زمین پر انسانی زندگی کی ابتداء

in Tahaffuz, November 2012, متفرقا ت, محمد اسماعیل بدایونی

گزشتہ سے پیوستہ

فرشتے ان چیزوں کے نام نہیں بتاسکے، خاموش رہے، انہیں پتہ نہ چل سکا کہ ان چیزوں کے نام کیا ہیں۔ آخر انہوں نے عاجزی و انکساری سے اﷲ جل جلالہ کی بارگاہ میں عرض کی۔

قالوا سبحانک لاعلم لنا الا ماعلمتنا انک انت العلیم الحکیم (سورہ بقرہ، آیت 32، پارہ 1)

عرض کرنے لگے ہر عیب سے پاک تو ہی ہے کچھ علم نہیں ہمیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھادیا۔ بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔

پھر اﷲ جل جلالہ نے آدم علیہ السلام سے فرمایا:

اے آدم تم انہیں ان چیزوں کے نام بتادو تو آدم علیہ السلام نے ان تمام اشیاء کے نام بتادیئے۔

جب فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی وسعت علم اور اپنے عجز کا اعتراف کرلیا تو اﷲ جل جلالہ نے انہیں حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔

اس کا مطلب ہے کہ علم کی بہت اہمیت ہے ماموں جان! حسن نے پوچھا!

ماموں جان ہماری مس بتا رہی تھیں کہ جو شخص علم حاصل کرنے کے لئے نکلتا ہے۔ اس کے لئے پرندے اور مچھلیاں بھی دعا کرتی ہیں۔ جویریہ نے بے تابانہ کہا۔

ہاں بچو!

علم پیغمبروں کی میراث ہے اور مال فرعون، ہامان، شداد اور نمرود کی۔ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے مگر علم بڑھا ہے۔

مال کی حفاظت انسان خود کرتا ہے لیکن علم انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ دیکھونا یہ عزت و سرفرازی علم ہی کے سبب سے ہی تو ہے اور بغیر علم کے بھی کوئی زندگی ہے۔

علم ہی سے انسان انسان ہے

علم جو نہ سیکھے وہ حیوان ہے

ہاں تو بچو! میں بتا رہا تھا کہ آدم علیہ السلام نے تمام اشیاء کے نام بتادیئے تو اﷲ عزوجل نے ان فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔

واذ قلنا للملائکۃ اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکافرین

(سورہ بقرہ آیت 34، پارہ 1)

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ سب نے سجدہ کیا، سوائے شیطان کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔

لیکن ماموں جان! سجدہ تو سوائے اﷲ جل جلالہ کے کسی کو بھی نہیں کیا جاتا۔ اسید نے حیرانگی سے کہا۔

ہاں بیٹا! یہ سجدہ تعظیمی تھا، سجدہ عبادت نہیں تھا۔ سجدہ عبادت اﷲ جل جلالہ کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں۔

فرشتوں کو سجدہ تعظیمی کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ عبادت والا سجدہ نہیں تھا جیسے سیدنا یوسف علیہ السلام کے سامنے آپ کے بھائیوں نے تعظیماً سجدہ کیا تھا۔ اس کا تفصیلی ذکر ہم یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں کریں گے۔

یہاں بس اتنا سمجھ لو! کہ ہمارے نبیﷺ کی شریعت میں سجدہ تعظیمی حرام ہے۔ پچھلی شریعتوں میں جائز تھا۔

اچھا ماموں! پھر کیا ہوا!

ہاں! تو پھر تما م فرشتے سجدہ میں گرگئے، سوائے شیطا ن کے۔

ایک منٹ بعد! زنیرا آپی نہ جانے کب سے بیٹھی سن رہی تھیں۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں