رب تعالیٰ کی نعمت گاجر

in Tahaffuz, March 2013, حکیم غلام مصطفی آسی, متفرقا ت

گاجر مفید اور خوش ذائقہ جڑ، جوکئی امراض کا علاج ہے۔ گاجر کا ذکر چھڑتے ہی گاجر کے مزیدار حلوے کا تصور ابھرتا ہے۔ موسم سرما میں گاجر کا حلوہ بڑے اہتمام سے بنایا اور مزے لے کر کھایا جاتا ہے۔ ارزاں نرخ پر دستیاب ہونے والی یہ مشہور جڑ بہت سے فوائد کے حامل ہے۔
گاجرکو عام جسمانی کمزوری دور کرنے، جگر کو طاقت دینے، خون بنانے، قلب و دماغ کو تقویت دینے، گھبراہٹ دور کرنے اور پرانے نزلہ، کھانسی حتی کہ دمہ تک میں استعمال کرایا جاتا ہے۔ بینائی کمزور ہوجائے تو گاجر کا استعمال بہت مفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں حیاتین الف کی بڑی مقدار موجود ہے۔ گاجر کو پیشاب لانے اور گردے اور مثانے سے پتھری کے اخراج کے لئے بھی استعمال کروایا جاتا ہے۔
دل کی کمزوری اور گھبراہٹ و اختلاج کے مریضوں کو چاہئے کہ وہ گاجر کو گرم راکھ یا اوون میں بھون لیں۔ پھر اس بھنی ہوئی گاجر کی قاشیں کاٹ کر رات کو کھلے آسمان تلے رکھ دی جائیں تاکہ یہ شبنم سے اچھی طرح تر ہوجائیں۔ صبح سورج نکلنے سے قبل، گاجر کی ان قاشوں کو نوش کرلیا جائے۔ گھبراہٹ دور کرنے کے لئے گاجر کا مربہ استعمال کرنا بھی مفید ہے۔ روزانہ صبح نہار منہ یا شام چار یا پانچ بجے، دو تولہ سے لے کر پانچ تولہ تک گاجر کا مربہ، پانی سے دھو کر اور چاندی کا ورق لپیٹ کر کھالیا جائے۔
گاجر کو تازہ حالت میں کھانا یا اس کا رس نکال کر پینا بہت مفید ہے۔ خاص طور پر جن لوگوں کی بینائی کمزور ہے، وہ روزانہ دو تین تازہ گاجریں کھالیں تو اس کے لئے انتہائی فائدہ مند ہوں گی یا گاجر کے رس میں چوبیس گھنٹے سونف بھگیو کر پھر کپڑے پر ڈال کر خشک کرلیں اور کھانا کھانے کے بعد ایک چمچ چبا چبا کر کھالیں تو اس سے عینک تک کی محتاجی ختم ہوجائے گی یا پھر روزانہ ایک گلاس گاجر کا رس پیتے رہا کریں۔ یہ ایک بہترین غذا بھی ہے، طب میں بہت سی دوائیں گاجر کے رس کی آمیزش سی تیار کی جاتی ہیں یا ان میں گاجر کے بیج ڈالے جاتے ہیں۔ گاجر کے بیج (تخم گذر) اور پیشاب کی جلن میں استعمال کرائے جاتے ہیں۔ ان کے استعمال سے خواتین کو ایام بھی کھل کر آتے ہیں۔

احتیاط

ذیابیطس میں مبتلا ایسے افراد کو جن کا وزن بھی بڑھا ہوا ہو، گاجر کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہئے۔ دوران حمل خواتین کو گاجر کے بیجوں کو استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان سے اسقاط حمل کا خطرہ ہوتا ہے۔