گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے (تیسری قسط)

in Tahaffuz, November 2012, متفرقا ت

تقویٰ کا بلند مقام

یاد رکھیں! تربیت کا پہلا رکن یہ ہے کہ والدین پہلے اپنے اوپر شریعت نافذ کریں۔

حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی عظیم شخصیت میں آپ کے والدین کا بھی کردار موجود ہے۔ آپ کے والد گرامی کا تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ آدھا سیب آپ نے غلطی میں کھالیا تھا تو اس کو معاف کرانے کے لئے سات سال تک باغ کی بغیر اجرت مزدوری کی۔ آپ کی والدہ سیدہ ام الخیر رضی اﷲ عنہا شریعت کی ایسی پاسداری کرنے والی تھیں جنہیں کبھی کسی اجنبی مرد نے نہ دیکھا اور نہ آپ نے کسی نامحرم مرد کو دیکھا۔

ولیہ کی چادر کا مقام

حضرت سیدنا خواجہ نظام الدین اولیاء رضی اﷲ عنہ کی شخصیت اور مقام و مرتبے میں بھی آپ کی والدہ کا حصہ ہے۔

ایک مرتبہ دہلی میں بارش بند ہوگئی۔ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی التجا کی آپ نے فرمایا، ابھی آتا ہوں۔ آپ گھر میں گئے۔ جب باہر تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں ایک دھاگہ تھا۔ اس دھاگے کو ہاتھ میں لئے ہوئے رو رو کر اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں دعا مانگنے لگے ’’اے مالک و مولیٰ تیرے بندے بارش کے منتظر ہیں، قحط سالی میں مبتلا ہیں۔ اے پروردگار تو جانتا ہے۔ یہ دھاگہ میری اس نیک اور پرہیزگار والدہ کے دوپٹے کا ہے جس پر کسی نامحرم اجنبی مرد کی نگاہ نہیں پڑی‘‘ یہ دعا کرتے ہی بارش ہونے لگی (اخبار الاخیار)

پیدائشی 18 پاروں کے حافظ

جب شادی ہوجاتی ہے تو شادی کی تقریب سے لے کر بچے کی پیدائش تک کتنے گناہ کئے جاتے ہیں، خصوصا جب عورت حاملہ ہوتی ہے اگر اس حالت میں عورت فلمیں ڈرامے دیکھے، میوزک سنے، غیبت، چغلی کرے یا جھوٹ بولے تو بتایئے اس کی گود میں اﷲ کا ولی کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ جب پڑھنے کے لئے گئے تو استاد نے کہا بیٹا پڑھو ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘‘ تو آپ نے بسم اﷲ پڑھ کر اٹھارہ پارے زبانی سنادیئے۔ استاد نے فرمایا بیٹا آگے پڑھیئے تو آپ نے فرمایا اس سے آگے تو مجھے نہیں آتا۔ اس لئے کہ جب میں ماں کے پیٹ میں تھا تو مدت حمل میں اور دودھ پلانے کے زمانے میں میری والدہ نے یہی پارے پڑھے تھے، اتنا ہی مجھے یاد ہے۔

بچے کے کان میں اذان کی وجہ

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ بچے کی پیدائش پر دائیں کان میں اذان دی جاتی ہے اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے لیکن ہم اس نکتے کو نہیں سمجھے کہ اذان اور اقامت کیوں کہی جاتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بچہ دنیا میں آئے تو آتے ہی اس کے کان میں اﷲ کا ذکر اور اس کے رسولﷺ کا نام ڈالا جائے جبکہ دوسری طرف آج مونٹیسوری اور نرسری کے بچے کو میوزک اور گانوں کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے۔ افسوس! ہمارے موبائل فون ہوں یا بچے کے کھلونے ہوں اس سے میوزک کی آوازیں آرہی ہوتی ہیں تو جس بچے کی تربیت میوزک کے ماحول میں ہو، بھلا وہ اسلام کا مجاہد کیسے بن سکتا ہے کیونکہ حضور پرنورﷺ فرماتے ہیں کہ موسیقی دل کو مردہ کردیتی ہے تو اب آپ خود ہی سوچیں کہ جس بچے کی پرورش میں پیدائش سے لے کر جوانی تک میوزک کا عمل دخل ہو، ہماری گاڑی چلے تو میوزک، اگر ریورس کریں تو میوزک، بریک ماریں تو میوزک، گھر کے دروازے کی گھنٹی بجے تو میوزک، آلارم بجے تو میوزک پھر کیسے اپنے بچوں کے بارے میں امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام کی خدمت سرانجام دیں گے۔ ہم کیسے امید کرسکتے ہیں کہ وہ محمود غزنوی بنیں گے۔ محمد بن قاسم کی طرح اسلام کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے اپنے سروں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

 بچے کا نام کیسا ہونا چاہئے؟

بچوں کی تربیت میں ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ان کے اچھے نام رکھے جائیں کیونکہ شخصیت پر ناموں کے اثرات پڑتے ہیں۔ افسوس! آج کل ہمیں اچھے نام نہیں بلکہ نئے نام رکھنے کا شوق ہے حالانکہ جب بھی بچوں کے نام رکھے جائیں تو انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیاء کرام کی نسبت سے رکھے جائیں۔ نئے ناموں کے شوقین نہ بنیں اور فلمی اداکاروں یا کھلاڑیوں کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھنا انتہائی نادانی ہے بلکہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اگر ہم بچوں کے اسلامی نام رکھیں مثلا عمر، عثمان، حمزہ تو یہ نام بھی نسبت سے نہیں رکھتے بلکہ ہمیں اچھے لگتے ہیں تو رکھتے ہیں۔ یاد رکھئے! اچھے نام رکھنے کی خوب برکتیں اس وقت حاصل ہوں گی جب صرف اور صرف نسبت کا اعتبار ہو اور نسبت کا اعتبار کرتے ہوئے نام رکھیں گے تو برکتیں بھی ملیں گی اور ساتھ ساتھ یہ بھی دعا کرتے رہیں کہ اے اﷲ! تیرے نبی یا صحابی یا ولی کے نام پر اپنے بچے کا نام رکھ رہا ہوں۔ اے مالک و مولیٰ! تو میرے بچے کو ان کا سچا غلام بنادے۔

آداب تربیت

1۔ جب بچہ بولنے لگے تو سب سے پہلے اسے اﷲ کا نام سکھایا جائے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جب بھی بچے کو گود میں لیا جائے تو اﷲاﷲ کا نام اس کے سامنے پڑھیں تو بچہ بھی سب سے پہلا کلام ان شاء اﷲ لفظ اﷲ کہے گا پھر بچے کو لا الہ الا اﷲ سکھائیں اور پھر مکمل کلمہ سکھائیں۔

2۔ ایک اہم بات! ہمیشہ بچے کو پاک کمائی سے پاک روزی دیں کیونکہ ناپاک مال ناپاک ہی عادت لاتا ہے۔ یاد رکھیں! بچے کے خون میں ناپاک مال یا حرام کمائی شامل ہوگئی تو وہ والدین کا خدمت گزار ہو، یہ بہت مشکل ہے۔

3۔ بیٹی کی پیدائش کے موقع پر ایسی ہی خوشی کا اظہار کریں جیسے لڑکے کی پیدائش پر کی جاتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی کا اظہار کریں۔

4۔ والدین کو آپس میں مشورہ کرنا چاہئے کہ اولاد کی تربیت کیسے کی جائے اور ہم سے کہاں کوتاہی ہورہی ہے۔ بچے کی کس خامی کو کیسے دور کرنا ہے۔ ہوسکے تو اس کے لئے ہفتہ میں ایک دن مخصوص کرلیں۔

5۔ لڑائی جھگڑوں سے بچوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ والدین اگر بچوں کے سامنے ایک دوسرے کی باتوں کا رد کریں گے، لڑائی جھگڑا کریں گے تو یاد رکھیں! نہ تو بچوں کے دل میں ماں کی عزت رہتی ہے اور نہ باپ کاوقار یعنی پورا ماحول خراب اور تباہ ہوجاتا ہے۔

6۔ بچوں کے ساتھ ہمیشہ گفتگو کرتے ہوئے ’’آپ‘‘ کا لفظ کہیں ’’تو‘‘ سے بات چیت نہ کریں۔

7۔ جب اولاد کو نصیحت کی جائے تو محبت اور الفت کے ساتھ کی جائے، ہمیشہ سمجھانے کے انداز میں کی جائے۔

8۔ نصیحت ہمیشہ تنہائی میں کی جائے۔

9۔ بچوں کو دوسروں کے سامنے ذلیل نہ کیاجائے۔

10۔ بچوں سے جب بات کی جائے تو دھیمے لہجے اور آسان انداز میں کی جائے۔ ایسی باتیں نہ کی جائیں جو مشکل ہوں، تصوراتی گفتگو سے پرہیز کریں۔

11۔ کبھی جھوٹ نہ بولے، یہ وبا بہت عام ہے۔ بلی آئی، کتا آیا، شیر آیا، بھوت آگیا۔ اس طرح کی باتیں بچوں کو کہی جاتی ہیں اور نادان والدین یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تربیت کا حصہ ہے۔ یاد رکھئے! اولاً تو اس سے بچہ ڈرپوک بن جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ اس بات کا عادی ہوجاتا ہے کہ جھوٹ بولنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

12۔ بار بار بچے کو ٹوکنا، ڈانٹنا، مارنا ضدی بنادیتا ہے۔

13۔ بچے پر بچپن سے کوشش کی جائے کہ وہ نیکیوں اور سنتوں کا عادی ہو اور اس کاآسان طریقہ یہ ہے کہ ہم خود سنتوں کے عامل بن جائیں۔ ہمارا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا سب سنتوں کے مطابق ہو تو ان شاء اﷲ یہ ساری برکتیں بچوں کو بھی ملیں گی۔

یاد رکھئے! تربیت میں معمولی سی کوتاہی ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرسکتی ہے۔ اس بات کو اس مشہور واقعہ سے سمجھئے۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں