سرکار بغداد علیہ الرحمۃ کی ہے مثال شخصیت

in Tahaffuz, March 2013, شخصیات

عین اس وقت جب گمراہی و ضلالت اور فسق و فجور کی تاریکیاں کائنات انسانی کا مقدر بننے لگی ہیں، قدرت کی فیاضی کسی ایسے دانائے روزگار کو رشد و ہدایت کا فریضہ سونپتی ہے جو اپنی سیرت و کردار کی شمع لازوال کی روشنی سے ظلمت زدہ ماحول کو منور کردیتا ہے۔ اس یگانہ عالم شخصیت کی زندگی عظمت قرآن کا پرتو اور اس کی سیرت کا ہر نقش تعلیمات مصطفویﷺ کو ضو لئے ہوئے ہوتا ہے۔
پیران پیر، غوث الاعظم حضرت الشیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ بھی ایسے ہی صاحب اسرار حق تھے، جنہوں نے اپنے کردار کی ضو باریوں اور اپنے مواعظ حسنہ کی نور افشانیوں کی بدولت عرصہ کائنات کو شریعت و روحانیت کے غیر فانی نقوش بخش دیئے۔ آپ نے عباسی ملوکیت کے سائے میں کملائے ہوئے نخل اسلام کو پھر سے تر و تازہ کردیا۔ آپ کی باطل شکن للکار نے وقت کی سب سے بڑی استبدادی قوت کو یوں لرزہ براندام کردیا کہ شاہان کجکلاہ اپنی خلافت کو عامۃ المسلمین کی بخشی ہوئی امانت سمجھنے لگے۔
آپ ایسے پیران پیر تھے کہ تمام روحانی سلاسل آپ کی عظمت و بزرگی کے قائل ہیں۔ آپ وہ راہنمائے کامل دستگیر تھے کہ جس نے ملت اسلامیہ کے نفس مردہ کی مسیحائی کا فریضہ انجام دیا۔ آپ غوث الاعظم تھے کہ بے شمار بندگان حق آپ کے فیوض و برکات کی بدولت جادۂ ہدایت پر گامزن ہوگئے۔ آپ محبوب سبحانی تھے کہ آپ کے محاسن و مناقب بیان کرنے لگیں تو قلم دریائے حیرت میں ڈوب جائے۔ آپ قطب ربانی تھے کہ جب آپ نے خود کو مامور من اﷲ سمجھتے ہوئے اصلاح امت مسلمہ کا فریضہ انجام دینا شروع کیا تو عامۃ الناس تو ایک طرف باجبروت خلفاء بھی آپ کی باز پرس کے احساس سے لرز اٹھے تھے کہ

نہ تخت و تاج میں نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے

آپ کا اسم گرمی عبدالقادر اور کنیت ابو محمد ہے۔ آپ کے القاب و اوصاف بے شمار ہیں۔ دنیا آپ کو شیخ المشائخ، قطب الاقطاب، غوث الاعظم، امام الاولیاء، محی الملت والدین کے القاب سے یاد کرتی ہے۔ آپ 470ھ یا 471ھ میں بلاد عجم کے ایک چھوٹے گاؤں ’’نیف‘‘ میں پیدا ہوئے جو گیلان کے متعلقات سے ہے۔ اہل عرب ’’گاف‘‘ کو ’’جیم‘‘ سے بدل لیتے ہیں۔ اس لئے گیلان کوجیلان بولتے ہیں۔ اسی بناء پر آپ جیلانی مشہور ہوئے۔ بعض اصحاب نے جیلانی کہلانے کی اور وجوہات بھی بیان کی ہیں۔
آپ کے والد ماجد حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست انتہائی متقی و پرہیزگار اور صاحب ایمان شخصیت تھے جبکہ آپ کی والدہ محترمہ حضرت ام الخیر فاطمہ نہایت صالحہ اور عبادت گزار خاتون تھیں۔ والد محترم کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ سے جا ملتا ہے۔ اس طور پر آپ صحیح النسب حسنی حسینی سید ہیں۔
جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کی والدہ محترمہ حضرت ام الخیر فاطمہ کی عمر 60 برس کی تھی۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ آپ نے ابھی زندگی کی چند منزلیں ہی طے کی کہ آپ کے والد محترم حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست علیہ الرحمہ کا انتقال ہوگیا اور اس صالح یتیم فرزند کی تعلیم و تربیت کا تمام بوجھآپ کی والدہ کے کندھوں پر آپڑا۔
آپ کے نانا حضرت سید عبداﷲ صومعی علیہ الرحمہ بھی آپ پر غایت درجہ شفقت فرماتے ہوئے آپ کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں آپ کی والدہ کی رہنمائی فرماتے تھے۔ جب آپ کی عمر 10 سال کی ہوئی تو آپ اپنے شہر کے مکتب کے اندر پڑھنے جایا کرتے تھے۔
’’بہجۃ الاسرار‘‘ کے مطابق جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ آپ کو اپنے ولی ہونے کا علم کب ہوا تو آپ نے فرمایا کہ

“جب میں 10 سال کا تھا تو اپنے شہرکے مکتب میں پڑھنے جایا کرتا تھا۔ راستہ میں ملائکہ میرے پیچھے پیچھے چلتے دکھائی دیتے تھے، جب میں مدرسے پہنچتا تو ان کو بار بار یہ کہتے سنتا کہ ’’اﷲ کے ولی کو بیٹھنے کے لئے جگہ دو، اﷲ کے ولی کو بیٹھنے کے لئے جگہ دو”
جب آپ کی عمر 18 سال کی ہوئی تو ایک دفعہ عرفہ کے دن اپنے گاؤں سے باہر نکلے، اتفاقاً راستہ میں کسی زمیندار کا بیل چلا جاتا تھا۔ اچانک بیل نے مڑ کر ان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا

’’مالہذا خلقت ولا بہذا امرت‘‘

یعنی اے عبدالقادر! تو اس واسطے پیدا نہیں کیا گیا اور نہ ہی تجھے اس کا حکم دیا گیاہے۔
یہ سن کر آپ کے سینے پر محبت الٰہی اور ذوق و شوق کا بحر بیکراں ٹھاٹھیں مارنے لگا اور گھر آکر اپنی والدہ محترمہ کو تمام ماجرا سنا کر تحصیل علوم شریعت و طریقت کی خاطر بغداد جانے کا عزم ظاہر کیا۔ والدہ محترمہ نے اجازت عطا فرماکر چالیس دینار آپ کی گدڑی میں سی دیئے اور دعا فرماتے ہوئے ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین فرمائی۔ والدہ کی یہ تلقین اس وقت بھی آپ کے پیش نظر تھی جب ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے راستہ میں حملہ کرکے تمام مسافروں کا مال و اسباب چھیننا شروع کردیا۔ بالاخر آپ کی یہی صداقت شعاری قزاقوں کے اس گروہ کوصراط مستقیم پر گامزن کرنے کا باعث بنی۔ اﷲ کا یہ ولی جدھر کا رخ کررہا تھا، رشد و ہدایت کے جواہر بے بہا لٹاتا جارہا تھا۔
جب آپ 488ھ میں مرکز علوم و فنون اور گہوارہ تہذیب اسلامی بغداد پہنچے تو سب سے پہلے حضرت شیخ حماد بن مسلم دباس علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جواپنے وقت کے عظیم شیخ الفقہ تھے۔ انہوں نے اس شہباز طریقت کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔
علوم دینیہ اور علوم متداولہ کی تحصیل کے لئے حضرت قاضی ابو سعید ابو المبارک المعجزوی جیسے شیخ کبیر اور حضرت ابو ذکریا تبریزی علیہ الرحمہ جیسے عالم یگانہ سے اکتساب فیض کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد دوسرے علماء وفقہاء کے فقہی کمالات سے بھی ایک عرصہ تک خوشہ چینی کی۔ ان میں سے ابو الغنائم محمد بن علی میمون الخراسی، ابو البرکات طلحہ العاقولی، ابو عثمان اسماعیل بن محمد الاصبہانی، ابو طاہر محمد عبدالرحمن بن احمد، ابو المنصور عبدالرحمن، ابو النصر محمد بن المختار ہاشمی، شیخ ابو الخطاب محفوظ الکوذانی، ابو الوفا علی بن قیل حنبلی، ابو الحسن محمد بن قاضی، محمد بن الحسین القادری السراج جیسے نامور محدثین اور فقہاء خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
حدیث شریف پر آپ کی ژرف نگاہی اور دقت نظر کا یہ عالم تھاکہ آپ کے اساتذہ کرام آپ کو سند دیتے وقت فرمایا کرتے تھے

’’اے عبدالقادر! ہم تم کو الفاظ حدیث کی سند دے رہے ہیں وگرنہ حدیث کے معانی میں تو ہم تم سے استفادہ کرتے ہیں کیونکہ بعض احادیث کے مطالب جو تم نے بیان کئے ہیں ان تک ہماری فہم کی رسائی نہیں‘‘
درس و تدریس سے فراغت ہوئی تو محبت خداوندی اور معرفت ربانی کے اسرار کو سمجھنے کے لئے سرگرداں رہنے لگے۔ عراق کے ویرانوں اور جنگلوں کی طرف نکل جاتے اور کئی کئی روز واپس نہ آتے۔ تلاش حق کا جذبہ راسخ تھا، قدرت آپ کو ایک بڑے مقصد کی تکمیل کے لئے تیار کررہی تھی۔ اپنے استاد محترم قاضی ابو سعید المبارک المخزومی علیہ الرحمہ کے حکم پر ان کے مدرسہ ’’باب الازج‘‘ میں فرائض تدریس انجام دینے لگے۔ دور دور سے طالبان علم آپ کی شوکت علمی کا شہرہ سن کر حاضری دینے لگے۔ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مدرسہ کی عمارت ناکافی محسوس ہونے لگی۔
بغداد کے ارباب خیر مدرسہ کی عمارت کی توسیع کی خاطر زر خثیر صرف کرنے لگے۔ بالاخر 528ھ میں یہ مدرسہ ایک عظیم الشان اسلامی درسگاہ کی شکل اختیار کرگیا۔ اب یہ درسگاہ ’’مدرسہ قادریہ‘‘ کے نام سے چاروں طرف مشہور ہوچکی تھی۔ عام طالبان علم ہی آپ کی خدمت اقدس میں حاضری نہ دیتے تھے بلکہ نامور علمائے کرام اور مشائخ بھی اس سلسلہ میں آپ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنا سعادت خیال کرتے تھے۔ آپ کے جذبات میں عشق خداوندی کی طلب صادق جلوہ فتن تھی۔ طریقت کی وادیوںکی طرف رجوع کیا تو ریاضت و مجاہدہ کی طرف رغبت پیدا ہونے لگی۔
علم طریقت و معرفت کے سلسلہ میں آپ نے حضرت ابو الخیر حماد بن مسلم دباس علیہ الرحمہ کی نگاہ فیض رساں کے انعامات باطنی سے فیوض حاصل کئے جوکہ بغداد کے عظیم المرتبت مشائخ میں سے تھے۔ روحانی اور باطنی کمالات کے حصول کے لئے آپ نے تقریبا پچیس برس ایمان افروز مجاہدوں اور ریاضتوں میں صرف کئے۔
جب آپ نے عبادات، ریاضات اور مجاہدات شاقہ کے بعد پورا پورا تزکیہ نفس حاصل کرلیا تو حضرت شیخ ابو سعید مبارک المخزومی علیہ الرحمہ سے بیعت کی اور ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے۔ شیخ ابو سعید نے آپ کو اپنے حلقہ بیعت میں لیتے ہوئے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا۔ حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جو لقمہ ان کے ہاتھ سے میرے شکم میں جاتا تھا وہ میرے باطن میں ایک نور بھر دیتا تھا۔ آہستہ آہستہ سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ کی شخصیت علوم معرفت کے مہر عالم تاب میں ڈھلتی گئی۔
آپ روحانی سربلندیوں پر فائز ہوئے تو تقاضائے قدرت کی تعمیل میںوہ وقت آپہنچا کہ ایک زمانہ آپ کے انوار و تجلیات معرفت سے مستفید ہوا۔ اس وقت خلافت عباسیہ کا آفتاب اقتدار نصف النہار پر تھا۔ ملوکیت کے سائے انوار شریعت کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔ بغداد میں خلفیہ مستنصر باﷲ سریر آرائے سلطنت تھا۔ بغداد جو کہ عروس الباد بھی تھا اور عظیم الشان مسلم سلطنت کا دارالخلافت بھی، اب تاجدار اقلیم ولایت حضورغوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کی فکری و روحانی سرگرمیوں کا مرکز لازوال بننے والا تھا۔ اس دور کے امراء حکومت کے نشے میں بدمست اور رعایا کے حقوق سے غافل تھے۔ علماء اپنے فریضہ ایمانی سے بے بہرہ ہوکر آپس میں الجھ رہے تھے۔
جاہل صوفیوں نے طریقت کو شریعت سے علیحدہ اور آزاد ٹھہرا رکھا تھا۔ اسلام جوکہ عالم انسانیت کا چارہ ساز تھا۔ ارباب اقتدار کے فیصلوں کا پابند بنادیا گیا تھا۔ یہ تھے وہ حالات جن کا مشاہدہ فرماتے ہوئے حضور غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ نے درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے کے ساتھ ساتھ وعظ و نصیحت، اشاعت اسلام، اصلاح خلق خدا، تجدید دین اور اعلائے کلمۃ الحق کا بیڑا اٹھایا۔
رشد وہدایت کے سلسلہ کو دراز کرنے میں آپ کی زبان حارج تھی۔ بغداد عربی کا گہوارہ اور فصحائے عرب کا مرکز تھا، جبکہ حضور پیران پیر رضی اﷲ عنہ کی مادری زبان فارسی تھی۔ تمام تر علمی و فقہی اور روحانی و نظری کمالات و فضائل کے باوجود آپ جھجک کا شکار تھے۔ ایک رات آپ خواب میں حضور نبی کریمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضور نبی کریمﷺ نے آپ کو وعظ و نصیحت کی تلقین فرمائی تو انہوں نے اپنے عجمی نژاد ہونے اور عربی دانی کی مہارت نہ رکھنے پر معذوری کا اظہار کیا جس پر سرکار دو عالمﷺ نے سات مرتبہ کچھ پڑھ کر ان کے منہ پر دم کیا اور لعاب دہن ان کے منہ میں ڈالا اور وعظ کا حکم دیا۔ بس پھر کیا تھا ،درِ علم و حکمت وا ہوگیا۔ رشد و ہدایت کا سرچشمہ سرمدی پھوٹ پڑا۔
متعدد تذکرہ نگار حضور نبی کریمﷺ کی عطائے خاص کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ پر نبی کریمﷺ نے عالم بیداری میں کرم فرمایا۔
آپ خود ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں

’’دوسرے روز میں بعد نماز ظہر کہنے (وعظ و تلقین) کے ارادے سے منبر پربیٹھا اور سوچتا رہا کہ کہ کیا کہوں۔ میرے اردگرد خلقت کا ہجوم تھا اور ہر ایک میرا وعظ سننے کا مشتاق تھا۔ ہر چند کہ میرے سینے میں دریائے علم موجزن تھا مگر زبان نہیں کھلتی تھی کہ اس وقت میرے جد امجد حضرت علی رضی اﷲ عنہ تشریف لائے اور چھ مرتبہ کچھ پڑھ کر میرے منہ پر دم کیا اور اپنا لعاب دہن میں میرے منہ میں ڈالا۔ میری زبان فوراً کھل گئی اور میں نے وعظ شروع کردیا۔ اب میری طاقت لسانی کی سارے بغداد میں دھوم مچ گئی۔ خود میرے دل میں جوش سخن کا یہ عالم تھا کہ اگر کچھ عرصہ خاموش رہتا اور وعظ نہ کہتا تو میرا دم گھٹنے لگتا تھا۔ اول اول میری محفل تذکیر میں تھوڑے لوگ ہوا کرتے تھے مگر آخر میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہجوم کی مسجد میں گنجائش ناممکن ہوگئی۔ بالآخر عیدگاہ میں منبر رکھا گیا اور میں نے وہاں وعظ کہناشروع کیا‘‘
آپ نے 521ھ میں پہلی تقریر فرمائی۔ ابتداء میں تعداد کم تھی لیکن آپ کی پہلی تقریر نے بغداد میں تہلکہ مچادیا۔ تشنگان شوق کا دریا امڈ آیا۔ بغدادیوں نے آپ کی خطابت و موعظت سے متاثر ہوکر بغداد کے باہر ایک طویل و عریض رباط تعمیر کرائی اور یہ سلسلہ اس قدر وسیع ہوتا چلا گیا کہ مدرسہ باب الازج کی تعمیرات اس رباط کی تعمیرات سے متصل و ملحق ہوکرایک عالی شان زاویہ یا خانقاہ کی شکل میں نظر آنے لگیں۔ آپ یہاں جمعہ، یکشنبہ اور دو شنبہ کو وعظ و تلقین فرمایا کرتے تھے۔ بعض اوقات ستر ہزار سے زائد طالبان راہ حق آپ کے وعظ میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ سوار اتنے آتے تھے کہ ان کی گرد سے عیدگاہ کے گرد ایک حلقہ بن جاتا تھا اور دور سے تودہ نظر آتا تھا۔
حضور غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کے پرتاثیر مواعظ حسنہ کا تذکرہ فرماتے ہوئے حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رضی اﷲ عنہ ’’اخبار الاخیار‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’حضرت کے بیان میں وہ تاثیر تھی کہ جب آپ آیات وعید کے معانی ارشاد فرماتے تھے تو تمام لوگ لرز جاتے تھے۔ چہروں کا رنگ فق ہوجاتا تھا۔ گریہ و زاری کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اہل محفل پر بے ہوشی طاری ہوجاتی تھی، جب آپ رحمت الٰہی کی تشریح و توضیح اور اس کے مطالب بیان فرمانے لگتے تو لوگوں کے دل غنچوں کی طرح کھل جاتے تھے۔ اکثر حاضرین تو بادۂ ذوق و شوق سے اس طرح مست وبے خود ہوجاتے تھے کہ بعد ختم محفل ان کو ہوش آتا تھا اور بعض تو محفل ہی میں جاں بحق ہوجاتے‘‘
علمائے یگانہ اور مشائخ عصر بھی کثیر تعداد میں حاضر ہوتے۔ آپ کی محفل میں چار سو افراد قلم دوات لے کر بیٹھتے اور جو کچھ آپ ارشاد فرماتے، اسے جواہر بے بہا کی صورت دامان قرطاس پر سمیٹ لیتے۔ آپ کے واعظ کی تاثیر سے گمراہوں کو منزل مقصود کا نشان میسر آتا۔ تاریک دلوں کو ایمان کی روشنی عطاہوتی، فاسق و فاجر حق آشنا بن جاتے۔ ہر مجلس میں ایک بڑی تعداد میں یہود ونصاریٰ دولت اسلام سے بہرہ یاب ہوتے۔ عامۃ الناس کے علاوہ بادشاہ، وزرائے سلطنت اور امرائے دربار بھی آپ کی مجالس میں نیاز مندانہ طریق سے حاضر ہوتے۔
آپ کی مجلس وعظ میں رجال الغیب، ملائکہ اور جنات بھی بکثرت آیا کرتے تھے۔ آپ کاہر وعظ ربانی فتوہات، یزدانی الہامات اور سبحانی ارشادات و ہدایات کا بحر ذخار تھا۔ حکیمانہ انداز کی جھلک بھی تھی اور روحانی جلال کی چمک بھی۔ یہ آپ کی کرامت تھی کہ آپ کی مجلس میں دور و نزدیک بیٹھنے والے یکساں آپ کی آواز سنتے تھے۔ آپ اہل مجلس کے خطرات قلبی کے موافق کلام فرماتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق آپ کے ہاتھ پر پانچ ہزار سے زیادہ یہود ونصاریٰ نے اسلام قبول کیا اور لاکھوں کی تعداد میں فساق و فجار تائب ہوئے۔
آپ نے مذہب کو اس طور نئی زندگی دی کہ اسلام پھر سے اپنی حقیقی عملی تعبیر و توضیح کے ساتھ عوام الناس کی زندگی میں جاری و ساری ہوگیا۔ آپ نے علمائے سو کو ان کی فرض ناشناسی پر  ٹوکا اور جاہل صوفیوں کو عظمت تصوف سے آشنا کیا۔
دنیا داروں کو روز قیامت کی سختیوں کا احساس دلایا، عمال حکومت کو ان کی بدعنوانیوں پر سخت ملامت کی ، حتی کہ خلیفہ وقت بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اسے بھی ڈانٹ دیتے۔ ایک مرتبہ خلیفہ المستجد باﷲ نے دعائے خیر کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر دس توڑے اشرفیوں کے نذر کئے۔ آپ کے انکار پر جب خلیفہ نے قبول فرمانے پر اصرار کیا تو آپ نے دونوں ہاتھوں میں چند اشرفیوں کو لے کر رگڑا تو ان سے خون بہنے لگا۔ آپ نے خلیفہ سے فرمایا ’’تمہیں اﷲ سے شرم آنی چاہئے کہ انسانوں کا خون کھاتے ہو اور اسے جمع کرکے میرے پاس لاتے ہو‘‘
خلیفہ وقت اور وزراء و امراء آپ کے دربار میں حاضری دینا باعث اعزاز سمجھتے تھے۔ جب وہ (خلیفہ و حکمران وغیرہ) آتے تو آپ اٹھ کر گھر میں چلے جاتے، جب وہ آپ کے پیچھے آتے تو آپ دولت خانہ سے نکلتے تاکہ ان کے لئے اٹھنا نہ پڑے۔ آپ انہیں نصیحت کرتے وہئے لہجہ سخت کرلیتے۔ جب آپ خلیفہ وقت کو لکھتے تو یوں تحریر فرماتے

’’عبدالقادر تجھے یوں حکم دیتا ہے اور اس کاحکم نافذ ہے۔ اس کی اطاعت تجھ پر واجب ہے۔ وہ تیرا پیشوا اور تجھ پر حجت ہے‘‘
جب خلیفہ وقت کو آپ کے خط مبارک کے مضمون سے آگاہی ہوتی تو اسے بوسہ دیتا اور کہتا کہ سیدنا شیخ عبدالقادر رضی اﷲ عنہ نے سچ فرمایاہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاہ جیلانی جلالت و روحانیت کے کس مقام پر فائز تھے۔

شاہ شاہان شیخ عبدالقادر است
دل نشین و دلربا و دلبر است

خدائے کریم نے آپ سے اصلاح احوال عالم کا وہ فریضہ عظیم انجام دلوانا تھا جو انبیائے کرام علیہم السلام کا خاصہ ہے۔ آپ نے شعائر اسلامی کو جس طور نئی زندگی بخشی اور اسلام کی ابدی تعلیمات کو جس شاندار طریق سے اسلامیان عرب و عجم کے دلوں میں راسخ کیا۔ اس کی بناء پر آپ کو ’’محی الدین و الملت‘‘ کے مقدس خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس خطاب کی وجہ تسمیہ یوں ہے کہ 511ھ میں آپ بغداد کی طرف آرہے تھے کہ ایک بیمار اور نحیف البدن شخص نے راستے میں آپ کا نام لے لے کر سلام کیا اور قریب آنے کو کہا۔ جب آپ قریب پہنچے تو اس نے آپ سے سہارا دینے کی استدعا کی۔ آپ نے سہارا دیا تو دیکھتے ہی دیکھتے اس کا جسم صحت مندہونے لگا اور رنگ و صورت میں تازگی نمایاںہونے لگی۔ آپ کی استعجاب پر اس نے کہا کہ میں دین اسلام ہوں۔ میں قریب المرگ ہوگیا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے تمہاری بدولت ازسر نو زندہ کیا۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ اس شخص سے جدا ہوکر جامع مسجد پہنچے تو ایک شخص نے ملاقات کی اورآپ کے جوتے پکڑ کر یا سیدی محی الدین کہہ کر پکارا۔ پھر جب یہ نماز پڑھنے لگے تو چاروں طرف سے لوگ آکر ان کے ہاتھ چومنے لگے، ہرشخص کی زبان پر ’’یا محی الدین‘‘ کا قدسی زمزمہ گونج رہا تھا۔

تو حسینی حسنی کیوں نہ محی الدین ہو
اے خضر مجمع بحرین ہے چشمہ تیرا

پیران پیر سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ جس مقام غوثیت پر فائز تھے وہ جملہ اولیائے کرام میں سے کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ آپ علم و عمل، عشق و مستی، سوز وگداز اور روحانی شوق کی جن رفعتوں کے ہمراز تھے وہ کسی اور صاحب حال کا مقدر نہ بن سکیں۔ تمام معتبر تذکار میں رقم ہے کہ ایک روز سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ بغداد کے محلہ حلبہ میں جہاں آپ کا مہمان خانہ تھا، مجلس سے خطاب فرما رہے تھے۔
اس مجلس میں 50 جلیل القدر مشائخ عظام موجود تھے۔ دوران وعظ آپ نے فرمایا

قدمی ہذہ علی رقبۃ کل ولی اﷲ

میرا یہ قدم ہر ایک ولی اﷲ کی گردن پر ہے۔

یہ سن کر حضرت شیخ علی ابن الہیتی اٹھے اور منبر کے قریب جاکر آپ کا قدم مبارک اپنی گردن پر رکھ دیا۔ بعد ازیں تمام حاضرین نے آگے بڑھ کر اپنی گردنیں جھکادیں۔ اس دور کے تین سو تیرہ اکابر اولیاء اﷲ نے دنیا کے مختلف مقامات پر حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کے اور ارشاد کی تعمیل میں اپنی گردنیں خم کردیں۔
آپ کے اس ارشاد برحق کے وقت سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ خراسان کی پہاڑیوں میں مجاہدوں اور ریاضتوں میں مصروف تھے۔ آپ نے غوث پاک رضی اﷲ عنہ کا یہ اعلان سنتے ہی اپنا سر مبارک زبان حال سے یہ کہتے ہوئے زمین پر رکھ دیا کہ

“حضور والا! گردن پر کیا بلکہ میرے سر پر آپ کا مبارک قدم ہے”

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
سر بھلا کوئی کیا جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیائے ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

حضور غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کی کرامات بے شمار ہیں۔ ان کو شمار کرنے بیٹھیں تو ایک طویل دفتر درکار ہوگا۔ آپ کے روحانی تصرفات اور ایمانی کمالات کے ایسے ایسے ایمان افروز واقعات مطالعہ کو ملتے ہیں کہ دیدہ و دل فکر آفریں حیرت میں کھو جاتے ہیں۔ آپ کی ذات مجمع البرکات صفات جمیلہ اور خصائل حمیدی کی جامع تھی۔ آپ انتہائی غریب نواز، خدا ترس، سخی، رقیق القلب، وسیع حوصلہ، شیریں زباں، رحم دل، خلیق اور حد درجہ بامروت اور پابند قول و اقرار تھے۔ آپ کی خدمت میں ہدیٔے، نذرانے اور تحائف اس کثرت سے آتے کہ شمار نہیں ہوسکتا تھا مگر آپ سب کچھ خدا کی راہ میں خیرات کردیتے۔ روزانہ شب کو آپ کا دستر خوان بچھایا جاتا، جس پر آپ مہمانوں کے ہمراہ کھانا تناول فرماتے۔ غرباء و مساکین کے ساتھ آپ زیادہ بیٹھا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی تناول فرماتے۔ طلبہ بھی کثیر تعداد میں آپ کے دستر خوان سے ہی کھانا کھاتے۔
آپ کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ آپ نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی۔ آپ کے ارشادات اور مواعظ حسنہ روشنی کے مینار تھے جن سے پھوٹنے والی کرنیں آج بھی دلوں کو روحانیت آشنا کررہی ہیں۔ آپ کے ان مواعظ حسنہ کے تین مجموعے ہیں یعنی الفتح الربانی، فتوح الغیب،ان کتب میں آپ کے ارشادات حکیمانہ کو ضبط تحریر میں لایا گیاہے۔ یہ مواعظ اپنی افادیت اور اثر آفرینی کی اس منزل پرہیں کہ آپ کی فضیلت اور فیضان معرفت پر دلیل قاطع ہیں۔
عرب ہو یا عجم، برصغیر پاک و ہند یا ممالک شام و عراق تمام دنیا آپ کے کمالات علمی اور فضائل باطنی کی معترف ہے۔ آپ جادۂ حق سے بھٹکے ہوئے بے نصیب انسانوں کے لئے صراط مستقیم کا عملی پیغام سرمدی تھے۔
آپ نے اپنی زندگی میں جس عالمگیر دعوت حق کا آغاز کیا تھا، وہ آپ کے سلسلہ عالیہ قادریہ کی صورت میں آج بھی پورے روحانی تزک و احتشام کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ یہ وہی دعوت حق ہے جس کے لئے آپ فرمایا کرتے تھے

’’اے لوگو! دعوت حق قبول کرلو۔ بے شک میں داعی الی اﷲ ہوں کہ تم کو اﷲ کے دروازے اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتا ہوں، اپنے نفس کی طرف نہیں بلاتا۔ منافق ہی اﷲ کی طرف مخلوق کو نہیں بلاتا بلکہ اپنے نفس کی طرف بلاتا ہے‘‘
اس دور کے علماء اور اصحاب تصوف آپس میں برسر پیکار تھے۔ شرافت اور طریقت کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا تھا لیکن سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کی بے مثال شخصیت شریعت اور طریقت کے امتزاج کا حسین نمونہ تھی۔ آپ افتاء و دروس کی مسند پر فائز تھے۔ وقت کا کوئی قاضی اور مفتی آپ کے علم و عمل پر اعتراض کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صاحبان طریقت کے لئے آپ کی ذات گرامی سپر بن گئی اور اہل شریعت آپ پر اور آپ کے متوسلین پر بدعتی یا غیر شرع ہونے کا الزام نہیں لگا سکتے تھے۔ صوفیاء اور علمائے شریعت دونوں فقہی و روحانی امور میں رہنمائی کے لئے آپ کے محتاج تھے۔ اس یکجہتی کی بدولت اشاعت اسلام کی رفتار تیز ہوگئی۔
آپ کے دور میں فرقہ معتزلہ اسلام میں مادیت کا نمائندہ تھا۔ وہ عقل کو چراغ رہ گزر نہیں بلکہ درون خانہ کے ہنگاموں میں دخیل سمجھتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ محبت و ذوق کی شمع ٹمٹمانے لگی۔ سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ کے وجود میں ایک ایسی شخصیت ظہور پذیر ہوگئی کہ محض اس کا دیکھنا ہر سوال کا جواب اور ہر مشکل کا حل تھا۔ آپ گفتگو فرماتے تو آپ کے الفاظ شمع روشن کی طرح ضوبار ہونے لگتے اور جب آپ خاموش ہوتے تو علم و عرفان کی خوشبو قلوب انسانی کو مہکانے لگتی۔ آپ کے وجود سے مادہ پرستی کا خاتمہ ہوگیا اور معتزلہ اس طرح سمٹ گئے کہ ان کا نشان تک باقی نہ رہا۔
جس وقت حضرت شیخ جیلانی رضی اﷲ عنہ محراب و منبر کی زینت بنے رافضیت عروج پر تھی۔ آپ کا وجود محبت الٰہی اور آیت الٰہی ثابت ہوا۔ آپ کے فیوض سے سرشار قادری درویشوں نے ہر مقام پر اسماعیلی داعیوں کا تعاقب کیا اور عوام کو معرفت الٰہی کے پرسرور اور میٹھے پانی کے چشموں سے سیراب کرکے فریب و مکر اور ضلالت و گمراہی کے سراب سے محفوظ کردیا۔
حضرت سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کا بدن لاغر تھا، قد درمیانہ تھا، آپ کا سینہ کشادہ تھا، ریش مبارک طویل و عریض گھنی اور خوشنما تھی۔ آواز بلند، دلنشین اور گفتار خوش تر تھی۔ رنگ گندمی تھا۔ ابرو باریک اور باہم پیوستہ تھے۔ آپ کا علم کامل تھا، اخلاق شیریں تھے۔ مزاج میں تواضع تھی، شخصیت جلال وجمال کا مرقع تھی۔ آپ بہت خلوت پسند تھے۔ راست گوئی میں آپ کا شہرہ تھا۔ قرآن حکیم کی طرح احادیث نبوی کے بھی حافظ تھے۔ جب آپ وعظ کے لئے منبر پر تشریف فرما ہوتے تو کوئی بھی ادب کے باعث نہ کھنکھارتا تھا، نہ کھانستا تھا۔
آپ نے 528ھ سے 561ھ تک تقریبا 33 سال درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی کے فرائض انجام دیئے۔ علمائے عراق اور دوسرے علاقوں کے علماء آپ کی خدمت میں اپنے سوالات بغرض جواب ارسال فرماتے تھے اور جب آپ کے فتاویٰ ان تک پہنچتے تو انہیں آپ کی علمی قابلیت پر سخت تعجب ہوتا تھا اوروہ پکار اٹھتے تھے کہ وہ ذات پاک ہے جس نے ان کو ایسی علمیت سے نوازا ہے۔
آپ نے 52 سال کی عمر تک متاہل زندگی اختیار نہ کی۔ اس کے بعد سنت نبویﷺ کے خیال سے آپ نے مختلف زمانوں میں چار شادیاں کیں اور ان چاروں سے آپ کی اولاد کثرت سے تھی۔ ان میں سے مندرجہ ذیل صاحبزادگان زیادہ مشہور ہوئے۔

سیدنا شیخ عبدالوہاب، سیدنا شیخ، سیدنا عبدالعزیز، سیدنا شیخ عبدالجبار، سیدنا شیخ عبدالرزاق، سیدنا شیخ محمد، سیدنا شیخ عبداﷲ، سیدنا شیخ یحییٰ، سیدنا شیخ موسیٰ، سیدنا شیخ ابراہیم رحمتہ اﷲ علیہم اجمعین۔
صوفیائے کرام اور بزرگان دین کی شاعری ذاتی تشہیر یا فنی صلاحیتوں کے لئے اظہار کے لئے نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے اپنے سوز و ساز قلبی اور واردات روحانی کی نمود کا ذریعہ بناتے ہیں۔ غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کے کلام میں خوبصورت شاعری کے نہایت خوبصورت نمونے ملتے ہیں۔ آپ کی تمام تر شاعری چند حمدیہ قصیدوں پر مشتمل ہے۔ان میں سے قصیدہ غوثیہ آپ کی روحانی قدرومنزلت اور آپ کے منصب جلیل کا ترجمان ہے۔
مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ اس قصیدے کے بارے میں کہتے ہیں

’’قصیدہ غوثیہ بھی اسی مقام قرب کے ایک خودار سکر یافتہ کی آواز ہے جس کو سیدنا غوث الاعظم کے باطنی حال کی اجتماعی تفسیر سمجھنا چاہئے‘‘
قصیدہ غوثیہ کے بارے میں مولانا روم کی رائے مبنی برحقیقت ہے۔ نگاہ ظاہر بین اس قصیدہ کی روح میں جھانک کر حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کی عظمتوں کا ادراک نہیں کرسکتی۔ ایک فارسی دیوان بھی آپ سے منسوب ہے۔
آپ کی دیگر تصنیفات میں سے مندرجہ ذیل خاص سے قابل ذکر ہیں۔
فتوح الغیب، الفتح الربانی، حزب نشاء الخیرات، الیواقیت الحکم، الفیوضات الربانیہ، المواہب الرحمانیہ، الفتوحات الرحمانیہ، جلاء الخاطر فی الباطن والظاہر، سر الاسرار، رد الروافضہ وغیرہ۔
حضرت سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کے فیوض و برکات فقط سلسلہ قادریہ ہی کی بدولت تقسیم نہیں ہورہے بلکہ جملہ روحانی سلاسل آپ کی شوکت روحانی کے سامنے جبین نیاز خم کرتے ہوئے آپ کی غوثیت عظمیٰ سے مستفیض ہورہے ہیں۔
شہنشاہ نقشبندیت حضرت بہاؤ الدین محمد نقشبند علیہ الرحمہ کی ولادت اور بلند روحانی مقام کی خبر آپ کی پیدائش سے تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ نے یہ کہہ کر دی تھی کہ بخارا شریف میں پیدا ہونے والا یہ مرد کامل میری خاص نعمت سے فیض یاب ہوگا۔ واقعی جس طرح غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تھا، ویسا ہی ہوا۔ اسی لئے تو شاہ نقشبند علیہ الرحمہ عقیدت نگار ہیں کہ پیران پیر سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ جس مقام غوثیت پر فائز تھے۔

بادشاہ ہر دو عالم شاہ عبدالقادر است
سرحد اولادِ آدم شاہ عبدالقادر است
آفتاب و ماہتاب عرش و کرسی و قلم
نو قلب از نورِ اعظم شاہ عبدالقادر است

روحانی فیض حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے بعد آپ کے صاحبزادگان اور پھر ائمہ کے ذریعے دنیا تک پہنچتا رہا حتیٰ کہ سیدنا عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کا زمانہ آ پہنچا جو روحانی سربلندیوں کے لحاظ سے انہی ائمہ کے فیض یافتہ ہیں۔
اس تفصیل کے بعد شیخ احمد سرہندی فرماتے ہیں

’’یہاں تک کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ اس مرتبہ تک پہنچ گئے اور یہ آپ کو مل گیا۔ مذکورہ بالا اماموں اور حضرت قدس سرہ کے درمیان کوئی شخص اس مرتبہ پر نہیں ہے اور اب اس راستے میں جتنے فیوضات و برکات جملہ اقطاب، نجباء اور ولیوں تک پہنچتے ہیں ان کے ذریعے ہی پہنچے ہیں کیونکہ فیض کا یہ مرکز ان کے بغیر اور کسی کو نہیں ملا‘‘
اسی لئے غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ہے

افلست شموس الاولین و شمنا
ابدا علی افق العلیٰ لاتغرب

سچ ہے کہ

سورج اگلوں کے چمکتے تھے، چمک کر ڈوبے
افق نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا

سلطان الہند حضرت خواجہ سید محمد معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ تو باقاعدہ حضور غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کی روحانی صحبتوں اور ایمان افروز مجالس کے فیض یافتہ تھے۔ آپ کئی ماہ تک حضرت غوث الاعظم کی خدمت اقدس میں دن رات رہے اور آپ کے فیوضات اور جمیعۃ باطن و کمال سے مستفیض ہوئے اور دربار غوثیت سے ہی سلطان الہند علیہ الرحمہ کو ہندوستان کی ولایت عطا ہوئی تھی۔ شاہ اجمیر، حضور غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کو یوں ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں

یا غوث معظم نور ہدیٰ مختار نبی مختار خدا
سلطان دو عالم قطب علیٰ حیراں زجلالت ارض وسما
چوں پائے نبی شد تاج سرت تاج ہمہ عالم شد قدمت
اقطاب جہاں درویش درت افتادہ چوپیش شاہ گدا

شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین عمر سہروردی نور اﷲ مرقدہ اپنے عالم شباب میں علم کلام کی وسعتوں میں الجھے رہتے تھے۔ آخر ایک روز ان کے چچا انہیں بارگاہ سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ میں لے گئے اور ان کی روحانی تربیت کے لئے عرض گزار ہوئے۔ حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ نے ان کے دل پرہاتھ رکھ کر چند لمحوں ہی میں علم کلام کی تاریکیاں دھو ڈالیں اور اسے علوم نورانی سے بھرپور کردیا۔ شیخ الشیوخ سہروردی اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں

’’اﷲ تعالیٰ نے اس وقت میرے سینہ میں علم لدنی بھردیا جب میں آپ کے آستانہ عالیہ سے واپس ہوا تو علم و حکمت کا کمال میری زبان پر تھا۔ نیز آپ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ تم عراق کے متاخرین میں سے شہرہ آفاق شخصیت ہوگئے‘‘
مختلف سلاسل روحانی خے ان عظیم پیشواؤں کا دربار غوثیہ میں یہ خراج عقیدت فی الواقع حضور غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کے عالمگیر پیغام کی ابدی گواہی ہے۔ آپ نے 9 سال میں علوم شریعت حاصل کئے اور پھر باقی عمر تعلیمات اسلامی کی ترویج میں بسر کردی۔ اس سلسلہ میں خدائے کریم نے آپ کو روئے زمین کی سلطانی عطا کردی۔ یہ سلطانی وقتی اور عارضی نہیں بلکہ دائمی اور پائیدار ہے کیونکہ بالاتفاق آپ غوث اعظم اور قطب مدار ہیں، جن کے فیض روحانی اور قیادت و سیادت باطنی ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

غوث اعظم درمیان اولیاء
چوں محمد درمیان انبیاء

آپ نے اپنی عمر کی ابتدائی 18 سال اپنے مولود مسکن میں گزارے۔ 9 سال بغداد شریف کے اندر علوم ظاہری و باطنی کی تحصیل و تکمیل کی خاطر مصروف رہے۔ 25 سال عراق کے جنگلوں، بیابانوں اور ویران مقامات پر ریاضات کاملہ اور مجاہدات شاقہ سے منازل سلوک طے کیں۔ پھر 40 برس تک ارشاد و تلقین، اعلائے کلمۃ الحق اور اصلاح خلق کا فریضہ انجام دیا۔
561ھ کو آپ کی عمر مبارک 91 برس ہوچکی تھی کہ آپ کی صحت گرنا شروع ہوئی۔ مرض الوصال نے آ لیا۔ آپ کو وفات سے پیشتر ہی اپنے ارتحال کا پتہ چل گیا تھا۔ علالت کے دوران بھی آپ نے تبلیغ اور اشاعت کاسلام کا فریضہ ترک نہیں کیا۔
گیارہ ربیع الثانی کو وفات سے کچھ عرصہ پیشتر آپ نے اپنے عزیزوں اور عقیدت مندوں سے فرمایا

’’میرے آس پاس سے ہٹ جاؤ کیونکہ میں ظاہراً تمہارے ساتھ مگر باطناً تمہارے سوا کے ساتھ یعنی اﷲ کریم کے ساتھ ہوں۔ بے شک میرے پاس تمہارے علاوہ کچھ اور حضرات بھی تشریف لائے ہوئے ہیں، ان کے لئے جگہ فراخ کردو۔ ان کے ساتھ ادب سے پیش آؤ اور ان پر جگہ تنگ نہ کرو‘‘
جن تشریف لانے والوں کی طرف حضور غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ نے اشارہ کیا تھا وہ ملائکہ اور ارواح مقربین تھے۔ آپ بار بار آنے والوں کو سلام کا جواب دے رہے تھے۔ آپ بار بار ہاتھ مبارک اٹھاتے تھے اور ان کو دراز کرتے ہوئے زبان مبارک سے فرماتے تھے وعلیکم السلام و رحمتہ اﷲ وبرکاتہ۔ توبہ کرو اور صف میں داخل ہوجاؤ، میں ابھی تمہاری طرف آتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی وصال کے آثار شروع ہوگئے۔ کلمہ طیبہ اور آیات قرآنی کی تلاوت فرماتے ہوئے آپ کی آواز مبارک مخفی ہوگئی، زبان تالو سے مل گئی اور روح مبارک قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔
پھر اسلامی تعلیمات کی روشنی پھیلانے والا وہ مہر عالم تاب خاک بغداد میں روپوش ہوگیا، جس کی علمی و روحانی تجلیات ہر دور کے اصحاب فکر کے قلب و فکر کا اعزاز بنی رہیں گی۔ آپ کی وفات کی خبر سن کر لوگ آپ کے چہرے کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تابانہ آپ کی جائے قیام کی طرف دوڑے۔ لوگوں کے اژدھام کا یہ عالم ہوا کہ دن میں آپ کی تدفین عمل میں نہ لائی جاسکی بلکہ آپ کو دوسری شب میں دفن کیا گیا۔
آپ کامزار مبارک بغداد شریف کے مشرق میں واقع ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آپ درس دیتے اور وعظ و ارشاد کی روحانی مجالس آباد کیا کرتے تھے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں بلاد عالم سے آنے والے بے شمار زائرین عقیدت و احترام کی ڈالیاں نذر کرتے اور آپ کے فیوض و برکات کی دولت بے بہا کو اپنے دامن میں سجا کرلوٹتے ہیں۔

٭٭٭