اب وہ وقت آیا کہ جاں نثار ایک ایک کرکے رخصت ہوچکے اور حضرت امام پر جانیں قربان کرگئے۔ اب تنہا حضرت امام ہیں اور ایک فرزند حضرت امام زین العابدین وہ بھی بیمار و ضعیف۔ باوجود اس کے امام کو تنہا دیکھ کر خیمہ سے باہر آئے اور مصارف کارزار جانے اور اپنی جان نثار کرنے کے لئے نیزہ دست مبارک میں لیا۔ لیکن بیماری، سفر کی کوفت، بھوک پیاس، متواتر فاقوں اور پانی کی تکلیفوں سے ضعف اس درجہ ترقی کرگیا تھا کہ کھڑے ہونے سے بدن مبارک لرزتا تھا۔ باوجود اس کے ہمت مردانہ کا یہ حال تھا کہ میدان کا عزم کردیا۔ حضرت امام نے فرمایا: جان پدر! لوٹ جا ؤ۔ میدان جانے کا قصد نہ کرو۔ میں تمام کنبہ، قبیلہ، عزیز واقارب، خدام و موالی جو ہمراہ تھے، سب راہ حق میں نثار کرچکا۔ الحمدﷲ! کہ ان مصائب کو اپنے جد کریم کے صدقہ میں صبروتحمل کے ساتھ برداشت کیا۔ اب اپنا ناچیز ہدیہ یہ سرراہ خدا میں نظر کرنے کے لئے حاضر ہے۔ تمہاری ذات کے ساتھ بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ بیکساں اہل بیت کو وطن کون پہنچائے گا۔ بیبیوں کی نگہداشت کون کرے گا، جدوپدر کی جو امانتیں میرے پاس ہیں، کس کے سپرد کی جائیں گی۔ قرآن کریم کی محافظت اور حقائق عرفانیہ کی تبلیغ کا فرض کس کے سر پر رکھا جائے گا۔ میری نسل کس سے چلے گی، حسینی سیدوں کا سلسلہ کس سے جاری ہوگا۔ یہ سب توقعات تمہاری ذات سے وابستہ ہیں۔ دودمانِ نبوت و رسالت کے آخری چشم و چراغ تم ہی ہو۔ تمہاری ہی طلعت سے دنیا مستیز ہوگی۔ مصطفےﷺ کے دلدادگان حسن تمہارے ہی روئے تاباں سے حبیب حق کے انوار و تجلیات کی زیارت کریں گے۔ اے نورِ نظر، لخت جگر! یہ تمام کام تمہارے ذمہ کئے جاتے ہیں۔ میرے بعد تم ہی میرے جانشین ہوگے۔ اس لئے میدان جانے کی اجازت نہیں ہے۔ حضرت زین العابدین رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا: میرے بھائی تو جانثاری کی سعادت پاچکے اور حضور کے سامنے ہی ساقی کوثرﷺ کے آغوش رحمت و کرم میں پہنچے۔ میں تڑپ رہا ہوں… مگر حضرت امام نے کچھ پذیرانہ فرمایا اور امام زین العابدین کو ان تمام ذمہ داریوں کا حامل کیا اور خود جنگ کے لئے روزانہ ہوئے۔

منظر روانگی

قبائے مصری پہنی، عمامہ رسول خداﷺ سر پر باندھا، سید الشہداء امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کی سپر پشت پر رکھی، حضرت علی حیدر کرار کی ذوالفقار آبدار حمائل کی۔ اہل خیمہ نے اس منظر کو کس آنکھوں سے دیکھا ہوگا۔ امام میدان جانے کے لئے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ اس وقت اہل بیت کی بے کسی انتہا کو پہنچی ہے اور ان کا سرداران سے طویل عرصہ کے لئے جدا ہوتا ہے۔ ناز پروروں کے سروں سے شفقت پدری کا سایہ اٹھنے والا ہے۔ نونہالان اہل بیت کے گرد یتیمی منڈلائی پھر رہی ہے۔ ازواج سے سہاگ رخصت ہورہا ہے۔ دکھے ہوئے اور مجروح دل امام کی جدائی سے کٹ رہے ہیں۔ بے کس قافلہ حسرت کی نگاہوں سے امام کے چہرۂ دل افروز پر نظر کررہا ہے۔ سکینہ کی ترسی ہوئی آنکھیں پدر بزرگوار کا آخری دیدار کررہی ہیں۔ آن وآن کے بعد یہ جلوے ہمیشہ کے لئے رخصت ہونے والے ہیں۔ اہل خیمہ کے چہروں سے رنگ اڑ گئے ہیں۔ حسرت و یاس کی تصویریں ساکت کھڑی ہوئی ہیں۔ نہ کسی کے بدن میں جنبش ہے، نہ کسی کی زبان میں تاب حرکت۔ نورانی آنکھوں سے موتی ٹپک رہے ہیں اور خاندان مصطفے بے وطنی اور بے کسی میں اپنے سروں سے رحمت و کرم کے سایہ گستر کو رخصت کررہا ہے۔ حضرت امام نے اپنے اہل بیت کو تلقین صبر فرمائی۔ رضائے الٰہی پر صابر و شاکر رہنے کی وصیت کی اور سب کو سپرد خدا کرکے میدان کی طرف رخ کیا۔ اب نہ قاسم ہیں، نہ ابوبکر و عمر، نہ عثمان، نہ عون، نہ جعفر و عباس جو حضرت امام کو میدان جانے سے روکیں اور اپنی جانوں کو امام پر فدا کریں۔ علی اکبر بھی آرام کی نیند سوگئے۔ جو حصول شہادت کی تمنا میں بے چین تھے۔ تنہا امام ہیں اور آپ ہی کو اعداء کے مقابل جانا ہے۔

خیمہ سے چلے اور میدان میں پہنچے حق و صداقت کا روشن آفتاب سرزمین شام میں طالع ہوا۔ امید زندگانی و تمنائے زیست کا گردوغبار اس کے جلوے کو چھپا نہ سکا۔ جب دنیا و آسائش حیات کی رات کے سیاہ پردے آفتاب حق کی تجلیوں سے چاک چاک ہوگئے۔ باطن کی تاریکی اس کی نورانی شعاعوں سے کافور ہوگئی۔ مصطفےﷺ کا فرزند راہِ حق میں گھر لٹا کر کنبہ کٹا کر سربکف موجود ہے۔ ہزارہا سپہ گراں نبرد آزما کا لشکر گراں سامنے ہے اور اس کی پیشانی مصفا پر شکن بھی نہیں۔ دشمن کی فوجیں پہاڑوں کی طرح گھیرے ہوئے ہیں اور امام کی نظر میں سپرکاہ کے برابر بھی ان کا وزن نہیں۔ آپ نے ایک رجز پڑھی جو آپ کے ذاتی و نسبی فضائل پر مشتمل تھی اور اس میں شامیوں کو رسول کریمﷺ کی ناخوشی و ناراضی اور ظلم کے انجام سے ڈرایا گیا تھا۔

خطبہ

خطبہ میں حمدوصلوٰۃ کے بعد فرمایا: اے قوم! خدا سے ڈرو جو سب کا مالک ہے۔ جان دینا اور جان لینا سب اس کے قدرت و اختیار میں ہے۔ اگر تم خداوند عالم جل جلالہ پر یقین رکھتے ہو اور میرے جد امجد حضرت سید انبیاء محمد مصطفیٰﷺ پر ایمان لائے ہو تو ڈرو قیامت کے دن میزان عدل قائم ہوگی۔ اعمال کا حساب کیا جائے گا۔ میرے والدین محترمین اپنی آل کے بے گناہ خونوں کا مطالبہ کریں گے۔ حضور سید انبیاءﷺ جن کی شفاعت گناہ گاروں کی مغفرت کا ذریعہ ہے اور تمام مسلمان جن کی شفاعت کے امیدوار ہیں، وہ تم سے میرے اور میرے جان نثاروں کے خون ناحق کا بدلہ چاہیں گے۔ تم میرے اہل وعیال، اعزہ و اطفال، اصحاب و موالی میں سے ستر سے زیادہ کو شہید کرچکے ہو اور اب میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہو۔ خبردار ہوجا ؤ کہ عیش دنیا میں پائیداری و قیام نہیں۔ اگر سلطنت کی طمع میں میرے درپے آزاد ہو تو مجھے موقع دو کہ میں عرب چھوڑ کر دنیا کے کسی اور حصہ میں چلا جا ؤں۔ اگر یہ کچھ منظور نہ ہو اور اپنی حرکات سے باز نہ آ ؤ تو ہم اﷲ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مرضی پر صابر و شاکر ہیں۔

حضرت امام کی زبان گوہر فشاں سے یہ کلمات سن کر کوفیوں میں سے بہت سے رو پڑے۔ دل سب کے جانتے تھے کہ وہ برسر ظلم و جفا ہیں۔ امام کے خلاف ایک ایک جنبش دشمنان حق کے لئے آخرت کی رسوائی و خواری کا موجب ہے۔ اس لئے بہت سے لوگوں پر اثر ہوا اور ظالمان بد باطن نے بھی ایک لمحہ کے لئے اس سے اثر لیا۔ ان کے بدنوں پر ایک پھریری سی آگئی اور ان کے دلوں پر ایک بجلی سی چمک گئی۔ لیکن شمر وغیرہ بد سیرت و پلید طبیعت رذیل کچھ متاثر نہ ہوئے بلکہ یہ دیکھ کر کہ لشکریوں پر حضرت امام رضی اﷲ عنہ کی تقریر کا کچھ اثر معلوم ہوتا ہے۔ کہنے لگے کہ آپ قصہ کوتاہ کیجئے اور ابن زیاد کے پاس چل کر یزید کی بیعت کرلیجئے تو کوئی آپ سے کچھ تعرض نہ کرے گا۔ ورنہ بجز جنگ کے کوئی چارہ نہیں ہے۔ حضرت امام کو انجام معلوم تھا۔ لیکن یہ تقریر اقامت حجت کے لئے فرمائی تھی کہ انہیں کوئی عذر باقی نہ رہے۔ سید انبیائﷺ کا نور نظر، خاتون جنت فاطمہ زہرا کا لخت جگر بے کسی بھوک پیاس کی حالت میں آل و اصحاب کی مفارقت کے زخم دل پر لئے ہوئے گرم ریگستان میں بیس ہزار جرار لشکر کے سامنے تشریف فرما ہے۔ تمام حجتیں قطع کردی گئیں۔ اپنے فضائل اور اپنی بے گناہی سے اعداء کو اچھی طرح آگاہ کردیا اور بار بار بتادیا ہے کہ میں بقصد جنگ نہیں آیا اور اس وقت تک ارادۂ جنگ نہیں ہے۔ اب بھی موقع دو تو واپس چلا جا ؤں۔ مگر بیس ہزار کی تعداد امام کو بے کس و تنہا دیکھ کر جوش بہادری دکھانا چاہتی ہے۔ جب حضرت امام نے اطمینان فرمایا کہ سیاہ دلان بدباطن کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہا اور وہ کسی طرح خون ناحق و ظلم بے نہایت سے باز آنے والے نہیں تو امام نے فرمایا کہ تم جو ارادہ رکھتے ہو، پورا کرو اور جس کو میرے مقابلہ کے لئے بھیجنا چاہو، بھیجو۔ مشہور بہادر اور یگانہ نبرد آزما جن کو سخت وقت کے لئے محفوظ رکھا گیا تھا، میدان میں بھیجے گئے۔ ابن زہرا کے مقابل ایک بے حیاء تلوار چمکاتا آتا ہے۔ امام تشنہ کام کو آب تیغ دکھاتا ہے۔ پیشوائے دین کے سامنے اپنی بہادری کی ڈینگیں مارتا ہے۔ غرور قوت میں سرشار ہے۔ کثرت لشکر اور تنہائی امام پر نازاں ہے۔ آتے ہی حضرت امام کی طرف تلوار کھینچتا ہے۔ ابھی ہاتھ اٹھا ہی تھا کہ امام نے ضرب فرمائی، سر کٹ کر دور جاپڑا اور غرور شجاعت خاک میں مل گیا۔ دوسرا بڑھا اور چاہا کہ امام کے مقابلہ میں اپنی ہنرمندی کا اظہار کرکے سیاہ دلوں کی جماعت میں سرخروئی حاصل کرے اور ایک نعرہ مارا اور پکار کر کہنے لگا کہ بہادران کون شکن شام وعراق میں میری بہادری کا غلغلہ ہے اور مصر وروم میں شہرۂ آفاق ہوں۔ دنیا کے بہادر میرا لوہا مانتے ہیں۔ آج تم میرے زور وقوت کو اور دا ؤ پیج دیکھو۔ ابن سعد کے لشکری اس متکبر سرکش کی تعلیوں سے بہت خوش ہوئے اور سب دیکھنے لگے کہ کس طرح حضرت امام سے مقابلہ کرے گا۔ لشکریوں کو یقین تھا کہ حضرت امام پر بھوک پیاس کی تکلیف حد سے گزر چکی تھی۔ صدموں نے ضعیف کردیا ہے۔ ایسے وقت امام پر غالب آجانا کچھ مشکل نہیں ہے۔ جب سپاہ شام کا گستاخ جفا جوسر کشانہ گھوڑا کوداتا سامنے آیا۔ حضرت امام نے فرمایا: تو مجھے جانتا نہیں جو میرے مقابل اس دلیری سے آتا ہے۔ ہوش میں ہو اس طرح ایک ایک مقابل آیا تو تیغ خون آشام سے سب کا کام تمام کردیاجائے گا۔ حسین کو بیکس و کمزور دیکھ کر حوصلہ مندیوں کا اظہار کررہے ہو۔ نامردو! میری نظر میں تمہاری کوئی حقیقت نہیں۔ شامی جوان یہ سن کر اور طیش میں آیا اور بجائے جواب کے حضرت امام پر تلوار کا وار کیا۔ حضرت امام نے اس کا وار بچا کر کمر پر تلوار ماری۔ معلوم ہوتا تھا کہ کھیرا تھا کاٹ ڈالا۔

اہل شام کو یہ اطمینان تھا کہ حضرت امام کے سوا اب اور تو کوئی باقی ہی نہیں رہا۔ کہاں تک تھکیں گے۔ پیاس کی حالت، دھوپ کی تپش مضمحل کرچکی ہے۔ بہادری کے جوہر دکھانے کا وقت ہے۔ جہاں تک ہوا، ایک ایک مقابل جائے۔ کوئی تو کامیاب ہوگا۔ اس طرح نئے نئے ومبدم، شیر صولت، پیل پیکر، تیغ زن حضرت امام کے مقابل آتے رہے مگر جو سامنے آیا ایک ہی ہاتھ میں اس کا قصہ تمام فرمایا۔ کسی کے سر پر تلوار ماری تو زین تک کاٹ ڈالی۔ کسی کے حمائلی ہاتھ مارا تو قلمی تراش دیا، خودومغفر کاٹ ڈالے، جوش و آئینے قطع کردیئے، کسی کو نیزہ پر اٹھایا اور زمین پر پٹخ دیا۔ کسی کے سینہ میں نیزہ مارا اور پار نکال دیا۔

زمین کربلا میں بہادرانِ کوفہ کا کھیت بودیا۔ نامورانِ صف شکن کے خون سے کربلا کے تشنہ ریگستان کو سیراب فرمادیا۔ نعشوں کے انبار لگ گئے۔ بڑے بڑے فخر روزگار بہار کام آگئے۔ لشکر اعداء میں شور برپا ہوگیا کہ جنگ کا یہ انداز رہا تو حیدر کا شیر کوفہ کے زن و اطفال کو بیوہ و یتیم بنا چھوڑے گا اور اس کی تیغ بے پناہ سے کوئی بہادر جان بچا کر نہ لے جاسکے گا۔ موقع مت دو اور چاروں طرف سے گھیر کر یکبارگی حملہ کرو۔

فرومائیگان روماہ سیرت حضرت امام کے مقابلہ سے عاجز آئے اور یہی صورت اختیار کی اور ماہ چرغ حقانیت پر جوروجفا کی تاریک گھٹا چھا گئی۔ ہزاروں جوان دوڑ پڑے اور حضرت امام کو گھیر لیا اور تلوار برسانی شروع کی۔ حضرت امام کی بہادری کی ستائش ہورہی تھی اور آپ ان خونخواروں کے انبوہ میں اپنی تیغ آبدار کے جوہر دکھا رہے تھے۔ جس طرف گھوڑا بڑھادیا، پرے کے پرے کاٹ ڈالے۔ دشمن ہیبت زدہ ہوگئے اور حیرت میں آگئے کہ امام کے حملہ جاں ستاں سے رہائی کی کوئی صورت نہیں۔ ہزاروں آدمیوں میں گھرے ہوئے ہیں اوردشمنوں کا سر اس طرح اڑا رہے ہیں جس طرح بادِ خزاں کے جھونکے درختوں سے پتے گراتے ہیں۔ ابن سعد اور ان کے مشیروں کو بہت تشویش ہوئی کہ اکیلے امام کے مقابل ہزاروں کی جماعتیں ہیچ ہیں۔

کوفیوں کی عزت خاک میں مل گئی۔ تمام ناموران کوفہ کی جماعتیں ایک حجازی جوان کے ہاتھ سے جان نہ بچاسکیں۔ تاریخ عالم میں ہماری نامردی کا یہ واقعہ اہل کوفہ کو ہمیشہ رسوائے عالم کرتا رہے گا۔ کوئی تدبیر کرنا چاہئے۔ تجویز یہ ہوئی کہ دست بدست جنگ ہماری ساری فوج بھی اس شیر حق سے مقابلہ نہیں کرسکتی۔ بجز اس کے کوئی صورت نہیں ہے کہ ہر چہار طرف سے امام پر تیروں کا مینہ برسایا جائے اور جب خوب زخمی ہوچکیں تو نیزوں کے حملوں سے تن نازنین کو مجروح کیا جائے۔ تیر اندازوں کی جماعتیں ہر طرف سے گھر آئیں اور امام تشنہ کام کو گرداب بلا میں گھیر کر تیر برسانے شروع کردیئے۔ گھوڑا اس قدر زخمی ہوگیا کہ اس میں کام کرنے کی قوت نہ رہی۔ ناچار حضرت امام کو ایک جگہ ٹھہرنا پڑا۔ ہر طرف سے تیر آرہے ہیں اور امام مظلوم کا تن ناز پرور نشانہ بنا ہوا ہے۔ نورانی جسم زخموں سے چکنا چور اور لہولہان ہورہا ہے … بے شرم کوفیوں نے  اس سنگدلی سے محترم مہمان کے ساتھ سلوک کیا ہے۔ ایک تیر پیشانی اقدس پر لگا۔ یہ پیشانی مصطفےﷺ کی بوسہ گاہ تھی۔ یہ سیمائے نور حبیب خدا کے آرزو مندان جمال کا قرار دل ہے۔ بے ادبانِ کوفہ نے اس پیشانی مصفا اور اس جبین پر ضیا کو تیر سے گھائل کیا۔ حضرت کو چکر آگیا اور گھوڑے سے نیچے آئے۔ اب نامردان سیاہ باطن نے نیزوں پر رکھ لیا۔ نورانی پیکر خون میںنہا گیا اور آپ شہید ہوکر زمین پر گر پڑے۔

انا ﷲ و انا الیہ راجعون

ظالمان بدیکش نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا اور حضرت امام کی مصیبتوں کا اسی پر خاتمہ نہیں ہوگیا۔ دشمنان ایمان نے سر مبارک کو تن اقدس سے جدا کرنا چاہا اور نفرا بن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار چھوٹ گئی۔ خولی ابن یزید یا شبل ابن یزید نے بڑھ کر آپ کے سر مبارک کو تن سے جدا کیا۔ صادق جانباز نے عہد وفا پورا کیا اور دین حق پر قائم رہ کر اپنا کنبہ، اپنی جان راہ خدا میں اس اولوالعزمی سے نذر کی، سوکھا گلا کاٹا گیا اور کربلا کی زمین سید الشہداء کے خون سے گلزار بنی۔ سروتن کو خاک میں ملا کر اپنے جد کریم کے دین کی حقانیت کی عملی شہادت اور ریگستان کوفہ کے ورق پر صدق و امانت پر جان قربان کرنے کے نقوش ثبت فرمائے۔

اعلیٰ اﷲ تعالیٰ مکانہ و اسکنہ بحبوحۃ

جنانہ و امطر علیہ شائبیب رحمۃ ورضوانہ

کربلا کے بیابان میں ظلم و جفا کی آندھی چلی۔ مصطفائی چمن کے غنچہ و گل باد سموم کی نظر ہوگئے۔ خاتون جنت کا لہلہاتا باغ دوپہر میں کاٹ ڈالا گیا۔ کونین متاع، بے دینی اور بے حمیتی کے سیلاب سے غارت ہوگئے۔ فرزندان آل رسول کے سر سے سردار کا سایہ اٹھا۔ بچے غریب الوطنی میں یتیم ہوئے۔ بیبیاں بیوہ ہوئیں۔ مظلوم بچے اور بے کس بیبیاں گرفتار کئے گئے۔ محرم 61ھ کی دسویں تاریخ جمعہ کے روز 56 سال 5 ماہ 5 دن کی عمر میں حضرت امام نے اس دار ناپائیدار سے رحلت فرمائی اور داعی اجل کی لبیک کہی۔ ابن زیاد بدنہاد نے سر مبارک کو کوفہ کے کوچے میں پھروایا اور اس طرح اپنی بے حمیتی اور بے حیائی کا اظہار کیا۔ پھر حضرت سید الشہداء اور ان کے تمام جانباز شہداء کے سروں کو اسیران اہل بیت کے ساتھ شمر ناپاک کی ہمراہی میں یزید کے پاس دمشق بھیجا۔ یزید نے ان سر مبارک اور اہل بیت کو حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مدینہ بھیجا اور وہاں حضرت امام کا سر مبارک آپ کی والدہ ماجدہ حضرت خاتون جنت رضی اﷲ عنہما یا حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کے پہلو میں مدفون ہوا۔