سوال: اﷲ میاں کہنا کیسا ہے؟    السائل: حاجی اسد علی (پوڑمیانہ اٹک)
جواب: اﷲ تعالیٰ کی ذات بہت ارفع و اعلیٰ اور برتر وبالا ہے۔ کوئی شے اس کی مثل نہیں ہے۔ اسمائے الٰہی کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

’’تم فرماؤ اﷲ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں‘‘ (کنزالایمان)
سورۂ بنی اسرائیل آیت110

نیز فرمایا

’’اور اﷲ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں۔ وہ جلد اپنا کیاپائیں گے‘‘

(کنزالایمان) سورہ الاعراف آیت 180۔

تفسیر جلالین کے حاشیہ میں ہے

“حسنیٰ ہونے کا معنی ہے کہ تمام اسمائے الٰہی تقدیس، تعظیم، تمجید (بزرگی) اور صفات جلال و کمال پر مشتمل ہیں”(تفسیر جلالین ص 239)

’’میاں‘‘ کے معانی فیروز اللغات میں یہ لکھے ہیں: آقا، والی، وارث، خداوند، مالک، سرکار، حضور، حاکم، سردار (۲) صاحبزادہ، بیٹا،  (۳) خاوند، شوہر، خصم، (۴) جناب، جناب عالی، (۵) یار، دوست، بھائی (۶) استاد (۷) شہزادہ، صاحب عالم، امیر زادہ، (فیروز اللغات ص 1390 م ی)
ان میں کئی معانی خدا کی شان کے لائق نہیں ہیں۔ جبکہ تفسیر مظہری عربی ص 3/438 مطبوعہ کوئٹہ میں بھی ہے کہ اسمائے الٰہی تعظیم پر مشتمل ہوں۔

امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں!

’’سوال میں اسم جلالت (اسم اﷲ) کے ساتھ لفظ میاں مکتوب ہے۔ یہ ممنوع و معیوب ہے۔ زبان اردو میں ’’میاں‘‘ کے تین معنی ہیں جن میں دو اس پر محال ہیں اور شرع سے ورود نہیں لہٰذا اس کا اطلاق محمود نہیں‘‘ (فتاویٰ رضویہ ص 29، جلد ششم مطبوعہ کراچی)
لہذا اس طرح کہنے اور لکھنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

سوال: نماز شروع کرنے سے پہلے اگر انسان موبائل بند کرنا بھول جائے اور دوران نماز کال آجائے تو کیا اسے حالت نماز میں ہی بٹن دبا کر بند کرسکتے ہیں۔ اگر کرسکتے ہیں تو کس طرح؟

 السائل: مسعود عجائب (جاتلی گوجر خان)
جواب: فقہائے کرام علیہم الرحمۃ نے صراحت سے لکھا ہے کہ عمل کثیر سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ لہذا اگر عمل قلیل (جسے کرتے ہوئے دیکھنے والا یہ گمان نہ کرے کہ یہ شخص نماز نہیں پڑھ رہا ہے) سے بند کرسکتا ہے تو کردے ورنہ نماز کو ٹوٹنے سے بچائے۔ اس بارے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اوقات نماز کا ضرور خیال رکھاجائے۔ نیز پھر بھی اگر اوقات نماز میں (کال کرنے والا) تین بار ٹون جانے کے بعد فون بند کردے اور لمبی گھنٹی نہ دی جائے تو بہت بہتر ہوگا۔ یعنی فون کرنے والا تین بار اپنے فون کی آوز سنائی دینے کے بعد فون بند کردے۔

سوال: بعض لوگوں نے قرآنی آیات کو اپنے موبائل میں بطور ٹونز لگا رکھا ہے۔ جب کال آتی ہے تو آیت کی تلاوت کی آواز آتی ہے۔ جب بٹن دبایا جاتا ہے تو آیت نامکمل رہ جاتی ہے اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟   السائل: چوہدری ریاض (واہ کینٹ)

جواب: آج کے جدید دور میں موبائل فونز پر طرح طرح کی ٹونز ہوتی ہیں۔ بندہ کے خیال میں چونکہ موبائل آدمی کی جیب میں ہوتا ہے اور کال کا کوئی پتہ نہیں ہوتا، کب آجائے۔ لیٹرین میں بھی آجاتی ہے۔ لہذا تلاوت نعت درود پاک یا کوئی اسلامی شعار کی ٹون نہ لگائی جائے تاکہ توہین نہ ہو۔ اسی طرح تلاوت کو درمیان سے بند کرنا بھی اس سے نفرت کا اشارہ سمجھا جاسکتا ہے یعنی توہین کا شائبہ ہوسکتا ہے لہذا ایسی ٹونز سے اجتناب ہی بہترین حل ہے۔

سوال: مسجد میں اگر نمازی جماعت کے انتظار میں بیٹھے ہوں تو کیا انہیں سلام کرنا جائز ہے یا نہیں؟    السائل: رانا محمد شکیل (واہ کینٹ)
جواب: سلام اسلام کاشعار اور امن وسلامتی کی ایک جامع ہمہ وقتی دعا ہے۔ مگر کمال یہ ہے کہ سلام کے آداب و مواقع ہیں۔ مسئولہ صورت کے متعلق فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

“سلام ملاقاتیوں کی دعا ہے اور جو لوگ مسجد میں تلاوت قرآن مجید، تسبیح (ذکر اذکار) یا نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں وہ آنے والوں سے ملنے کے لئے نہیں بیٹھے ہوتے۔ اس واسطے یہ سلام کرنے کا وقت (موقع) نہیں ہے لہذا انہیں (بیٹھے ہوؤں کو) سلام نہ کیا جائے۔ اسی واسطے علماء نے فرمایا ہے کہ اگر آنے والے نے بیٹھے ہوئے نمازیوں کو سلام کیا تو انہیں اجازت ہے کہ سلام کا جواب نہ دیں۔ یوں ہی منیہ میں لکھا ہے”(فتاویٰ عالمگیری ص 5/325 مطبوعہ کوئٹہ 1986ء)
یعنی آنے والے نے بے موقع محل کام کیا ہے لہذا جواب نہیں ہے۔واﷲ تعالیٰ اعلم واحکم بالصواب