زمین پر انسانی زندگی کی ابتداء

in Tahaffuz, March 2013, متفرقا ت, محمد اسماعیل بدایونی

گزشتہ سے پیوستہ

جی آپی (سعد ماموں نے ادب سے کہا)
سعد پہلے تو یہ بتاؤ شیطان کون تھا؟ کیا وہ بھی ایک فرشتہ تھا؟
سعد ماموں نے کہا کہ ہاں آپی میں اسی طرف آرہا تھا۔ چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد پھر ماموں جان کی آواز گونجی!
وہ ایک جن تھا، فرشتہ نہیں تھا!
جب فرشتوں نے دیکھا کہ شیطان نے سجدہ نہیں کیا تو وہ دوبارہ سجدے میں گر گئے۔
اﷲ عزوجل نے ابلیس یعنی شیطان سے پوچھا!
قال یا ابلیس مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی استکبرت ام کنت من العالین (75) قال انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین (سورہ ص، آیت 76-75)
اے ابلیس تجھے اس کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا۔ کیا تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں سے تو ابلیس کہنے لگا کہ میں اس سے افضل ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے۔
ابلیس کو اﷲ عزوجل نے آگ سے پیدا کیا تھا اس میں اس کا اپنا کوئی کمال نہیں تھا پھر بھی وہ غرور کرنے لگا اپنے آپ کو افضل سمجھنے لگا اور گمراہی میں پڑگیا۔ حالانکہ اﷲ عزوجل بہتر جانتا تھا کہ ان میں افضل کون ہے۔ یہ غرور اور تکبر ابلیس کو اﷲ عزوجل کی نافرمانی کی طرف لے گیا اور ضد و ہٹ دھرمی کی وجہ سے اﷲ عزوجل نے اس کو جنت سے نکال دیا، ساتھ ہی اس پر لعنت فرمائی تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہے۔
قال فاخرج منہا فانک رجیم (34) وان علیک اللعنۃ الی یوم الدین (سورہ حجر، آیت 35-34)
’’تو جنت سے نکل جائو! تو مردود ہے اور بے شک قیامت تک تجھ پر لعنت ہے‘‘
دیکھا بچو! آپ نے اﷲ عزوجل کے نبی کی تعظیم اور ادب نہ کرنے کی وجہ سے سینکڑوں سال عبادت کرنے والے کو جنت سے نکال دیا گیا نہ صرف یہ کہ نکالا گیا بلکہ ذلت ونامرادی کے ساتھ نکالا گیا (اﷲ عزوجل اپنی پناہ میں رکھے)
پھر! پھر کیا ہوا؟ تابندہ نے بے تابی سے پوچھا
شیطان نے ایک تو اﷲ عزوجل کی نافرمانی کی اور اس پر نادم اور شرمندہ ہونے کے بجائے اکڑتا چلا گیا اور آدم علیہ السلام کے حسد نے اس کو اس قدر گستاخ اور بدتمیز کردیا کہ اﷲ عزوجل سے کہنے لگا۔
تو نے مجھے اپنی درگاہ رحمت سے دھتکار دیا ہے اس آدم کی وجہ سے۔ اچھا تو پھر مجھے اتنی مہلت قیامت تک دے دے کہ میں اس کی اولاد کو بہکائو۔ ان کو آپس میں لڑائوں، انہیں تیری نافرمانی پر اکسائوں، ان میں نفرت، بغض، کینہ پیدا کروں اور انہیں قتل و غارت گری پر لگادوں۔
پھر کیا ہوا ماموں جان! علی نے دلچسپی سے پوچھا۔
اﷲ عزوجل نے فرمایا۔
قال انک من المنظرین (سورہ اعراف، آیت 15 ، پارہ 8)
فرمایا بے شک تو مہلت دیئے ہوؤں میں سے ہے۔
جب ابلیس کو معلوم ہوگیاکہ اسے قیامت تک کی مہلت مل گئی ہے تو اکڑ کر کہنے لگا۔
اے اﷲ! میں تیری عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں آدم کی اولاد کو ضرور ضرور بہکائوں گا۔ انہیں ہر سمت سے گھیر کر گناہوں کی طرف لائوں گا۔ ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کے کانٹے چھبوئوں گا حرام چیزوں کو ان کے سامنے خوبصورت بنا کر پیش کروں گا یہاں تک کہ یہ تیری نافرمانی کریں گے اور تیری نعمتوں کا انکار کریں گے۔
البتہ جو نیک ہوں گے، مخلص ہوں گے، عبادت گزار ہوں گے، تیرے نبیوں اور رسولوں سے سچی محبت کرنے والے ہوں گے، انہیں میں گمراہ نہ کرسکوں گا۔
اس وقت سے ابلیس انسان کا دشمن ہے اور اس کوشش میں مصروف رہتا ہے کہ کسی طرح انسان کو گمراہ کردے ان کے درمیان نفرتیں پیدا کردے ان کو اچھے کاموں سے ہٹا کر برے کاموں پر لگادے۔
اور ان سے جھوٹ، غیبت، حسد، تکبر، غرور، چوری اور دیگر برے کام کروائے تاکہ انسان جنت میں نہ جاسکے اور جہنم کا ایندھن بن جائے۔
اوہ! تو یہ ہے شیطان کا مقصد کہ آدم علیہ السلام کی اولاد کو جہنم کی آگ میں دھکیل دے۔ حسن نے سوچتے ہوئے کہا۔
پھر کیا ہوا ماموں جان! تابندہ نے حسب معمول بے تابی سے پوچھا۔
اس کے بعد اﷲ عزوجل نے شیطان کو جنت سے نکال دیا اور سیدنا آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ جنت میں رہیں۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کی انسیت  کے لئے آپ کی بائیں پسلی سے حضرت حوا رضی اﷲ عنہا کو پیدا فرمایا۔
ارے ایک بہت اہم بات تو میں آپ کو بتانا بھول ہی گیا۔
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد اﷲ عزوجل نے ان کی پشت سے ان کی تمام اولاد جو قیامت تک آنے والی تھی، سب کو باہر نکالا۔ تمام اولاد آدم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
الست بربکم (سورہ اعراف آیت 172، پارہ 10)
کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟
سب نے بیک آواز ہوکر کہا :
قالوا بلیٰ (سورہ اعراف، آیات 172، پارہ 10)
کیوں نہیں اے ہمارے رب۔
اس کے بعد ایک خاص محفل منعقد ہوئی جسے پہلی محفل میلاد مصطفیٰﷺ بھی کہا جاسکتا ہے جس میں صرف تمام انبیاء کرام علیہم السلام مدعو تھے۔ ان سب سے اﷲ عزوجل نے عہد لیا۔
معلوم ہے کس چیز کا عہد!
نہیں! ماموں جان تمام بچوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔
قرآن کریم نے اس محفل میلاد کا ذکر اس طرح کیا ہے
واذ اخذ اﷲ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال ااقررتم واکذتم علی ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشہدوا وانا معکم من الشاہدین (81) فمن تولی بعد ذلک فاولئک ہم الفاسقون (سورہ آل عمران، آیت 82-81، پارہ 3)
اور یاد کرو جب لیا اﷲ عزوجل نے انبیاء سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمہیں اس کی جو، دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول جو تصدیق کرنے والا ہو، ان (کتابوں) کی جو تمہارے پاس ہیں تو ضرور ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرور ضرور مدد کرنا اس کی (اس کے بعد) فرمایا کہ تم نے اقرار کرلیا اور اٹھا لیا تم نے اس پر میرا بھاری ذمہ؟ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا (اﷲ عزوجل نے) فرمایا تو گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں پھر جو کوئی پھرے اس (پختہ عہد) کے بعد تو وہی لوگ فاسق ہیں۔
تو بچوں یہ تھی پہلی میلاد مصطفیٰﷺ کی پہلی محفل
اچھا بچو! تو آدم علیہ السلام جنت میں رہتے رہے اور اﷲ عزوجل نے آدم علیہ السلام سے فرمایا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جتنا چاہو کھائو پیو، مگر فلاں درخت کا پھل مت کھانا۔
ماموں جان وہ کس چیز کا درخت تھا؟ حسن نے پوچھا۔
بچو! اس کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں ملتی کہ وہ کس چیز کا درخت تھا۔ بعض علماء کرام نے خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ گندم کا درخت تھا بہرحال وہ جس چیز کا بھی درخت تھا۔ اﷲ عزوجل نے حضرت آدم اور حوا علیہم السلام کو اس کے پاس جانے سے منع فرمادیا۔
سیدنا آدم علیہ السلام نے اﷲ عزوجل کے حکم کی تعمیل کی۔ ان کی زندگی آرام و سکون سے گزرنے لگی، وہ جنت کے پھل کھاتے، اس میں بہنے والی دودھ اور شہد کی نہروں سے لطف اندوز ہوتے، جنت کی خوبصورت سیرگاہوں میں گھومتے پھرتے اور اﷲ عزوجل کا شکر ادا کرتے اور اﷲ عزوجل کی حمدوثناء کرتے اور اس کی عبادت کرتے اور اس درخت کے قریب بھی نہیں جاتے جس سے اﷲ عزوجل نے انہیں روکا تھا۔
شیطان یہ سب دیکھتا اور دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتا مارے غصے کے اس کا برا حال ہوگی۔ا اس کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے۔ بری طرح تلملانے لگا۔ آخر اس سے رہا نہیں گیا اور اس نے یہ تہیہ کرلیا کہ ان کو جنت سے ضرور نکلوا کر دم لے گا۔
ایک دن ان کے پاس آیا اور بھولی شکل بناکر کہنے لگا۔
میں تم دونوں کو دیکھتا ہوں کہ تم آرام و سکون سے زندگی بسر کررہے ہو۔
دونوں نے کہا: ہاں الحمدﷲ ایسا ہی ہے، اﷲ کا شکر ہے تمام تعریفیں اﷲ عزوجل ہی کے لئے ہیں۔
اب شیطان نے کہا: میں تمہیں اس درخت کے بارے میں نہیں بتائوں جس کے پھل کو کھا کر تم ہمیشہ کے لئے اس جنت کے باسی بن جائو گے۔
انہوں نے پوچھا کہ وہ کون سے درخت کا پھل ہے؟
شیطان نے اس درخت کی طرف اشارہ کیا جس کو ان کے لئے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں