میلاد، قیام تعظیمی اور عشاق مصطفیﷺ

in Tahaffuz, January-February 2013, غلام مصطفی قادری رضوی, متفرقا ت

محبوب کی تعظیم و تکریم بھی محبت کے تقاضوں میں سے ہے کہ اس سے عقیدت و محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور محبت میں پختگی بھی آتی ہے، پھر یہ تو دنیوی محبت کی مثال ہے تو جو خدا کا محبوب ہے، اس کی محبت و تعظیم کی کیا بات ہے۔ سبحان اﷲ، یہ تو جان ایمان بھی ہے اور روح دین بھی۔ یہ تو جاں بلب انسانیت کے لئے راحت و طمانیت کا ذریعہ ہے۔ اس سے قلوب و نگاہ شادکام ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں اس کی محبت کو دل و جان میں بسانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایمان لانے کے بعد محبت و تعظیم کو لازم قرار دیا گیا۔ دیکھئے سورہ فتح کی آیت نمبر9 جس میں محبت و توقیر و تعظیم کے سوتے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔

وہ دل دل نہیں جس میں اس محبت کی چمک نہ ہو، وہ سینہ سینہ نہیں جو ان کی محبت میں نہ پھکے۔ صحابہ کی مقدس جماعت نے اس راز الفت کو سمجھ کر عمل کیا تو وہ فیض پایا کہ قرآن نے ان کو بلندیاں بخشیں اور قلوب مسلمین میں ان کی یادیں بسادیں۔ محبت و تعظیم مصطفی علیہ التحیۃ والثناء کے جو نظارے ان کی زندگیوں میں ملتے ہیں وہ بے نظیر و بے نظیر ہیں۔ دنیا ایسے عشاق دکھائے تو سہی، جو اپنے محبوب کی اتنی توقیر کرتے ہیں کہ ان کی بارگاہ میں اونچی آواز سے بولنا بھی خلافِ ادب سمجھتے ہیں۔ کسی کی جرأت و ہمت نہیں کہ انہیں آنکھ بھر کر دیکھ لے۔ وہ رسولﷺ کی آمد پر قیام کرتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک محبوب تشریف فرما نہ ہوجائیں۔

عروہ بن مسعود ثقفی نے جب صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کا انداز محبت دیکھا تو خوب متاثر ہوا اور اپنے دوستوں سے جاکر برملا اعتراف حقیقت کرتے ہوئے کہا ’’خدا کی قسم میں نے کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھاکہ اس کے ساتھی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمدﷺ کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں‘‘

(صحیح بخاری 379/1)

معلوم ہوا کہ ادب و احترام اور تعظیم و توقیر کا یہ طریقہ صدیوں سے جاری و ساری ہے، پھر جو لوگ اس مبارک فعل سے منع کرتے ہیں، انہیں اپنی فکر کی اصلاح کرنی چاہئے، ہم نے تو کہیں نہیں سنا کہ محبوب کے ذکر سے عاشق منہ بسورے۔ ان کی تعظیم کے نام پر ناک بھوں چڑھانے لگے، محبت کی تاریخ کھنگال کر دیکھئے، عظمت و احترام کے جلوے تو ملیں گے، بے ادبی نظر نہیں آئے گی۔ الحمدﷲ ہم اہل محبت و عقیدت ادب والوں کے طریقے پر چل رہے ہیں کہ باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب۔

محفل میلاد اور قیام تعظیمی اہل سنت و جماعت کا پاکیزہ معمول و طریقہ رہا ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے اور مفید اور مبارک عمل ہے۔ جو عاشق ہوگا وہ ذکر محبوب میں سرور و کیف حاصل کرے گا اور بڑے اہتمام سے محبوب کی یاد منائے گا اور میلاد کی مجلس محبوب دو جہاںﷺ کی یاد منانے ہی کا عمدہ ذریعہ ہے، جس سے منع پر نہ کوئی دلیل ہے نہ ثبوت، بلکہ اس کے ادا کرنے کا حکم قرآن و سنت میں جابجا ملے گا۔ سنئے قرآن فرماتا ہے۔
ان الحکم الا اﷲ

(یوسف : ۴۰)

حکم نہیں ہے مگر اﷲ کے لئے
اور حدیث میں فرمایا گیا:

وانما الحرام ما حرم اﷲ فی کتابہ و ماسکت عنہ فہومما عفا عنہ

(جامع الترمذی، باب ما جاء فی لبس الفراء 1/206)

اور حرام وہی ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے حرام کیا اور جس پر سکوت فرمایا وہ معاف شدہ چیزوں میں سے ہے۔
معلوم ہوا کہ کسی بھی شے کے بارے میں بغیر تحقیق کے ناجائز و حرام کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا۔ رسول کونینﷺ نے ایسے لوگوں کے لئے وعید بیان فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد گرامی ہے۔

من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السمٰوٰات والارض

(سنن ابو دائود، 1/515، جامع الاحادیث 1/196)

جو بے علم فتویٰ دے آسمانوں اور زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔

محفل میلاد اور قیام تعظیمی کا یہ سلسلہ جو آج تک جاری ہے، ہر دور میں چلتا رہا۔ عشاق باصفا اپنے محسن آقاﷺ کی بارگاہ میں الفت و احترام کے گجرے سجاتے، ذکر نبویﷺ میں خاص اہتمام کرتے، خود حضور اقدسﷺ اپنی نعمتوں کی سماعت کے لئے سیدنا حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے منبر سجاتے اور انہیں داد و تحسین کے ساتھ دعائیہ کلمات سے بھی نوازتے، تو میلاد و قیام بھی سنت صحابہ ہے اور اس کارخیر پر عمل پیرا ہونے والے انہی جانثاران مصطفی کے طریق مبارک پر ہیں۔

یہاں ایک بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ ہم ذکر رسول کرتے ہیں تو قرآنی حکم پر عمل کرتے ہیں۔ اب اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو کہ ذکر میلاد میں ان کا ذکر کس طرح کیا جائے، اس کی شرائط اور حدود وقیود کیا ہوں اور افراط و تفریط سے بچتے ہوئے ان کا ذکر اور ان کی یاد کس طرح منائی جائے تو اس سلسلے میںمحدث حجاز علامہ سید محمد علوی مالکی قدس سرہ السامی کا نظریہ محبت پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں:
’’آپﷺ کو افضل نوع بشر، اﷲ کا مقرب ترین بندہ اور معظم ترین رسول قرار دیتے ہوئے وصف و مدح کرنا حق ہے۔ کیونکہ آپ سارے انسانوں میں سب سے کامل موحد ہیں۔ اس تعریف میں نہ کہیں عقیدۂ انصاری جھلکتا ہے، نہ ہی آپ کی ذات حقیقت بشریت سے خارج ہوتی ہے۔ امام شرف الدین بوصیری قدس سرہ نے بالکل صحیح کہا ہے کہ:

دع ما ادعتہ النصاری فی نبیھم
واحکم بما شئت مدحاً فیہ واحتکم

’’عیسٰی بن مریم کے بارے میں نصرانیوں کے دعوے فرزندی (ابن اﷲ) کو چھوڑ کر خاتم النبیین محمد رسول اﷲﷺ کے بارے میں جو چاہو، حکم لگائو اور فیصلہ کرو‘‘

فان فضل رسول اﷲ لیس لہ
حد فیعرب عنہ ناطق بغم

’’اس لئے کہ محمد رسول اﷲﷺ کی فضیلت و عظمت کی کوئی حد نہیں ہے کہ اسے کوئی بیان کرنے والا زبان سے بیان کرسکے‘‘

فمبلغ العلم فیہ انہ بشر
وانہ خیر خلق اﷲ کلہم

’’علم کی رسائی تو یہیں تک ہے کہ وہ بشر اور اﷲ کی ساری مخلوق سے افضل ہیں‘‘

(اصلاح فکر واعتقاد، ص 262-261)

رہا مجلس میلاد سجانے کا طریقہ اور کھڑے ہوکر صلاۃ و سلام پڑھنا تو واضح رہے کہ یہ ادب و تعظیم کے طریقے ہیں، جس طرح ہوسکے اختیار کئے جائیں۔ امام الہمام محقق علی الاطلاق علامہ کمال الملتہ والدین محمد قدس سرہ السامی نے یہ قاعدۂ کلیہ بنایا:

کل ما ماکن ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا

(فتح القدیر، کتاب الحج بحوالہ فتاویٰ رضویہ مترجم 546/26 مطبوعہ پور بندر)

جس بات کو نبی کریمﷺ کے ادب و تعظیم میں زیادہ دخل ہو، وہ بہتر ہے‘‘

مانعین و منکرین نے قیام تعظیمی، بروقت ذکر ولادت پر بہت سی لایعنی باتیں کہی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ قرون ثلثہ میں نہیں تھا لہذا بدعت ہوا۔ ہمیں صحابہ و تابعین کی سند چاہئے ورنہ ہم نہیں مانتے۔
اس اعتراض بے جا کا بھی علمائے محققین نے بحسن و خوبی جواب شافی و وافی دیا ہے۔ سردست محقق باکمال سیدی امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ العزیز کی تحقیق نذر قارئین ہے، وہ رقم طراز ہیں:

’’اصل اشیاء میں اباحت ہے یعنی جس چیز کی ممانعت شرع مطہرہ سے ثابت اور اس کی برائی پر دلیل شرعی ناطق صرف وہی ممنوع و مذموم ہے۔ باقی سب چیزیں جائز و مباح رہیں گی۔ خاص ان کا ذکر جواز قرآن و حدیث میں منصوص ہو یا ان کا کچھ ذکر نہ آیا ہو تو جو شخص جس فعل کو ناجائز و حرام یا مکروہ کہے، اس پر واجب کہ اپنے دعوے پر دلیل قائم کرے اور جائز و مباح والوں کو ہرگز دلیل کی حاجت نہیں کہ ممانعت پر کوئی دلیل شرعی نہ ہونا یہی جواز کی دلیل ہے‘‘

(فتاویٰ رضویہ، 75/12 مطبوعہ ممبئی)
آگے فرماتے ہیں:
’’امام بیہقی وغیرہ علماء حضرات امام شافعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں:

المحدثات من الامور ضربان احدہما ما احدث مما یخالف کتاباً او سنۃ او اثرا او اجماعا فہذہ البدعۃ ضالۃ والثانی ما احدث من الخیر ولا خلاف فیہ لو احد من ہذہ وہی غیر مذمومۃ‘‘

’’نو پیدا باتیں دو قسم کی ہیں کہ قرآن یا احادیث یا آثار اجماع کو خلاف نکالی جائیں یہ تو بدعت و گمراہی ہے، دوسرے وہ اچھی بات کہ احداث کی جائے اور اس میں ان چیزوں کا خلاف نہ ہو تو وہ بری نہیں‘‘

امام علامہ ابن عجر عسقلانی فتح الباری صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:

والبدعۃ ان کانت مما تندرج تحت مستحسن فہی حسنۃ وہی کانت تندرج تحت مستقبح فہی مستقجۃ والافمن قسم المباح

’’بدعت اگر ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی خوبی شرع سے ثابت ہے تو وہ اچھی بات ہے اور اگر کسی ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی برائی شرع سے ثابت ہے تو وہ بری ہے اور جو دونوں میں سے کسی کے نیچے نہ داخل ہو تو وہ قسم مباح سے ہے‘‘

اسی طرح صدہا اکابر نے تصریح فرمائی۔

’اب مجلس، قیام وغیرہما امور متنازع فیہا کی نسبت تمہارا یہ کہنا کہ زمانہ صحابہ و تابعین میں نہ تھے، لہذا ممنوع ہیں، محض باطل ہوگیا۔ ہاں اس وقت ممنوع ہوسکتے ہیں جب تم کافی ثبوت دو کہ خاص ان افعال میں شرعاً کوئی برائی ہے، ورنہ اگر کسی مستحسن کے نیچے داخل ہیں تو محمود اور بالفرض کسی کے نیچے داخل نہ ہوئے تو مباح ہوکر محمود ٹھہریں گے کہ مباح بہ نیت نیک کیا جائے شرعاً محمود ہوجاتا ہے‘‘

(فتاویٰ رضویہ 79/12 مطبوعہ ممبئی)

لطف کی بات تو یہ ہے کہ محفل میلاد اور قیام تعظیمی میں ہم قرآنی حکم پر عمل کرتے ہیں اس لئے کہ رب نے نعمت ملنے پر خوشی منانے کا حکم دیا۔ لقولہ تعالیٰ:

قل بفضل اﷲ و برحمتہ فبذالک فلیفرحوا

(یونس 58)

’’تم فرمائو اﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اس پر چاہئے کہ (لوگ) خوشی کریں‘‘

یہاں دو چیزوں کے ملنے پر خوشی و مسرت کے اظہار کا حکم فرمایا گیا۔ رب کا ’’فضل‘‘ اور اس کی ’’رحمت‘‘ یعنی فضل و رحمت رب ملنے تو خوشی منائو۔ یہاں سے ولادت پاک کے موقع پر شادمانی و مسرت پر بھی خوشی منانے کا ثبوت ملتا ہے کہ حضورﷺ ہمارے لئے سب سے بڑی نعمت ہیں تو نعمت عظمیٰ کے ملنے پر خوشی کیوں نہ منائی جائے۔ جب جب نعمت الٰہیہ کی بارش ہوگی خوش عقیدہ مسلمان تب تب خوشی کے نغمے الاپتے رہیں گے۔
اسی طرح

وتعزروہ و توقروہ

(الفتح 9)

’’اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو‘‘

میں تعظیم ذکر نبی کا ذکر ہے اوریہ مطلق ہے تو تعظیم کے جمیع طریق کے ساتھ تعظیم کی جاسکتی ہے جب تک کسی خاص طریقے سے شریعت منع نہ کرے۔ سنئے خاتمۃ المحققین زین الحرم عین الکرم مولانا سید احمد زین دحلان قدس سرہ الملکی اپنی کتاب مستطاب ’’الدرر السنیہ فی الرد علی الوہابیۃ‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’نبی کریمﷺ کی تعظیم سے حضور کی شب ولادت کی خوشی کرنا اور مولد شریف پڑھنا اور ذکر ولادت اقدس کے وقت کھڑا ہونا اور مجلس شریف میں حاضرین کو کھانا دینا اور اس کے سوا اور نیکی کی باتیں کہ مسلمانوں میں رائج ہیں، یہ سب نبی کریمﷺ کی تعظیم سے ہیں‘‘

(اقامۃ القیامۃ ، ص 17)

مفتی حنفیہ علامہ جمال بن عبداﷲ مکی اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں:

’’ذکر مولد اعطرﷺ کے وقت قیام کو ایک جماعت سنن نے مستحسن کہا تو وہ بدعت حسنہ ہے‘‘

مولانا عبدالرحمن بن علی حضرمی لکھتے ہیں:

’’علماء نے وقت ذکر ولادت نبیﷺ حضور کی تعظیم کے لئے قیام مستحسن سمجھا اور جو چیز حضور اقدسﷺ کی تعظیم ٹھہری تو اس کا ادا کرنا اور بجا لانا ہم پر واجب ہوگیا اور اس کا انکار نہ کرے گا مگر بدمذہب، مخالف طریقہ اہل سنت و جماعت جس کی بات نہ سننے کے قابل نہ توجہ کے لائق اور حاکم اسلام پر اس کی تعزیر واجب ہے‘‘

(ایضا: ص 29)

علمائے امت اور صلحائے ملت نے محفل میلاد، قیام تعظیمی کے ذریعہ اپنی محبت و عقیدت کا نذرانہ بارگاہ نبوی میں پیش کرکے رضائے خدا خوشنودی مصطفی حاصل کی ہے۔ ارباب علم و عشق کی ایسی ہی ایک مثال مندرجہ ذیل واقعہ سے ملتی ہے جسے امام شیخ الاسلام ابونصر عبدالوہاب ابن ابی الحسن تقی الملتہ والدین نے طبقات کبریٰ میں نقل فرمایا کہ:

’’امام سبکی کے حضور ایک جماعت کثیر اس زمانے کے علماء کی مجتمع ہوئی، اس مجلس میں کسی نے امام صرصری کے یہ اشعار نعت حضور سید الابرارﷺ میں پڑھے، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ مدح مصطفیﷺ کے لئے یہ بھی تھوڑا ہے کہ سب سے اچھا خوش نویس ہو، اس کے ہاتھ سے چاندی کے پتھر پر سونے کے پانی سے لکھی جائے اور جو لوگ شرف دینی رکھتی ہیں وہ ان کی نعت سن کر صف باندھ کر سروقد یا گھٹنوں کے بل پر کھڑے ہوجائیں، ان اشعار کے سنتے ہی حضرت امام سبکی و جملہ علمائے کرام حاضرین مجلس مبارک نے قیام فرمایا اور اس کی وجہ سے اس مجلس میں نہایت انس حاصل ہوا۔ علامہ جلیل حلبی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’اس قدر پیروی کے لئے کفایت کرتا ہے‘‘

(فتاویٰ رضویہ مترجم 26/505-506، مطبوعہ پور بندر، گجرات)

الغرض یہ فعل مبارک صدہا سال سے اہل یقین میں رائج ہے اور علمائے کاملین نے اسے باعث خیروبرکت مانا ہے۔ علمائے حرمین شریفین زاہدھما اﷲ تعظیماً و شرفاً نے بھی اسے معمول بنایا ہے، اور کیوں نہ ہو کہ انوار و تجلیات کی بارش برسنے کا عشاق نے مشاہدہ بھی کیا ہے، چنانچہ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

’’مکہ معظمہ میں حضو علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت باسعادت کے دن میں ایک ایسی میلاد کی محفل میں شریک ہوا جس میں لوگ آپ کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ درود و سلام عرض کررہے تھے اور وہ واقعات بیان کررہے تھے جو آپ کی ولادت کے موقع پر ظاہر ہوئے اور جن کا مشاہدہ آپﷺ کی بعثت سے پہلے ہوا تو اچانک میں نے دیکھا کہ اس محفل پر انوار و تجلیات کی برسات شروع ہوگئی۔ انوار کا یہ عالم تھا کہ مجھے اس بات کا ہوش نہیں کہ میں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا یا فقط باطنی آنکھوں سے، بہرحال جو بھی ہو، میں نے غور و خوض کیا تو مجھ پر حقیقت منکشف ہوگئی کہ یہ انوار ان ملائکہ کی وجہ سے ہیں، جو ایسی مجالس میں شرکت پر مامور کئے گئے ہوتے ہیں

(فیوض الحرمین، ص 80-81، بحوالہ یوم انعام)

آخر میں شاہ امداد اﷲ صاحب مہاجر مکی (جوکہ اکابر دیوبند کے پیرومرشد ہیں) کے ان جملوں پر اپنی تحریر کا اختتام کررہا ہوں جن میں قیام تعظیمی اور مفل میلاد کو ذریعہ برکات مانا گیا اور مذکورہ بزرگ معاندین و منکرین کے بھی مسلمہ پیشوا ہیں، چنانچہ رقم طراز ہیں

’’مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفل مولد (یعنی میلاد کی محفل) میں شریک ہوتا ہوں بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں‘‘
(فیصلہ ہفت مسئلہ مع توضیحات، ص 111، مطبوعہ ممبئی)