محرم الحرام میں جاہلانہ رسومات

in Tahaffuz, November 2012, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس کا اسلامی سال محرم الحرام میں حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ، حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ اور ان کے رفقاء کی بے مثال قربانی سے شروع ہوکر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانی پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ محرم الحرام شروع ہوتے ہی تعزیہ داری، اسٹیل، پیتل اور چاندی سے تیار کردہ مصنوعی ہاتھ، پاؤں، آنکھیں اور بازو تعزیئے پر چڑھانا، نیلے پیلے دھاگے بازو پر باندھنا، بچوں کو امام کا فقیر بنانا، دشمنانِ صحابہ کا دس یا گیارہ دن کالے، ہرے اور سرخ کپڑے پہننا، ماتم کی کیسٹیں بجانا اور شیعوں کی مجالس اور جلوس میں شامل ہونا اور شب عاشورہ کو خوب ڈھول بجاکر اس شب کے تقدس کو پامال کرنا یہ کام عروج پر ہوتے ہیں۔ یہ تمام کام شریعت کی رو سے ناجائز اور گناہ ہیں مگر ہماری عوام ان کاموں میں اپنا وقت ضائع کرتی ہے۔ یاد رکھئے ہم اہلسنت ہیں اور ہمارے رہبر اور پیشوا امام اہلسنت احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ہیں جنہوں نے اپنے ماننے والوں کو ان ناجائز کاموں سے روکنے کا حکم دیا ہے اور اپنی کتابوں میں ان کاموں سے بچنے کی سختی سے تاکید فرمائی ہے، چنانچہ امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں۔

تعزیہ بنانا کیسا؟

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

 تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)

 تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

 تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔

(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

محرم الحرام میں ناجائز رسومات

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں

(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

محرم الحرام میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام میں (خصوصاً یکم تا دس محرم الحرام) میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں، سبز رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ تعزیہ داروں کا طریقہ ہے۔ لال رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ اہلبیت سے عداوت رکھنے والوں کا طریقہ ہے اور کالے کپڑے نہ پہنے جائیں کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے، لہذا مسلمانوںکو اس سے بچنا چاہئے (احکام شریعت)

عاشورہ کا میلہ

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ عاشورہ کا میلہ لغو و لہو و ممنوع ہے۔ یونہی تعزیوں کا دفن جس طور پر ہوتاہے، نیت باطلہ پر مبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پر جہل و حمق و بے معنیٰ ہے۔

(فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

 دشمنانِ صحابہ کی مجالس میں جانا

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ رافضیوں (دشمنانِ صحابہ) کی مجلس میں مسلمانوں کا جانا اور مرثیہ (نوحہ) سننا حرام ہے۔ ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے، ان کی نیاز، نیاز نہیں اور وہ غالباً نجاست سے خالی نہیں ہوتی۔ کم از کم ان کے ناپاک قلتین کا پانی ضرور ہوتا ہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت۔ محرم الحرام میں سبز اور سیاہ کپڑے علامتِ سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ خصوصاً سیاہ (لباس) کا شعار رافضیاں لیام ہے۔ (فتویٰ رضویہ جدید، 756/23، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

کڑے، چھلے اور ایک سے زائد انگوٹھیاں پہننا

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی ساڑھے چار ماشہ سے کم وزن کی مرد کو پہننا جائز ہے اور دو انگوٹھیاں یا کئی نگ کی ایک انگوٹھی یا ساڑھے چار ماشہ خواہ زائد چاندی کی (پہننا ناجائز ہے) اور سونے، کانسی، پیتل، لوہے اور تانبے (کی انگوٹھی، چھلے، کڑے) مطلقاً ناجائز ہیں۔ (احکامِ شریعت حصہ دوم، ص 80)

یزید کو ’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ کہنا ناصبی ہونے کی علامت ہے

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یزید بے شک پلید تھا۔ اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے اور اسے ’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلبیت رسالت کا دشمن ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 14، ص 603، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مسلمانوں کو چاہئے کہ محرام الحرام میں خرافات سے بچیں۔ 9 اور 10 محرم الحرام کا روزہ رکھیں۔ شہدائے کربلا کی یاد میں سبیلیں لگائیں۔ شربت پلائیں اور نذر و نیاز کا اہتمام کریں۔ چنانچہ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی معرکۃ الآراء کتاب’’تحفۂ اثناء عشری‘‘ میں فرماتے ہیں کہ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ اور اولادِ علی میں ولایت روحانی طور پر موجود ہے۔ اس لئے میں ہر سال 10 محرم کو حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ اور شہدائے کربلا کی نیاز دلاتا ہوں اور کھڑے ہوکر ان پر سلام پیش کرتا ہوں۔

(سبیلوں اور دکانوں پر نوحہ اور مرثیہ کی کیسٹیں ہرگز نہ بجائیں)

عاشورہ کے دن اچھے کام

عاشورہ کے دن اچھی طرح غسل کریں، اچھے کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں، تیل لگائیں، سرمہ لگائیں، ناخن ترشوائیں، روزہ رکھیں، بیمار کی عیادت کریں، صدقہ و خیرات کریں اور مرحومین کو ایصالِ ثواب کریں۔

شبِ عاشورہ کی نفل نماز

عاشورہ کی رات میں چار رکعت نماز نفل اس ترکیب سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک بار اور سورۂ اخلاص تین مرتبہ پڑھے اور نماز سے فارغ ہوکر ایک سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے، ایسا کرنے والا گناہوں سے پاک ہوگا اور جنت میں بے انتہا نعمتیں ملیں گی

(جنتی زیور، ص 157)

دعائے عاشورہ (یہ دعا عاشورہ یعنی دس محرم الحرام) کے دن پڑھیں یا سنیں

Dua-e-Ashroora Dua-e-Ashroora