چاند پر تھوکنے والا

in Articles, Tahaffuz, May 2011, حا مد میر

چاند پر تھوکنے والا

چاند پر تھوکنے والا چاند کی خوبصورتی اور روشنی کیلئے کبھی خطرہ نہیں بن سکتا البتہ چاند سے اس کی نفرت زمین پر کسی بھی وقت فساد پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکی پادری ٹیری جونز نے قرآن کو نذر آتش کر کے دراصل چاند پر تھوکا ہے لیکن اس کی یہ گستاخی فساد فی الارض اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ اس دہشت گردی کے لئے اس نے امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چرچ کو استعمال کیا اور افسوس یہ ہے کہ امریکی حکومت ٹیری جونز کو اس دہشت گردی سے روکنے میں ناکام رہی۔ ٹیری نے پچھلے سال گیارہ ستمبر کو بھی قرآن پاک نذر آتش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان پر دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا جس کے بعد امریکی حکومت نے اس شخص کو قرآن پاک کی توہین سے منع کیا۔ کینیڈا، جرمنی اور فرانس کی حکومتوں نے بھی ٹیری جونز کے اس اعلان کی مذمت کی تھی جس کے بعد ٹیری جونز نے قرآن کی توہین کا ارادہ ملتوی کر دیا لیکن 21 مارچ 2011ء کو اس شخص نے قرآن پاک کو نذر آتش کر کے کہا کہ اس نے اپناوہ حق استعمال کیا ہے جو امریکی آئین نے اسے دیا ہے۔ یقینا امریکی آئین میں آزادی اظہار کا حق موجود ہے لیکن کیا امریکی آئین میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت موجود ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ اٹھاتی رہی ہے۔ میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اپنے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنا چاہئے لیکن پاکستان میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے باقاعدہ اعلان کر کے ایک مذہبی اقلیت کی مقدس کتاب کو نذر آتش کیا ہو۔ ٹیری جونز نے قرآن پاک کو نذر آتش کرکے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ اگر قرآن واقعی مسلمانوں کے اللہ کی کتاب ہے تو یہ اللہ اپنی کتاب کو نہیں بچا سکا۔ ملعون ٹیری جونز کی اس ناپاک حرکت کی کئی مسیحی رہنماؤں نے بھی مذمت کی ہے اور اس شر انگیزی کے ردعمل میں مسلمانوں کو دنیا کے کسی بھی کونے میں مسیحیوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرنی چاہئے لیکن اس افسوسناک واقعے نے امریکی حکومت کے کردار کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ امریکی حکومت پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے لیکن ابھی تک اوباما اور ہلیری کلنٹن نے جونز کی گستاخی کو مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کیوں قرار نہیں دیا؟

ٹیری جونز کی گستاخی کو پاکستان میں ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے پاکستان کی حکومت نے جب بھونڈے انداز میں امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کو لاہور کی ایک جیل سے رہا کیا اس پر پاکستانیوں کی اکثریت ناراض تھی۔ اس امریکی قاتل کو قصاص و دیت کے اسلامی قانون کے ذریعے مقتولین کے ورثا کو بھاری رقم ادا کر کے چھوڑا گیا۔ قانون کے مطابق دیت کی رقم قاتل ادا کرتا ہے لیکن قاتل کی رہائی کے فوراً بعد امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اعلان کیا کہ امریکی حکومت نے کسی کو کوئی رقم ادا نہیں کی۔ دوسرے الفاظ میں دیت کے اسلامی قانون کا بھی مذاق اڑایا گیا اور اس قانون کو محض سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی سے اگلے ہی دن شمالی وزیرستان کے علاقہ دتہ خیل میں ایک قبائلی جرگے پر ڈرون حملہ کیا گیا جس میں پچاس کے قریب بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ چند دن کے بعد امریکی ریاست فلوریڈا میں ٹیری جونز کے ذریعے قرآن پاک کو شہید کرایا گیا۔ کچھ حلقوں میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے بعد غیر اعلانیہ طور پر مسلمانوں کو چڑایا جا رہا ہے۔ اس قسم کی حرکتیں آج سے نہیں بلکہ صدیوں سے کی جا رہی ہیں۔ اسلام کے دشمن مسلمانوں کو کمزور ثابت کرنے کے لئے اکثر قرآن پر حملہ کرتے ہیں لیکن یہ اس عظیم کتاب کا اعجاز ہے کہ مسلمانوں کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ عربی زبان میں جو فصاحت و بلاغت اور استعارات کی بھرمار قرآن میں نظر آتی ہے اس نے قرآن کو خوبصورت الفاظ کی روشنی سے معمور کر دیا اور اسے عربی ادب کا عظیم شاہکار بنا دیا۔ یہ کتاب صرف ایک ادبی شاہکار نہیں بلکہ ایک معجزہ بھی ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال گزر جانے کے باوجود اس کتاب میں ایک نقطے کی بھی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ معروف سائنس دان سلطان بشیر محمود نے قرآن پاک کی سائنسی تفسیر ’’کتاب زندگی‘‘ میں بتایا ہے کہ قرآن پاک میں موجود بہت سے الفاظ میں حیران کن حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ قرآن میں دنیا کا لفظ 115 مرتبہ آیا اور آخرت کو بھی 115 مرتبہ استعمال کیا گیا۔ موت کا ذکر 145 مرتبہ کیا گیا اور حیات کا ذکر بھی 145 مرتبہ کیا گیا۔ کفر کو 25 مرتبہ استعمال کیا گیا تو ایمان کا لفظ بھی 25 مرتبہ استعمال ہوا۔ شیاطین کا لفظ 88 مرتبہ استعمال ہوا تو ملائکہ کا لفظ بھی 88 مرتبہ استعمال ہوا۔ شہر (ماہ) کو 12 مرتبہ استعمال کیا گیا تو یوم کو 365 مرتبہ استعمال کیا گیا۔ آئی اے ابراہیم اور محسن فارانی کی خوبصورت کتاب ’’اسلام کی سچائی اور سائنس کے اعترافات‘‘ عقل کو دنگ کر دیتی ہے۔ اس کتاب کے 300 سے زائد صفحات میں قرآن کے سائنسی معجزوں کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم امّی تھے۔ (کسی انسان سے پڑھے ہوئے نہیں تھے) لیکن اللہ تعالیٰ نے تھوڑا تھوڑا کرکے 23 سال میں ان پر قرآن نازل کیا۔ آپﷺ نے خود بھی قرآن یاد کیا اور سیکڑوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی حفظ کروا دیا۔ پھر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ اور دیگر کاتبان وحی نے مل کر قرآن پاک کو اسی ترتیب سے یکجا کیا جس ترتیب سے نبی کریمﷺ نے اس عظیم کتاب کی تلاوت کی۔ ایک امّی پر نازل ہونے والی کتاب کی سورۃ المومنون میں ڈیڑھ ہزارسال قبل انسانی جنین کے ارتقاء کے مراحل یوں بیان کئے گئے’’بلاشبہ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہرسے پیدا کیا ہے، پھر ہم نے اسے ایک محفوظ قرار گاہ (رحم مادر) میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر ہم نے نطفے کو خون کی پھٹکی بنایا، پھر ہم نے پھٹکی کو لوتھڑے میں ڈھالا، پھر ہم نے لوتھڑے سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا، پھر ہم نے اسے ایک اور ہی صورت دیدی، چنانچہ بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے عمدہ بنانے والا ہے‘‘۔

جدید سائنس نے قرآن کوسچا ثابت کر دیا ہے اور اسی وجہ سے اسلام امریکہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اسلام کی عظمت اورسچائی سے بوکھلا کر ٹیری جونز اسے دہشت گردوں کا مذہب بنا کر پیش کر رہا ہے حالانکہ امریکہ میں آج تک کسی نے گن پوائنٹ پر اسلام قبول نہیں کیا۔ ٹیری جونز کے خیالات گیارہ ستمبر 2001ء سے پہلے بھی اسلام کے خلاف تھے اور آج بھی اسلام کے خلاف ہیں۔ گیارہ ستمبر نے اسلام سے جنم نہیں لیا بلکہ امریکی پالیسیوں سے جنم لیا ہے لہٰذا امریکی پادری ٹیری جونز کا ہدف اسلام نہیں بلکہ امریکی پالیسیاں ہونی چاہئیں۔ ٹیری جونز نے چاند پر تھوک کر اپنے بدشکل چہرے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے چہرے کو بھی مسخ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن پاک غور سے پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائے تاکہ ہم اسلام کے خلاف سازشوں کا جواب دے سکیں (آمین)