(حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ… (گزشتہ سے پیوستہ

in Articles, Tahaffuz, May 2011, شخصیات

حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ 

گزشتہ سے پیوستہ

دہلی میں میرا ایک صالح اور صادق دوست تھا جسے تاج الدین مینائی کہتے تھے۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اس کے چہرے سے وحشت برس رہی تھی۔ میں نے تاج الدین مینائی سے پریشانی کا سبب پوچھا تو کہنے لگا۔

’’مولانا! میرا چھوٹا بیٹا شدید بیمار ہے مجھے وہ تعویذ عنایت کردو‘‘

میں فورا ہی اپنے حجرے میں گیا اور اس طاق کی طرف بڑھا جو تعویذ کے لئے مخصوص تھا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ تعویذ وہاں موجود نہیں تھا پھر خیال آیا کہ کہیں بھولے سے کسی دوسرے طاق میں نہ رکھ دیا ہو۔ یہ سوچ کر میں نے حجرے کے سارے طاق دیکھ ڈالے۔ مگر مجھے کامیابی حاصل نہ ہوسکی پھر حجرے کا ایک ایک گوشہ چھان مارا لیکن تعویذ نہیں ملا۔ میں نے تاج الدین مینائی سے معذرت کرلی۔ وہ بے چارہ رنجیدہ خاطر چلا گیا۔

پھر کئی دن بعد تاج الدین مینائی نے مجھے بتایا کہ اس کا محبوب بیٹا انتقال کرگیا۔ یہ خبر سنکر مجھے بہت دکھ ہوا اور میں بہت دیر تک اپنے دوست کو صبر کی تلقین کرتا رہا۔

کچھ عرصے بعد ایک اور شخص آیا جو کسی پریشانی میں مبتلا تھا۔ اس نے مجھ سے وہ تعویذ مانگا میں نے اسے اپنے دوست تاج الدین مینائی کا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ اس وقت تعویذ نہیں مل سکا تھا ایسا لگتا ہے کہ وہ کہیں گم ہوگیا۔ میری بات سن کر اس شخص کا چہرہ اتر گیا۔ میں نے اس کی تسلی کے لئے کہا کہ ایک نظر دیکھ لیتا ہوں پھر جب میں حجرے میں پہنچتا تو حیرت انگیز طور پر تعویذ اسی مخصوص طاق میں موجود تھا۔ میں نے تعویذ اس شخص کو دے دیا اور اﷲ نے اس کی مشکل آسان کردی۔

جب وہ شخص تعویذ واپس کرکے چلا گیا تو مجھے خیال آیا کہ تاج الدین مینائی کے بیٹے کی موت مقدر ہوچکی تھی اس لئے تعویذ نہیں مل سکا تھا۔

٭…٭…٭

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے انکسار کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی خود بیمار ہوتے تو مریدوں سے اپنے حق میں دعا کراتے۔ ایک بار آپ کے پورے جسم مبارک میں شدید درد اٹھا۔ فورا ہی حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت شیخ جمال ہانسوی رحمتہ اﷲ علیہ اور شیخ علی بہاری رحمتہ اﷲ علیہ کو طلب کیا گیاپھر فرمایا ’’میری صحت کے لئے آپ حضرات دعا کریں‘‘

تمام درویش حیرت کے عالم میں یہ سوچ کر خاموش کھڑے رہے کہ گناہ گار لوگ اس شخص کے لئے کس طرح دعا کرسکتے ہیں جسے اﷲ نے انداز مسیحائی بخشا ہو۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے مریدوں کی ذہنی کشمکش سے واقف تھے۔ اس لئے آپ نے دوبارہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے فرمایا۔

’’تم لوگ اسی وقت جائو اور فلاں قبرستان میں میری صحت کے لئے دعا کرو‘‘

تمام درویش حضرت شیخ کے حکم کے مطابق ساری رات قبرستان میں دعا کرتے رہے۔ پھر جب صبح کے وقت پیرومرشد کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ایک پرانے کالے کمبل پر تشریف فرما تھے اور قریب ہی وہ عصا رکھا ہوا تھا جو حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کو مرحمت فرمایا تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بار بار اس عصا پر ہاتھ پھیرتے تھے اور پھر اپنے چہرے پر مل لیتے تھے۔ درویشوں کو دیکھ کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ان سے مخاطب ہوئے۔

’’کیا تم لوگ کل رات قبرستان میں مشغول دعا ہوئے تھے؟‘‘

حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا ’’سیدی! ہم سب رب العزت کی بارگاہ میں رات بھر آپ کی صحت کے لئے دعا کرتے رہے‘‘

’’تمہاری دعائوں نے مطلق اثر نہیں کیا۔ میری تکلیف کا وہی عالم ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے درویشوں کی بات سن کر فرمایا

مریدان خاص نے سر جھکا لئے

حضرت شیخ علی بہاری رحمتہ اﷲ علیہ سب سے آگے کھڑے تھے۔ انہوں نے بصد احترام عرض کیا۔ ’’سیدی! ہم لوگ ناقص ہیں اور ایک ناقص کی دعا کسی کامل کے حق میں اثر نہیں کرتی‘‘

شیخ علی بہاری رحمتہ اﷲ علیہ کا لہجہ مدہم تھا۔ اس لئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ان کی بات نہ سن سکے۔ مجبورا حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے قدرے بلند آواز سے شیخ علی بہاری رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ دہرائے۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مریدوں کی معذرت سنی۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو قریب بلاکر وہ عصا عطا کیا جو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی نشانی تھا۔ پھر فرمایا ’’مولانا نظام الدین! میں نے تمہارے حق میں دعا کی تھی کہ تم اﷲ تعالیٰ سے جو کچھ مانگو وہ تمہیں عطا کرے‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اظہار شکر گزاری کے لئے اپنا سر جھکادیا پھر جب حضرت شیخ کی بارگاہ سے اٹھے تو تمام درویش دوستوں نے آپ کو مبارکباد پیش کی۔

اسی رات حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو خیال آیا کہ پیرومرشد نے ان کے حق میں دعا کی ہے جو یقینا قبول ہوگئی ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ حضرت شیخ کی صحت کے لئے دعا کی جائے۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔

’’میں ساری رات پیرومرشد کی صحت کے لئے دعا کرتا رہا یہاں تک کہ آخر شب میں مجھے اطمینان قلب حاصل ہوگیا۔ پھر صبح ہوتے ہی میں حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ مصلے پر قبلہ رخ بیٹھے تھے اور چہرہ مبارک پر فرحت کے آثار نمایاں تھے۔ مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے۔

’’درویش نظام الدین! میں نے تمہارے حق میں جو دعا کی تھی وہ قبول ہوئی ہے پھر جب تم نے گزشتہ شب میری صحت کے لئے دعا کی وہ بھی قبول ہوئی‘‘ اس کے بعد حضرت شیخ نے مجھے وہ مصلی عنایت کردیا جس پر جلوہ افروز تھے۔

٭…٭…٭

اسی زمانے میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا۔ یہ ایک عجیب و غریب واقعہ ہے۔ بڑے بڑے بزرگان دین اور تاریخ انسانی کے ماہرین بھی اس واقعہ کی کوئی توجیہ پیش نہ کرسکے۔

اس وقت حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اجودھن میں مقیم تھے اور آپ کی والدہ قرسم خاتون کھوٹوال میں سکونت پذیر تھیں۔ دونوں قصبوں کے درمیان کافی فاصلہ ہے۔ جنگل وسیع ہے اور پانی نایاب ہے۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے چھوٹے بھائی شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ کو بھیجا کہ وہ والدہ محترمہ کو لے آئیں۔ ان کے پاس ایک گھوڑا تھا۔ شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ مادر گرامی کو ہمراہ لے کر آرہے تھے کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے آپ نے جنگل کے کنارے ایک درخت کے نیچے قیام کیا۔ اتفاق سے پانی کی ضرورت پیش آئی۔ شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ گھوڑے پر سوار ہوکر پانی کی تلاش میں نکلے پھر جب واپس آئے تو والدہ محترمہ وہاں موجود نہیں تھیں۔ آپ بہت دیر تک حیرت و پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر گھوڑا دوڑاتے رہے اور آوازیں دیتے رہے مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ والدہ ماجدہ کا دور دور تک پتا نہ تھا۔ شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ حیران تھے کہ ایک بوڑھی خاتون مختصر سے وقت میں اتنی دور کیسے جاسکتی ہیں کہ انہیں تلاش نہ کیا جاسکے۔

آخر شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ اس حالت میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس پہنچے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے چھوٹے بھائی کی زبانی والدہ ماجدہ کی گمشدگی کا احوال سنا تو خود بھی بے قرار ہوگئے پھر فرمایا کہ کھانا پکائو اور صدقہ دو۔ اس کے ساتھ ہی دوسرے خدمت گاروں کو بھی اس طرف روانہ کیا گیا مگر ساری تدبیریں لاحاصل رہیں۔

پھر ایک عرصہ دراز کے بعد حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ کا گزر اسی راستے سے ہوا۔ غیر ارادی طور پر شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ کے قدم اسی درخت کے نیچے ٹھہر گئے جہاں والدہ محترمہ کو بٹھا کر آپ پانی کی تلاش میں نکلے تھے۔ ماں کی محبت نے جوش مارا۔ شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ نے سوچا کہ ایک بار پھر جستجوکی جائے۔ شاید مادر گرامی کا کوئی نشان مل جائے۔ اسی خیال کے تحت شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ بہت دور تک چلے گئے۔ پھر ایک تاریک اور سنسان مقام پر درختوں کے نیچے آپ کو کچھ انسانی ہڈیاں پڑی نظر آئیں۔ شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ نے دل میں سوچا ممکن ہے کہ کسی درندے نے والدہ محترمہ کو اپنی خوراک بنالیا ہو۔ اسی خیال کے تحت آپ نے وہ تمام ہڈیاں ایک تھیلے میں جمع کرلیں اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سارا واقعہ بیان کردیا۔

’’وہ تھیلا میرے سامنے لائو‘‘ والدہ محترمہ کا ذکر سن کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ایک بار پھر آزردہ ہوگئے تھے۔

شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ نے تھیلا لاکر جھاڑا مگر اس میں سے ایک ہڈی بھی برآمد نہیں ہوئی۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے چھوٹے بھائی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

’’سیدی! میں نے اپنے ہاتھوں سے تمام ہڈیاں اس تھیلے میں بند کی تھیں‘‘ شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ حیرت زدہ تھے اور بار بار خالی تھیلے کو دیکھ رہے تھے۔

یہ واقعہ سناتے وقت حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھیں پھر آپ نے حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔

’’یہ واقعہ عجائبات زمانہ میں سے ہے‘‘

ایک روایت کے مطابق بعد میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی والدہ محترمہ واپس آگئی تھیں… مگر وہی روایت زیادہ مشہور ہے جو حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ سے منسوب ہے۔

٭…٭…٭

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو والدہ محترمہ کی جدائی بہت شاق تھی مگر آپ نے اس غم میں کبھی گریہ وزاری نہیں کی۔ آپ صبرورضا کی منزل کے مسافر تھے۔ جب آپ کو بارہ سالہ فرزند حضرت عبداﷲ کی شہادت کی خبر دی گئی تھی۔ اس وقت بھی آپ کے چہرہ مبارک پر عکس ملال ضرور ابھرا تھا مگر زبان کو ہلکی سی لغزش بھی نہیں ہوئی تھی بس یہی فرمایا تھا۔ی

’’جو کچھ بھی ہے اﷲ کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والا ہے‘‘

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ فارسی زبان کی اس رباعی کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھا کرتے تھے۔

میری خواہش ہے کہ میں تیری وفا میں ہمیشہ زندہ رہوں

خاک ہوجائوں اور پھر تیری رحمت کے نیچے زندہ رہوں

میں تیرا بندہ ہوں اور اس کائنات میں سے بس تجھی کو چاہوں

تیرے لئے مرجائوں اور تیری خاطر زندہ رہوں

(ترجمہ)

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں