بیشک بریلوی اور مسلک اعلیٰ حضرت حقیقی اہلسنت کی علامت کی نشانی ہے

in Articles, Tahaffuz, May 2011, مسلک اعلیٰ حضرت, مولانا محمد حسن علی رضوی بریلوی میلسی

بے شک ’’بریلوی‘‘ اور مسلک اعلیٰحضرت سچے پکے اصلی اور حقیقی اہلسنت کی علامت و نشان و شناخت و پہچان ہے

 

کچھ دنوں سے ذیشان مصباحی، خوشتر نورانی اور مولوی اصدق صاحب مسلمہ و معتمد اکابر و اعاظم علماء و مشائخ اہلسنت و مشائخ طریقت کی واضح تصریحات کے برعکس محض وہمی خیالی مفروضوں اور ڈھکوسلوں کی بنیاد پر لفظ ’’بریلوی‘‘ اور اصطلاح اصلاح مسلک اعلیٰ حضرت کے خلاف ایک منظم مہم چلا رہے ہیں۔ محض خدشات کی بنیاد پر مختلف النوع شوشے چھوڑ رہے ہیں کہ ’’بریلوی‘‘ نام ہمیں دیوبندیوں وہابیوں نے دیا۔ مسلک اعلیٰ حضرت کی اصطلاح اور بریلوی کے اطلاق و استعمال سے دوسری خانقاہوں اور دوسرے اکابرین کے عقیدت مندوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ مولوی ظہیر غیر مقلد وہابی نے کتاب البریلویہ لکھ کر دنیا بھر میں ہمیں بریلوی ایک نیا فرقہ ظاہر کردیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ آوارگی فکرونظر کے حامل ان جدت پسندوں کو اتنی توفیق تو ہوئی نہیں کتاب ’’البریلویہ‘‘ جیسی رسوائے زمانہ مبنی برکذب و افتراء بوگس کتاب کا علمی تحقیقی محاسبہ کرکے مدلل و متحقق جواب دیتے جبکہ یہاں پاکستان میں اس کتاب کے تین چار معرکۃ الآرا و مسکت جوابات چھپ کر شائع ہوچکے ہیں۔ غیر مقلدین کی صفوں میں تو سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ لوگ اس تردید شدہ کتاب کو ایٹم بم سے بڑھ کر ہائیڈروجن بم سمجھ کر اس کے مہلک اثرات کی پبلسٹی کررہے ہیں۔ یہ لوگ اتنا بھی نہیں بتاسکے کہ بریلوی بے شک نیا فرقہ نہیں۔ یہ تو سچے پکے خالص حقیقی واقعی اصلی اہلسنت کی علامت و نشان، شناخت و پہچان ہے۔ اس فتنوں کے دور میں دیوبندی وہابی بھی اہلسنت کہلا رہے ہیں۔ غیر مقلد وہابی بھی اہلسنت کہلا رہے ہیں۔ سعودی نجدی علماء بھی حنبلی بن کر اہلسنت کہلا رہے ہیں۔ ندوی اور مودودی بھی اہلسنت کہلا رہے ہیں۔ شیعہ رافضی بھی اہلسنت ہونے کے دعویدار ہیں۔ کچھ سجدہ تعظیمی والے جہلاء اور گمراہ گر بھی اہلسنت کا لیبل لگائے پھرتے ہیں۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے اور اس بیسوں کتب کے معتبر حوالہ جات نقد موجود ہیں۔ اس عنوان پر ’’ذیشان کا ہذیان‘‘ اور ’’خوشتر کی حالت ابتر‘‘ دو مقالہ جات جواب آں غزل کے طور پر موجود ہیں۔اس موضوع پر ’’جام نور‘‘ نے جو الٹی گنگا بہائی، اس کا تعاقب زیر قلم ہے۔ خدا جانے…

مسلک رضوی سے خوشتر کو جلن کیوں ہے

قسمت میں یہ بدبختی کس شان سے آئی ہے

ماہنامہ ’’تحفظ‘‘ کے گزشتہ شمارے میں کسی مولانا اصدق کا ایک شدید مغالطہ آمیز مقالہ بعنوان ’’بے شک بریلوی کوئی فرقہ نہیں‘‘ شائع ہوا۔ بڑے پرفریب انداز میں شہد میں زہر دینے کی مذموم مساعی بروئے عمل لائے ہیں اور بڑے طمطراق اور وثوق و اعتماد سے رقم طراز ہیں

٭ لفظ دیوبندی وہابی کے جواب میں وہابیہ کی طرف سے لفظ بریلوی سواداعظم اہلسنت کو دیا جانے والا نام ہے

٭ بہتوں کو اہلسنت کے زمرے میں شامل کرکے یہ نعرہ نہ لگایا ہو تاکہ بریلویت ہمارے لئے وجہ امتیاز ہے اور اعلیٰ حضرت کی دکھائی ہوئی راہ ہمارے لئے راہ عمل ہے تو مولوی احسان الٰہی ظہیر کو قطعاً یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ ’’البریلویہ‘‘ لکھ کر بریلوی کے نام عالم اسلام میں ہم کو ایک نیا فرقہ مشہور کرتا

٭ ہم تو بریلوی کہلائے اور دیوبندی خود کو سنی کہہ کر متعارف کروانے لگے۔ احسان الٰہی ظہیر اور کتاب البریلویہ کا رونا تسلسل و تواتر کے ساتھ بار بار رویا گیا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ موصوف مقالہ نگار کی اردو ایسی لچرپچر چکھڑا قسم کی ہے کہ اس کو کچھ معلوم نہیں بریلوی… نام ہے، لفظ ہے، لقب ہے، امتیازی نشان و علامت ہے، خطاب ہے، حقیقت ہے کہ بریلوی کی حیثیت و حقیقت و معنویت کا مقالہ نگار کو کچھ پتہ نہیں۔ وہ تو اپنی افتاد طبع سے مجبور ہوکر بریلوی سے الرجک ہے اور بزعم خود عقل شکن وہمی خیالی من مانی دلیلوں سے بریلوی کا اطلاق و استعمال ترک کرانا چاہتا ہے ورنہ اس کے خیال خام میں دیوبندی، وہابی کتاب ’’البریلویہ‘‘ دکھا دکھا کر حقیقی سنیت حنفیت بریلویت کو صفحہ ہستی سے مٹادیں گے۔ مقالہ نگار جناب اصدق اپنی اضطرابی کیفیتوں کا حامل یہ مقالہ ماہنامہ ’’سیارگان‘‘ بمبئی بابت ماہ جون 2006ء میں بھی چھپوا کر عوام اہلسنت کو مغالطہ اور دھوکہ دینا چاہا تھا مگر وہاں کے ممتاز و موقر دردمند مقتدر علماء اہلسنت نے اس کے پرفریب جھانسوں کا راز طشت ازبام کردیا تھا۔ بالخصوص محب مکرم و محترم فاضل محتشم خلیفہ مفتی اعظم مولانا علامہ مفتی محمد شمشاد حسین پرنسپل شمس العلوم بدایوں شریف نے مرکز اہلسنت بریلی شریف کے جریدہ حمید ماہنامہ ’’اعلیٰحضرت‘‘ کے شمارہ اپریل، مئی، جون و ستمبر 2006ء بعنوان ’’لفظ بریلوی فکروتنقید کے تناظر میں‘‘ نہایت فاضلانہ جواب چھپوا کر خود بدولت جناب اصدق اور ان کے رفیق جامی خوشتر نورانی کو جامد و ساکت و مبہوت کردیا تھا۔ ماہنامہ اعلیٰحضرت ماہنامہ سنی دنیا، رسالہ سنی آواز ناگپور، مہاراشٹر میں ایسے افکار کے حامل جدت پسند عناصر معاندین مسلک اعلیٰحضرت کا مسلسل تعاقب ہوتا رہا جن کی فوٹو اسٹیٹ کاپیاں میلسی سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اب وہی مقالہ میدان سونا دیکھ کر جریدہ ’’تحفظ‘‘ میں چھپوا دیا اور اپنے قلب حزیں کی تسکین کا سامان پیدا کیا۔ جناب اصدق کو چاہئے تھا کہ اپنے قائم کردہ عنوان ’’بے شک بریولی کوئی فرقہ نہیں‘‘ پر دلائل و شواہد قائم کرتا، نیا فرقہ کہنے کے لایعنی الزامات واثرات کا علمی تحقیقی انداز میں ازالہ کرتا اور یہ کہ بریلوی نیا فرقہ نہیں بلکہ خالص ومخلص مستند ومعتمد سچے پکے حقیقی واقعی سنی حنفی کی علامت و نشانی ہے۔  خالص سنیت کی سند اور ضمانت بریلوی ہے۔ مولانا اصدق صاحب نے بزعم خود بڑے تہلکہ آمیز و سنسنی خیز انداز میں  احسان الٰہی ظہیر کی کذب وافتراء و بہتانات پر مبنی رسوائے زمانہ کتاب ’’البریلویہ‘‘ کے مضر ومہلک اثرات کا بار بار اس دھماکہ خیز انداز میں تذکرہ کیا جیسے اس کتاب ’’البریلویہ‘‘ نے معاذ اﷲ اہلسنت کا سب کچھ تباہ و برباد کردیا اور کچھ نہ چھوڑا مگر جرأت وہمت سے کام لے کر اس کتاب کا مدلل علمی تحقیقی جواب تو نہ دیا اور یہ واضح نہ کیا کہ ’’البریلویہ‘‘ سے بڑی جھوٹی کتاب اس دنیا میں دوسری نہیں ہے مگر یہ کیا کہ اس کتاب کی قصیدہ خوانی میں بظاہر مخالفانہ انداز میں زمین و آسمان کے قلابے ملا اور اپنی زبان قلم سے اس جھوٹی اور پرفریب کتاب کی بدیں الفاظ تشہیر و پبلسٹی کا ذریعہ بنے کہ احسان الٰہی ظہیر نے ’’البریلویہ‘‘ لکھ کر بریلوی کے نام سے عالم اسلام میں ایک نیا فرقہ مشہور کردیا، معاذ اﷲ… ہمیں بتایا اور سمجھایا جائے کہ کیا یہ کتاب صرف اس جرم میں لکھی گئی کہ ہم بریلوی کہلاتے ہیں؟ ہمیں بھی بتایا اور سمجھایا جائے کہ کیا اس کتاب ’’البریلویہ‘‘ نے عالم اسلام سنیت بریلویت کا پانسہ پلٹ دیا۔ اس کتاب کی وجہ سے اسلامی ممالک کے سنی بریلوی علماء وعوام غیر مقلدیت قبول کرنے یا بریلوی ہونے اور بریلوی کہلانے کے جرم میں عالم عرب اور اسلامی ممالک سے نیا فرقہ سمجھ کر ہمارے علماء و عوام کو ملک بدر کردیا۔ بریلوی ہونے کے جرم میں اپنے اپنے اسلامی ملکوں سے ہمارے علماء و عوام کو نکال باہر کیا۔ برصغیر وایشیائی ممالک میں اس کتاب کو پڑھ کر اور بریلوی کو معاذ اﷲ نیا فرقہ سمجھ کر ان کے مدارس کو بند کردیا گیا۔ ان کی کتابوں پر پابندی لگادی گئی۔ بریلوی کہلانے والے سنی بریلوی علماء و مبلغین کے ویزوں پر پابندی لگادی گئی؟ آخر کیا اور کون سا مہلک و مضر اثر اہلسنت پر پڑا؟ خدا جانے مولانا اصدق کیوں احساس کمتری میں مبتلا ہیں؟ چلو میں خود سوال کرتا ہوں اور مولانا اصدق صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر بالفرض ہم بریلوی کہلانا چھوڑ دیں تو کیا ہمیں نجدی وہابی حکومت بحیثیت صرف اور صرف اہلسنت ہمیں ہمارے عقائد نورانیت مصطفیﷺ علم غیب، حاضر وناظر، مختار کل امداد و اعانت و استعانت انبیاء و اولیائ، عید میلاد جلسہ و جلوس اور گیارہویں شریف، عرس بزرگان دین کرنے، انبیاء و رسل محبوبان خدا کو خدا تعالیٰ کی عطا سے حاجت روا مشکل ماننے پر کچھ قدغن نہ ہوگا؟ اس کی کیا گارنٹی اور کیا ضمانت ہے کہ مولوی احسان الٰہی ظہیر کے ہم عقیدہ وہم مسلک ہمیں ان عقائد و معمولات کی بناء پر ہمیں مشرک بدعتی قرار نہ دیں گے۔ سوچ سمجھ کر اور سنبھل کر جواب دیں۔ آپ نے اپنی اندرونی حالت و کیفیت سے مجبور ہوکر یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ ہمیں بریلوی کہلانے کے جرم میں نیا فرقہ قرار دیا گیا ۔ میں مولانا اصدق سے پھر سوال کرتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ جب جنت المعلی اور جنت البقیع شریف میں سیدہ فاطمہ سیدہ عاشہ، سیدہ خدیجۃ الکبری، سیدنا عثمان غنی، سیدنا امام حسن و دیگر ازواج ومطہرات و ابنات مقدسہ و اہل بیت اطہر اور جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مزارات مقدسہ کو گرایا اور ڈھایا گیا اور بلڈوز کیا گیا۔ ہم اس وقت بریلوی کہلاتے تھے؟ حرمین شریفین مکہ معظمہ، مدینہ منورہ میں ہزاروں علماء اہلسنت کو معزول اور پریشان کیاگیا۔ کیا اس وقت وہ بریلوی کہلاتے تھے؟ کتاب التوحید اور تقویۃ الایمان وغیرہ کتب میں ہمارے عقیدہ ومسلک اور معمولات پر جو بار بار شرک و بدعت کے فتاویٰ صادق ہوئے، اس وقت ہم بریلوی کہلاتے تھے؟ تو پھر آپ نے کیسے وہ سب کچھ بے دغدغہ کہہ دیا جو اپنے زیر بحث مقالہ میں بڑے وثوق اعتماد سے کہہ دیا؟

فقیر واضح کردینا چاہتا ہے کہ کتاب البریلویہ اول و آخر سراپا کذب و افتراء اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ اس کی حیثیت و حقیقت تار عنکبوت کے برابر بھی نہیں اور آپ کو معلوم ہے اور نہیں معلوم تو سن لیں، ’’البریلویہ‘‘ کے چار قاہر رد اسی زمانہ میں چھپ کر شائع ہوگئے تھے اور بیسوں سنی بریلوی رسائل و جرائد میں ’’البریلویہ‘‘ کا رد ابطال ہوا تھا۔ جس کے جواب الجواب سے ہمارا غیر مخاطب آج تک عاجز و قاصر ہے اور لب باندھے دم سادھے بیٹھا ہے۔

کیا بنے بات جہاں بات بنائی نہ بنے

اصدق صاحب! آپ دل نہ چھوڑ جائیں، بریلوی کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔ آپ میلسی تشریف لائیں، نیا تجربہ کرلیں، فقیر اپنے دو بچوں کو مصنف ’’البریلویہ‘‘ کی باقیات سے مناظرہ کرنے کے لئے آپ کو ساتھ بھیج دوں گا۔ ہمارا حزب مخالف مدمقابل سیدنا محدث اعظم اعلیٰحضرت امام اہلسنت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ و دیگر علماء اہلسنت کی کتابوں کے حوالوں پر مشتمل عبارات کو صرف بعینہ و بلفظہ حرفاً حرفاً ثابت کردیں اور ایک لاکھ روپیہ نقد انعام حاصل کریں۔ عدم ادائیگی کی صورت میں یہ ایک لاکھ بذریعہ عدالت بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ فقیر بفضلہ تعالیٰ پورے وثوق و اعتماد اور یقین محکم کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ نجدی کتاب ’’البریلویہ‘‘ کی ابتداء جھوٹ اور انتہا فریب و فراڈ پر مبنی ہے۔ یہ وہابیہ کی دھوکہ منڈی ہے۔ آپ ان کی ایک کتاب سے گھبرا گئے۔ الحمدﷲ ثم الحمدﷲ! علماء اہلسنت ہزاروں طویل وضخیم کتابیں لاجواب و ناقابل تسخیر و ناقابل تردید ہیں۔ مصنف ’’البریلویہ‘‘ نے سرکار اعلیٰحضرت مجدد اعظم دین ملت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ایک ہزار کتب و رسائل کا آج تک کیا جواب دیا اور وہ کہاں ہے؟

اب آیئے آپ کی بلا دلیل وثبوت ہوائی باتوں، خیالی وسوسوں کی طرف… آپ نے لکھا ہے ’’لفظ دیوبندی وہابی کے جواب میں وہابیہ کی طرف سے لفظ بریلوی سواداعظم اہلسنت کو دیا جانے والا نام ہے‘‘

آپ کی یہ دونوں باتیں سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہیں۔ نہ آپ نے اس کا کوئی ثبوت و حوالہ دیا۔ مودبانہ عرض ہے کہ پڑھ لکھ کر دیکھ بھال کر بات فرمایا کریں۔

سنو غور کرو اور حوالہ جات ملاتے جائو، وہابیوں کو وہابی علامہ ابن عابدین شامی نے کہا دیکھو ردالمحتار حاشیہ و صاحب تفسیر صاوی علی الجلالین علامہ جمیل آفندی عاقی الفجر الصادق ص 17-18، علامہ احمدین زینی دحلان مکی (الفتوحات الاسلامیہ جلد 2 ص 268، والدر السنیہ ص 49، مولوی عبید اﷲ سندھی ابجد العلوم ص 87 بحوالہ تاریخ وہابیہ ص 83، بلکہ وہابی اپنی وہابیت پر اس قدر نازاں تھے کہ نواب الوہابیہ نواب صدیق حسن بھوپالی نے اپنے رسالہ کا نام ہی ’’ترجمان وہابیہ‘‘ رکھ لیا تھا اور وہابیوں کی ایک کتاب ’’تحفہ وہابیہ‘‘ ہے۔

ترجمہ بقلم مولوی اسماعیل غزنوی وہابی یہ جملہ کتب اور ان کے مصنفین سیدنا اعلیٰحضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی ولادت باسعادت سے پہلے کے ہیں، لہذا ثابت ہوا کہ وہابیوں نے نام وہابی اور وہابیہ خود پسند کیا اور رکھا۔ ہم مندرجہ بالا قسم کے پچاس حوالہ جات اور نقل کرسکتے ہیں کہ وہابی بقلم خود وبیدہ خود وہابی ہیں۔

فقیر بحمدہ تعالیٰ اتمام حجت کے لئے مولوی ظہیر کی ولادت اور ان کی کتاب ’’البریلویہ‘‘ کے معرض وجود میں آنے سے بہت پہلے متعدد کتب لغت سے ثابت کرسکتا ہے کہ وہابیوں کو وہابی کا لقب ہم نے نہیں دیا۔ سیدنا اعلیٰحضرت قدس سرہ نے نہیں دیا، بلکہ لفظ وہابی کے معنی کی وضاحت میں اہل لغت متفق البیان ہیں اور سب نے یہی لکھا ہے۔ (وہابی (ع) عبدالوہاب نجدی کا پیروکار فرقہ (جو صوفیوں کے مدمقابل خیال کیا جاتا ہے )دیکھو حسن اللغات، فیروز اللغات، امیر اللغات وغیرہم زیر و۔ہ)

فقیر کو مولانا اصدق صاحب کے محدود مطالعہ اور عدم واقفیت و لاعلمی پر رہ رہ کر افسوس ہوتا ہے اور کچھ نہیں تو وہ اکابر علماء بدایوں شریف کی سیدنا مجدد اعظم اعلیٰحضرت علیہ الرحمہ سے بہت پہلے کی کتاب سیف الجبار اور مجاہد جلیل وعظیم شیر حق علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمہ کی کتاب برد وہابیہ تحقیق الفتویٰ لسلب الطغویٰ اور بوارق محمدیہ وغیرہ ملاحظہ فرماتے اور تو اور مقالات سرسید میں خود مولوی اسماعیل پانی پتی وہابی فخریہ طور پر اپنی اور اپنے فرقہ کی وہابیت کا برملا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں اور ’’انگلش گورنمنٹ ہندوستان میں خود اس فرقہ کے لئے جو وہابی کہلاتا ہے، ایک رحمت ہے جو سلطنتیں اسلامی کہلاتی ہیں ان میں بھی وہابیوں کو ایسی آزادی مذہب ملنا دشوار بلکہ ناممکن ہے (مسلم) سلطان کی عمل داری میں وہابی کا رہنا مشکل ہے‘‘ (مقالات سرسید حصہ نہم ص 211-212، از مولوی اسماعیل پانی پتی وہابی و علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ بابت 2 فروری 1889ئ)

دیوبندی خود کو دیوبندی کہتے ہیں اور وہابی ہونے کا اقرار و اعتراف بھی کرتے ہیں۔ اس عنوان اور اس موضوع پر مولانا اصدق جتنے حوالے ثاہیں نقد بہ نقد موجود ہیں۔ ان کی ضیافت طبع کے لئے چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔

دیوبندیت وہابیت ہند کے امام دوم بانی ثانی مدرسہ دیوبند مولوی رشید احمد گنگوہی وہابیت اور بانی وہابیت عبدالوہاب شیخ نجدی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’محمد بن عبدالوہاب کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں۔ ان کے عقائد عمدہ تھے، وہ عامل بالحدیث تھا۔ شرک و بدعت سے روکتا تھا‘‘ (ملحضاً از فتاویٰ رشیدیہ جلد 1ص 111 و ص 551)

دیوبندی حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی بدیں الفاظ اپنی وہابیت کا اقرار و اعتراف کرتے ہیں ’’بھائی یہاں وہابی رہتے ہیں، یہاں فاتحہ نیاز کیلئے کچھ مت لایا کرو‘‘ (اشرف السوانح جلد 1ص 45)

یہی تھانوی صاحب کہتے ہیں ’’اگر میرے پاس دس ہزار روپیہ ہو تو سب کی تنخواہ کردوں پھر لوگ خود ہی وہابی بن جائیں‘‘ (الاضافات الیومیہ جلد 5ص 67)

مولانا فیض الحسن صاحب سہارنپوری بڑے ظریف تھے۔ کسی نے ان سے بدعتی اور وہابی کے معنی پوچھے تو عجیب تفسیر کی، فرمایا ’’بدعتی کے معنی ہیں باداب، بے ایمان اور وہابی کے معنی ہیں بے ادب باایمان‘‘ (ملفوظات حکیم الامت جلد 2ص 326)

دیوبندی وہابیوں کے منظور مضرور مناظر اعظم مدیر الفرقان کہتے ہیں ’’ہم خود اپنے بارے میں بڑی صفائی سے عرض کرتے ہیں کہ ہم بڑے سخت وہابی ہیں‘‘ (سوانح مولانا محمد یوسف کاندھلوی تبلیغی وہابی ص 192)

مولوی محمد ذکریا امیر تبلیغی جماعت کہتے ہیں ’’مولوی صاحب! میں خود تم سے بڑا وہابی ہوں‘‘ (سوانح مولانا محمد یوسف تبلیغی وہابی ص 193)

فقیر انہی چند حوالہ جات پر اکتفا کرتا ہے، ورنہ بحمدہ تعالیٰ ایسے بیسیوں حوالے مزید پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ وہابی دیوبندی اکابر اپنے آپ کو فخریہ وہابی کہتے ہیں اور اسی طرح وہابی دیوبندی خود کو دیوبندی اور دیوبندی مسلک و مسلک دیوبندی کہتے اور لکھتے ہیں، ملاحظہ ہوں… مکمل تاریخ دارالعلوم دیوبند جس کا مقدمہ قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے لکھا ہے، میں صاف صاف لکھا ہے، مسلک دیوبند ص 424و ص 428 و ص 431 و ص 476 بیسوں صفحات پر مسلک دیوبند، دیوبندی مسلک لکھا ہوا ہے۔

کتب خانہ مجیدیہ ملتان کے شائع کردہ المہند عقائد علماء دیوبند کے مصنفہ مولوی خلیل انبیٹھوی کے صفحہ 20 صفحہ 21، صفحہ 164، صفحہ 165، صفحہ 187 پر بار بار مسلک دیوبند مسلک حق دیوبند، دیوبندی مسلک لکھا ہے۔ انجمن ارشاد المسلمین کے پاکستانی ایڈیشن حفظ الایمان کے متعدد صفحات پر دیوبندی، بریلوی، دیوبندی لکھا ہے۔ پاکستان دیوبندیوں کے مصنف اعظم مولوی سرفراز صفدر گکھڑوی نے اپنی کتاب عبارات اکابر کے صفحات 143,115,58,18,15 پر بار بار دیوبندی مسلک دیوبندی مسلک لکھا ہے۔

مولوی منظور سنبھلی مولوی رفاقت حسین دیوبندی کی کتاب بریلی کا دلکش نظارہ کے پاکستانی ایڈیشن شائع کردہ مکتبہ مدینہ صفحہ 35، صفحہ 181وغیرہ پر متعدد صفحات پر دیوبندی بریلوی دیوبندی دیوبندی لکھا ہے۔

مولوی خلیل بجنوری بدایونی کی کتاب انکساف حق کی پاکستانی ایڈیشن کے صفحہ 6 صفحہ 7 پر دیوبندی، بریلوی، بریلوی دیوبندی ہر دو اہلسنت لکھا ہے۔

مولوی عارف سنبھلی ندوۃ العلماء کی کتاب بریلوی فتنہ کا نیا روپ صفحہ 121، صفحہ 124پر مسلک دیوبندی، علماء دیوبند کا مسلک لکھا ہے۔

دیوبندیوں کے خر دماغ ذہنی مریض کذاب مصنف پروفیسر خالد محمود مانچسٹروی اپنی تردید شدہ کتاب مطالعہ بریلویت جلد اول کے صفحہ 401، صفحہ 402 پر دیوبندی مسلک دیوبندی دیوبندی لکھتا ہے۔ اسی کتاب کی جلد 3 کے صفحہ 202 پر اہلسنت بریلوی دیوبندی لکھا ہے۔

مطالعہ بریلویت جلد دوم صفحہ 16 پر دیوبندی بریلوی، مطالعہ بریلویت صفحہ 234 پر دیوبندی بریلوی، صفحہ 235 جلد 4 دیوبندیوں، بریلویوں دیوبندیوں جلد 4 صفحہ 237، دیوبندیوں صفحہ 238 جلد 4 دیوبندیوں بریلیوں، بار بار دیوبندیوں بریلویوں صفحہ 239، دیوبندیوں، دیوبندی بار بار دیوبندی صفحہ 240، جلد 4 دیوبندیوں صفحہ 316، اہلسنت والجماعۃ دیوبند مسلک، دیوبندی بریلوی، صفحہ 317، دیوبندی، دیوبندیوں، دیوبندی مسلک، مسلک دیوبند وغیرہ وغیرہ، بکثرت مقامات پر دیوبندیوں نے خود کو بقلم خود دیوبندی لکھا ہے۔

مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی الاقاضات الیومیہ جلد 5 صفحہ 220، دیوبندیوں اور بریلیوں، مولوی انور کاشمیری صدر مدرس و شیخ الحدیث مدرسہ دیوبند کتاب حیات انور صفحہ 333، مضمون وقت کی پکار نوائے وقت لاہور، 8 مارچ 1976، جماعت دیوبندی

دیوبندی امیر شریعت عطاء اﷲ بخاری احراری دیوبندی لکھتے ہیں… مولانا غلام اﷲ خان دیوبندی بھی اہلسنت و الجماعت ہین، وہ ابن تیمیہ کے پیروکار ہیں (مکتوب بنام فقیر محمد حسن علی قادری رضوی)  دیوبندی جمعیت العلماء اسلام کے ناظم اعلیٰ مولوی غلام غوث ہزاروی لکھتے ہیں … اہلسنت و جماعت مسلمانوں کی تمام شاخیں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث سب مسلمان ہیں (خدام الدین لاہور)

قصص الاکبر ص 205 میں تھانوی لکھتے ہیں ’’میرا مسلک شیخ الہند کا مسلک‘‘  (دیوبندی مسلک، الافاضات الیومیہ جلد 5 صفحہ 135) میرا مسلک تھانوی (اشرف السوانح جلد 3ص 153 وصفحہ 164، تھانوی مسلک۔

ایک کتاب ’’آئینہ بریلویت‘‘ مولوی عبدالرحیم رائے پوری دیوبندی اور مولوی حسن احمد ٹانڈوی وغیرہ اکابر دیوبند کے پڑپوتے مرید مولوی عبدالرحمن شاہ عالمی مظفر گڑھ کی ہے ۔اس کے صفحہ 24، 27، 30، 34، 40، 42، 43، 45، 54، 57، 61، 63، چالیس صفحات پر بار بار دیوبندی مسلک، مسلک دیوبند، دیوبندیوں، دیوبندی اہلسنت دیوبندی لکھا ہے اور فخریہ طور پر اپنے دیوبندی ہونے کا اقرار کیا ہے۔

ایک کتاب تسکین الاتقیاء فی حیاۃ الانبیاء مرتبہ مولوی محمد مکی دیوبندی صفحہ 79 مسلک اکابر دیوبند، صفحہ 99، اکابر دیوبند کا مسلک صفحہ 100اکابردیوبند کا مسلک، صفحہ 01 مسلک دیوبند، صفحہ  102 علماء دیوبند کا مسلک، صفحہ 103، علماء دیوبند کا مسلک، صفحہ 106، صفحہ 107 بار دیوبندی دیوبندی… اس کتاب پر پاکستان کے صف اول کے اکابردیوبند مولوی محمد یوسف بنوری شیخ الجامعہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی، مولوی شمس الحق افغانی، صدر وفاق المدرس العربیہ دیوبند، مفتی محمد حسن مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، مفتی محمد شفیع سابق مفتی دیوبند مہتمم دارالعلوم کراچی، مولوی عبدالحق دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، مولوی ظفر احمد عثمانی شیخ الحدیث دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ، مولوی محمد ادریس کاندھلوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاوہر، مولوی محمد رسول خان جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور، مولوی احمد علی امیر خدام الدین وامیر جمعیت العلماء اسلام، مولوی محمد صادق، ناظم محکمہ امور مولوی حامد میاں جامعہ مدینہ، مولوی مسعود احمد سجادہ نشین درگاہ دین پور وغیرہ اٹھارہ اکابر دیوبند کی تصدیقات ہیں۔ اس قسم کے حوالے اگر فقیر چاہے تو پچاسوں نقل کرسکتا ہے۔

رضوی ہے کرم مجھ پہ میرے غوث ورضا

ہر بحر سخن سہل تریں میرے لئے ہے