جیسے ہی ماہ ربیع الاول کا چاند نظر آتا ہے، مسلمانان عالم کے قلوب خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں۔ ہر جگہ درود وسلام کی صدائیں، جھنڈوں کی بہاریں او رچراغاں ہی چراغاں ہوتا ہے۔ ایسے پربہار موسم میں کچھ لوگ اعتراضات سے بھرپور پمفلٹ تقسیم کرتے ہیں جنہیں پڑھ کر سادہ لوح مسلمان پریشان ہوجاتے ہیں لہذا آپ کی خدمت میں میلاد پاک پر کئے جانے والے اعتراضات کے قرآن، حدیث اور علمائے اسلام کے فرامین کی روشنی میں جوابات پیش کئے جارہے ہیں۔

تاریخ ولادت 12 ربیع الاول ہے

حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ (متوفی 235ھ) سند صحیح کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ عفان سے روایت ہے کہ وہ سعید بن مینا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما نے فرمایا کہ حضور اکرمﷺ کی ولادت عام الفیل میں بروز پیر بارہ ربیع الاول کو ہوئی

(البدایہ والنہایہ ہ جلد دوم، صفحہ نمبر 302، بلوغ الامانی شرح الفتح الربانی، جلد دوم، صفحہ نمبر189)

امام ابن جریر طبری اپنی کتاب تاریخ طبری جلد دوم صفحہ نمبر 125 پر فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ کی ولادت پیر کے دن ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی۔

علامہ ابن ہشام (متوفی 213ھ) عالم اسلام کے سب سے پہلے سیرت نگار امام محمد بن اسحق اپنی السیرۃ النبوۃ میں رقم طراز ہیں کہ حضورﷺ سوموار بارہ ربیع الاول کو عام الفیل میں پیدا ہوئے

( السیرۃ النبوۃ ابن ہشام جلد اول صفحہ نمبر 171)

غیر مقلدین (اہلحدیث) کے پیشوا علامہ سید صدیق حسن خان اپنی کتاب الشمامۃ العنبریہ کے صفحہ نمبر 6 پر رقم طراز ہیں کہ اہل مکہ کا اس پر عمل ہے۔ طیبی نے کہا کہ آپﷺ کی ولادت پیر کے دن بارہ ربیع الاول کو ہوئی۔

مفتی محمد شفیع دیوبندی اپنی کتاب سیرت خاتم الانبیاء مطبوعہ دارالاشاعت اردو بازار کراچی کے صفحہ نمبر 23 پر رقم طراز ہیں کہ جس سال اصحاب فیل کا حملہ ہوا، اس کے ماہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ روز دوشنبہ آقائے نامدارﷺ رونق افروز عالم ہوئے۔

لغت کی کتاب میں میلاد کے معنی

نور اللغات میں لفظ میلاد مولود مولد کہ یہ معنی درج کئے گئے ہیں۔

  1. میلاد… پیدا ہونے کا زمانۂ پیدائش کا وقت
  2. وہ مجلس جس میں پیغمبر حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت کا بیان کیا جائے۔ وہ کتاب جس میں پیغمبرﷺ کی ولادت کا حال بیان کیا جاتا ہے۔

قرآن مجید سے میلادِ مصطفیﷺ منانے کے دلائل

القرآن (ترجمہ) اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو

(سورۂ والضحیٰ، آخری آیت، پارہ 30)

معلوم ہوا کہ اپنے رب تعالیٰ کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو، کائنات کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت حضورﷺ ہیں لہذا ہمیں نعمت عظمیٰ سرور کائناتﷺ کا خوب چرچا کرتے ہوئے ان کی آمد کی خوب خوشیاں منانی چاہئے۔
قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔

تم فرماؤ اﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت پر چاہئے کہ وہ خوشی کریں۔ وہ ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے

(سورۂ یونس آیت 58)

اس آیت میں رب کریم کا واضح ارشاد ہے کہ میرے فضل و رحمت کے حصول پر خوشی منائیں۔ جب رحمت پر خوشی منانے کا حکم ہے تو رحمتہ للعالمینﷺ کی آمد پر کس قدر خوشی منانی چاہئے۔

احادیث مبارکہ سے میلاد مصطفیﷺ منانے کے دلائل:

اپنی ولادت کی خوشی تو خود آقا کریمﷺ نے منائی تو ان کے غلام کیوں نہ منائیں۔

حدیث شریف

حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالتﷺ میں عرض کی گئی یارسول اﷲﷺ! آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی

(صحیح مسلم شریف، جلد اول، صفحہ نمبر7)

حدیث شریف

ابولہب کو جب اپنے بھائی حضرت عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کے یہاں بیٹے کی خوشخبری ملی تو بھتیجے کی آمد کی خوشخبری لانے والی کنیز ’’ثویبہ‘‘ کو اس نے انگلی کا اشارہ کرکے آزاد کردیا۔ ابولہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اﷲ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑے برے حال میں ہے تو اس سے پوچھا گیا کیا گزری؟ ابولہب نے جواب دیا

’’مرنے کے بعد کوئی بہتری نہ مل سکی، ہاں مجھے اس انگلی سے پانی ملتا ہے کیونکہ میں نے (اپنے بھتیجے محمد(ﷺ) کی ولادت کی خوشی میں) ثویبہ لونڈی کو آزاد کیا تھا‘‘

(بخاری شریف، کتاب النکاح، حدیث5101، ص 912، مطبوعہ دارالسلام ریاض سعودی عرب)

شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ

میلاد شریف کرنے والوں کے لئے اس میں سند ہے جو شب میلاد خوشیاں مناتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں، یعنی ابولہب کافر تھا اور قرآن پاک اس کی مذمت میں نازل ہوا۔ جب اسے میلاد کی خوشی منانے اور اپنی لونڈی کے دودھ کو آنحضرتﷺ کے لئے خرچ کرنے کی وجہ سے جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبت و خوشی سے بھرپور ہے اور میلاد پاک میں مال خرچ کرتا ہے

(مدارج النبوت جلد دوم، صفحہ نمبر 26)

جشن میلاد کو عید کہنے کی وجہ

امام ابو القاسم راغب اصفہانی علیہ الرحمہ (متوفی 502ھ) عید کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’عید اسے کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کرآئے، شریعت میں لفظ ’’عید‘‘ یوم الفطر اور یوم النحر کے لئے خاص نہیں ہے۔ عید کا دن خوشی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا

عید کے ایام کھانے پینے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے ہیں، اس لئے ہر وہ دن جس میں خوشی حاصل ہو، اس دن کے لئے عید کا لفظ مستعمل ہوگیاہے۔

امام قسطلانی علیہ الرحمہ اپنی کتاب مواہب الدنیہ کے صفحہ نمبر 75 پر فرماتے ہیں

اﷲ تعالیٰ اس مرد پر رحم کرے جس نے آنحضرتﷺ کی ولادت کے مبارک مہینہ (ربیع الاول) کی راتوں کو ’’عیدین‘‘ اختیار کیا ہے تاکہ اس کایہ (عید) اختیار کرنا ان لوگوں پر سخت تر بیماری ہو جن کے دلوں میں سخت مرض ہے اور عاجز کرنے والی لاعلاج بیماری، آپ کے مولد شریف کے سبب ہے۔ بعض نادان لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’’عید‘‘ اس دن کو کہتے ہیں جس دن عید کی نماز پڑھی جائے، یہ نادانی ہے حالانکہ عید میلاد النبی بمعنی حضورﷺ کی ولادت کی خوشی ہے۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کا میلاد منانا

میلاد کے لغوی معنی اور اصطلاحی معنی محافل منعقد کرکے میلاد کا تذکرہ کرنا ہے، چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اس طرح میلاد منایا۔

حدیث شریف

حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ، سرکارﷺ کی تعریف میں فخریہ (نعتیہ) اشعار پڑھتے، سرکار کریمﷺ، حضرت حسان رضی اﷲ عنہ کے لئے فرماتے۔ اﷲ تعالیٰ روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعہ حسان کی مدد فرمائے۔

(بخاری شریف، جلد اول، صفحہ نمبر 65)

حدیث شریف

حضرت درداء رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ میں سرکارﷺ کے ساتھ حضرت عامر انصاری رضی اﷲ عنہ کے گھر گیا۔ وہ اپنی اولاد کو حضورﷺ کی ولادت کے واقعات سکھلا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آج کا دن ہے۔ سید عالمﷺ نے اس وقت فرمایا۔ اﷲ تعالیٰ نے تم لوگوں کے واسطے رحمت کا دروازہ کھول دیا اور سب فرشتے تم لوگوں کے لئے دعائے مغفرت کررہے ہیں۔ جو شخص تمہاری طرح واقعہ میلاد بیان کرے، اس کو نجات ملے گی

(بحوالہ: رضیہ التنویر فی مولد سراج المنیر)

یہ کہنا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے مروجہ میلاد منانا ثابت نہیں ہے، ایسا کہنے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان نے سالانہ اجتماعات حج کے علاوہ کئے، کبھی ختم بخاری کے اجتماعات کئے، کبھی قرآن و حدیث کانفرنس کا انعقاد کیا، کبھی بڑے بڑے میناروں والی مسجدیں بنوائیں، کبھی شاندار قرآن مجید شائع کئے، قرآن مجید کا دوسری زبان میں ترجمہ و تفسیر لکھی، کبھی آزادی کے جلوس نکالے، کبھی مخصوص فرقے دیوبندی اور اہلحدیث فرقے کے نام سے تبلیغ کی، کبھی تھانوی، میرٹھی، محمدی اور سلفی اپنے نام کے ساتھ لکھا۔ ان تمام کاموں کو انجام دیتے وقت یہ خیال نہیں آتا کہ یہ تمام کام صحابہ کرام رضون اﷲ علیہم اجمعین نے نہیں کئے؟ صرف اور

صرف میلاد النبیﷺ منانے کے متعلق یہ سوال اٹھاتے ہو، کیا یہ میلاد سے عداوت کی دلیل نہیں؟

شب ولادت، شب قدر سے افضل ہے

شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

سرور کونینﷺ کی ولادت کی شب یقینا شب قدر سے زیادہ افضل ہے کیونکہ شب ولادت آپﷺ کی ولادت کی شب ہے اور شب قدر آپﷺ کو عطا کی ہوئی شب ہے

(ماثبت من السنہ صفحہ نمبر 84)

جھنڈے و پرچم لگانے کا ثبوت

شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ماثبت من السنہ میں رقم طراز ہیں کہ

حضرت آمنہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ (شب ولادت) میں نے تین پرچم اس طرح دیکھے کہ ان میں سے ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں اور تیسرا خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا

(ماثبت من السنہ صفحہ نمبر 75) (سیرت حلبیہ جلد اول، صفحہ نمبر 100)

شب ولادت کھڑے ہوکر سلام پڑھنا

حضرت امام سبکی علیہ الرحمہ کی محفل میں کسی نے یہ شعر پڑھا

’’بے شک عزت و شرف والے لوگ سرکاراعظمﷺ کا ذکر سن کر کھڑے ہوجاتے ہیں‘‘

یہ سن کر امام سبکی علیہ الرحمہ اور تمام علماء و مشائخ کھڑے ہوگئے۔ اس وقت بہت سرور اور سکون حاصل ہوا

(سیرت حلبیہ جلد اول، صفحہ نمبر 80)

٭ برصغیر کے معروف محدث اور گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں محفل میلاد میں کھڑے ہوکر سلام پڑھتا ہوں۔ میرا یہ عمل شاندار ہے

(بحوالہ: اخبار الاخیار، صفحہ نمبر 624)

کرسمس اور عید میلاد النبیﷺ میں فرق

کرسمس اور عید میلاد النبیﷺ میں بڑا فرق ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یوم (معاذ اﷲ) ان کو خدا ہونے یا خدا کا بیٹا ہونے یا تیسرا خدا ہونے کے لحاظ سے مناتے ہیں۔
لیکن مسلمان اپنے آقا و مولیٰﷺ کی ولادت پر خوشی مناتے ہیں۔ آقا کریمﷺ کو اﷲ تعالیٰ کا بندہ اور معزز رسول مانتے ہیں۔ اب آپ خود فیصلہ کرلیں کہ کتنا بڑا فرق ہے کرسمس اور عید میلاد النبیﷺ منانے میں۔

میلاد النبیﷺ یا وفات النبیﷺ

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ علمائے اسلام کا حضورﷺ کی تاریخ وصال میں اختلاف ہے۔ اگر بالفرض اس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ بارہ ربیع الاول آپﷺ کی وصال کی تاریخ ہے پھر بھی اسلام میں وفات کا سوگ صرف تین دن ہے، چنانچہ حدیث شریف ملاحظہ ہو۔

حدیث شریف

ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم کسی وفات یافتہ پر تین روز کے بعد غم نہ منائیں مگر شوہر پر چار ماہ دس دن تک بیوی غم منائے گی

(بحوالہ: بخاری شریف، جلد اول، صفحہ نمبر 804، مسلم شریف، جلد اول، صفحہ نمبر 486)

فائدہ

ثابت ہوا کہ تین دن کے بعد وفات کا سوگ منانا ناجائز ہے۔ نبی کے وصال کا غم منانے کا حکم ہوتا تو سرور کونینﷺ ہر جمعہ (یوم ولادت حضرت آدم علیہ السلام) عید منانے کے بجائے سوگ منانے کا حکم دیتے۔

حدیث شریف

حضرت اوس بن اوس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالمﷺ نے فضیلت جمعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے۔ اس میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اسی میں ان کا وصال ہوا

(بحوالہ: ابو داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب فضل یوم الجمعۃ، حدیث 1047، ص 159، مطبوعہ دارالسلام ریاض ،سعودی عرب)

الحمدﷲ!

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء کرام، شہداء اور صالحین اپنی قبور میں جسم و جسمانیت کے ساتھ حیات ہیں۔ جب حضورﷺ حیات ہیں تو پھر سوگ اور غم کیسا؟
اعمال کادارومدار نیتوں پر ہے۔ ہم اہلسنت یوم وفات نہیں بلکہ یوم ولادت کی خوشی مناتے ہیں۔

لفظ ’’میلاد النبیﷺ‘‘ محدثین کا عطا کردہ ہے

نبی کریمﷺ کی ولادت مبارکہ کے احوال کے اظہار و برکات کے سلسلہ میں لفظ میلاد کا اولین استعمال جامع ترمذی میں ہے۔ جامع ترمذی صحاح ستہ میں سے ہے۔ اس میں ایک باب بعنوان ’’ماجاء فی میلاد النبیﷺ‘‘ ہے۔

صاحب مشکوٰۃ نے مشکوٰۃ شریف میں باب باندھا اور اس باب کا نام ’’میلاد النبیﷺ‘‘ رکھا۔

سعودی عرب کا موجودہ اسلامی کلینڈر آپ ملاحظہ فرمائیں۔ اس کلینڈر میں ربیع الاول کے مہینے کی جگہ ’’میلادی‘‘ لکھا ہوا ہے، یعنی یہ میلاد کامہینہ ہے۔

پوری دنیا کے تعلیمی نصاب کو دیکھ لیں۔ تمام نصاب میں اسلامیات کے باب میں ’’عید میلاد النبیﷺ‘‘ کے نام سے باب ملے گا۔ بارہ وفات کے نام سے نہیں ملے گا۔
کیا مروجہ میلاد النبیﷺ ایک ظالم اور عیاش بادشاہ کی ایجاد ہے؟

عید میلاد النبیﷺ سے عداوت رکھنے والے ایک من گھڑت بات یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ میلاد کی ابتداء عیاش اور ظالم بادشاہ مظفر الدین نے کی۔ حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ مظفر الدین شاہ اربل عیاش نہ تھا بلکہ عادل تھا۔ دیوبندیوں اور غیر مقلدین اہلحدیث کے معتبر مورخ ابن کثیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

شاہ اربل مظفر الدین بن زین الدین ربیع الاول میں میلاد شریف مناتا، اور عظیم الشان جشن برپا کرتا تھا۔ وہ ایک نڈر، جانباز، عاقل، عالم اور عادل بادشاہ تھے۔ اﷲ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور انہیں بلند درجہ عطا فرمائے۔

شیخ ابو الخطاب بن دحیہ نے ان کے لئے میلاد شریف کی ایک کتاب تصنیف کی اور اس کا نام ’’التنویر فی مولد البشیر والنذیر‘‘ رکھا تو انہوں نے شیخ کو ایک ہزار دینار پیش کیا۔ انہوں نے ایک طویل عرصے تک حکمرانی کی اور سات سو تیس ہجری میں جب وہ عکا شہر میں فرنگیوں کے گرد حصار ڈالے ہوئے تھے، ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ اچھی سیرت و خصلت کے حامل تھے

(البدایہ والنہایہ، جلد سوم، صفحہ نمبر 136)

سبط ابن جوزی نے مرأۃ الزمان میں ذکر کیا ہے کہ شاہ اربل کے یہاں میلاد شریف میں بڑے بڑے علماء صوفیاء شرکت کرتے تھے

(بحوالہ: الحاوی للفتاویٰ جلد اول، صفحہ نمبر 190)

میلاد کا انکار کرنے والے اپنے علم کو ذرا وسیع کریں تاکہ انہیں ذلیل نہ ہونا پڑے۔

میلاد النبیﷺ کے متعلق علمائے اسلام کے اقوال و افعال

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد المعروف امام قسطلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ حضورﷺ کے پیدائش کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے محفلیں منعقد کرتے آئے ہیں اور خوشی کے ساتھ کھانے پکاتے رہے اور دعوت طعام کرتے رہے ہیں اور ان راتوں میں انواع و اقسام کی خیرات کرتے رہے اور سرور ظاہر کرتے چلے آئے ہیں۔

(مواہب اللدنیہ جلد اول، صفحہ نمبر 27)

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنے والد شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں ’’میرے والد نے مجھے خبر دی کہ میں عید میلاد النبیﷺ کے روز کھانا پکوایا کرتا تھا۔ ایک سال تنگ دست تھا کہ میرے پاس کچھ نہ تھا مگر صرف بھنے ہوئے چنے تھے۔ میں نے وہی چنے تقسیم کردیئے۔ رات کو سرکار دوعالمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا اور کیا دیکھتا ہوں کہ حضورﷺ کے سامنے وہی چنے رکھے ہیں اور آپ خوش ہیں

(بحوالہ: درثمین صفحہ نمبر 8)

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ اور ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا معمول تھا کہ بارہ ربیع الاول کو ان کے ہاں لوگ جمع ہوتے، آپﷺ کا ذکر ولادت فرماتے، پھر کھانا اور مٹھائی تقسیم کرتے

(الدر المنظم صفحہ نمبر 89)

مجلس میلاد میں ناجائز کاموں سے بچیں

میلاد کی محافلوں میں ہر اس چیز کو منع کیا جائے جو شریعت کے خلاف ہو، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ محافل میلاد کو ختم کردیا جائے بلکہ صحیح طریقہ کار یہ ہونا چاہئے کہ ناجائز اور خلاف شرع کاموں کو ختم کیا جائے۔

1: نعت شریف میں میوزک کا استعمال نہ کیا جائے۔ ادب و احترام کے ساتھ محفل کا انعقاد کیا جائے۔ محفل نعت میں نوٹوں کا اڑانا اور ناچنا ناجائز ہے۔
2: عورتوں کی اتنی آواز سے مجلس یا نعت پڑھنا کہ اجنبی مردوں تک آواز پہنچے، ناجائز ہے۔
3: محفل میلاد میں داڑھی منڈھے، غیر عالم اور نام نہاد اسکالر کو ہرگز نہ بلوائیں، بلکہ مستند عالم دین مستند واقعات میلاد بیان کرے۔
4: محفل میلاد میں اتنی تاخیر کرنا کہ نماز کا وقت ہی جاتا رہے، ناجائز و حرام ہے، ہاں اگر نماز باجماعت کا اہتمام ہوتو حرج نہیں ہے۔
5: محافل میلاد، چراغاں اور نیاز کے لئے جبراً چندہ اور بھتہ لینا ناجائز و حرام ہے۔
6: میلاد کے جلوسوں میں نیاز اور دیگر اشیاء کا پھینکنا سخت گناہ و ناجائز ہے۔
7: میلاد کے جلوسوں میں بے پردہ عورتوں کا جم غفیر اور گھومنا پھرنا بھی ناجائز ہے۔
8: اتنی بلند آواز سے مجلس میلاد منعقد کرنا کہ ضرورت سے زائد ہو، مناسب نہیں ہے کہ اس کی تیز آواز کی وجہ سے گھروں میں بیمار لوگ، بچے، بوڑھے اور وہ لوگ جنیں صبح دفتر جانا ہوتا ہے، ان کے آرام میں خلل واقع ہوتا ہے، یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے۔ اس کا خاص خیال رکھا جائے۔