گستاخِ رسول کی اصل میں خطا ہے

ن والقلم وما یسطرون o ماانت بنعمۃ ربک بمجنون o وان لک لاجراً غیر ممنون o وانک لعلیٰ خلق عظیم o (سورۂ قلم، پارہ 29)

ترجمہ: ن، قلم اور اس کے لکھنے کی قسم! آپﷺ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں اور یقینا آپﷺ کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ اور بے شک آپﷺ خلق عظیم کے مالک ہیں۔

ان آیات طیبات سے لے کر ’’سنسمہ علی الخرطوم‘‘ تک سولہ آیات حضور نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

شان نزول

کفار مشرکین مکہ خصوصاً ولید بن مغیرہ حضور سرور عالمﷺ پر جنون کا بہتان لگاتے تھے، یعنی دیوانہ کہا کرتے تھے۔ اس خبیث لفظ سے قلب مصطفیﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی۔ ان کے اس جھوٹے الزام کی تردید خود خالق کائنات قسم یاد فرما کر، کررہا ہے اور اپنے محبوب کے دشمنوں کے عیوب بیان فرما رہا ہے تاکہ محبوبﷺ کو تسلی ہو۔ رب العالمین نے فرمایا۔ ان کی قسم، قلم کی قسم، ان کی تحریر کی قسم، اے محبوبﷺ آپ دیوانے نہیں ہو۔ آپﷺ کے لئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ آپﷺ خلق عظیم پر فائز ہیں اور آپﷺ کا دشمن ان کے یہ دس عیوب ہیں:

1۔ جھوٹی قسمیں کھانے والا 2۔ ذلیل، 3۔ طعنہ دینے والا، 4۔ چغل خور ہے، 5۔ بھلائی سے روکتا ہے، 6۔ حد سے بڑھا ہوا ہے، 7۔ سخت گنہ گار ہے، 8۔ بدطینت ہے، 9۔ حرام کا بچہ ہے اور 10۔ ہم اس کی تھوتھنی (سور کا منہ) پر داغ لگائیں گے۔

جب یہ آیت طیبہ نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ تلوار لے کر اپنی ماں کے پاس پہنچا اور کہا کہ محمد مصطفیﷺ نے میرے دس عیب بیان کئے ہیں، نو کو تو میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ میں موجود ہیں۔ ایک کی کوئی خبر نہیں، اس کی تجھے خبر ہے۔ بتا میں حرامی ہوں یا حلالی؟ سچ بولنا ورنہ دیکھ تلوار، میں تیری گردن مار دوں گا کیونکہ محمدﷺ نے کبھی جھوٹ بولا ہی نہیں ہے۔ تو اس کی ماں نے کہا جو کچھ تو میرے ساتھ کررہا ہے یعنی تلوار لے کر گردن پر کھڑا ہے۔ بتا یہ کام حلالیوں کا ہے یا حرامیوں کا؟ کہنے لگی تو واقعی حرام زادہ ہے، تیرا باپ نامرد تھا اور تھا بہت مالدار۔ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کا اتنا زیادہ مال دوسرے نہ لے جائیں تو میں نے ایک چرواہے سے زنا کروایا جس سے تو پیدا ہوا ہے (تفسیر روح البیان)

ولید بن مغیرہ نے تاجدار انبیاء حبیب کبریا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ کہا تھا کہ (معاذ اﷲ) آپﷺ مجنون ہو۔ اﷲ تعالیٰ کی غیرت کو یہ گوارا نہیں ہوا۔ رب العالمین نے اس کے دس عیوب ظاہر فرمائے جوکہ واقعی اس کے اندر موجود تھے۔ اس سے عظمت مصطفیﷺ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اسی سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ کی توہین کرنا حرام زادوں کا کام ہے۔ اب ایک دوسری آیت کریمہ کو دیکھئے کہ رسول اﷲﷺ کی شان میں توہین کرنے والے اور سرکارﷺ کو تکلیف دینے والے کا کیا انجام ہوا۔

ان الذین یوذون اﷲ ورسولہ لعنہم اﷲ فی الدنیا والاخرۃ واعدلہم عذاباً مہینا

(سورۂ احزاب، آیت 148 پارہ 22)

ترجمہ: بے شک جو لوگ ایذا (تکلیف) دیتے ہیں، اﷲ اور اس کے رسولﷺ کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے۔ دنیا اور آخرت میں اور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے (کنزالایمان)

قارئین کرام! اس آیت کریمہ میں اﷲ رب العالمین نے کوئی قید نہیں لگائی کہ حضورﷺ کو تکلیف پہنچانے والا کس مذہب سے تعلق رکھتا ہو، کس دین سے اس کا واسطہ ہو، کس جماعت کا وہ نمائندہ ہو، اپنے آپ کو مسلمان کہنے والا ہو یا کوئی کافر ہو جو بھی ہو، میرے محبوبﷺ کی توہین کرے گا، کسی طرح سے ان کو تکلیف پہنچائے گا، وہ پکا لعنتی یعنی رب کی رحمت سے دور ہے اور اس کے لئے ذلیل کردینے والا عذاب تیار کرکے رکھ دیا ہے، جوکہ اس کا منتظر ہے۔