میلاد شریف حضورﷺ کے ذکر تشریف آوری کا نام ہے

in Tahaffuz, January-February 2013, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, علامہ ندیم احمد قادری رضوی

یہ ذکر پاک صرف ولادت ہی پر موقوف نہیں بلکہ اس ذکر پاک میں حضور پرنور شافع یوم النشور سیدنا و مولانا محمدﷺ کے فضائل و کمالات کا ذکر کرنا مقصود ہوتا ہے۔ خواہ ذکر ولادت ہو یا سخاوت ہو یا ذکر صداقت ہو یا ذکر امانت ہو یا ذکر دیانت ہو یا ذکر عدالت ہو وغیرہ ہم جو بھی حضور اکرم سیدعالمﷺ کے فضائل و کمالات ہوں، شامل ہیں، اس کو میلاد شریف کہتے ہیں۔

میلاد شریف کی ابتداء

اﷲتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

واذ اخذ اﷲ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ والتنصرنہ قال اقرر تم واخذتم علی ذالکم اصری قالو اقررنا قال فاشہدو وانا معکم من الشہدین

(ال عمران 18)

’’اور یاد کرو جب اﷲ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں، پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا! کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھری ذمہ لیا، سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا، فرمایا! تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجائو اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں‘‘(کنزالایمان)

امام اجل ابو جعفر طبری وغیرہ محدثین اس آیت کی تفسیر میں مولیٰ المسلمین و امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہ الکریم سے راوی ہیں:

لم یبعث اﷲ نبیا من آدم فمن دونہ الا اخذ علیہ العہد فی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم لئن بعث وہو حی لیؤمنن بہ لینصرنہ وباخذ العہد بذالک علی قومہ

’’اﷲ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے لے کر آخر تک جتنے انبیاء بھیجے سب سے پہلے محمد رسول اﷲﷺ کے بارے میں عہد لیا، اگر یہ اس نبی کی زندگی میں مبعوث ہوں تو وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی مدد فرمائے اور اپنی امت سے اس مضمون کا عہد لے‘‘

چنانچہ اس عہد ربانی کے مطابق ہمیشہ حضرات انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام نشر مناقب و ذکر مناصب حضور سید المرسلین صلوٰۃ اﷲ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین سے رطب اللسان رہتے اور اپنی پاک مبارک مجالس و محافل ملائک منزل کو حضور اکرمﷺ کی یاد و مدح سے زینت دیتے اور اپنی امتوں سے حضور پرنورﷺ پر ایمان لانے اور مدد کرنے کا عہد لیتے ہیں

(اعلیٰ حضرت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)

اس مختصر تحریر سے ثابت ہوا کہ اﷲ عزوجل نے ازل ہی میں اپنے پیارے محبوب محمدﷺ کی تشریف آوری جو ’’جاء کم‘‘ سے ظاہر کا ذکر فرمایا، اسی کو تو مسلمانان عالم میلاد شریف کہتے ہیں۔ گویا اﷲ عزوجل نے ازل ہی میں میلاد مبارک بیان فرمایا اور تمام انبیاء مرسلین سے ان کے بارے میں عہد لیا۔ لہذا اس عہد ربانی کے مطابق تمام انبیاء مرسلین حضور اکرمﷺ کے میلاد مبارک کا انعقاد کرتے ہیں یعنی ذکر تشریف آوری سرکار ابد قرار کرتے اور اپنی امتوں سے ان کے متعلق ایمان لانے اور ذکر پاک یعنی میلاد شریف کی ہدایت فرماتے رہے۔

آدم علیہ السلام کی وصیت

آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام حضور اکرمﷺ کا ذکر و چرچا فرماتے رہے۔ جب وقت وصال آیا، شیث علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ اے فرزند! میرے بعد تو خلیفہ ہوگا، عماد التقویٰ وعروۃ الوثقیٰ العروۃ والوثقیٰ محمدﷺ عروۃ الوثقی جو محمد ہیں ان کو نہ چھوڑنا۔ جب اﷲ کو یاد کرنا تو محمدﷺ کا ذکر ضرور کرنا۔

فانا رایت الملئکۃ تذکرہ فی ساعاتہا

میں نے فرشتوں کو دیکھا ہے کہ ہر وقت ہر گھڑی ان کی یاد میں مشغول ہیں

(کما ذکرہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی)


علامہ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

اگر نام محمدﷺ را نیا وردے شفیع آدم

نہ آدم یافتی توبہ نہ نوح از غرق نجینا

دعائے ابراہیم علیہ السلام وبشارت عیسٰی علیہ السلام

سیدنا ابراہیم علیہ السلام رب تعالیٰ سے دعا فرماتے ہیں اور عرض کرتے ہیں:

ربنا وبعث فیہم رسولا منہم یتلو علیہم ایتیک ویعلمہم الکتب والحکمۃ ویزکیہم انک انت العزیز الحکیم

(البقرہ 129)

’’اے ہمارے رب اور بھیج ان میں ایک رسول انہی میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرمادے بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا‘‘

یہ اوصاف جلیلہ حضور سید عالمﷺ کے ہیں چنانچہ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ میں تم کو اپنے پہلے حال کی خبر دیتا ہوں کہ میں ابراہیم اور بشارت عیسٰی (علیہ السلام) ہوں چنانچہ عیسٰی علیہ السلام یہ بشارت دیتے اور خوشخبری دیتے تشریف لائے۔

واذ قال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اﷲ الیکم مصدقاً لما بین ہدی من التوراۃ ومبشرا برسول یاتی من بعد اسمہ احمد

(الصف 2)

’’اور یاد کرو جب عیسٰی ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اﷲ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے‘‘

حضور اکرمﷺ نے اپنا میلاد شریف بیان فرمایا

مشکوٰۃ میں ترمذی سے بروایت حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

’’میں محمدﷺ عبداﷲ کا بیٹا اور عبدالمطلب کا پوتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا کیا تو مجھ کو اچھے گروہ میں بنایا یعنی انسان بنایا پھر انسان میں دو فرقے پیدا کئے، عرب اور عجم، مجھ کو اچھے فرقے یعنی عرب میں بنایا اور پھر عرب میں کئی قبیلے بنائے تو مجھ کو سب سے اچھے قبیلے میں پیدا کیا یعنی قریش میں، پھر قریش کے کئی خاندان بنائے اور مجھ کو سب سے اچھے خاندان میں پیدا کیا یعنی بنی ہاشم میں، پس میں ذاتی طور پر بھی سب سے اچھا ہوں اور خاندان میں بھی سب سے اچھا ہوں‘‘

اس حدیث پاک میں حضور اکرمﷺ نے اپنا میلاد ہی تو بیان فرمایا ہے۔ اس سے حضور اکرمﷺ کا اپنا میلاد بیان کرنا واضح ہے۔

میلاد النبیﷺ پر جشن کا ثبوت

جشن نام ہے خوشیاں منانے کا، ہر نعمت وراحت کے موقع پر جشن یعنی خوشی بطور شکر منائی جاتی ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

قل بفضل اﷲ و برحمۃ فبذالک فلیفرحوا ہو خیرمما یجمعون

(یونس 58)

’’تم فرماؤ اﷲ ہی کے فضل اور اس کی رحمت اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں، وہ ان کی سب دھن و دولت سے بہتر ہے‘‘

اﷲ رحمن و رحیم کی رحمت بے پایاں ہے جس کی کوئی حد نہیں، مگر حضور اکرم سید عالمﷺ پر اس کا فضل عظیم ارشاد فرمایا جاتا ہے:

وکان فضل اﷲ علیک عظیما

اور اﷲ کا (اے محبوب) تم پر بڑا فضل ہے

یعنی فضل عظیم ہے تو فضل عظیم پر خوشیاں بھی منانا رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنا مومنین کا مشغلہ ہے۔ یہ جشن عید میلاد النبیﷺ یعنی حضور اکرمﷺ کی تشریف آوری پر اﷲ کے فضل عظیم کی خوشیاں منانا سب دھن و دولت سے بہتر ہے۔

معلوم ہوا کہ اس جشن عید میلاد النبیﷺ میں جتنا بھی خرچ کیا جاتا ہے وہ اﷲ تعالیٰ کے فضل کے شکرانے میں داخل ہے۔ جیسا کہ مومنین خوشیاں منانے اور اپنا مال اﷲ کی راہ میں صرف کرکے اﷲ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ جشن یعنی خوشی منانے کا سبق مسلمانوں کو اﷲ عزوجل نے سکھایا اور حکم دیا۔ علاوہ ازیں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ قرآن کریم میں مفصل مذکور ہے جب یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا، جیسا کہ

اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:

اذہبوا بقمیصی ہذا فالقوہ علی وجہ ابی یاتی بصیرا واتونی باہلکم اجمعین

(یوسف 93)

’’میرا یہ کرتا لے جاؤ، اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ‘‘

جب یوسف علیہ السلام کے بھائی سب گھر والوں کو لے کر یوسف علیہ السلام کے پاس گئے کما قال اﷲ تعالیٰ:

فلما دخلوا علی یوسف اویٰ الیہ ابویہ

(یوسف 99)

’’پھر جب وہ سب یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی‘‘

یعقوب علیہ السلام مصر کے قریب پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کے بادشاہ اعظم کو اپنے والد ماجد کی تشریف آوری کی اطلاع دی۔ وہ چار ہزار لشکر اور بہت سے مصری سواروں کو لے کر آپ کے والد صاحب کے استقبال کے لئے صدہا ریشمی پھریرے اڑاتے قطارے باندھے روانہ ہوئے اور نہایت شان و شوکت سے یعقوب علیہ السلام کا استقبال کیا۔

ثابت ہوگیا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی تشریف آوری کی مسرت اور خوشی میں یوسف علیہ السلام نے ایسے اہتمام عظیم سے جشن منایا تو پھر سرکار ابداقرار ﷺ کی تشریف آوری کے دن مومنین اپنی بساط کے لائق ایسا ہی جشن مناتے ہیں۔ گویا اپنے مالک و مولیٰ کی رضا اور خوشنودی چاہتے ہیں۔

میلاد النبیﷺ پر عید کا اطلاق

عید میلاد النبی پر حاسد اور غادر طنز کرتے اور کہتے ہیں کہ عیدیں تو دو ہوتی ہیں۔ عیدالبقرہ اور عیدالفطر تیسری عید کہاں سے آئی؟ ہم کہتے ہیں کہ بے شک یہ دونوں عیدیں عیدالبقرہ اور عیدالفطر ضرور ہیں مگر قرآن کریم میں ان میں سے ایک کا بھی ذکر نہیں۔ قرآن کریم نے ایک قاعدہ کلیہ عطا فرمایا ہے۔ کما قال تعالیٰ:

قال عیسٰی ابن مریم اللھم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدلا ولنا واخرنا وآیۃ منک

(المائدۃ 141)

عیسٰی ابن مریم نے عرض کی کہ اے اﷲ اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک خوان (مائدہ) اتار کہ وہ ہمارے لئے عید ہو، ہمارے اگلوں پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی

تو قرآن کریم نے فرما دیا عیسٰی علیہ السلام نے عرض کی کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل فرما کہ جس دن وہ خوان اتارا جائے وہ دن ہمارے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے عید کا دن ہو جو تیری طرف سے ایک نشانی ہو۔ تیری نعمت و احسان کی، معلوم ہوا کہ عید اس روز کو کہا جاتا ہے جس روز اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان فرمائے اور ان کو اپنی نعمتوں سے نوازے، یہاں نزول مائدہ جو اﷲ عزوجل کی ایک نعمت ہے جس دن خوان کو اتارا گیا، اس دن کو عید کا دن فرمایا گیا اور اﷲ جلیل و جبار کی سب سے بڑی اور افضل و اعلیٰ نعمت محمدﷺ ہیں جیسا کہ اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ

لقد من اﷲ علی المومنین اذ بعث فیہم رسولا

(ال عمران 164)

بے شک اﷲ تعالیٰ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا

اﷲ عزوجل نے بے شمار نعمتیں اپنے بندوں پر نازل فرمائیں اور بے حد احسانات فرمائے، مائدہ (خوان) نازل فرمایا جو اگلے پچھلے کے لئے عید ہے۔ من و سلویٰ اتارا یہ نہ فرمایا کہ ہم نے تم پر احسان فرمایا مگر سب سے بڑا احسان اور سب سے عظیم نعمت جو مسلمانوں کو عطا فرمائی گئی وہ اپنے محبوب محمدﷺ کی تشریف آوری ہے جو ساری عیدوں کی عید ہی نہیں بلکہ ساری عیدوں کی جان ہے۔ ان کی تشریف آوری مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ تمام کائنات کے لئے رحمت اور مسلمانوں پر اﷲ کا خاص احسان و انعام ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ان کو مسلمانوں پر رئوف رحیم بنایا۔ فرماتا ہے۔

بالمومنین رئوف رحیم

اس جان عید اور عیدوں کی عید میں یعنی ان کی تشریف آوری پر اﷲ عزیز و منان کا جتنابھی شکر ادا کیا جائے، وہ کم ہے۔