نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, January-February 2013, خان آصف, د ر خشا ں ستا ر ے

پھر وقت معلوم آپہنچا۔ سانوں کا شمار ختم ہونے میں چند ساعتیں باقی تھیں۔ حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی شریک حیات حضرت بی بی زلیخا علیہ الرحمہ سے نحیف و نزار آواز میں کہا

’’بی بی! سید محمد کو میرے قریب لاؤ‘‘

زوجہ محترمہ نے شوہر کے حکم کی فوری تعمیل کی۔ سید محمد (نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ) کو والد محترم کے روبرو لایا گیا۔ جیسے ہی حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمہ کی بے قرار نظریں اپنے فرزند کے چہرے پر پڑیں، آپ آبدیدہ ہوگئے۔ پھر رب ذوالجلال کے حضور عرض کرنے لگے۔

’’اے میرے اﷲ! تیری قدرت کاملہ کو کسی ظاہری سبب کی حاجت نہیں۔ یہ تیری ذات پاک تو وہ ہے کہ جس نے اسباب و وسائل کے بغیر یہ عظیم الشان کائنات تخلیق کردی۔ تیری صفت خلاقی کا ادراک کیسے ہوسکتا ہے کہ تو نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا پھر جب منکرین ابن مریم علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں گمراہ ہوکر جھگڑنے لگے تو تونے اپنے کلام مقدس کے ذریعہ ان سے سوال کی‘‘

’’اے محمدﷺ یہ لوگ عیسٰی کا باپ نہ ہونے کی وجہ سے شبہ میں مبتلا ہوئے۔ ان سے کہو کہ آدم علیہ السلام کی تو نہ ماں تھی اور نہ باپ۔ پھر بھی ہم انہیں عدم سے وجود میں لے کر آئے۔ ہمارے لئے زمین و آسمان کو مٹا دینا یا برقرار رکھنا ذرا بھی مشکل نہیں‘‘

’’اے میرے رب! میں تجھ سے تیری اسی قدرت اور کرم کا سوال کرتا ہوں۔ تونے اپنے حبیبﷺ کو بھی یتیم پیدا کیا تھا اور پھر اسی کو سارے عالمین کے لئے رحمت بنادیا۔ میں بھی آج رحمتہ للعالمین ﷺ کے واسطے سے تیرے سامنے اپنا دست طلب دراز کرتا ہوں۔ مجھے ناکام و نامراد واپس نہ کر کہ تیرے سوا میری کوئی پناہ گاہ نہیں، میرا کوئی دستگیر اور کوئی مشکل کشا نہیں، میں تیرے ہی حکم سے تیری بارگاہ عزت و جلال میں حاضر ہورہا ہوں۔ مجھے اپنے سایہ رحمت میں چھپالے… اور میری زوجہ اور میرے بچے سید محمد کو بے یارومددگار نہ چھوڑ۔ انہیں زمانے کے حادثات سے محفوظ رکھ اور ہدایت دینے کے بعد ان کے دلوں میں ٹیڑھ نہ ڈال۔ یہ جب تک زندہ رہیں، انہیں دین حنیف پر قائم رکھ اور جب یہ دنیا سے رخصت ہوں تو ان کی زبانوں پر تیری وحدانیت اور سرور کائناتﷺ کی رسالت کا ذکر جاری ہو۔ ان کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کر اور ان کی گواہیوں کو شرف قبولیت عطا فرما کہ تیرے سوا کوئی دینے والا نہیں‘‘

اس دعا کے بعد حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمہ نے اہلیہ محترمہ سے فرمایا۔

’’سید محمد کو دوسرے کمرے میں لے جاؤ۔ وقت رخصت آپہنچا۔ ہر شے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والی ہے۔ مجھے بھی میرے رب کے حضور لے جایا جارہا ہے‘‘

شوہر کا حکم سنتے ہی حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اﷲ علیہا سید محمد کو دوسرے کمرے میں لے گئیں… اور پھر جیسے ہی واپس آئیں تو سید احمد بخاری علیہ الرحمہ کی زبان پر کلمہ طیبہ جاری تھا جو ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے۔

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد مصطفیﷺ اس کے رسول ہیں‘‘

اپنے عقیدے پر آخری گواہی دینے کے بعد حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمہ نے زوجہ محترمہ کی طرف دیکھا اور نہایت شکستہ لہجے میں کہا

’’الوداع میری امین و پاک بازہم سفر… الفراق! میرے فرزند سید محمد!‘‘

پھر وہ جب چراغ بجھ گیا جو بخارا میں روشن ہوا تھا اور جس کی آخری لوتھر تھرانے سے پہلے خاک بدایوں ہمیشہ کے لئے ضیا بار ہوگئی۔

بدایوں میں ایک بہت بڑا تالاب ’’ساگرتال‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمہ کو اسی تالاب کے کنارے سپرد خاک کیا گیا۔ وصال کے بعد ایک زمانے تک آپ کی قبر مبارک کا نشان تو ملتا تھا مگر ایک مرد خدا کی آخری آرام گاہ دیگر عمارتوں کے مقابلے میں نمایاں نہیں تھا۔

پھر کئی صدیاں گزر جانے کے بعد روہیل کھنڈ کے حکمران حافظ رحمت خان روہیلہ ایصال ثواب کے لئے حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمہ کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے۔ پھر اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے حافظ رحمت خان روہیلہ نے چار دیواری بھی بنوائی اور گنبد بھی تعمیر کرایا۔ اس کے ساتھ ہی مزار سے ملحقہ ایک مسجد کی بنیاد ڈالی اور اسے بھی تکمیل تک پہنچایا۔

ہم پہلے ہی بیان کرچکے ہیںکہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی مادر گرامی حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اﷲ علیہا ایک امیر و کبیر بزرگ حضرت خواجہ عرب علیہ الرحمہ کی صاحبزادی تھی، لیکن آپ نے اپنے والد کی دولت کے ذخائر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ انتہا یہ ہے کہ بیوگی کا لباس پہننے کے بعد اس دروازے کی جانب نگاہ نہ کی جہاں آپ کا پورا بچپن اور جوانی کے ابتدائی چند سال گزرے تھے۔ حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمہ کے انتقال کے بعد حضرت بی بی زلیخا کے بھائیوں نے اپنی بہن کی مالی استعانت کرنی چاہی مگر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی والدہ ایک غیور خاتون تھیں۔ آپ نے بھائیوں کے اس محبت آمیز سلوک کا شکریہ ادا کیا اور محنت و مزدوری کرکے اپنی زندگی کے جانگداز لمحات گزارنے لگیں۔

اس وقت حضرت بی بی زلیخا کے گھر میں کھانے والے چار افراد تھے۔ ایک خود آپ کی ذات، دوسرے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ، تیسرے محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی چھوٹی بہن اور چوتھے گھر کی ایک ملازمہ۔ ان سب کی کفالت کی ذمہ داریاں تنہا حضرت بی بی زلیخا پر آپڑی تھیں۔ آپ دن رات سوت کاتتیں اور پھر اسے ملازمہ کے ہاتھ بازار میں فروخت کرادیتیں۔ اس طرح جو کچھ رقم حاصل ہوتی، اس سے گزر اوقات کرتیں۔ یہ آمدنی اتنی قلیل ہوتی کہ معمولی غذا کے سوا کچھ ہاتھ نہ آتا۔ تنگ دستی کا یہ حال تھا کہ شدید محنت کے باوجود ہفتے میں ایک فاقہ ضرور ہوجاتا جس روز فاقہ ہوتا اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ مادر گرامی سے کھانا مانگتے تو حضرت بی بی زلیخا بڑے خوشگوار انداز میں فرماتیں۔

’’بابا نظام! آج ہم سب اﷲ کے مہمان ہیں‘‘

حضرت بی بی زلیخا کا بیان ہے کہ میں جس روز سید محمد سے یہ کہتی کہ آج ہم لوگ اﷲ کے مہمان ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے۔ سارا دن فاقے کی حالت میں گزر جاتا مگر وہ ایک بار بھی کھانے کی کوئی چیز طلب نہ کرتے اور اس طرح مطمئن رہتے کہ اﷲ کی مہمانی کا ذکر سن کر انہیں دنیا کی ہر نعمت میسر آگئی ہو۔

پھر جب دوسرے روز کھانے کا انتظام ہوجاتا تو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنی محترم ماں کے حضور عرض کرتے

’’مادر گرامی! اب ہم کس روز اﷲ کے مہمان بنیں گے؟‘‘

والدہ محترمہ جواب دیتیں

’’بابا نظام! یہ تو اﷲ کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ دنیا کی ہر شے اس کی دست نگر ہے۔ وہ جب بھی چاہے گا تمہیں اپنا مہمان بنالے گا‘‘حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ مادر گرامی کی زبان سے یہ وضاحت سن کر چند لمحوں کے لئے خاموش ہوجاتے اور پھر نہایت سرشاری کے عالم میں یہ دعا مانگتے۔

’’اے اﷲ! تو اپنے بندوں کو روزانہ اپنا مہمان بنا‘‘

اﷲ کی مہمانی کا واضح مطلب یہی تھا کہ اس روز فاقہ کشی کی حالت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ پانچ سال کی عمر میں یہ دعا، یہ خواہش اور یہ آرزو! اہل دنیا کو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوگی… مگر وہ جنہیں اس کائنات کا حقیقی شعور بخشا گیا اور جن کے دل ودماغ کو کشادہ کردیا گیا ، وہ اس راز سے باخبر ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا تھا اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ انتہائی کم سنی کے عالم میں اﷲ کا مہمان بننے کی آرزو کیوں کرتے تھے۔ علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک مقام پر کہا ہے۔

میری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو
کہ فطرت آپ کرلیتی ہے لالے کی حنا بندی
وہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

اسی ذات پاک نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو بھی پانچ سال کی عمر میں یہ ذوق بخشا تھا کہ آپ اﷲ کا مہمان بننے کی آرزو کرتے تھے۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی تعلیم کا سلسلہ والد محترم کی زندگی ہی میں شروع ہوچکا تھا… لیکن اس وقت تک آپ کسی مکتب میں داخل نہیں کئے گئے تھے۔ پھر جب حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمہ دنیا سے رخصت ہوگئے تو والدہ محترمہ نے کچھ دنوں تک خود ہی اپنے فرزند کی تربیت کی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس وقت حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ بہت ہی کم سن تھے۔ الغرض چھ یا سات سال کی عمر میں حضرت بی بی زلیخا علیہ الرحمہ نے سید محمد علیہ الرحمہ کو مولانا شادی مقری علیہ الرحمہ کے مکتب میں داخل کرادیا۔

مولانا شادی مقری علیہ الرحمہ بدایوں کے رہنے والے ایک صاحب کرامت بزرگ تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنے استاد گرامی کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’مولانا شادی مقری علیہ الرحمہ کی ایک کرامت یہ تھی کہ اگر کوئی شخص ان سے قرآن شریف کی ایک سورۃ بھی پڑھ لیتا تو اس کی برکت سے اسے پورا قرآن کریم حفظ ہوجاتا۔ میں نے بھی مولانا شادی مقری علیہ الرحمہ سے ایک پارہ پڑھا تھا، پھر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا ذہن روشن ہوگیا ہے جو آیت بھی تلاوت کرتا وہ میرے ذہن پر نقش ہوکر رہ جاتی۔ یہاں تک کہ استاد محترم کے فیض روحانی سے کسی خاص اہتمام کے بغیر مجھے پورا قرآن پاک حفظ ہوگیا‘‘

ایک اندازہ ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے دس سال کی عمر میں اﷲ کی آخری مقدس کتاب کو اپنے سینے میں محفوظ کرلیا۔ اس کے بعد آپ نے مذہبی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا مگر کسی استاد کی رہنمائی کے بغیر علم کے اسرار و رموز تک رسائی ممکن نہیں تھی، اس لئے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے مولانا علائو الدین اصولی علیہ الرحمہ کی شاگردی اختیار کی۔ ایک روایت کے مطابق اس وقت حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی عمر مبارک گیارہ بارہ سال تھی۔

مولانا اصولی علیہ الرحمہ نے ابتداء میں کچھ مذہبی کتابیں پڑھائیں، پھر اپنے شاگرد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو اسلامی فقہ کی اہم ترین کتاب ’’قدوری‘‘ کی تعلیم دینی شروع کی۔ ’’قدوری‘‘ امام احمد بن محمد علیہ الرحمہ‘‘ کی تصنیف ہے۔ امام احمد، بغداد کے ایک محلے ’’قدور‘‘ کے رہنے والے تھے۔ اس لئے امام قدوری علیہ الرحمہ کے نام سے شہرت دوام حاصل کی۔ یہ کتاب مختصر ہونے کے باوجود ’’فقہ حنفی‘‘ پر اس قدر جامع تصنیف ہے کہ تقریبا ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد بھی، اس کی عظمت و انفرادیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں