حکومت سنجیدہ نہیں اور عوام بھی عوام کی دشمن ہے

اس وطن عزیز کی کم نصیبی ہے کہ اسے قائداعظم محمد علی جناح اور شہید ملت لیاقت علی خان کے بعد کوئی محب وطن حکمران نہیں ملا، جو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر فقط ملک و ملت کی ترقی کیلئے کوشاں ہو۔ ہر آنے والے حکمران پچھلے حکمرانوں سے ظالم اور ملک کو شدید تر نقصان پہنچانے والا آیا۔ دیگر ممالک کہاں سے کہاں نکل گئے، دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک چین کس قدر ترقی کرگیا، اسکے علاوہ وہ جاپان جسے امریکہ اور زلزلوں نے کئی مرتبہ تباہ و برباد کیا، مگر جاپان بھی اپنے مخلص حکمرانوں کی وجہ سے آج ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں جنہیں مخلص حکمران ملے، وہ ممالک آج دنیا کے کامیاب ممالک ہیں۔

موجودہ حکومت کسی معاملے میں سنجیدہ نہیں۔ صرف اور صرف دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکومت سنجیدہ ہوجائے تو یہ صرف اور صرف ایک مہینے کا کام ہے جو حکومت خود دہشت گردوں کی سرپرستی کرے، وہ کیا دہشت گردی کو ختم کرے گی جس حکومت کا صرف ایک ہی مشن ہوکہ اپنے بینک بیلنس بڑھاؤ، وہ حکومت کیا اس ملک سے گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرے گی۔ وہ حکومت کیا اس ملک کو بحران سے نکالے گی۔ موجودہ حکمران ساون کے اندھے ہیں، ساون کے اندھے کو سب ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم عیش میں ہیں تو قوم بھی عیش کررہی ہے۔

دوسری جانب عوام بھی کسی طرح پیچھے نہیں ہے۔ وہ حکمرانوں کی عیاشی کو دیکھ کر خود اپنے گھروں میں چوری کی بجلی استعمال کرتی ہے پھر خوب ایئر کنڈیشن کا استعمال ہوتا ہے۔ ہماری اکثر عوام پانی کے بل بھرتی ہی نہیں، ٹیکس چوری کاروباری حضرات کا معمول بن چکا ہے۔ وہ کروڑوں روپے کا ٹیکس نہیں بھرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہمیں کوئی پکڑ نہیں سکتا۔ ہمارے دفتر میں چھاپہ پڑا تو ہم رشوت دے کر چھوٹ جائیں گے۔ عوام میں سے بھتہ خور، ڈکیت، گینگ وار اور سیاسی جماعتوں کے لاڈلے، کارکنان عوام کو بسوں میں، سڑکوں پر اور دکانوں پر جاکر اسلحہ کے زور پر لوٹتے ہیں۔

وہ غریب نوکری پیشہ شخص جب مہینے کے شروع میں اپنی تنخواہ لے کر خوشی خوشی گھر جارہا ہوتا ہے تو یہی ظالم اس غریب کو اسلحہ کے زور پر لوٹ لیتے ہیں یا پھر اس کی جیب کاٹ لیتے ہیں۔ بسوں میں سفر کرنے والوں کے ساتھ ڈرائیور اور کنڈیکٹر حضرات کا تعاون آپ کے سامنے ہے جو سواریاں بس میں چڑھانے کیلئے اچھی طرح گاڑی روکتے ہیں، مگر مسافر کو اتارتے وقت ذلیل کرکے اتارتے ہیں۔ یہ عوام ہی ہے جو ہماری زکوٰۃ، تمہارا فطرہ اور تمہاری قربانی کی کھالیں ڈرا دھمکا کر تم سے چھین لیتی ہے۔

یہ وہی ظالم عوام ہے جو اپنے عیاش، شرابی، زانی اور خونی لیڈر کی سرپرستی میں ایسے کام انجام دیتی ہے۔ یہ لوگ اپنی اولادوں کو حرام کھلا رہے ہیں۔ یاد رکھو! حرام سے پلا بڑا جسم کبھی وفادار نہیں ہوتا۔ یہ اولاد کل تمہیں ہی مال نہ ملنے پر ٹھکانے لگا دے گی۔

محترم قارئین کرام! جس ملک کے حکمرانوں اور عوام کا یہ حال ہو، وہ ملک کیسے ترقی کرسکتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اﷲ جل جلالہ! کوئی ایسا اپنا پسندیدہ بندہ بھیج جو ان سب کی صحیح خبر لے اور سب کو سیدھا کردے۔ آمین ثم آمین