عیدمیلادالنبیﷺ اور غیر مستند روایات

in Tahaffuz, January-February 2013, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت

ماہ ربیع الاول شریف میں دنیا بھر کے مسلمان اپنے آقا و مولیٰ تاجدار دوعالمﷺ کی ولادت باسعادت کے موقع پر حسب استطاعت خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ جلسہ، جلوس، چراغاں، صدقہ و خیرات سب اسی خوشی کے مظاہر ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کے شکریہ کے انداز ہیں۔ کچھ ذوق لطیف بلکہ نورِ ایمان سے محروم ایسے لوگ بھی ہیں جن کے نزدیک ان تمام امور کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اگرچہ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے تاہم وہ وقت بے وقت اپنے دل کا ابال نکالتے رہتے ہیں۔ دوسری جانب اہل سنت و جماعت کے چند خطباء اور مقررین ہیں جو تبلیغ دین کو ایک مشن بنانے کی بجائے سنی سنائی باتوں یا غیر مستند کتابوں کے حوالے سے روایات بیان کرکے جوش خطابت کے جوہر دکھانے پر اکتفا کرتے ہیں اور سادہ لوح عوام جذبات کی رو میں بہہ کر نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالت لگا کر خوش ہوجاتے ہیں۔

حال ہی میں علامہ ابن حجر مکی ہیتمی قدس سرہ (متوفی ۹۴۷ھ) کے نام سے ایک کتاب ’’النعمۃ الکبریٰ علی العالم فی مولد سید ولد آدم‘‘ دیکھنے میں آئی ہے جس میں حضور سید عالمﷺ کے فضائل و محامد کے ساتھ ساتھ میلاد شریف منانے کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ مقررین حضرات کے لئے یہ کتاب بڑی دلچسپی کی چیز ثابت ہوئی ہے۔ اکثر خطباء اس کے حوالے سے اپنی تقریروں کو چار چاند لگا رہے ہیں۔ اس کتاب میں خلفائے راشدین رضی اﷲ عنہم کے ارشادات سے میلاد شریف پڑھنے کے فضائل اس طرح بیان کئے گئے ہیں:

1۔ جس شخص نے نبی کریمﷺ کے میلاد شریف کے پڑھنے پر ایک درہم خرچ کیا، وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا (حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)

2۔ جس شخص نے حضور اکرمﷺ کے میلاد شریف کی تعظیم کی، اس نے اسلام کو زندہ کیا (حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ)

3۔ جس شخص نے حضور انورﷺ کے میلاد شریف کے پڑھنے پر ایک درہم خرچ کیا، گویا وہ غزوہ بدر و حنین میں حاضر ہوا (حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)

4۔ جس شخص نے حضور اکرمﷺ کے میلاد شریف کی تعظیم کی، میلاد پڑھنے کے سبب وہ دنیا سے ایمان کے ساتھ ہی جائے گا اور جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوگا

(حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)

اس کے علاوہ حضرت حسن بصری، جنید بغدادی، معروف کرخی، امام رازی، امام شافعی، حضرت سری سقطی وغیرہم رحمتہ اﷲ علیہم کے ارشادات نقل کئے گئے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد چند سوالات پیدا ہوتے ہیں، اکابر علماء اہلسنت سے درخواست ہے کہ وہ ان کا جواب مرحمت فرمائیں۔

1۔ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بھی مقبول ہے۔ علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں کہ

’’معتبر اور مستند حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ حدیث ضعیف فضائل اعمال میں حجت ہے‘‘

شیخ الشیوخ حضرت عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ رقم طراز ہیں

’’صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے قول، فعل اور تقریر کو بھی حدیث کہا جاتا ہے‘‘

علامہ ابن حجر مکی دسویں صدی ہجری میں ہوئے ہیں، لازمی امر ہے کہ انہوں نے مذکورہ بالا احادیث صحابہ کرام سے نہیں سنیں، لہذا وہ سند معلوم ہونی چاہئے جس کی بناء پر احادیث روایت کی گئی ہیں، خواہ وہ سند ضعیف ہی کیوں نہ ہو یا ان روایات کا کوئی مستند ماخذ ملنا چاہئے۔

حضرت عبداﷲ بن مبارک رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں

’’اسناد دین سے ہے، اگر سند نہ ہوتی و جس کے دل میں جو آتا، کہہ دیتا‘‘

2۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

’’میری امت کے آخر میں ایسے لوگ ہوں گے جو تم کو ایسی حدیثیں بیان کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء نے، تم ان سے دور رہنا‘‘

سوال یہ ہے کہ خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اور دیگر بزرگان دین کے یہ ارشادات امام احمد رضا بریلوی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی، ملا علی قاری، علامہ سیوطی، علامہ نبہانی اور دیگر علماء اسلام کی نگاہوں سے کیوں پوشیدہ رہے؟ جبکہ ان حضرات کی وسعت علمی کے اپنے اور بیگانے سب ہی معترف ہیں۔

3۔ خود ان اقوال کی زبان اور انداز بیان بتا رہا ہے کہ یہ دسویں صدی کے بعد تیار کئے گئے ہیں۔ میلاد شریف کے پڑھنے پر دراہم خرچ کرنے کی بات بھی خوب رہی۔ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے دور میں نہ تو میلاد شریف کی کوئی کتاب تھی جو پڑھی جاتی تھی اور نہ میلاد کے پڑھنے کے لئے انہیں دراہم خرچ کرنے اور فیس ادا کرنے کی ضرورت تھی۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ صرف ربیع الاول کے مہینے میں ہی میلاد شریف مناتے تھے بلکہ ان کی ہر محفل اور ہر نشست محفل میلاد ہوتی تھی، جس میں حضورﷺ کے حسن و جمال، فضل وکمال اور آپ کی تعلیمات کا ذکر ہوتا تھا۔ آج یہ تصور قائم ہوگیا ہے کہ ماہ ربیع الاول ورمیلاد شریف میں صرف حضورﷺ کی ولادت باسعادت کا تذکرہ ہونا چاہئے بلکہ بعض اوقات تو موضوع سخن صرف میلاد شریف منانے کا جواز ثابت کرنا ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہر مقرر اپنی تقریر میں میلاد شریف کے جواز پر دلائل پیش کرکے اپنی تقریر ختم کردیتا ہے اور جلسہ برخواست ہوجاتا ہے حالانکہ میلاد منانے کا مقصد تو یہ ہے کہ خدا اور رسولﷺ کی محبت مضبوط سے مضبوط تر ہو اور کتاب و سنت کے مطابق عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ ہماری بعض محفلیں مستند روایات کے حوالے سے میلاد شریف کے بیان سے بھی خالی ہوتی ہیں اور عمل کی تو بات ہی نہیں کی جاتی۔

علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی قدس سرہ نے جواہر البحار کی تیسری جلد میں صفحہ 328 تا 337 تک علامہ ابن حجر مکی ہیتمی کے اصل رسالہ ’النعمۃ الکبریٰ علی العالم فی مولد سید ولد آدم‘‘ کی تلخیص نقل کی ہے جو خود علامہ ابن حجر مکی نے تیار کی تھی۔ اصل کتاب میں ہر بات پوری سند کے ساتھ بیان کی گئی تھی، تلخیص میں سندوں کو حذف کردیا گیا ہے۔ ابن حجر فرماتے ہیں ’’میری کتاب واضعین کی وضع اور ملحد و مفتری لوگوں کے انتساب سے خالی ہے۔ جبکہ لوگوں کے ہاتھوں میں جو میلاد نامے پائے جاتے ہیں، ان میں سے اکثر میں موضوع اور جھوٹی روایات موجود ہیں‘‘ اس کتاب میں خلفائے راشدین اور دیگر بزرگان دین کے مذکورہ بالا اقوال کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ اس سے نتیجہ نکالنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی کہ یہ ایک جعلی کتاب ہے جو علامہ ابن حجر مکی کی طرف منسوب کردی گئی ہے۔

علامہ سید محمد عابدین شامی (صاحب ردالمحتار) کے بھتیجے علامہ سید احمد عابدین شامی نے اصل ’’نعمۃ کبریٰ‘‘ کی شرح ’’نشر الدر علی مولد ابن حجر‘‘ لکھی جس کے متعدد اقتباسات علامہ نبہانی نے ’’جواہر البحار‘‘ جلد 3، صفحہ 337سے 374 تک نقل کئے ہیں۔ اس میں بھی خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے مذکورہ بالا اقوال کاکوئی ذکر نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ محافل میلاد میں حضور سید عالمﷺ کی ولادت باسعادت کے ساتھ ساتھ آپ کی سیرت طیبہ اور آپ کی تعلیمات بھی بیان کی جائیں۔ میلاد شریف کی روایات مستند اور معتبر کتابوں سے لی جائیں مثلا ’’المواہب اللدنیہ، سیرت طیبہ، خصائص کبریٰ، زرقانی علی المواہب، مدارج النبوۃ اور جواہر البحار وغیرہ۔ اگر صحاح ستہ اور حدیث کی دیگر معروف کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان سے بھی خاصا مواد جمع کیا جاسکتا ہے۔ اگر مواد یکجا مطلوب ہو جس سے باآسانی استفادہ کیا جاسکے تو اس کے لئے سیرت رسول عربی از علامہ نور بخش توکلی، میلاد النبی از علامہ احمد سعید کاظمی، الذکر الحسین از مولانا محمد شفیع اوکاڑوی، دین مصطفیﷺ از علامہ سید محمود احمد رضوی، حول الاحتفال بالمولد النبوی شریف از محمد بن علوی المالکی حسنی، مولد العروس از علامہ ابن جوزی اور حسن المقصد فی عمل المولد از امام جلال الدین سیوطی کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے‘‘