حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, March 2013, خان آصف, د ر خشا ں ستا ر ے

جب امام قدوری علیہ الرحمہ کی یہ کتاب قریب الختم تھی تو ایک دن مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ نے حضرت نظام الدین علیہ الرحمہ سے فرمایا۔

’’سید! اب تم ایک منقبت اور بڑی کتاب ختم کررہے ہو۔ اس لئے تمہیں لازم ہے کہ اپنے سر پر دانشمندی کی دستار بندھواؤ‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے استاد گرامی کی بات سنی اور خاموش ہوگئے۔ مگر جیسے ہی آپ مکتب سے گھر پہنچے تو شدید اضطرابی کیفیت میں والدہ محترمہ سے عرض کرنے لگے۔

’’استاد گرامی چاہتے ہیں کہ میں قدوری (کتاب فقہ) ختم کرنے سے پہلے اپنے سر پر دستار باندھوں‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے اضطراب کی وجہ آپ کے معاشی حالات تھے۔ دستار بندی کا واضح مفہوم تھا کہ اس تقریب میں بدایوں کے ممتاز علماء کی خاطر مدارات کا اہتمام کیا جائے۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ یہی سوچ کر پریشان ہورہے تھے کہ جس گھر میں دو وقت کی روٹی بمشکل میسر آتی ہو، وہاں مہمانوں کی تواضع کس طرح کی جاسکتی ہے؟
حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اﷲ علیہا اپنے فرزند کی یہ بات سن کر بہت خوش ہوئیں اور نہایت سرشاری کے عالم میں فرمانے لگیں۔

’’بابا نظام! تم اس سلسلے میں ذرا بھی فکرمند نہ ہو، تمہارے استاد کی یہ خواہش جلد پوری ہوجائے گی‘‘

اس کے بعد حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اﷲ علیہا نے دن رات سوت کاتنا شروع کردیا اور اسے ملازمہ کے ذریعے بازار میں فروخت کراتی رہیں۔ پھر آپ نے اسی سوت سے کپڑا بنا اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے لئے دستار تیار کی۔ ظاہر پرستوں کی جماعت شاید اس دستار کی قیمت کا اندازہ نہ کرسکے، مگر اہل نظر جانتے ہیں کہ وہ معمولی سوتی کپڑے کی دستار بہت قیمتی تھی۔ اس دستار کی تیاری میں اس مہرباں ماں کے شب و روز کا خون شامل تھا جس نے اپنے امیروکبیر باپ کی دولت کو اس وقت بھی قبول نہیں کیا تھا جب اس نے بیوگی کی قبا پہنی تھی۔ پھر وہ حلال روزی، پرہیزگار ہاتھوں کی مزدوری، غرض ان ہی تمام چیزوں نے مل کر اس سوتی کپڑے کی دستار کو تاج شاہی سے بھی زیادہ گراں قدر بنادیا تھا۔
پھر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی زندگی کا وہ یادگار دن بھی آیا جب آپ نے فقہ حنفی کی اس عظیم کتاب کو ختم کرلیا۔ اس کے بعد حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اﷲ علیہا نے کھانا تیار کرایا اور بدایوں کے جلیل القدر علماء کو دعوت دی۔
جب بدایوں کے ممتاز علماء جمع ہوچکے تو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ، حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ کے ہمراہ مجلس میں داخل ہوئے۔ حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اﷲ علیہا کی طرف سے پہلے مہمانوں کوکھانا کھلایا گیا۔ اس سلسلے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت بی بی زلیخا نے سوت کات کر جو رقم جمع کی تھی، وہ کم تھی اور مہمان نوازی کے اخراجات زیادہ تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے یہ رقم اپنے استاد گرامی مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ کے سامنے رکھ دی اور اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔

’’یہ چند سکے بھی ہزار دشواریوں کے بعد جمع ہوئے ہیں‘‘

’’تم کیوں پریشان ہوتے ہو سید محمد!‘‘

مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ نے اپنے شاگرد خاص کی تالیف قلب کے لئے فرمایااور جتنی رقم حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اﷲ علیہا نے جمع کی تھی، اپنے پاس سے اتنی ہی رقم اس میں ملادی۔
کھانے کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے والدہ محترمہ کی تیار کی ہوئی دستار مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ کے سامنے رکھ دی۔ مولانا اصولی علیہ الرحمہ نے دستار کا ایک سرا اپنے ہاتھ میں رکھا اور دوسرا حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے سر پر۔ پھر حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا

’’اجازت ہے؟‘‘
’’آپ سید محمد کے استاد ہیں‘‘

حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔

’’آپ کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں‘‘

’’مگر میں آپ کی اجازت کی ضرورت محسوس کرتا ہوں‘‘

مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ نے فرمایا

’’تو پھر بسم اﷲ کیجئے‘‘

حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ نے ہاتھ کا اشارہ کیا

’’اﷲ برکت دے گا‘‘

حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ کے ارشاد گرامی کے بعد مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ نے اپنے شاگرد کے سر پر دستار فضیلت باندھنی شروع کردی۔ حاضرین نے اس مجلس روحانی میں بڑا جانفزا منظر دیکھا۔ زمانۂ حال کا عالم مستقبل کے عالم کو اپنے علم کی امانت منتقل کررہا تھا۔
دستار بندی کے بعد مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ نے حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ سے دعا کی درخواست کی۔
حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ نے ایک نظر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی طرف دیکھا اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیئے۔

’’اے خدائے بحروبر! جس طرح تونے مجھ گم راہ کو صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق بخشی، اسی طرح اس بچے پر بھی اپنے رحم و کرم کی بارش فرما۔ میں تو بت پرستوں کی اولاد تھا اور قزاقی میرا پیشہ تھا… لیکن سید محمد (نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ) تو تیرے حبیبﷺ کی نسل پاک کا نمائندہ ہے۔ پرہیزگاروں کی اولاد ہے۔ اس کی خاندانی عظمت کو برقرار رکھ اور سید زادے کو علمائے دین میں شامل فرمالے اور اپنی قدرت بے پناہ کے صدقے میں اسے جرأت و صداقت کے اعلیٰ درجے پر پہنچا دے‘‘

حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ کے لہجے میں اس قدر گداز تھا کہ اہل مجلس بے اختیار ہوکر رونے لگے۔ مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ کی آنکھیں بھی نمناک ہوگئیں۔ خود حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ بھی آب دیدہ نظر آرہے تھے۔
پھر جب حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ کی دعاؤں کا سلسلہ ختم ہوا اور دستار بندی کی رسم ادا ہوچکی تو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنی نشست سے اٹھے۔ سب سے پہلے آپ نے حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ کی دست بوسی کی کہ اس وقت بدایوں میں وہی ولایت کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے۔
حضرت خواجہ علی علیہ الرحمہ کی دست بوسی کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنے استاد گرامی کی طرف بڑھے اور مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ کی دست بوسی سے شرف یاب ہوئے۔ مولانا اصولی علیہ الرحمہ نے بھی اپنے محبوب ترین شاگرد کو اس طرح دعائیں دیں کہ شدت جذبات سے اہل مجلس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ پھر عام رسم دعا ادا کی گئی… اور اس طرح تمام علمائے بدایوں کی دعاؤں کے سائے میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے علم کے نئے سفر کا آغاز ہوا۔
اسی تقریب میں مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ نے حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔

’’اﷲ نے چاہا تو اس بچے کا سر کسی انسان کے آگے خم نہیں ہوگا‘‘

مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ ایک دن مولانا بدایوں کی گلیوں میں پھر رہے تھے۔ اس وقت آپ کا لڑکپن تھا۔ اچانک حضرت شیخ جلال الدین تبریزی علیہ الرحمہ کی نظر ان پر پڑی۔ حضرت شیخ نے انہیں مخاطب کرکے فرمایا

’’لڑکے! ادھر آؤ‘‘

مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ آگے بڑھے اور حضرت شیخ جلال الدین تبریزی علیہ الرحمہ کے سامنے ادب سے سر جھکا کر کھڑے ہوگئے۔

’’یہ تم نے کیا لباس پہن رکھا ہے؟‘‘

حضرت شیخ علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ نے اپنے کپڑوں پر نظر کی اور شرمندہ سے نظر آنے لگے۔

’’میں ایک غریب باپ کا بیٹا ہوں۔ اس لئے اچھا لباس نہیں پہن سکتا‘‘

’’میں تمہارے غربت و افلاس کی بات نہیں کررہا ہوں‘‘

حضرت شیخ جلال الدین تبریزی علیہ الرحمہ نے نہایت شفقت آمیز لہجہ میں فرمایا۔

’’تمہارے جسم پر یہ لباس مناسب نظر نہیں آتا‘‘

مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ نے حیرت زدہ لہجے میں عرض کیا

’’پھر کیا کروں؟‘‘
’’آؤ! میں تمہیں نیا لباس پہناتا ہوں‘‘

یہ کہہ کر حضرت شیخ جلال الدین تبریزی علیہ الرحمہ نے اپنا پیرہن مبارک اتارا اور مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ کو پہنا دیا۔

’’یہ تو بہت بڑا ہے‘‘

مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ اس وقت لڑکے تھے۔ اس لئے حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی قباء آپ کے جسم پر موزوں نظر نہیں آتی تھی۔

’’اسے پہنا کرو لڑکے! اﷲ تم پر اپنا فضل فرمائے گا‘‘

حضرت شیخ جلال الدین تبریزی علیہ الرحمہ نے نصیحت کی۔
مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ اکثر قبائے شیخ کو زیب تن فرماتے تھے۔ محلے کے بچے مذاق اڑایا کرتے تھے کہ یہ لباس کس سے مانگ کر لایا ہے۔ مولانا اصولی علیہ الرحمہ اپنے ساتھیوں کی طنز آمیز گفتگو سنتے مگر حضرت شیخ جلال الدین تبریزی علیہ الرحمہ کے پیرہن مبارک کو اپنے جسم سے علیحدہ نہ کرتے۔ اس زمانے کے بزرگان دین کا قول ہے کہ مولانا علاء الدین اصولی علیہ الرحمہ میں جو استقامت و کرامت نظر آتی تھی وہ سب حضرت شیخ جلال الدین تبریزی کے لباس کی برکت تھی۔

٭…٭…٭

جب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ بدایوں کے تمام بڑے بزرگوں سے اکتساب علم کرچکے تو مزید دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ دہلی روانہ ہوگئے۔ یہ 641ھ کا زمانہ تھا۔ بعض مورخین کی تحقیق کے مطابق 651ھ میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے دہلی کا سفر اختیار کیا تھا اس سفر میں چار افراد شامل تھے۔ حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اﷲ علیہا ، حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ، آپ کی چھوٹی ہمشیرہ اور ایک عزیز بزرگ مولانا عوض۔
سید امیر خورد علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیف ’’سید الاولیاء‘‘ میں سفر دہلی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب تک یہ مختصر سا قافلہ شہری حدود سے گزرتا رہا۔ مولانا عوض پرسکون رہے… مگر جیسے ہی تاریک اور گھنے جنگل کا سلسلہ شروع ہوا، مولانا عوض پریشان نظر آنے لگے۔ اس جنگل میں درندوں کے ساتھ چوروں اور قزاقوں کا بھی مسکن تھا جو موقع ملتے ہی مسافروں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ مولانا نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح دن کے اجالے میں جنگل کا سفر ختم ہوجائے مگر دو خواتین کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔ مجبوراً اس قافلے کو رات کے وقت تاریک جنگل میں قیام کرنا پڑا۔ تاریکی اور سناٹے کے سبب اگر کوئی پتہ بھی کھڑکتا تو مولانا عوض کو کسی رہزن کی آمد کا گمان ہوتا اور بے اختیار پکار اٹھتے۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں