اقوام متحدہ اور اسرائیل کا سیاسی کھلونا

in Tahaffuz, March 2013, متفرقا ت, محمد طفیل احمد رضوی

مذہبی بالادستی، نسلی امتیاز، کم زور اقوام پر اپنی تہذیبی و ثقافتی روایات کے نفاذ اور توسیع پسندانہ عزائم کے تحت دنیا کے اندر بے شمار جنگیں لڑی گئیں۔ اس طرح کی خون چکاں داستان اور درد انگیز واقعات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ لیکن پہلی اور دوسری جنگ عظیم اس وجہ سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں کہ ان کی ہول ناکیوں اور جنگ کے نتیجے میں وقوع پذیر انسانی اقدار کی پامالی دیکھ کر پوری عالمی برادری پر سکتے کی کیفیت طاری ہوگئی۔
پہلی جنگ عظیم 1914ء تا نومبر 1918ء لڑی گئی، جس میں جرمنی، ترکی، آسٹریا، ہنگری اور پروشیا ایک طرف تھے، جبکہ فریق مخالف کی حیثیت سے امریکہ، فرانس، روس، جاپان، کناڈا، آسٹریلیا اور بیلجیم اتحادی کردار ادا کررہے تھے۔
دوسری جنگ عظیم کا سلسلہ 1939ء سے 1945ء تک جاری رہا۔ اس میں مقابلہ براہ راست ہٹلر کی نازی افواج اور برطانیہ کے اتحادی ممالک کے درمیان رہا۔ امن عالم کو پارہ پارہ اور انسانی سکون کو غارت کردینے والی ان دو جنگوں نے دانش وران عالم کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ جس طرح بھی ممکن ہو، ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم ضرور تشکیل دی جائے جس کے پلیٹ فارم سے قیام امن کی راہیں ہموار ہوں اور آئندہ دنیا کو اس طرح کی تباہ کن جنگیں لعنت سے بچایا جائے۔ چنانچہ عالمی رہنمائوں کی مشترکہ کوششوں سے 24 اکتوبر 1945ء میں مشہور بین الاقوامی ادارہ ’’اقوام متحدہ‘‘ UNO کا قیام عمل میں آیا۔
ابتداً اس کے چارٹر پر دستخط کرنے والے 91 ممالک تھے۔ ابھی فی الحال اس تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد تقریبا ایک سو نوے ہے۔ مرکزی دفتر نیویارک امریکہ میں ہے۔ اس ادارے کے اغراض و مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔

(1) تحفظ ریاست، (2) عدل و انصاف کا قیام، (3) فلاح و بہبود، (4) انسانی حقوق کی پاس داری، (5) عالمی تنازعات کو باہمی مذاکرات کے ذریعہ حل کرنا وغیرہ وغیرہ۔

ادیان و مذاہب کی تاریخ میں یہودی وہ واحد ازلی بدبخت قوم ہے جس کی سرشت میں خدائی احکام و تعلیمات کی خلاف ورزی، بغض و حسد، دجل و فریب، انبیاء علیہم السلام کی تکذیب اور جبر وتشدد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ امتداد زمانہ اور مرور ایام کے ساتھ بجائے اس کے کہ ان کی عادات رذیلہ میں کمی آئے۔ مزید اضافہ ہی ہورہا ہے۔ دین اسلام کے بڑھتے سیلاب کو روکنا، مسلم دل آزاری، ارض فلسطین پر ناجائز قبضہ اس ظالم قوم کے بنیادی اہداف میں شامل ہے۔
دور حاضر میں ’’یہودیت‘‘ اپنی بے پناہ مادی و عسکری قوتوں کے بل بوتے امن عالم کو پارہ پارہ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور برسوں پر محیط اپنی لمبی پلاننگ اور درپردہ منظم سازش کے تحت بڑی عیاری اور تیزگامی سے اپنے مقاصد کے حصول میں منہمک ہے۔
عالم عرب میں قیام اسرائیل کی پرپیچ راہوں کو ہموار کرنے میں اہل یہود نے اپنی تمام تر مادی و ذہنی توانائیاں صرف کردیں۔ پہلے انہوں نے سلطان ترکی سے مذاکرات کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنا چاہا۔ جب عثمانی قیادت کے مرد بیمار لیکن دینی حمیت سے سرشار سلطان عبدالحمید نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنا کر قلب فلسطین میں قیام اسرائیل کی صیہونی پیش کش کو پائے حقارت سے ٹھکرادیا تو یہ لوگ ادھر ادھر ہاتھ پائوں مارنے کے بجائے سیدھے حکومت برطانیہ کے قدموں سے لپٹ گئے۔ بڑی منت سماجت اور مالی و اقتصادی امداد کی یقین دہانی کرکے بالاخر برٹش حکومت کو اس بات پر آمادہ کرکے ہی دم لیا کہ وہ ارض فلسطین میں خالص یہودی ریاست ’’اسرائیل‘‘ کے قیام کی پرزور حمایت و وکالت کرے۔ چنانچہ دوسری جنگ کے اختتام پر برطانیہ نے اس معاملہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردیا۔ اس غیر منصفانہ اقدام میں امریکہ ہر طرح سے برطانیہ کے موقف کی تائید کررہا تھا کیونکہ یہودی اہل کاروں نے پہلے ہی سے امریکہ کو اپنا ہمنوا بنالیا تھا۔
بہرکیف اس قضیہ کو لے کر اقوام متحدہ میں کس نوعیت کی گرما گرم بحثیں ہوئیں اور کس طرح امریکہ نے اپنی چوھدراہٹ سے کم زور ممالک کو جبراً اسرائیل کی حمایت میں ووٹ ڈلوایا۔ ان تفصیلات میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں، اہل نظر اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں۔
تقسیم فلسطین اور قیام اسرائیل کے حوالے سے UNO کا یہ غیر منصفانہ کردار بھی ملاحظہ کرتے چلیں کہ تقسیم کے وقت فلسطین کی مجموعی اراضی کا 55 فیصد رقبہ، 35 فیصد یہودیوں کو دیا گیا، جبکہ اس زمین پر برسوں سے آباد اہل فلسطین کو 45 فیصد اراضی دی گئی۔ حالانکہ فلسطینیوں کی تعداد 65 فیصد تھی ۔یہ تھا اقوام متحدہ کا انصاف۔
خیر جوکچھ ہوا ایک منظم سازش اور سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہوا، لیکن اتنا تو طے ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی بہت بڑی ناانصافی اور سیاسی بھول تھی کہ اس نے فلسطین، اسرائیل تقسیم پلان کے وقت خصوصی رعایت دے کر اسرائیل جیسے ظالم و جارح ملک کو اس درجہ جری اور شیردل بنادیا کہ اب وہ عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر کر دہشت گردانہ رویہ اپنانے میں ذرہ برابر جھجک محسوس نہیں کرتا اور اقوام متحدہ کی ہدایات و قوانین کو بازیچہ اطفال سمجھ کر پس پشت ڈال دیتا ہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں اقوام متحدہ کا عالمی وقار خاک میں مل چکا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ اب تک سیکورٹی کونسل کی پچاس سے زائد قراردادوں کی مخالفت کرچکی ہے۔ مگر افسوس ہے عالمی برادری پر کہ ان تمام صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ عربوں سے متعلق چھوٹی موٹی باتوں پر شدید نکتہ چینی کرنے والے رکن ممالک آخر اسرائیل کی ناجائز پالیسیوں پر مہر بلب کیوں ہیں؟
1949ء میں UNO کی ممبر شپ قبول کرتے وقت اسرائیل نے کھلے لفظوں میں یہ اعتراف کیا کہ ’’وہ ہرگز کوئی ایسی پالیسی اختیار نہیں کرے گا جو جنرل اسمبلی یا سیکورٹی کونسل کی قراردادوں سے متصادم ہو‘‘ مگر واہ رے ترے وعدے! آج اسرائیل اپنے تمام وعدوں سے منحرف ہوکر سیکورٹی کونسل کے اصول اور قراردادوں کی خلاف ورزی کرکے پوری دنیا بالخصوص عالم عرب میں دندناتا پھرتا ہے۔ کبھی مصر پر حملہ کرتا ہے، تو کبھی لبنان پر بمباری کرتا ہے، کبھی ملک شام کو آنکھیں دکھاتا ہے، تو کبھی ایران پر غراتا ہے۔ اسرائیل کے زمانہ قیام ہی سے فلسطین کے مسلمان صیہونی بربریت کے شکار ہیں۔ لاکھوں افراد زخمی، ہزاروں لقمہ اجل اور ان گنت فلسطینی پناہ گزیں کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ بارہا اسرائیل کو وارننگ دے کر اس کی انسانیت سوز پالیسیوں پر صدائے احتجاج بلند کرتا رہا ہے، لیکن اسرائیل ایک نہیں مانتا اور حسب معمول اپنی ارہابی کارروائیاں جاری رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں جتنی بار شدید نکتہ چینی اسرائیل کے خلاف ہوئی ہے، اتنی بار آج تک کسی اور ملک کی نہیں ہوئی ہے۔ لیکن امریکہ ہر بار اپنی سیاسی اولاد کی پشت پناہی کرکے اسرائیلی پالیسیوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتا ہے۔ یہاں تک کہ 1983ء میں امریکہ نے یہاں تک دھمکی دے ڈالی کہ

’’اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کرنے کی بنیاد پر اسرائیل کو خارج کیا گیا تو وہ بھی جنرل اسمبلی سے قطع تعلق کرلے گا‘‘ (اسرائیل کی دیدہ و دانستہ فریب کاریاں، ص 199)
گویایہ دھمکی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کا امریکی و اسرائیلی کٹھ پتلی ادارہ ہونے کا استعاراتی بیان تھا جس سے یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ آج یہ ادارہ استعماری قوتوں کے سامنے کس درجہ بے بس اور مجبور ہے۔
اسرائیل اس تنظیم کے وقار کو مجروح کرنے میں امریکہ سے بھی دو قدم آگے ہے۔ چنانچہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ

’’اقوام متحدہ تو گویا ایک مسجد بن چکی ہے جہاں سے اسرائیل کی حاکمیت اعلیٰ اور بقاء کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے‘‘ (ایضاً، ص 199)
اسی طرح صیہونی اہل کاروں کا ماننا ہے کہ

’’عرب اسرائیل تنازعہ کے حل کرنے میں UNO کے کسی مفید رول ادا کرنے میں ہمیں شک ہے‘‘ (ایضاً، ص 200)
1947ء میں اقوام متحدہ کی طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ’’یروشلم پر فریقین میں سے کسی بھی گروپ کی حاکمیت قائم نہ ہوگی بلکہ اس تنظیم کے ماتحت ایک بین الاقوامی حکومت ہوگی‘‘ اسرائیل نے اولاً اس حکم کو مان لیا مگر بعد میں مکر گیا اور اقوام متحدہ کی حکم عدولی کرتے ہوئے ’’یروشلم‘‘ کو دارالحکومت کی حیثیت سے اپنے میں ضم کرلیا۔ یہ عالمی برادری کی توہین اور بین الاقوامی عدالت کی خلاف ورزی نہیں تو اور کیا ہے؟
یوں ہی 14 دسمبر 1981ء میں اسرائیل نےUNO کے فیصلے کوپائوں تلے روندتے ہوئے شام کی جولان کی پہاڑیوں کو اپنے اندر ضم کرلیا (ایضاً، ص 335)
آئے دن اسرائیل کا یہ معمول بنتا جارہا ہے کہ وہ فلسطین کی اراضی کو ہڑپ کر اپنی سلطنت کی توسیع میں مگن ہے۔ اس طرح اقوام متحدہ نے بار بار اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا سلسلہ بند کرے اور 1948ء بعدہ 1967ء کے عرب اسرائیل تنازع سے متاثر فلسطینی عوام جو پناہ گزیں کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، انہیں دوبارہ اپنے وطن لوٹنے کی اجازت دی جائے، مگر اسرائیل نے ایک بھی نہ سنی۔
ایک اندازے کے مطابق سلامتی کونسل کی 65 قراردادیں اسرائیل کی مخالفت اور مذمت میں سامنے آچکی ہیں۔ جبکہ الگ الگ 29 مواقع ایسے ہیں جس میں امریکہ نے اپنا ویٹو پاور استعمال کرکے سیکورٹی کونسل کو اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور کرنے سے باز رکھا (ایضاً، ص 202)
مندرجہ بالا سطور سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ اسرائیل، اقوام متحدہ کے اصول و قوانین کو بازیچہ اطفال اور مٹی کے کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔
لہذا اب بھی وقت ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور میں جدید اصلاحات کے ساتھ اسرائیل کی امن مخالف پالیسیوں پر پابندی عائد کی جائے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب اس عالمی تنظیم کا رہا سہا بھرم بھی یہودیوں کے ہاتھوں خاک میں مل جائے گا۔