مفتی قاری بشیر احمد فردوسی گولڑوی صاحب سے گفتگو

in Articles, Tahaffuz, May 2011, انٹرویوز

مفتی قاری بشیر احمد فردوسی گولڑوی صاحب سے گفتگو

 

سوال: آپ کی ولادت کب اور کہاںہوئی؟

جواب:  غالبا 1965ء میں حاصل پور کے مضافات میں بستی شہداد پٹھان میں

سوال: آپ کے والد کا کیا نام ہے؟

جواب: غلام محمد صاحب

سوال: آپ کا نام کس نے رکھا؟

جواب: غالبا والد گرامی نے

سوال: آپ نے دنیاوی تعلیم کتنی حاصل کی؟

جواب: دنیاوی تعلیم نہیں ہے۔

سوال: ابتدائی دینی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

جواب: اپنے گائوں کے قریب چاہ شاہ والا سے، استاذ الحفاظ حافظ احمد یار صاحب زید مجدہ کے پاس قرآن پاک حفظ کیا۔ بعد ازیں تقریبا 1979ء میں مدرسہ عربیہ احیاء العلوم عظیم آباد بورے والا میں درسی نظام کا آغاز کیا۔ ایک سال کے بعد پھر اہلسنت کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیرپور شریف میں علم صرف حاصل کیا پھر واپس مدرسہ احیاء العلوم عظیم آباد بورے والا میں آگئے۔ تقریبا 4 سال تک یہاں پڑھتے رہے ۔ بعد ازیں مدرسہ غوثیہ شمس المدارس نواں جنڈانوالہ میں داخلہ لیا اور تعلیم وہاں مکمل کی۔

سوال: دورۂ حدیث آپ نے کہاں سے کیا؟

جواب: مدرسہ غوثیہ شمس المدارس نواں جنڈانوالہ ضلع بکھر میں کیا۔

سوال: آپ نے کن اساتذہ سے دینی تعلیم حاصل کی؟

جواب: قرآن پاک استاذ الحفاظ حافظ احمد یار صاحب زید مجدہ سے حفظ کیا۔ ابتداً فارسی تعلیم استاذ العلماء مفتی محمد حسین اویسی زید مجدہ سے پڑھی۔ بعد ازیں امام الصرف قبلہ صوفی ہاشم علی نوری زید مجدہ سے صرف پڑھی پھر صغریٰ، جانشین فقیہ اعظم شیخ الحدیث صاحبزادہ محمد محب اﷲ نوری زید مجدہ سے پڑھی اور ساتھ ہی شرح مائۃ عامل اور مفتیہ المصلی جناب قبلہ مفتی احمد یار صاحب سیالوی رحمتہ اﷲ سے پڑھی بعد ازیں واپس مدرسہ احیاء العلوم داخلہ لیا تو دوبارہ نحوسیر اور شرح مائۃ عامل قبلہ مفتی محمد حسین اویسی سے پڑھی اور ہدایۃ النحو سے عالم باعمل حضرت علامہ مولانا رحیم بخش صاحب رحمتہ اﷲ علیہ سے آغاز کیا بعد ازیں نواں جنڈانوالہ قبلہ شیخ القرآن والحدیث امام المناطقہ مولانا منظور احمد رحمتہ اﷲ علیہ جامی سے آخر تک کتب پڑھیں۔ دورہ تفسیر قبلہ شیخ القرآن اور علامہ محمد یوسف صاحب زید مجدہ اور علامہ معراج الاسلام صاحب زید مجدہ سے پڑھا اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔

سوال: جب آپ فارغ التحصیل ہوئے تو اس وقت آپ کی عمر کیا تھی؟

جواب: تقریبا 22 (بائیس سال)

سوال: بیعت کرناآج کل کی بات ہے یا اسلاف کا طریقہ ہے؟

جواب: اسلاف کی کتب میں پڑھا تھا کہ علماء کرام علم ظاہری حاصل کرنے کے بعد علم طریقت کے لئے مشائخ سے اکتساب فیض کیا کرتے تھے، تاکہ انکے نقش قدم پر چلتے رہیں

سوال: آپ کتنے بھائی، بہن ہیں؟

جواب: الحمدﷲ! 6 بھائی ہیں، بڑے بھائی وصال فرماگئے ہیں، باقی سب حیات ہیں۔

سوال: کیا آپ کے والد بھی عالم دین تھے؟

جواب: بس صرف سادہ قرآن پاک پڑھے ہوئے ہیں۔

سوال: آپ کے بھائیوں میں سے بھی کوئی عالم دین ہے۔

جواب: صرف ایک بھائی حافظ قرآن ہے۔

سوال: آپ کی اولاد میں سے کوئی عالم دین ہے؟

جواب: الحمدﷲ! میرابڑا بیٹا محمد حسن حافظ قرآن بھی ہے اور تیسرے سال کی درس نظام کی کتب پڑھ رہا ہے اور بڑی بیٹی پہلے سال کی درس نظامی کتابیں پڑھ رہی ہے اور دوسرے بیٹے نے قرآن پاک حفظ کرنا شروع کردیا ہے۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے پیارے حبیبﷺ کے صدقے تمام بچوں کو دین اسلام کا خادم بنائے اور خلوص نیت کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

سوال: کیا آپ فتویٰ نویسی بھی کرتے ہیں؟

جواب: الحمدﷲ! کوئی فتویٰ لینے آئے تو ضرور لکھ کر دیتا ہوں۔

سوال: اب تک آپ کتنے فتاوے تحریر کرچکے ہیں؟

جواب: تقریبا 50 فتاویٰ جات تحریر کرچکا ہوں۔

سوال: آپ کی کتنی تصانیف ہیں؟

جواب: سب سے پہلے ایک چھوٹا سا کتابچہ لکھا تھا۔ متنازعہ مسائل کے قرآنی فیصلے، پھر اس کے بعد ایک رسالہ لکھا تھا ’’فکر فردا‘‘ پھر اسلام اور جمہوریت پھر نحومیر کی شرح، التنویر شرح نحومیر ابھی کتاب چھپی ہے متنازعہ مسائل کے مصطفائی فیصلے جو تقریبا 642 صفحات پر مشتمل ہے جس میں تقریبا صحاح ستہ کی احادیث نقل کی ہیں۔

سوال: سب سے پہلے کون سی کتاب تحریر کی؟

جواب: سب سے پہلے رسالہ لکھا تھا متنازعہ مسائل کے قرآنی فیصلے

سوال: آپ کی تصانیف میں سب سے محبوب تصنیف کون سی ہے؟

جواب: میرے خیال میں التنویر شرح نحومیر اور متنازعہ مسائل کے مصطفائی فیصلے

سوال: کیا آپ کا کوئی دینی ادارہ بھی ہے؟

جواب: الحمدﷲ! ایک ادارہ جامعۃ الفردوس کے نام سے حاصل پور میں بنایا ہے جوکہ ابھی بنایا ہے تقریبا 3 سال ہوئے ہیں جس میں الحمدﷲ تقریبا 85 طلباء درس نظامی کے ہیں اور تقریبا 30طلباء شعبہ حفظ کے ہیں جن میں حفظ کے داخلہ کے لئے پرائمری پاس لیتے ہیں اور درس نظامی کے لئے مڈل پاس لیتے ہیں اور صرف 5 دن یعنی 11 شوال سے 15 شوال تک داخلہ ہوتا ہے جس میں داخلہ فیس بھی ہوتی ہے اور باقاعدہ ماہانہ فیس بھی ہوتی ہے۔ دوسرا ادارہ طالبات کا ہے جوکہ ہماری دو تنظیمیں ہیں۔ (1) مرکزی نعت کونسل (2) بزم غلام اولیائ، ان کے زیر اہتمام میاں چنوں میں بہت اچھے انداز میں دین اسلام کی خدمت کررہا ہے اس کا بھی دوسرا سال ہے۔

سوال: آپ کے دارالعلوم میں کتنے طلباء زیر تعلیم ہیں؟

جواب: پہلے چونکہ دیگر مدارس میں پڑھاتا رہا ہوں، اس لئے ہمارا مدرسہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ تقریبا چوتھے سال تک کی کلاسیں ہیں اور اس سال انشاء اﷲ شعبہ حفظ کے بچے فارغ ہوں گے۔ البتہ میرے پاس پڑھنے والے طلباء میں سے تقریبا 25 طلباء باقاعدہ طور پر شعبہ درس نظامی میں تدریس کررہے ہیں۔ الحمدﷲ! بہت سارے خطباء بھی ہیں۔

سوال: ہمارے علماء کرام کی دور حاضر میں کیا ذمے داریاں ہیں؟

جواب: سب سے پہلے نمبر پر علماء کرام کو آپس کے اختلافات کو بھلا کر امت مسلمہ کی فلاح کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہئے اور بالخصوص مدارس زیادہ سے زیادہ بنائیں اور ان بہترین تعلیم اور تربیت کا انتظام کریں کیونکہ ہمارے مدارس میں تربیت پر توجہ کم دی جاتی ہے جبکہ تربیت کے بغیر تعلیم کے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

سوال: عوام اہلسنت کی دور حاضر میں کیا ذمے داریاں ہیں؟

جواب: عوام اہلسنت کو اپنے بچے دین کی طرف لگانے چاہئیں اور مدارس بالخصوص جو کام کررہے ہیں ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور جو بچے تعلیم کی طرف نہیں جاسکتے ان کو دعوت اسلامی کے ماحول میں ضرور بھیجنا چاہئے تاکہ ان کی صحیح تربیت ہوسکے۔

سوال: مسلک حق اہلسنت کے کام کو آگے بڑھانے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟

جواب: اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ علماء کرام اپنے مدارس کا ماحول بہتر بنائیں اور بالخصوص ہماری عوام کا ذہنی رجحان علماء کی بجائے پیران عظام کی طرف زیادہ ہے اور ہمارے پیران عظام اکثریت (الا ماشاء اﷲ) جہلا پر مشتمل ہے وہ اپنے مریدوں کو کہیں کہ طلباء کو مدارس کی طرف بھیجو چونکہ وہ خود جاہل ہیں اس لئے وہ مریدوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ موجودہ پیران عظام کا نقشہ علامہ اقبال رحمتہ اﷲ علیہ نے صحیح پیش کیا تھا

میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد

ہے زاغوں کے تصرف میں عقابوں کا نشیمن

سوال:  موجودہ ملکی حالات کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟

جواب: موجودہ ملکی حالات انتہائی مخدوش ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اب تک جو بھی قیادت آئی وہ اقتدار سے پیار کرتی ہے ملک سے نہیں۔ اپنے مفادات عزیز رکھتی ہے نظریات نہیں۔ اپنے افراد کو تقویت دیتی ہے اداروں کو نہیں۔ مزید ہمارا ملک مکمل طور پر اس وقت امریکہ کے قبضہ میں ہے اور ہماری حکومت امریکہ کی داشتہ کا کردار ادا کررہی ہے جب تک ہمارا ملک پنجہ یہود سے آزاد ہوکر پالیسی وضع نہیں کرے گا، حالات بہتر نہیں ہوسکیں گے۔ ابھی تک ہمارے ملک میں ایسی قیادت نہیں ہے جس سے یہ توقع کی جاسکے۔

سوال: پوری امت پستی کی طرف جارہی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟

جواب: پہلی وجہ تو یہ ہے کہ امت مسلمہ میں انتشار اور افتراق ہے جس کی وجہ سے ہم پستی کی طرف جارہے ہیں دوسری وجہ امت مسلمہ میں بھی قیادت کا فقدان ہے جبکہ تیسری وجہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے وسائل پر غیر قابض ہیں۔

سوال: موجودہ سیاست کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟

جواب: سیاست سے مراد اگر مغربی پارلیمانی نظام جمہوریت ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ اغیار کا بنایا ہوا نظام سیاست ہے۔ اس میں کوشش سوائے وقت کے ضیاع کے کچھ نہیں۔ عرصہ دراز سے مذہبی جماعتوں نے اس خاردار وادی میں قدم رکھا ہوا ہے۔ ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان ہے۔ اس سلسلہ میں اپنی توانائیوں کو ضائع نہ کریں۔ اس شطرنج کے کھلاڑی مذہبی جماعتوں کو بازی نہیں جیتنے دیں گے کیونکہ ہمارے ملک میں پیسے کی سیاست ہے۔ مفادات کی سیاست ہے، نظریات کی سیاست نہیں ہے۔

سوال: موجودہ دور میڈیا کا دور ہے، کیا ہمارے علماء کرام کو میڈیا پر آنا چاہئے؟

جواب: میڈیا پر آنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس وقت میڈیا پر جو لوگ مسلط ہیں ان کا اسلام کے بارے میں مطالعہ بالکل نہیں ہے اور وہ یہودی لابی کے زیر اثر ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کون سی خبر اشاعت کے قابل ہے کون سی نہیں ہے اس لئے میڈیا پر صالح بالغ رائے رکھنے والے افراد کا آنا ضروری ہے۔

سوال: فرقہ واریت زہر قاتل ہے۔ اسکی روک تھام کیلئے حکومت کو کیا کرنا چاہئے؟

جواب: فرقہ واریت کو روکنے کے لئے حکومت کو کیا ضرورت ہے وہ تو اس لڑائی سے فائدہ اٹھا کر اپنے اقتدار کو طول دیتی ہے اور علماء سے متنفر کرکے دین سے دور کرتی ہے۔ ہاں اگر کوئی حکومت اس سلسلہ میں مخلص ہوکر کوشش کرے تو اس سلسلہ میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ تمام مکاتب فکر کے 10-10 جید علماء کرام جو انتہائی متقی اور مخلص بھی ہوں اور قوم ان پر اعتماد بھی کرتی ہو، ان سے سب سے پہلے اس سوال پر رائے لی جائے کہ اس تقریبا 100 سالہ لڑائی میں امت کا فائدہ کتنا ہوا ہے اور نقصان کتنا؟ پھر اس کا تدارک کیسے ہو؟

مزید ان تمام علماء کرام کو اس بات پر متفق کیا جائے جو اختلاف کے اسباب ہیں، ان کو پہلے ختم کیا جائے کیونکہ اکثر اتحاد جو ہوئے ہیں ان میں اسباب کو ختم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی، فقط کسی ایک نقطہ پر متفق ہوجاتے ہیں جب وہ نقطہ ختم ہوجاتا ہے تو اتحاد بھی ختم ہوجاتا ہے جب تک کنویں شے کتا نہ نکالا جائے ، کنواں پاک نہیں ہوگا۔ لہذا پہلے وہ اسباب ختم کریں۔

سوال: میڈیا جس طرح برائیاں پھیلا رہا ہے، اسکی روک تھام کیلئے کیا کرنا چاہئے؟

جواب: پہلے نمبر پر اس کے مقابلہ میں بہترین ماحول فراہم کیا جائے جیسا کہ دعوت اسلامی کررہی ہے الحمدﷲ! اور حکومت کو بار بار احساس دلایا جائے اور میڈیا پر جو ذمہ دار لوگ بیٹھے ہیں ان کے ساتھ رابطہ کیا جائے ان کی ذمہ داری بتائی جائے، اس حوالہ سے ایک مرتبہ ایک عظیم اسکالر صاحبزادہ سید خورشید گیلانی رحمتہ اﷲ علیہ نے کوشش کی تھی لیکن ان کی عمر نے وفا نہ کی۔

سوال: اپنی اولاد کو بدعقیدگی سے بچانے کیلئے والدین کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

جواب: عوام اہلسنت کواپنے بچوں کو دین اسلام کی طرف راغب کریں تاکہ ان کو صحیح دین کی سمجھ آجائے جب کسی سنی کو صحیح علم آجائے تو پھر برائی کی طرف وہ نہیں جائے گا۔

سوال: ماہنامہ تحفظ کراچی آپ کو کیسا لگا؟

جواب: ماہنامہ تحفظ کے کچھ شمارے مجھے بھائی ثناء اﷲ نے دیئے جن کا مطالعہ کیا۔ الحمدﷲ! بہت خوبصورت اور حقوق اہلسنت کا محافظ بھی ہے اور اس میں مواد بہت تحقیقی ہے۔ بالخصوص جس طریقہ سے غازی ملت عاشق رسولﷺ محمد ممتاز قادری کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، دیکھ کر دل بہت مسرور ہوا ہے۔ میری دعا ہے اﷲ کریم اس رسالہ اور ان کے مضامین خلوص کے ساتھ دین متین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

سوال: ماہنامہ تحفظ کے ذریعے عوام اہلسنت کو کیا پیغام دیں گے

جواب: ماہنامہ تحفظ کے ذریعہ سے عوام تک پیارے آقا دوعالم علیہ السلام کا پیغام پہنچائوں گا۔ تاجدار مدینہ علیہ السلام کا فرمان عالی شان ہے اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھائو

1۔ پیارے آقا ﷺکی محبت، 2۔ اہل بیت اطہار رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی محبت، 3۔ قرآن پاک سے پیار۔

لہذا ہر مسلمان اپنے آپ پر لازم کرے کہ گھر پرپیارے مصطفی کریمﷺ کی سیرت مبارکہ کی کتاب ہو جو رات کو سونے سے پہلے اس کے چند صفحات اپنے گھر والوں کو پڑھ کر سنائے اور صبح کی نماز کے بعد تلاوت قرآن لازم کریں۔