جامعہ ازہر، مصر کے ارباب فقہ و افتاء نے ایک سلگتے ہوئے سوال کے جواب میں بڑا ہی معرکتہ الآرا فکر انگیز، ایمان افروز اور چشم کشا فتویٰ رقم فرمایا ہے۔ افادۂ عام کے لئے اس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ چریا کوٹی

سوال:

اس وقت لیبیا کے اندر کچھ لوگ ایک نئی فکر لے کر خودرو پودے کی مانند اگ آئے ہیں۔ خود کو سلف صالحین سے وابستہ بتاتے ہیں۔ مگر یہ نرا ظلم ہے اور اس کی حقیقت بہتان و فریب کے سوا کچھ نہیں۔ علمائے اعلام اولیائے کاملین اور شہداد و صالحین کے مزارات کے قبوں کو مسمار کرنا، قبروں کی کھدائی اور ان کے (پختہ و بلند) مقبروں کے نشانات اپنے ہاتھوں، کلہاڑوں اور جدید آلات کے ذریعہ اکھاڑ پھینکنا ان کے اہداف و اغراض میں سرفہرست ہے اور یہ سارا سیاہ کام بلا کسی اطلاع و رات کی تاریکیوں میں کر گزرتے ہیں۔

اس منحوس عمل کو اس فکر جدید کے حاملین کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ پورے شہر میں بس وہی لوگ نہ صرف ایسے فکر و اعتقاد کے حامل ہیں بلکہ لوگوں کے اندر بھی اس کی ترویج و اشاعت میں وہ سرگرداں نظر آتے ہیں۔ ان کے اپنے خود ساختہ عقیدے کے مطابق اولیاء و صالحین کی قبروں پر قبے اور عمارات تعمیر کرنا کفر و گمراہی ہے۔ یوں ہی ان پر مساجد بنانا اور ایسی مساجد میں نماز ادا کرنا بھی ان کے نزدیک حرام کے زمرے میں آتا ہے، حالانکہ انہیں یہ پتہ ہوتا ہے کہ ان قبروں میں بعض صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے منسوب ہیں۔ کچھ کبارِ علماء و مشائخ کی ہیں، جن کی پوری زندگی دعوت الی ٰاﷲسے عبارت ہے۔ کچھ اعلائے کلمۃ اﷲ کی خاطر، بعض اسلام مخالف جنگوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ لٹا دینے والوں کی ہیں، مستزاد یہ کہ جن قبروںکو وہ مسمار کئے دیتے ہیں، وہ محکمہ آثار قدیمہ کے زیر حمایت ہیں اور ان میں سے بیشتر پانچ سو سال قدیم ہیں۔ ان میں زیادہ تر مزارات اہل بیت رسول اﷲﷺ سے منسوب ہیں، جن کے ثبوت آج بھی تصویر کی شکل میں انٹرنیٹ پر دیکھے اور دکھائے جاسکتے ہیں۔

اس تعلق سے علماء مشائخ کا تحقیقی فتویٰ درکار ہے، کیونکہ وہ عوام میں یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ (ان مزارات کے انہدام کی شکل میں ہم دین کی حقیقی خدمت) اور شرک و گمراہی کے اڈوں کا خاتمہ کررہے ہیں:

مرسلہ: محمد سالم عجیل، بتاریخ ۲۰۱۱/۱۰/۲۳
مقید برقم: ۵۱۴ ، سال ۲۰۱۱

جواب:

اسلام نے مردوں کی حرمت کا بھی پاس و لحاظ رکھا ہے، اور ان کی توہین و تذلیل کسی بھی طریقے سے حرام قرار دی ہے لہذا ان کی قبروں کی کھدائی کا یہ عمل کیوں کر جائز ہوسکتا ہے؟ ایک مسلمان مرنے کے بعد وہی عزت و تکریم رکھتا ہے جو جیتے جی اسے حاصل تھی۔ اور اگر صاحب قبر، اہل اﷲ اور صلحائے امت سے ہوں تو پھر ان کے مزارات کے ساتھ یہ زیادتی نہ صرف اشد حرام ہوگی بلکہ ناقابل برداشت جرم عظیم بھی۔ کیوں کہ یہ وہ مقدس مقامات ہوتے ہیں جہاں اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ جس نے انہیں میلی نگاہ سے دیکھا، یا انہیں کسی بھی طرح تکلیف و اذیت دینے کا سوچا تو گویا وہ مالک الملک کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ کررہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی مشہور حدیث قدسی ہے

’’جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی مول لی تو میری طرف سے اسے کھلی دعوت جنگ ہے‘‘

(صحیح بخاری)

غور طلب امر یہ ہے کہ قبر کی جگہ یا تو خود مرنے والے کی اپنی ملک ہوتی ہے، یا کوئی وہ جگہ اس کے لئے وقف کردیتا ہے اور وقف حکم شرع ہی کی مانند ہے لہذا اس اعتبار سے بھی اس قبر کی کھدائی یا اس پر تعمیر شدہ قبوں اور عمارات کی مسماری یا اس جگہ کو جس مد میں استعمال کیا جارہا ہو (اس کا انہدام و استحصال کسی طور) جائز نہیں ہوگا۔

بعض لوگ جو یہ شوشہ چھوڑتے ہیں کہ ان مسجدوں میں نماز باطل ہے جن میں اولیاء و صالحین کی قبریں موجود ہوں تو یہ ایک فتنہ ہے اور اس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ایسی مساجد میں نماز شرعاً نہ صرف جائز و درست ہے بلکہ درجۂ استحباب میں ہے۔ اس پر کتاب و سنت کے صریح و صحیح دلائل موجود ہیں۔ سلف صالحین کا اسی پر عمل رہا ہے اور ان کی اقتداء میں اخلاف اسی پر کاربند ہیں۔ اب اس کے حرام و باطل ہونے کی بات کرنا کسی نئے فتنے کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ اہل اسلام اس کی طرف مطلق توجہ نہ دیں اور نہ اس پر کبھی عمل کریں۔

قرآن کریم میں اﷲ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے

فقالوا ابنوا علیہم بنیانا ربہم اعلم بہم قال الذین غلبوا علی امرہم لنتخذن علیہم مسجداً o

(کہف : ۲۱)

(جب اصحاب کہف وفات پاگئے) تو انہوں نے کہا کہ ان (کے غار) پر ایک عمارت (بطور یادگار) بنادو، ان کا رب ان (کے حال) سے خوب واقف ہے، ان (ایمان والوں) نے کہا جنہیں ان کے معاملہ پر غلبہ حاصل تھا کہ ہم ان (کے دروازہ) پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے (تاکہ مسلمان اس میں نماز پڑھیں اور ان کی قربت سے خصوصی برکت حاصل کریں)

اس آیت کریمہ کا سیاق و سباق بتا رہا ہے کہ پہلا قول مشرکین کا ہے، اور دوسرا قول اہل توحید کا۔ خاص بات یہ ہے کہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے بغیر کسی انکار کے دونوں قول کو اپنی آخری کتاب کا حصہ بنادیا ہے، تو اس سے شریعت میں دونوں کے نفاذ کا اشارہ ملتا ہے۔ بلکہ موحدین کے قول کا جب قول مشرکین سے موازنہ کیا جائے تو اہل توحید کی بات مدح کا فائدہ دے رہی ہے، کیونکہ مشرکین کی بات تشکیک آمیز تھی، جبکہ اہل توحید کی قطعی اور حتمی۔ اور ان کی مراد کوئی عام یادگار عمارت نہیں بلکہ مسجد تھی۔

امام رازی اپنی تفسیر میں لنتخذن علیہم مسجداً کے تحت فرماتے ہیں

’’تاکہ ہم اس میں اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت و بندگی اختیار کریں، اور اس مسجد کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کی برکت سے اصحاب کہف کے آثار (رہتی دنیا تک) باقی رہیں گے‘‘

علامہ شہاب خفاجی اپنے حاشیہ تفسیر بیضاوی میں فرماتے ہیں

’’اس آیت کریمہ نے صالحین کی قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنے کی واضح دلیل فراہم کردی‘‘

سنۃ رسول اﷲ:

سرکار دوعالمﷺ کی سنت سے اس کا ثبوت حضرت ابوبصیر رضی اﷲ عنہ کی وہ حدیث ہے جسے امام عبدالرزاق نے معمر سے، ابن اسحق نے اپنی سیرت میں اور موسیٰ بن عقبہ نے اپنی مغازی میں نقل کیا ہے۔ یاد رہے کہ امامان مالک، شافعی اور احمد رضی اﷲ عنہم کی شہادت کے مطابق یہ مغازی کی سب سے مستند کتاب ہے۔ ان تینوں نے یہ روایت امام زہری سے لی ہے انہوں نے عروہ بن زبیر سے، وہ مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اﷲ عنہم سے کہ حضرت ابو بصیر رضی اﷲ عنہ کی تدفین ابو جندل بن سہیل بن عمرو کے ہاتھوں عمل میں آئی اور انہوں نے تین سو صحابہ کرام کی موجودگی میں ساحل سمندر سے لگے ان کی قبر پر ایک مسجد کی تعبیر بھی کردی۔ یہ صحیح الاسناد روایت ہے، اس کے سارے امام ثقہ ہیں۔ اب ظاہر ہے ایسا عظیم الشان کام رسول اﷲﷺ سے مخفی تو نہ رکھا گیا ہوگا مگر ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ رسول اﷲﷺ نے اس قبر کو مسجد سے نکالنے یا اس کی کھدائی کا حکم جاری فرمایا ہو۔

مصطفی جان رحمتﷺ کی ایک حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ

’’مسجد خیف کے اندر 70 نبیوں کی قبریں ہیں‘‘

اس کی تخریج امام بزار، اور طبرانی نے اپنی کتاب معجم کبیر میں کی۔ حافظ ابن حجر ’’مختصر زوائد البزار‘‘ میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

آثار و اخبار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور آپ کی والدہ حضرت ہاجرہ رضی اﷲ عنہا خانہ کعبہ کے حطیم میں مدفون ہیں۔ مستند مورخین نے اس کا تذکرہ اپنی کتابوں میں کیا ہے اور علمائے سیرت مثلا ابن اسحق نے اپنی سیرت، ابن طبری نے اپنی تاریخ، سہیلی نے روض الانف، ابن جوزی نے منتظم، ابن اثیر نے کامل، ذہبی نے تاریخ الاسلام اور ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اسی پر اعتماد کیا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے مورخین نے اپنی اپنی کتب میں یہ روایت درج کی ہے، لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ معلم انسانیتﷺ نے ان قبروں کو اپنی جگہ برقرار رکھا۔ انہیں ان کی جگہوں سے ہٹانے، یا کھدائی کرکے مسجد خیف یا مسجد حرام سے باہر نکلوانے کا کوئی عمل (اپنی حیات طیبہ میں) نہیں فرمایا!

عمل صحابہ

صحابہ کرام کے عمل سے اس کا ثبوت وہ صحیح روایت ہے جسے امام مالک نے اپنی ’’موطا‘‘ میں نقل کیا ہے کہ جس وقت سرکار دوعالمﷺ نے وفات پائی تو جائے تدفین کے تعلق سے صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہوا۔ بعض نے کہا منبر نبوی کے پاس، بعض نے کہا بقیع میں، اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ تشریف لائے اور فرمایا میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

مادفن نبی قط الا فی مکانہ الذی توفی فیہ

یعنی ہر نبی کی تدفین ٹھیک اسی جگہ عمل میں آئی جہاں اس نے وفات پائی۔

چنانچہ (حجرۂ عائشہ میں جہاں آپ نے چشم مبارک بند کی تھی) قبر کھودی گئی۔ اور یہ بات طے ہے کہ منبر مسجد کا حصہ ہوتا ہے، لیکن اس وقت کسی صحابی نے اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ ہاں! ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے اس رائے سے صرف اس بنیاد پر اتفاق نہیں کیا کہ ان کے پاس ایک دوسرا حکم نبی موجود تھا کہ آپ کی تدفین وہیں عمل میں آئے جہاں روح مبارک پرواز کرے۔ اس طرح حجرۂ عائشہ میں آپ کو دفن کردیا گیا جو مسجد سی بالکل ملا ہوا ہے اور جہاں مسلمان نمازیں ادا کیا کرتے ہیں۔ اور بالکل یہی صورت ہمارے زمانے میں بھی ہے کہ جہاں اولیاء و صالحین کے حجرے تھے ان سے متصل مسجد بنادی گئی۔

اس موقع پر بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ’’مسجد کے اندر ہونا صرف قبر نبی کی خصوصیت ہے‘‘ مگر یہ درست نہیں اور اس کی حیثیت دعویٰ بلا دلیل کی سی ہے، کیونکہ اس حجرہ عائشہ میں نہ صرف تاجدار کائناتﷺ موجود ہیں بلکہ ساتھ ہی ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اﷲ عنہما بھی مدفون ہیں جس میں وہ رہتی تھیں اور اپنی پنج وقتہ و نفلی نمازیں پڑھیں تھیں، تو گویا مسجد کے اندر قبر کے جائز ہونے پر صحابہ کرام کا اجماع ہوگیا۔

اجماعی اور عملی طور پر امت محمدیہ اسی پر کاربند ہے اور علمائے امت اس پر متفق ہیں کہ سلفاً و خلفاً اہل اسلام کا مسجد نبوی اور ان مساجد میں، جن میں قبریں موجود ہیں۔ نمازپڑھنا بلا انکار جائز ہے۔ اور یہ کوئی آج کے علماء کا عمل نہیں بلکہ مدینہ منورہ کے ان سات فقہاء کے زمانے سے چلا آرہاہے جنہوں نے 88ء میں متفقہ طور پر مسجد نبوی میں شامل کرلیا تھا۔ یہ کام حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے مدینہ کی گورنری کے عہد میں ولید بن عبدالملک کے حکم پر عمل میں آیا۔ اس دور کے علماء و فقہاء میں سے کسی نے اس پر کوئی اختلاف نہیں کیا، سوائے سعید بن مسیب کے۔ اور ان کے اعتراض بھی اس لئے نہیں تھا کہ وہ ایسی مساجد میں نماز کو حرام سمجھتے تھے جن میں قبریں ہوں، بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حجرات نبوی کو ان کی اپنی اصل حالت پر باقی دیکھنا چاہتے تھے تاکہ اہل اسلام کو ان سے عبرت پذیری حاصل ہو اور وہ اسے دیکھ کر اپنے اندر زہد اور دنیا بیزاری پیدا کریں اور انہیں کچھ اندازہ ہوسکیں کہ پیارے آقا رحمت سراپاﷺ نے اپنی حیات طیبہ کے مبارک دن کس طرح اور کہاں گزارے ہیں۔

رہی بات صحیحین میں مروی حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی اس حدیث کی کہ تاجدار دوعالمﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے:

لعن اﷲ الیہود والنصاریٰ اتخذو قبور انبیائہم مساجد

یعنی یہود ونصاریٰ پر اﷲ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا رکھا ہے۔

تو یاد رہے کہ مساجد ، مسجد کی جمع ہے اور اس کے اندر مصدر میمی ہے، جس میں زمان و مکان اور حدث پر دلالت کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو یہاں قبروں کو مساجد بنانے کا معنی یہ ہے کہ بروجہ تعظیم ان قبروں کے سجدے کئے جائیں اور ان کی عبادت شروع ہوجائے جس طرح کہ مشرکین کا بتوں کے ساتھ معاملہ ہے۔ اس کی تائید ’’طبقات ابن سعد‘‘ میں موجود ایک دوسری صحیح روایت سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں (کہ رسول اﷲﷺ) نے فرمایا:

اللھم لا تجعل قبری وثنا، لعن اﷲ قوما اتخذوا قبور انبیائہم مساجد

یعنی اے اﷲ! میری قبر کو بت پرستی کو نحوست سے پاک رکھنا۔ خدا کو ان لوگوں پر لعنت پڑے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔

تو اس حدیث میں یہ ٹکڑا ’’لعن اﷲ قوما‘‘ دراصل ’’جعلی القبر و ثناء‘‘ کا بیان واقع ہوا ہے۔ حدیث کا مفاد یہ ہے کہ اے اﷲ! میری قبر کو بت نہ ہونے دینا کہ جس کے سجدے کئے جائیں اور جس کی عبادت کی جائے جس طرح کہ کچھ لوگوں نے اپنے نبیوں کو قبروں کو سجدے کئے جائیں۔

امام بیضاوی فرماتے ہیں

جب یہود ونصاریٰ اپنے انبیاء کی تعظیم و تکریم میں اس حد تک بڑھ گئے کہ ان کی قبروں کو سجدے کرنے لگے اور انہیں اپنا قبلہ بنا کر نماز میں ان کی طرف توجہ کرنے لگے اور انہیں بالکل بت ہی بنالیا تو ان پر اﷲ کی پھٹکار نازل ہوئی اور اہل اسلام کو ایسے عمل سے سختی سے منع کردیا گیا، لیکن کسی نیک ہستی کے پڑوس میں مسجد بنانا یا ان کے مقبرے میں نماز ادا کرنا اس مقصد سے کہ ان کے روحانی فیوض و برکات حاصل ہوں۔ نہ کہ بروجہ تعظیم و توجہ۔ تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مدفن مسجد حرام میں ٹھیک حطیم کے اندر ہے پھر وہ مسجد دنیا کی افضل ترین جگہ ہے، حتیٰ کہ ہر مصلّی حالت نماز میں اسی کی طرف اپنے رخ کو متوجہ رکھتا ہے۔ صرف ایسے قبرستان میں نماز پڑھنا منع ہے جہاں قبریں کھلی ہوئی ہوں کہ اس میں نجاست ہوتی ہے۔

(لہذا ایسے صریح اور روشن دلائل و شواہد سے صرف نظر کرکے) کسی مزار کو اس کی اپنی جگہ سے ہٹانا، یا مسجد کے اندر سے کھدائی کرکے اسے باہر کردینا، خصوصاً ایسی قبروں کو جو اولیاء و صالحین اور شہداء و علماء کی طرف منسوب ہیں، یا ان کے نشانات کو محو کرنا اور اوپر کے حصے کو منہدم کرکے اسے زمین کے برابر کردینا۔ یہ سارے اعمال خواہ کسی بھی صورت کے تحت ہوں، شرعاً حرام ہیں اور گناہ کبیرہ میں شامل ہیں کیونکہ اس میں عام مردوں کی بے حرمتی اور اہل اﷲ و صالحین کے حق میں بے ادبی ہے۔ اور انہیں کی شان اعلیٰ نشان میں کہا گیا تھا کہ جس نے ان کو تکلیف واذیت دی وہ خود کو اﷲ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار رکھے۔ اور ان کے تعلق سے ہمیں تو بس اتنا ہی حکم ہے کہ خواہ وہ زندہ ہوں یا وصال کرگئے ہوں، ہر حال میں ان کی تعظیم و توقیر اور عزت و تکریم کی جائے۔

لہذا ہم دنیا جہان کے مسلمانوں سے عموماً اور ممالک اسلامیہ کے علماء و فضلائ، ائمہ و مشائخ اور ذمہ داران اوقاف وغیرہ سے خصوصاً یہ دینی درخواست اور ضروری اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسی شیطانی کوششوں اور بے سروپا سرگرمیوں کو ناکام بنانے اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں پورے شدومد کے ساتھ اپنا مذہبی کردار اور فرض منصبی ادا کریں۔

یہ لوگ شرق و غرب کے کونے کونے میں جاکر ان اولیاء و صالحین کی قبروں کو مسمار کردینا چاہتے ہیں جسے خوش عقیدہ مسلمانوں نے اپنے ادوار میں تعمیر کیا اور جس کا آغاز خود ان کے مقدس نبی علیہ السلام کے روضہ اقدس سے ہوتا ہے اور جسے صحابہ کرام نے بھی اپنے دور میں برتا ہے، جیسے جدہ کے ساحل پر مقبرۂ ابو بصیر رضی اﷲ عنہ… سرزمین مصر پر اہل بیت عظام مثلاً امام حسین، سیدہ زینب اور سیدہ نفیسہ کے مقبرے، نیز برگزیدہ ائمہ مذاہب مثلا امام شافعی، اور لیث بن سعد کی قبریں… بغداد میں امام عظم ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، نیز اولیاء و صالحین مثلا شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی کے مزارات… یوں ہی مصر میں ابوالحسن شازلی، لیبیا میں عہد السلام اسمر کے مقابر… اساطین امت اور محدثین کرام میں ـخاری کے اندر امام بخاری، مصر میں ابن ہشام انصاری، امام عینی، قسطلانی اور سیدی احمد دردیر وغیرہ۔ ایسے اکابر و اسلاف کے اسمائے گرامی کی ایک لمبی فہرست ہے (ان لوگوں کے بقول) یہ سب شرک کے اڈے اور مشرکین کے اعمال ہیں۔ اور جس وقت مسلمان یہ عمل بجالاتے ہیں تو وہ اﷲ کے ساتھ شرک کرنے کی نحوست میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ ان کے نزدیک انبیاء وصالحین سے توسل، ان کے مزارات و مکانات کی تعظیم و توقیر بت پرستی اور شرک و بدعت کے زمرے میں آتی ہے، حالانکہ امت اسلامیہ نسلاً بعد نسل صدیوں سے ان پر عمل پیرا چلی آرہی ہے۔

یہ لوگ مسلمانوں کو کافر و فاسق اور بدعتی بنانے میں اہل خوارج سے کسی طور کم نہیں بلکہ دو قدم آگے بڑھ کر امت اسلامیہ کی تہذیب و ثقافت اور اس کے مجدوشرف کا جنازہ اٹھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کی دیرینہ تمنا ہے کہ وہ مسلمانوں کے علمی، ثقافتی اور تاریخی آثار و باقیات کو نوچ نوچ کر نابود کرڈالیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے احساس کی چنگاری بھی بجھ جائے، اور ان کے لوح ذہن پر یہ نقش ہوجائے کہ ان کے اسلاف گمراہ و گمراہ گر، فاسق و فاجر، بت پرست، غیر اﷲ کی پرستش کرنے والے اور غیر شعوری طور پر شرک سے آلودہ تھے

(گویا: اس گھرکو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے)

ان لوگوں کو یہ سب کچھ کر گزرنے کی جسارت و جرأت صرف اپنی بیمار سوچ اور علمی ناپختگی کے باعث ہوئی، کیونکہ درحقیقت وہ آیات و احادیث جو غیر اﷲ کی پرستش کرنے والے مشرکین کی بابت نازل ہوئی تھیں، ان لوگوں نے ان اہل توحید مسلمانوں پر چسپاں کرنا شروع کردیا جن کے دل اﷲ و رسولﷺ کی محبت سے آباد اور اولیاء و صالحین کی عقیدت سے پرنور ہیں اور جو (بحکم شرع) زندہ و مردہ بہر صورت ان اہل اﷲ کی تعظیم و تکریم بجالاتے ہیں۔
یقینا یہ سب خوارج کی بولیاں ہیں۔ نام بدلا ہوا ہے مگر کام ہوبہو وہی ہے جو وہ لوگ بھی مشرکین کے بارے میں نزول شدہ آیات کو قصداً اہل اسلام پر فٹ کرکے (اپنی ابلیسی سوچ کی تسکین کا سامان کرتے تھے اور امت میں افتراق و انتشار کو ہوا دیتے تھے) امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی صحیح میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے حوالے سے خوارج کا وصف بیان کرتے ہوئے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یوں ہی امام طبری نے بھی ’’تہذیب الآثار‘‘ میں اسے سند صحیح کے ساتھ نقل کیا ہے۔

اس لئے دنیا جہان کے مسلمانوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس دین سوز دعوت و تبلیغ کے آگے ناقابل شکن دیوار بن کر کھڑے ہوجائیں، ان سرکشوں کی سرکشی پر بند باندھیں اور ان کی بغاوت کی آگ کو ٹھنڈی کریں ورنہ ہمارے اولیاء و صالحین کے مزارات، سادات کرام کے مقابر، اساطین امت اور علماء و شہدائے ملت کے مقامات مقدسہ بازیچہ اطفال بن کر رہ جائیں گی اور یہ فاسق و منافق لوگ بے سروپا بہانے تراش کر شیطان کے اشارۂ ابرو پر وہ کچھ کر ڈالیں گے جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

مصر کے بعض اولیاء و صالحین کے مقامات مقدسہ پر اس نوپید جماعت کی سورشیں بپا ہونے کے بعد ’’مجمع البحوث الاسلامیہ‘‘ اپنی غیرت دینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری شدومد کے ساتھ نہ صرف یہ فتویٰ جاری کرتی ہے بلکہ امت کے ذمہ داروں سے پرزور اپیل بھی کرتی ہے کہ وہ اس کھلے چیلنج کا مقابلہ کریں، انہیں سختی سے روکیں، اور یہ یقین رکھیں کہ ان لوگوں کے یہ سارے تصرفات شرعاً حرام بھی ہیں اور عرفاً و قانوناً جرم بھی۔

جیسا کہ حال ہی میں مصر کے وزارت اوقاف سے یہ بیان شائع ہوچکا ہے کہ ’’بدقسمتی سے ہمارے دور میں گھنائونی ذہنیت رکھنے والا ایک ایسا گروہ نکل آیا ہے جو (دین کی تعبیر و تشریح من چاہی کرتا ہے) ان کا مقصد لوگوں کو راہ ہدایت سے ہٹانے کے سوا کچھ نہیں، انہیں علم کی ہوا تک نہیں لگی، وہ اہل اﷲ پر بڑی جرأت و بے باکی دکھاتے ہیں اور ان کے مزارات کو نذر آتش کرنے اور مسمار کردینے ہی کو عین توحید سمجھتے ہیں۔ مگر درحقیقت انہوں نے یہ روش اپناکر اﷲ و رسولﷺ کے غضب کو مول لیا ہے اور مسلمانان عالم کو عموماً اور اہل مصر کو خصوصا دلی رنج واذیت پہنچایا ہے۔ حالانکہ ہر دور کے علماء اعلام کا اجماع چلا آرہا ہے کہ صالحین کی قبروں کی بے حرمتی، ان کی مسماری یا کسی بھی طور سے ان کی بے ادبی شریعت اسلامیہ کی روح کے منافی ہے۔ جو بھی ایسا کرتا ہے سمجھیں وہ زمین میں فتنے فساد جگاتا ہے، اور قوم و ملک کے امن وسکون کو غارت کرتا ہے‘‘

لہذا شہر لیبیا وغیرہ اور دیگر اسلامی ملکوں کے ارباب حل و عقد اور بااثر ورسوخ شخصیات کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس فتنے کا سدباب کریں اور ایسے منحوس ہاتھوں کو اولیاء و صالحین کے مزارات تک پہنچنے سے پہلے ہی مروڑ کے رکھ دیں، کیونکہ اولیائے امت کے لئے ان کے دل میں کوئی احترام و عقیدت کا کوئی شوشہ باقی نہیں رہا۔ اﷲ بس باقی ہوس۔

واﷲ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

محمد وسام خضر، محمد شلبی، عبداﷲ عجمی حسن، علی عمر فاروق، محمدس العاشور
۲۴/۱۰/۲۰۱۱ء
(بشکریہ محمد ثاقب رضا قادری لاہور و غلام مصطفی رضوی، مالیگائوں)