنگ عظیم ان کے قتل عام کا انکار کرنے کے خلاف 1985ء میں ایک قانون بنایا گیا جس میں 1994ء میں ترمیم کی گئی، اس قانون کے تحت نازی علامات استعمال کرنا، یہودی مذہب کے خلاف بولنا یا تحریر کرنا اور یہودیوں کے قتل عام سے انکار کرنا جرم ہے۔ اس جرم کی سزا 5 سال تک قید ہے۔ فرانس میں یہودیوں کی تعداد صرف 5 لاکھ ہے جبکہ مسلمان 50 لاکھ ہیں۔ فرانس میں یہودی مذہب کی توہین کے خلاف 1984ء میں قانون بنایا گیا۔ اس قانون میں 1990ء میں ترمیم کی گئی۔ 2003ء میں اس میں مزید ترمیم کرکے سزا میں مزید اضافہ کیا گیا۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر ایک سے تین سال تک قید کی سزا ہے۔ اٹلی میں یہودیوں کی تعداد صرف 28 ہزار ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اٹلی کی پارلیمنٹ نے 1967ء میں یہودیت کی توہین کے خلاف آرٹیکل آٹھ منظور کیا۔ اس قانون کے تحت یہودیوں کے قتل عام کا انکار اور ان کی توہین کرنا جرم ہے۔ اس جرم کی سزا تین سے بارہ سال تک ہوسکتی ہے۔ برطانیہ میں آباد یہودی 2 لاکھ 92 ہزار ہیں جبکہ مسلمانوں کی تعداد 29 لاکھ ہے۔ برطانیہ میں تین ایسے قانون ہیں جو یہودی مذہب کے تحفظ کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ پہلا قانون پبلک آرڈر ایکٹ 1986ء کہلاتا ہے۔ دوسرا قانون ایکٹ آف 1994، مذہبی نفرت پھیلانے کے خلاف ہے۔ تیسرا قانون ایکٹ آف 2006ء تحریری طور پر نفرت آمیز مواد پھیلانے کے خلاف ہے۔ ان جرائم کی سزا 7 سال قید اور جرمانہ ہے۔ اس کے علاوہ 1997ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیا گیا جس میں ہولوکاسٹ کے انکار کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا۔ یہ بل ابھی منظور کے لئے پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ اسپین میں یہودی صرف 12 ہزار ہیں جبکہ مسلمان 10 لاکھ ہیں۔ 24 مئی 1996ء میں اسپین کی پارلیمنٹ نے آرٹیکل 510 منظور کیا۔ اس قانون کے تحت یہودی قوم ایک مذہب کے خلاف تقریر یا تحریر قابل سزا جرم ہے۔ اس جرم کی سزا ایک سے تین سال قید اور جرمانہ ہے۔ یہودیوں کی توہین پر صرف یورپی ممالک ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ بھی پیش پیش رہی ہے۔ 1992ء میں اقوام متحدہ نے یہودی مخالف جذبات کو ایک خطرہ قرار دیا اور اس کے خلاف دنیا بھر میں قانون سازی کرنے پر زور دیا۔ نومبر 2004ء میں اقوام متحدہ نے ایک اعلامیہ کے ذریعے تمام رکن ممالک سے نسل پرستی اور یہودیت کے خلاف توہین آمیز جذبات کے خلاف جدوجہد کرنے پر زور دیا۔ کیا سوا ارب سے زیادہ مسلمان ایک کروڑ یہودیوں کی طرح اپنے نبی پاکﷺ کی عظمت کے تحفظ کے لئے متحد ہوکر یورپ اور امریکہ سے اس سلسلے میں قانون سازی کا مطالبہ نہیں کرسکتے؟
مغرب کی جانب سے آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ جب گوگل سے یوٹیوب پر گستاخانہ فلم کی بندش کا مطالبہ کیا گیا تو جواب میں وہی روایتی جملہ دہرایا گیا کہ آزادی اظہار پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق 14 ستمبر 2012ء کی اشاعت میں گوگل کے بارے میں ناقابل انکار شواہد کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ Jewish Press کی یکم اگست 2012ء کی اشاعت کے مطابق گوگل نے ایک نہیں 1710 ویڈیوز جن مں خاصی بڑی تعداد کا تعلق ہولوکاسٹ سے تھا، 24 گھنٹے کے اندر اپنی ویب سائٹ سے ہٹادیئے۔ کیا یہ آزادی اظہار پر قدغن نہیں؟ یہ دہرا معیار کب تک جاری رہے گا؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے جسے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے اپنے کالم ’’شہ رگ‘‘ میں لکھتے ہیں: ایک جرمن مسلم اسکالر سے ایک ٹی وی انٹرویو جسے لاکھوں افراد نے دیکھا، میں اسلام اور دہشت گردی کے بارے میں سوال کیا گیا تو مسلم اسکالر نے جواب دیا کہ پہلی جنگ عظیم کس نے شروع کی تھی؟ کیا مسلمانوں نے؟ دوسری جنگ عظیم کس نے شروع کی تھی؟ کیا مسلمانوں نے؟ کس نے آسٹریلیا میں 2 کروڑ سے زائد قدیم قبائلی باشندوں کو قتل کیا؟ کیا مسلمانوں نے؟ کس نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے؟ کیا مسلمانوں نے؟ کس نے شمالی امریکہ میں 10 کروڑ انڈینز قتل کئے؟ کیا مسلمانوں نے؟ کس نے جنوبی امریکہ میں 5 کروڑ انڈینز کو قتل کیا؟ کیا مسلمانوں نے؟ کس نے 18 کروڑ افریقیوں کو غلام بنایا؟ جس میں سے 88% کو جرمانے کے بعد بحر اوقیانوس میں پھینک دیا گیا؟ کیا مسلمانوں نے؟ کس نے ویت نام، عراق، افغانستان پر جنگ مسلط کی؟ کیا مسلمانوں نے؟ یقیناً یہ سب مسلمانوں نے نہیں کئے۔ لہذا آپ کو دہشت گردی کی واضح تعریف کرنا ہوگی کیونکہ اگر کوئی غیر مسلم کچھ برا کرتا ہے تو یہ جرم ہے لیکن اگر کوئی مسلمان وہی چیز کرتا ہے تو یہ دہشت گردی ہے۔ آپ کو یہ دہرا معیار ختم کرنا ہوگا پھر ہم اس موضوع پر بات کرسکیں گے کیونکہ اس دہرے معیار نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔
دنیا کا کوئی ملک حتیٰ کہ اقوام متحدہ تک دہشت گردی کی کوئی تعریف نہیں کرسکتا جبکہ اسلام 14 سو سال قبل دہشت گردی کی واضح تعریف کرچکا ہے۔ حدیث نبویﷺ کا مفہوم ہے: کسی نے کسی شخص کو خوفزدہ کرنے کے لئے آنکھ دکھائی یا غور سے دیکھا تو یہ بھی دہشت گردی ہے۔ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔ یہ ہمیں اسلام ہی سکھا سکتا ہے۔ دنیا بھر کے 57 اسلامی ممالک اور ڈیڑھ سو کروڑ مسلمان ہیں مگر بدقسمتی سے ان میں کوئی سربراہ مملکت ایسا نہیں جو امت مسلمہ کی قیادت و رہنمائی کرسکے، جس کی آواز سنی جاتی ہو، ہمارے مسلم حکمرانوں اور دانشور طبقے کو اس سلسلے میں عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ عالمگیر تحریک چلا کر توہین رسالت، مذہب و کتاب پر قانون سازی کرنا ہوگی۔ آزادی اظہار کے نام پر مذہبی جذبات مجروح کرنے والے ہر عمل کو تعزیر جرم بنانا ہوگا۔ جس طرح یہودی ہولوکاسٹ پر قانون سازی کررہے ہیں۔ اس وقت جو احتجاج پوری دنیا میں ہورہا ہے، اس سے مغربی اخبارات میں پہلی بار یہ آواز اٹھنا شروع ہوئی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے اور آزادی اظہار کے نام پر کیا جارہاہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

٭٭٭