(1)

آج ہجرت کی رات تھی۔ سارے قبیلے کے نمائندے کفر تیغ بے نیام لئے انتظار میں کھڑے تھے۔ اسی رسول رحمتﷺ کے انتظار میں جو انہیں ہلاکت و تباہی کے دہانے سے آسائش دوام کی ٹھنڈی چھائوں میں واپس لانا چاہتا تھا۔ اچانک پچھلے پہر کا شانہ نبوت کا دروازہ کھلا۔ ایک کرن چمکی، اور آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ خدا کا حبیب مسکراتا ہوا باہر نکلا اور تلواروں کے سائے سے گزر گیا۔ سحر کے اجالے میں صحرائے کفر کے خونخوار درندے جب دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے تو یہ معلوم کرکے حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے کہ پیغمبران کی پلکوں کے نیچے سے گزر گیا اور انہیں خبر تک نہیں ہوئی۔ ہزار تیاریوں کے باوجود زہر میں بجھی ہوئی تلواروں کامصرف حاصل نہیں ہوسکا۔ قبائلی عرب کے مشترک محاذ پر آج کی شکست فاش سے رہبران کفر تلملا کے رہ گئے۔ فوراً ہی دارلندوہ میں مشاورت کی مجلس منعقد ہوئی اور طے پایا کہ ابھی محمدﷺ زیادہ دور نہیں گئے ہونگے۔ اگر تعاقب کیا جائے توآسانی سے انہیں پکڑا جاسکتا ہے۔ کچھ ہی لمحے کے بعد مکہ کی گلیوں میں اعلان ہورہا تھا کہ محمدﷺ کو جو بھی گرفتار کرکے لائیگا، اسے انعام میں سرخ اونٹ دیئے جائینگے۔

(۲)

عرب کے مانے ہوئے شہسوار سراقہ کے کان میں جونہی اس اعلان کی خبر پہنچی تو وہ انعام کے لالچ میں اس مہم کو سر کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔ فوراً ہی ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوئے، باگ سنبھالی اور دم کے دم میں نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔
کچھ دور چلنے کے بعد انہیں مدینے کے راستے پر دو جھلملاتے ہوئے سائے نظر آئے، خوشی سے چہرہ دمک اٹھا۔ سرخ اونٹوں کی قطار تصور میں رینگنے لگی۔ فرط مسرت میں گھوڑے کو مہمیز لگائی اور ہوا سے باتیں کرتے ہوئے آن کی آن میں قریب پہنچ گئے۔
خدا کا آخری پیغمبرﷺ اپنے رفیق خاص حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ناقہ پر سوار مدینے کی طرف تیز تیز بڑھتا جارہا تھا۔
سراقہ نے کمند ڈالنے کے لئے جونہی قدم آگے بڑھایا۔ ایک پرجلال آواز فضا میں گونجی

’’یاارض خذیہ‘‘

اے زمین اسے پکڑلے۔

فرمان روائے کونین کا حکم تھا۔ گیتی کا کلیجہ ہل گیا۔ فوراً زمین شق ہوگئی اور سراقہ کے گھوڑے کا پائوں گھٹنے تک دھنس گیا۔ سراقہ نے ہزار کوشش کی لیکن زمین کی گرفت سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے۔ جب عاجز و مجبور ہوگئے تو دوعالم کے تاجدارﷺ سے رحم کی درخواست کی۔ سرکارﷺ نے ان کی درخواست کو شرف قبولیت بخشا اور زمین سے خطاب فرمایا۔

’’اترکیہ‘‘

اچھا اب اسے چھوڑ دے۔

ابھی یہ الفاظ فضاء میں گونج ہی رہے تھے کہ اچانک زمین کی گرفت ڈھیلی پڑگئی اور گھوڑے کا پاؤں باہر نکل آیا۔
مال کا طمع بھی کیا چیز ہوتی ہے کہ بنی نوع انسان کو دیدہ دانستہ فریب کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ رہائی پاکر جب سراقہ واپس لوٹ رہے تھے تو تقصیر کی ندامت کے خوف سے دل ڈوبا جارہا تھا۔ جیسے ہی میل دو میل کی مسافت طے کی ہوگی کہ حرص کا شیطان پھر دل پر مسلط ہوگیا اور فریب کی راہ سے تلقین شروع کی۔ یہ واقعہ یونہی اتفاقاً پیش آگیا تھا۔ اس کے پیچھے محمدﷺ کی پیغمبرانہ توانائی کا قطعاً کوئی کرشمہ نہیں ہے۔
چلو واپس چلو۔ سرخ اونٹوں کے انعام کا زریں موقع ہاتھ سے نہ جانے دو۔ محمدﷺ کی گرفتاری کوئی انہونی چیز نہیں ہے۔ دل کی آواز پر پھر سراقہ نے گھوڑے کی باگ موڑ دی اور پھر تعاقب کرتے ہوئے سرکار کے قریب پہنچ گئے۔ اس بار بھی لبوں کو جنبش ہوئی۔ دھرتی کا کلیجہ شق ہوا اور سراقہ اپنے گھوڑے سمیت گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے۔
پھر سراقہ نے رحمت اکرام کو آواز دی۔ پھر بخشش درگزر کو پکارا پھر رحمت مجسم نے احسان کی بارش کی۔ زمین کو اشارہ کیا۔ اور کائنات گیر اقتدار کی گرفت میں سسکتا ہوا دشمن پھر آزاد ہوگیا۔
اس بار دل کی گہرائی میں پیغمبرکی توانائی کا یقین پیدا ہوچلا تھا۔ بار بار سراقہ سوچ رہے تھے کہ ایک نیاز مند کی طرح زمین کی فرمانبرداری بلاوجہ نہیں ہے۔ کائنات کے خدا کے ساتھ محمدﷺ کا کوئی معنوی تعلق ضرور ہے۔ لیکن نفس کا شیطان بڑا ہی چابک دست اور سحر طراز دشمن ہے۔ یہ ظالم ایک ہی لمحے میں دل کی ساری بساط الٹ کر رکھ دیتا ہے۔ سراقہ کچھ ہی دور چلے ہوں گے کہ شیطان نے پھر سرگوشی شروع کی۔ محمدﷺ اتنے ہی بڑے صاحب اقتدار ہوتے تو ایک تھکے ہوئے مجبور کی طرح مکے سے مدینے کی طرف ہجرت نہ کرتے۔ خیالی ہیبت کے آگے ہتھیار ڈال دینا بہادروں کاشیوہ نہیں ہے۔ سرخ اونٹوں کا انعام تمہاری زندگی کا نقشہ بدل دے گا۔
چلو واپس لوٹو، اس سے زیادہ زریں لمحہ تمہیں پھر کبھی میسر نہیں آئے گا۔
بالآخر سراقہ پھر شیطان کے فریب کا شکار ہوگئے۔ پھر تیزی کے ساتھ واپس ہوئے۔ پھر پیغمبر کے لبوں کو جنبش ہوئی۔ پھر زمین کا دھانہ کھلا اور سراقہ ایک گرفتار پنچھی کی طرح سسکنے لگے۔
رحمت یزدانی نے دوبارہ سراقہ کو موقع دیا تھا کہ وہ سنبھل جائیں۔ لیکن جب بار بار کی تنبیہ کے بعد بھی ان کی آنکھیں نہ کھلیں تو پیغمبر نے خود حقیقت کے چہرے سے نقاب اٹھایا اور دلنواز تبسم کے ساتھ سراقہ کو مخاطب کیا

“سرخ اونٹوں کے فریب میں اپنے نوشۂ تقدیر سے کیوں جنگ کررہے ہو۔ تمہارا مستقبل میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔ جن کی زلفوں کا اسیر ہونا مقدر ہے۔ اسی کو گرفتار کرنے آئے ہو۔ کیا اب بھی تمہیں کفر کی شب دیجور کا سویرا نظر نہیں آیا۔ میں کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ کسریٰ کے سونے کے کنگن تمہاری کلائیوں میں چمک رہے ہیں۔ وہ دن زیادہ دور نہیں ہے کہ نصیبے کی ارجمندی تمہیں ایک وارفتہ حال دیوانے کی طرح میرے سامنے لاکھڑا کرے گی۔ اور تمہارا سینہ اسلام و ایمان کی دولت لازوال کا گنجینہ بن جائے گا”

پیغمبر صادق کی زبان حق ترجمان کے نکلے ہوئے یہ الفاظ سراقہ کے دل میں ترازو ہوگئے۔ تاریخ میں عالمی تسخیر کی یہ پہلی خوشخبری تھی۔ جس کے پیچھے کوئی مادی سامان نہیں تھا۔ حیرت ہے کہ سراقہ کے ہاتھوں میں کسریٰ جیسے جابر و عظیم فرمانروا کے کنگن دیکھنے والا آج وطن سے بھی شہر بدر کردیا گیا۔

(۳)

حضرت سراقہ پر جلد ہی صبح سعادت طلوع ہوئی اور وہ مدینے کے دارالامان میں پہنچ گئے اور پروانے کی طرح شمع رسالت کے جلوؤں میں نہاتے رہے۔ کلائیوں میں کسریٰ کے سونے کے کنگن پہننے کایقین ان کے دل کی دھڑکنوں سے منسلک ہوگیا۔ جس رسولﷺ نے جبرئیل و میکائیل، عرش و کرسی، لوح و قلم، جنت و دوزخ اور حشر و نشر کی خبر دی تھی۔ اس رسولﷺ نے کنگن پہننے کی خوشخبری بھی عطا کی تھی۔ زندگی کے دن اسی انتظار میں گزرتے گئے یہاں تک کہ خلافت فاروقی کے عہد زریں میں حضرت سراقہ سخت بیمار پڑگئے۔ علالت سنگین ہوگئی۔ صورت حال شہادت دے رہی تھی کہ اب چند سانسوں کے مہمان رہ گئے ہیں۔ اکابر صحابہ کرام بالیں کے قریب جمع ہوگئے۔ عالم برزخ کی طرف منتقل ہونے والوں کے نام کچھ لوگ اپنا پیام و سلام کہنا چاہتے تھے کہ حضرت سراقہ نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور مسکراتے ہوئے کہا
“آپ حضرات اطمینان رکھیں۔ یہ میرا آخری وقت نہیں ہے۔ اس وقت تک موت میرے نزدیک نہیں آئے گی۔ جب تک کہ میں اپنے ہاتھوں سے کسریٰ کے کنگن نہ پہن لوں۔ ہر چیز اپنی جگہ سے ٹل سکتی ہے۔ سرکار سالتﷺ کا فرمان نہیں ٹل سکتا”
چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت سراقہ موت کے چنگل سے نکل آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے چند دنوں میں صحت یاب ہوگئے۔

(۴)

آج مدینے میں ہر طرف مسرتوں کی بارش ہورہی تھی۔ سجدہ شکرکے اضطراب سے سب کی پیشانیاں بوجھل تھیں۔ سپیدہ سحر نمودار ہوتے ہی لشکر اسلامی کا قاصد فتح ایران کی خوشخبری لے کر آیا تھا۔ محمد عربیﷺ کے غلاموں نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا تھا۔ آج تاریخ میں پہلی بار کسریٰ کے ایوانوں پر عظمت اسلامی کا پرچم لہرا رہا تھا۔ حق کے سطوت و جبروت کے آگے باطل اقتدار کا غرور چکنا چور ہوگیا تھا۔ چند ہی دنوں کے بعد ایران سے اموال غنیمت بکھیر دیا گیا۔
امیر المومنین حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے سب سے پہلے کسریٰ کے کنگن دریافت کئے۔ تلاش کے بعد جب وہ مل گئے تو حضرت سراقہ کو آواز دی گئی، اس وقت حضرت سراقہ کا عالم قابل دید تھا۔ ناز سے جھوم رہے تھے۔ فرط مسرت سے چہرہ کھلا جارہا تھا۔ ارمانوں کے ہجوم میں مچلتے ہوئے اٹھے اور فاروق اعظم کے سامنے کھڑے ہوئے۔
آج حضرت سراقہ کے لئے زندگی کی محبوب ترین گھڑی آگئی تھی۔ جس کی آواز کو ساری عمر ایمان کی طرح سینے سے لگا کر رکھا تھا وہ آنکھوں کے سامنے جلوہ گر تھی۔ اہل مدینہ بھی کیف و مستی کے عالم میں اپنے آقاﷺ کا زندہ معجزہ دیکھ رہے تھے۔ امنڈتے ہوئے خوشی کے آنسوئوں میں حضرت سراقہ کی کلائیوں میں کسریٰ کے کنگن پہنائے۔ سر پہ تاج رکھا اور شاہی قبا زیب تن کرائی۔ حضرت سراقہ کی شاہانہ سج دھج دیکھ کر اہل مدینہ جذبات سے بے قابو ہوگئے۔ فرط شوق میں منہ سے چیخ نکل گئی۔
فاروق اعظم بھی عشق و ایمان کی رقت انگیز کیفیت دیکھ کر بے خود ہوگئے۔ لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
اس وقت کی بات ہے جب اسلام بے سرو سامانی کے عالم میں تھا۔ ایک یزدانی مسافر نے آج کی عظیم الشان فتح کی خبر دی تھی۔ کل میدان قیامت میں آپ حضرات گواہ رہئے گا کہ سراقہ کے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن پہنا کر میں نے اپنے آقاﷺ کا فرمان پورا کردیا۔
سرکار رسالتﷺ کی شوکت اقتدار کا یہ نظارہ تاریخ فراموش نہیں کرے گی کہ ایک جنبش لب پر کائنات گیتی کا نقشہ بدل گیا اور عشق رسالت کے فیضان نے عرب کے صحرا نشینوں کو چشم زدن میں ساری دنیا کا فرمانروا بنادیا۔

آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستان پیدا
٭٭٭