فہم القرآن

in Tahaffuz, March 2013, فہم القرآن

شہادت اور شہید کی فضیلت قرآن کریم کی روشنی میں

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات، بل احیآء ولٰکن لا تشعرون o (البقرہ: 154/2)
اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں
ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتاً، بل احیآء عند ربہم یرزقون o (آل عمران: 169/3)
ترجمہ: اور جو اﷲ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، روزی پاتے ہیں
ان اﷲ اشتری من المومنین انفسھم واموالہم بان لہم الجنۃ، یقاتلون فی سبیل اﷲ فیقتلون و یقتلون وعداً علیہ حقاً فی التوارۃ والانجیل والقرآن، ومن اوفیٰ بعہدہ من اﷲ فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ وذٰلک ہو الفور العظیم o (التوبۃ : 111/9)
بے شک اﷲ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنت ہے اﷲ کی راہ میں لڑیں تو ماریں اور مریں اس کے ذمہ کرم پر سچا وعدہ توریت اور انجیل اور قرآن میں اور اﷲ سے زیادہ قول کا پورا کون تو خوشیاں منائو، اپنے سودے کی جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
اور فرماتا ہے…
من یخرج من بیتہ مہاجراً الی اﷲ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اﷲ وکان اﷲ غفوراً رحیماً (النسآء 100/4)
اورجو اپنے گھر سے نکلا اﷲ و رسول کی طرف ہجرت کرتا پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا ثواب اﷲ کے ذمہ پر ہوگیا اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے
حدیث کی روشنی میں
شہداء زندہ ہیں ان کی حیات عقل سے نہیں بلکہ وحی سے جانی جاسکتی ہے۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا

’’جنت میں جانے کے بعد کوئی دنیا یں لوٹنا اور اس کی اشیاء کو پانا پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے، وہ تمنا کرے گا کہ دنیا کی طرف دس بار لوٹایا جائے پھر مار دیا جائے ، اس اکرام کی وجہ سے جو وہ (وقت شہادت) دیکھتا ہے‘‘
حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا

“بے شک شہید کے لئے اﷲ تعالیٰ کے دربار میں چھ انعامات ہیں: اس کے بدن سے خون نکلتے ہی اس کی بخشش کردی جاتی ہے، جنت میں وہ اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے، اور اسے ایمان کے زیور سے آراستہ کردیا جاتا ہے، حوروں سے اس کا نکاح کرادیا جاتا ہے، عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، قیامت کی ہولناکی سے مامون رکھا جاتا ہے، اس کے سر پر یاقوت کا تاج عزت پہنایا جاتا ہے جو دنیا و مافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔ بہتر حوروں سے نکاح کرادیا جاتا ہے اور یہ کہ اس کے اقرباء سے ستر کے حق میں اسے شفیع بنایا جائے گا”

(سنن الترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب فی ثواب الشہید برقم 544/2, 1663)
اور ارشاد فرمایا

’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، میں پسند کرتا ہوں کہ اﷲ کی راہ میں لڑوں اور قتل کردیا جائوں پھر لڑوں اور پھر قتل کردیاجاؤں”

(صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب تمنی الشہادۃ، برقم 2/223, 2797)

شہید کے لئے بشارتیں

شہید کے لئے مندرجہ ذیل بشارتیں آئی ہیں
٭… اﷲ تعالیٰ شہید کے لئے جنت کا ضامن ہے
٭… شہید ان نعمتوں میں ہوگا جنہیں اس نے کبھی نہ دیکھا ہوگا
٭… شہید ان فرشتوں کے ساتھ ہوگا جو اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہیں
٭… شہداء زندہ ہیں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں رزق دیئے جاتے ہیں
٭… شہید کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں سوائے دَین کے
٭… شہیدِ بحر کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں
٭… شہداء انبیائ، صدیقین اور صالحین کے ساتھ ہوں گے
٭… شہید عذاب قبر سے بچایا جائے گا
٭… ستر حوروں سے اس کی شادی کرائی جائے گی
٭… قیامت کی ہولناکی سے امن میں ہوگا
٭… شہید کے سر پر یاقوت کا تاجِ عزت رکھا جائے گا اور ایمان کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا۔
٭… شہید کی شفاعت، اس کے گھر کے 70 افراد کے حق میں قبول کی جائے گی۔

شہید کی تعریف

حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں شہید کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مندرجہ ذیل اقوال ذکر کئے ہیں:
1… اس لئے کہ اس کے شہید ہونے پر ایک گواہ ہوتا ہے۔
2… ابن انباری نے کہا : اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس کے لئے جنت کی گواہی دیتے ہیں۔
3… اس لئے کہ وہ روح نکلتے وقت ان انعامات کو دیکھتا ہے جو اس کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔
4… اس لئے کہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے امان کی گواہی دی گئی ہے۔
5… نضر بن شمیل نے کہا: اس لئے کہ شہداء زندہ ہیں گویا کہ ان کی روحیں شاہد یعنی حاضر ہیں۔
6… اس لئے کہ اس کی موت کے وقت صرف رحمت کے فرشتے ہی آتے ہیں۔
7… اس لئے کہ وہ قیامت کے دن رسولوں کی تبلیغ دین کی گواہی دینے والا ہوگا۔
8… اس لئے کہ فرشتے اس کے حسن خاتمہ کی گواہی دیتے ہیں۔
9… اس لئے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اس کی عمدہ پیروی کرنے کی گواہی دیں گے۔
10… اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ اس کی حسن نیت اور اخلاص کی گواہی دینے والا ہے۔
11… اس لئے کہ وہ اپنی موت کے وقت فرشتوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔
12… اس لئے کہ وہ دنیا و آخرت کے ملکوت کا مشاہدہ کرتا ہے۔
13… اس لئے کہ اس کے لئے جہنم سے امان کی گواہی دی گئی ہے۔ یا
14… اس لئے کہ اس پر ایک گواہی کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ نجات پاگیا۔
اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، مذکورہ بالا اقوال میں حصر نہیں، جو چاہے اضافہ کرسکتا ہے۔
شہید کی اقسام
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں اور ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی الفقہ الاسلامی وادلتہ میں لکھتے ہیں۔ شہداء کی تین اقسام ہیں:

1۔ شہید اصلی، 2۔ شہید دنیا،  3۔ شہید آخرت

1۔ شہید اصلی: اسے شہید کامل بھی کہتے ہیں۔ یعنی دنیا اور آخرت کا شہید۔ دنیاوی شہادت یہ ہے کہ اسے نہ کفن دیا جائے گا اور نہ غسل جبکہ خون کے سوا کوئی اور نجاست نہ ہو، اخروی شہادت یہ ہے کہ اسے آخرت میں ثواب خاص ملے گا جس کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے۔
2۔ شہید دنیا: اگر دنیوی غرض کے لئے قتال کیا، یا پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا گیا، یا ریاکاری سے قتال کیا، تو صرف دنیاوی شہید ہے۔ اس پر دنیا میں شہید کے احکام جاری ہوں گے، مثلا نہ غسل دیا جائے، یہ قسم شوافع کے نزدیک ہے، نیز اس کے لئے آخرت میں کوئی اجر نہیں۔
3: شہید آخرت: اسے شہید فقہی بھی کہتے ہیں، یعنی دنیاوی احکام بھی تو شہید شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اسے غسل و کفن دیا جائے گا اور نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ مثلا جو شخص ظلماً قتل کیا گیا ہو، یا حق کی سربلندی کے لئے قتال کیا حتی کہ قتل کردیا گیا ہو، یا دارِ حرب میں مرنے والا وغیرہ۔
علامہ شامی علیہ الرحمہ نے ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں شہداء فقہی کی تعداد کے بارے میں 50 کا عدد نقل کیا ہے جبکہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے ’’مشکوٰۃ‘‘ کی شرح ’’مرآۃ‘‘ میں تقریبا 80 کی تعداد کی طرف اشارہ کیا ہے۔ آنے والے صفحات میں احادیث کریمہ سے جو اقسام میسر ہوئیں، انہیں بیان کیا جائے گا۔

شہید کے احکام

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کتب فقہ سے شہید کے کچھ احکام ذکر کردیئے جائیں چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
مسئلہ : اصطلاح فقہ میں شہید اس مسلمان عاقل بالغ طاہر کو کہتے ہیں جوبطور ظلم کسی آلۂ جارحہ سے قتل کیا گیا اور نفس قتل سے مال نہ واجب ہوا ہو اور دنیا سے نفع نہ اٹھایا ہو۔ شہید کا حکم یہ ہے کہ غسل نہ دیا جائے ویسے ہی خون سمیت دفن کردیا جائے۔
تو جہاں یہ حکم پایا جائے گا فقہاء اسے ’’شہید‘‘ کہیں گے ورنہ نہیں، مگر شہید فقہی نہ ہونے سے یہ لازم نہیں کہ شہید کا ثواب نہ پائے، صرف اس کا مطلب اتنا ہوگا کہ غسل دیا جائے وبس۔
مسئلہ : آلہ جارحہ وہ جس سے قتل کرنے سے قاتل پر قصاص واجب ہوتا ہے یعنی جو اعضاء کو جدا کردے جیسے تلوار، بندوق کو بھی آلہ جارحہ کہیں گے۔
مسئلہ : شہید کے بدن پر جو چیزیں از قسم کفن نہ ہوں ، اتارلی جائیں مثلا پوستین، زرہ، ٹوپی، ہتھیار، روئی کا کپڑا اور اگر کفن مسنون میں کچھ کمی پڑے تو اضافہ کیا جائے اور پاجامہ نہ اتارا جائے اور اگر کمی ہے مگر پورا کرنے کو کچھ نہیں تو پوستین اور روئی کا کپڑا نہ اتاریں۔ شہید کے سب کپڑے اتار کر نئے کپڑے دینا مکروہ ہے (عالمگیری، رد المحتار)
مسئلہ : جیسے اور مردوں کو خوشبو لگاتے ہیں شہید کوبھی لگائیں، شہید کا خون نہ دھویا جائے، خون سمیت دفن کردیں اور اگر کپڑے میں نجاست لگی ہو تو دھو ڈالیں (عالمگیری)
مسئلہ : شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے (عامہ کتب، شامی)

کن لوگوں سے قبر میں سوال نہیں کیا جائے گا؟

علامہ شامی’’فتاویٰ شامی‘‘ میں فرماتے ہیں
’’8 لوگوں سے ان کی قبور میں سوال نہیں کیا جائے گا
1۔ شہید، 2۔ اسلامی سرحد پر نگہبانی کرنے والا، 3۔ طاعون سے مرنے والا، 4۔ طاعون کے وقت کسی اور بیماری سے مرنے والا جبکہ صبر کرے اور ثواب کی نیت کرے، 5۔ صدیق، 6۔ نابالغ بچے، 7۔ جمعہ کے دن یا رات میں مرنے والا، 8۔ ہر رات سورۂ ملک کی تلاوت کرنے والا۔
بعض کے مطابق سورۂ حم سجدہ کی تلاوت کرنے والا اور بیماری میں سورۂ اخلاص کی تلاوت کرنے والا۔ شارح نے اشارہ فرمایا کہ ان میں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا اضافہ کیا جائے کیونکہ وہ صدیقین سے بہتر ہیں۔
علمائے کرام و فقہائے عظام نے صراحت فرمائی ہے کہ جس شخص میں اسباب شہادت میں سے جتنے زیادہ اسباب جمع ہوں گے اس کا درجہ دیگر شہداء میں اتنا ہی بلند و بالا ہوگا۔ مثلا ایک شخص طاعون کی بیماری سے مرا، دوسرا شخص بھی طاعون سے مرا لیکن وہ جمعہ کے دن یا اس کی رات میں مرا، تو یہ پہلے سے درجہ میں بلند ہوگا کیونکہ اس میں دو سبب جمع ہوئے، وعلیٰ ہذا القیاس۔
اگرچہ شہید اصلی وشہید فقہی دونوں ’’شہادت‘‘ میں شریک ہیں تاہم مقام و مرتبہ اور اجر وثواب میں دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثلا اسے یوں سمجھئے کہ ایک مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنا ایک تہائی قرآن کریم پڑھنے کی طرح ہے، اب ایک شخص تین مرتبہ سورۂ اخلاق پڑھتا ہے اور دوسرا شخص پورا قرآن کریم پڑھتا ہے تو دونوں کے اجر وثواب کا فرق واضح ہے۔واﷲ تعالیٰ اعلم