ماں باپ کی نافرمانی کا وبال

ماں باپ کی نافرمانی، اﷲ جبار و قہار کی نافرمانی ہے اور ان کی ناراضی اﷲ قہار کی ناراضی ہے۔ آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے لئے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے لئے دوزخ ہیں۔ جب تک ماں باپ کو راضی نہ کرے گا، اس کا کوئی فرض، کوئی نفل، کوئی عمل نیک اصلاً قبول نہ ہوگا۔ عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہوگی۔ مرتے وقت معاذ اﷲ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے۔

حدیث شریف میں ہے۔

حدیث 1: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں:

اﷲ کی اطاعت والد کی اطاعت ہے اور اﷲ کی معصیت (نافرمانی) والد کی معصیت

(الطبرانی عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہا)

حدیث 2: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں

اﷲ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اﷲ کی ناراضی والد کی ناراضی میں

(الترمذی و ابن حبان والحاکم عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہا)

حدیث 3: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں

ماں باپ تیری جنت اور تیری دوزخ ہیں

(ابن ماجہ عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ)

حدیث 4: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں

والد جنت کے سب دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے، اب چاہے تو اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے کھودے خواہ نگاہ رکھ۔ (الترمذی وابن حبان عن ابی الدرداء رضی اﷲ عنہ)

حدیث 5: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں

تین شخص جنت میں نہ جائیں گے، ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور دیوث اور وہ عورت جو مردانی وضع بنائے۔ (النسائی والبز اروالحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ عنہ)

حدیث 6: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں

تین اشخاص کا کوئی فرض و نفل اﷲ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا، عاق اور صدقہ دے کر احسان جتانے والااور ہر نیکی و بدی کو تقدیر الٰہی سے نہ ماننے والا۔

(ابن ابی عاصم فی النسۃ عن ابی امامہ رضی اﷲ عنہ)

حدیث 7: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں

سب گناہوں کی سزا اﷲ تعالیٰ چاہے تو قیامت کے لئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کہ اس کے جیتے جی سزا پہنچاتا ہے۔ (الحاکم والاصبہانی والطبرانی عن ابی بکر رضی اﷲ عنہ)

حدیث 8: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں

کیا میں تمہیں نہ بتا ؤں کہ سب کبیرہ گناہوں سے سخت تر گناہ کیا ہے، کیا نہ بتادوں کہ سب کبائر سے بدتر کیا ہے، کیا نہ بتا ؤں کہ سب کبیروں سے شدید تر کیا ہے؟

صحابہ نے عرض کی ارشاد ہو، فرمایا:

اﷲ کا شریک ٹھہرانا اور ماں باپ کو ستانا ۔(الشیخان والترمذی عن ابی بکرہ رضی اﷲ عنہ)

حدیث 9: رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں

ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے، ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے، ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے۔ (الطبرانی والحاکم عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ)

حدیث 10:

ایک نوجوان نزع میں تھا، کلمہ تلقین کیا گیا نہ کہہ سکا۔ نبی کریمﷺ کو خبر ہوئی، تشریف لے گئے، فرمایا کہہ: لا الہ الا اﷲ۔ کہا: مجھ سے کہا نہیں جاتا۔ فرمایا: کیوں؟ عرض کیا گیا: وہ شخص اپنی ماں کو ستاتا تھا۔ رحمت عالمﷺ نے اس کی ماں کو (جو ناراض تھی) بلا کر فرمایا: یہ تیرا بیٹا ہے؟ عرض کی ہاں۔ فرمایا: بھلا سن تو اگر ایک عظیم الشان آگ بھڑکائی جائے اور کوئی تجھ سے کہے کہ تو اس کی شفاعت کرے جب تو ہم اسے چھوڑتے ہیں ورنہ جلادیں گے کیا اس وقت تو اس کی شفاعت کرے گی۔ عرض کی: یارسول اﷲ! جب تو شفاعت کروں گی۔ فرمایا: جب تو اﷲ کو اور مجھے گواہ کرلے کہ تو اس سے راضی ہوگئی اس نے عرض کی: میں تجھے اور تیرے رسول کو گواہ کرتی ہوں کہ میں اپنے بیٹے سے راضی ہوئی۔ اب سیدعالمﷺ نے جوان سے فرمایا: اے لڑکے کہہ لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ واشہدان محمد عبدہ و رسولہ

جوان نے کلمہ پڑھا اور انتقال کرگیا۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: شکر اس خدا کا جس نے میرے وسیلے سے اس کو دوزخ سے بچالیا (رواہ الطبرانی عن عبداﷲ ابن ابی اوفیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما)

حکایت

حضرت عوام بن حوشب علیہ الرحمہ جوکہ اجلہ آئمہ تبع تابعین سے ہیں 148ھ میں انتقال کیا۔ فرمایا میں ایک محلہ میں گیا۔ اس کے کنارہ پر قبرستان تھا۔ عصر کے وقت ایک قبر شق ہوئی اور اس میں سے ایک آدمی نکلا جس کا سر گدھے کا اور باقی بدن انسان کا۔ اس نے تین آواز گدھے کی طرح کیں پھر قبر بند ہوگئی۔ ایک بڑھیا بیٹھی سوت کات رہی تھی۔ ایک عورت نے مجھ سے کہا۔ ان بڑی بی کو دیکھتے ہو۔ میں نے کہا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ یہ اس قبر والے کی ماں ہے۔ وہ شراب پیتا تھا۔ جب شام کو آتا، ماں نصیحت کرتی کہ اے بیٹے خدا سے ڈر، کب تک اس ناپاک کو پئے گا۔ یہ جواب دیتا کہ تو تو گدھے کی طرح چلاتی ہے؟ یہ شخص عصر کے بعد مرا۔ جب سے ہر روز بعد عصر اس کی قبر شق ہوتی اور یوں ہی تین آوازیں گدھے کی ہوکرکے بند ہوجاتی ہے

(رواہ الاصیہانی وغیرہ) ملخص من شرح الحقوق لطرح العقوق للامام احمد رضا البریلوی قدس سرہ

والدین کے ساتھ حسن سلوک جہاد اور ہجرت سے افضل ہے

والدین کے ساتھ نیکو کاری کو حضور اقدسﷺ نے جہاد فی سبیل اﷲ پر فضیلت دی ہے۔

حدیث 1: حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یارسول اﷲﷺ ’’کون سا عمل زیادہ محبوب ہے خدا کے نزدیک، فرمایا وقت پر نماز ادا کرنا۔ میں نے کہا پھر کون سا؟ فرمایا والدین کے ساتھ نیکی، کہا پھر کون سا، فرمایا اﷲ کی راہ میں جہاد‘‘ (رواہ احمد الشیخان و ابو دا ؤد النسائی)

(قلت) والدین کے ساتھ نیکی صرف یہی نہیں کہ ان کے حکم کی پابندی کی جائے اور ان کی مخالفت نہ کی جائے، بلکہ ان کے ساتھ نیکی یہ بھی ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کرے جو ان کو ناپسند ہو۔ اگرچہ اس کے لئے خاص طور پر ان کا کوئی حکم نہ ہو۔ اس لئے کہ ان کی فرماں برداری اور ان کو خوش رکھنا دونوں واجب ہیں اور نافرمانی اور ناراض کرنا حرام ہے۔

حدیث 2: حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ۔ایک شخص حضور اقدسﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا:

میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کررہا ہوں اور خدا سے اجر کا طالب ہوں۔ حضورﷺ نے دریافت فرمایا، کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے عرض کیا دونوں زندہ ہیں۔ پھر دریافت فرمایا، کیا خدا سے اجر چاہتے ہو؟ اس نے عرض کیا۔ ہاں تو حضورﷺ نے فرمایا۔ اپنے والدین کے پاس لوٹ جا اور اس کے ساتھ ٹھیک سے رہ (اخرجہ مسلم)

حدیث 3: اور آپ ہی سے ایک دوسری روایت ہے کہ ایک شخص حضور اقدسﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا ’’میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے آیا ہوں اور اپنے والدین کو روتا چھوڑ کر آیا ہوں۔ حضورﷺ نے حکم دیا تو اپنے والدین کے پاس جا اور ان کو ہنسا جیسا کہ تونے ان کو رلایا ہے‘‘ (اخرجہ ابو دا ؤد عن ابن عمر رضی اﷲ عنہ)

حدیث 4: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے:

’’یمن کا رہنے والا ایک شخص ہجرت کرکے حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ حضورﷺ نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارا یمن میں کوئی ہے۔ اس نے عرض کیا۔ میرے ماں باپ ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے؟ کہا نہیں، فرمایا تو ان کے پاس لوٹ جااور اجازت طلب کر، اگر وہ اجازت دیں تو پھر جہاد کر ورنہ ان کے ساتھ حسن سلوک میں مشغول رہ‘‘

(رواہ ابو دا ؤد و عن ابی سعید الحذری رضی اﷲ عنہ)

حدیث نمبر 5: حضرت معاویہ بن جاہمہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسول اﷲﷺ میں نے جہاد کا ارادہ کرلیا ہے اور آپ کے پاس مشورہ کے لئے آیا ہوں تو حضورﷺ نے فرمایا: کیا تمہاری ماں ہے۔ عرض کیا ہاں: تو اس کی خدمت کر، بے شک جنت اس کے قدموں کے پاس ہے۔

اور طبرانی کی روایت اس طرح ہے:

کہ میں حضورﷺ کے پاس آیا کہ جہاد کے بارے میں مشورہ لوں تو حضور نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارے والدین موجود ہیں۔ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: تو انہیں کی خدمت میں رہ۔ اس لئے کہ جنت انہیں کے قدموں کے نیچے ہے

(رواہ النسائی و ابن ماجہ والحاکم و قال صحیح علی شرط مسلم والطبرانی باسناد جید)

حدیث 7: حضرت طلحہ بن معاویہ سلمی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ’’میں حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اﷲﷺ! میں جہاد فی سبیل اﷲ کا ارادہ رکھتا ہوں۔ حضورﷺ نے دریافت فرمایا: تیری ماں زندہ ہے؟ میں نے عرض کیا۔ ہاں، فرمایا، اس کے قدموں کو لازم پکڑو، وہیں جنت ہے‘‘ (رواہ الطبرانی)

اور دیکھئے خیر التابعین (بشہادۃ سید المرسلینﷺ ولی اﷲ سیدنا اویس قرنی رضی اﷲ عنہ ہیں کہ آپ کی والدہ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک نے ہی حضور اقدسﷺ کی زیارت عینی سے روک دیا) (ترجمہ و تلخیص از رسالہ عربی ’’صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین‘‘ 1305ھ)