آسماں کو چھورہی ہے رفعتِ عبدالعلیم علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, November 2012, ا سلا می عقا ئد, ندیم احمد ندیم قادری نورانی

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے خلیفہ اجل اور مبلغ اسلام حضرت امام شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ کے والد ماجد، علیم رضا، سفیر اسلام، سیاح عالم، مبلغ اعظم حضرت علامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدیقی قادری علیہ الرحمہ 15 رمضان المبارک 1310ھ بمطابق 3 اپریل 1893ء بروز پیر، محلہ مشائخاں، شہر میرٹھ، صوبہ یو پی، ہندوستان میں نامور صوفی عالم دین ، نعت گو شاعر، امام و خطیب جامع مسجد ’’التمش‘‘ میرٹھ، حضرت الحاج علامہ قاضی مفتی شاہ عبدالحکیم جوش و حکیم صدیقی قادری علیہ الرحمہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ عموماً آپ کی پیدائش کا سن 1892ء لکھا جاتا ہے، جبکہ تاریخی شواہد اور آن لائن کلینڈر کے مطابق 15 رمضان 1310ھ کو عیسوی سن 1893ء تھا، نہ کہ 1892ء۔ معروف ادیب و شاعر حضرت مولانا محمد اسماعیل میرٹھی علیہ الرحمہ جن کی نظمیں آج بھی داخل نصاب ہیں، آپ کے والد ماجد کے چھوٹے بھائی تھے، دونوں بھائیوں کی عمروں میں 14 سال کا فرق تھا۔ مبلغ اعظم حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ نجیب الرطفین (ماں اور باپ دونوں طرف سے) صدیقی تھے چنانچہ آپ کا سلسلہ نسب 36 ویں پشت میں حضرت محمد بن ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہما تک اور سلسلہ حسب (ماں کی طرف سے سلسلہ نسب) 32 ویں پشت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے مورث اعلیٰ حضرت مولانا قاضی صوفی حمید الدین صدیقی 1525ء میں ظہیر الدین بابر بادشاہ کے ہمراہ ہندوستان تشریف لائے تھے۔ اس طرح آپ کے آباؤ اجداد میں سے کئی حضرات قاضی القضات کے منصب پر فائز رہے۔ ’’حیات اسماعیل‘‘ میں درج شدہ معلومات کی روشنی میں حضرت مولانا قاضی صوفی حمید الدین صدیقی خجندی علیہ الرحمہ تک، مبلغ اعظم کا شجرہ نسب یہ ہے

’’شاہ محمد عبدالعلیم بن شاہ عبدالحکیم جوش بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد بن مولانا محمد باقر بن محمد عاقل بن مولانا محمد شاکر بن مولانا عبداللطیف بن مولانا یوسف بن مولانا داؤد بن مولانا احمد بن مولانا قاضی صوفی حمید الدین صدیقی خجندی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہم‘‘

(محمد اسلم سیفی بن مولانا محمد اسماعیل میرٹھی (خان بہادر) سابق چیئرمین، میونسپل بورڈ، میرٹھ ’’حیات اسماعیل (مع کلیات اسماعیل)‘‘ مرتبہ و مدونہ، محمد اقبال رانا، شائع کردہ ربائٹ بکس لاہور 2003ء) ص 30 تا 31)

آپ نے اردو، عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی اپنے والد بزرگوار سے حاصل کی۔ چار سال دس ماہ کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ ختم کیا اور صرف سات سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل حفظ کرلیا۔ بعد ازاں مدرسہ عربیہ اسلامیہ میرٹھ میں داخل ہوئے۔ تین جمادی الاخریٰ 1322ھ (اگست 1904ء) کو والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھا تو بقیہ تعلیم و تربیت آپ کی والدہ ماجدہ (والدہ صاحبہ کا انتقال 1931ء میں اپریل کے آخر یا مئی کے شروع میں ہوا) اور برادر اکبر حضرت علامہ احمد مختار صدیقی علیہ الرحمہ نے کی۔ چنانچہ حضرت مبلغ اعظم نے مدرسہ قومیہ عربیہ، میرٹھ میں داخلہ لیا اور 1326ھ میں امتیازی حیثیت سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔ دینیات کے موضوع پرنیشنل عربک انسٹی ٹیوٹ سے ڈپلومہ کیا۔ تبلیغ دین کے جذبے کے تحت، آپ نے علوم جدیدہ کی طرف متوجہ ہوکر بی۔ اے کیا اور پھر وکالت کا امتحان پاس کرکے الہٰ آباد یونیورسٹی سے ایل۔ایل۔بی کی سند حاصل کی۔ میرٹھ کے مشہور حکیم احتشام الدین صاحب سے فن حکمت (علم طب) سیکھا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے بھی آپ کو شرف تلمذ حاصل تھا۔ اعلیٰ حضرت نے مبلغ اعظم علیہ الرحمہ کو 19 ذی الحجہ 1332ھ کو صحاح ستہ وغیرہا کتب احادیث کے روایت کرنے کی سند اجازت عطا فرمائی۔ اس سند کا عکس حضرت مبلغ اعظم کے پچاسویں عرس شریف کے موقع پر خواتین اسلامی مشن، پاکستان گلشن اقبال کراچی کے شائع کردہ خصوصی مجلیٰ ’’عظیم مبلغ اسلام‘‘ کے صفحہ 156پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ کو دنیا کی بہت سی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ جن میں اردو، انڈونیشی، انگریزی، جاپانی، جرمن، چینی، ڈچ، سواحلی (افریقی)، عربی، فارسی، فرانسیسی، ملائی، ہندی وغیرہ شامل ہیں۔ آپ نے السنہ شرقیہ (Oriental Languages) میں پنجاب یونیورسٹی سے سندبھی حاصل کی۔ آپ ایک قادر الکلام نعت گو شاعر بھی تھے اور ’’علیم‘‘ تخلص کرتے تھے۔ آپ کو فن خطابت میں بھی بڑی مہارت حاصل تھی۔ ماہر رضویات و مجددیات مسعود ملت حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ، خلیل احمد رانا صاحب کی تالیف ’’مبلغ اسلام علامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدیقی قادری‘‘ کی تقدیم میں تحریر فرماتے ہیں

’’جاپان کی ایک مجلس میں، جہاں آپ (علامہ شاہ محمد عبدالعلیم صدیقی) نے تقریر فرمائی، ٹوکی کے پروفیسر این۔ ایچ۔ برلاس نے انگریزی زبان میں آپ کی مہارت کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کی آواز کو ترنم ریز و دل آویز قرار دیا۔ راقم (ڈاکٹر مسعود احمد) کو بھی حضرت مولانا کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی آواز میں بلاکی کشش اور کھنک تھی۔ اردو، عربی، انگریزی اور بعض دوسری زبانوں میں بے تکان تقریر کرتے تھے‘‘

آپ کی مقررانہ و خطیبانہ صلاحیتوں کی بناء پر ہی ایشیاء، افریقہ اور یورپ کے مسلم مورخوں نے آپ کو ’’عدیم النظیر مقرر‘‘ قرار دیا۔ آپ نے اپنی زندگی کی سب سے پہلی تقریر 1909ء میں جامع مسجد میرٹھ میں’’میلاد شریف‘‘ کے موضوع پر کی۔ مبلغ اعظم علیہ الرحمہ کی بیعت و خلافت کے حوالے سے آپ کی شہزادی محترمہ ڈاکٹر فریدہ احمدصاحبہ مدظلہ العالیہ نے راقم الحروف سے ایک ملاقات کے دوران فرمایا

’’بعض لوگ میرے والد ماجد کے متعلق لکھ دیتے ہیں کہ آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی کے مرید تھے، یہ بات درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ آپ اپنے برادر اکبر حضرت علامہ احمد مختار صدیقی کے مرید تھے، البتہ آپ کو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے شرف خلافت ضرور حاصل تھا‘‘

اعلیٰ حضرت کے علاوہ حضرت مبلغ اعظم کو اپنے پیرومرشد یعنی برادر اکبر حضرت علامہ احمد مختار صدیقی، قطب المشائخ حضرت ابو احمد سید شاہ محمد علی حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی عرف ’’اشرفی میاں‘‘ علیہم الرحمہ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی، نیز مذکورہ بزرگوں کے علاوہ اپنے والد ماجد اور حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی، شیخ احمد الشمس مراکشی مدنی اور لیبیا کے صوفی بزرگ حضرت شیخ السنوسی علیہم الرحمہ سے بھی آپ نے روحانی فیوض کا اکتساب کیا۔ شیخ الدلائل حضرت مولانا عبدالحق ابن یار محمد صدیقی الہ آبادی مہاجر مکی سے (جن کی دلائل الخیرات شریف کی سند بہت معروف ہے) دلائل الخیرات کی اجازت لی۔ مبلغ اعظم پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ بڑی شفقت فرماتے اور پیار سے آپ کو ’’علیم رضا‘‘ کے لقب سے پکارتے، علاوہ ازیں اپنے قصیدے ’’الاستمداد علی اجیال الارتداد‘‘ میں اپنے خلفاء اور تلامذہ کے ذکر میں، بدعقیدہ، بدمذہب گروہ کے مقابلے میں، آپ کے علمی مقام کو یوں بیان فرمایا ہے:

عبدِ علیم کے علم کو سن کر

جہل کی بہل بھگاتے یہ ہیں

آپ بھی اعلیٰ حضرت سے بڑی گہری عقیدت رکھتے تھے، جب 1919ء میں حج کا فریضہ ادا کرنے گئے تو عرب میں اعلیٰ حضرت کی غائبانہ پذیرائی اور قدرومنزلت ملاحظہ کی۔ جب حرمین شریفین کی زیارت سے لوٹے تو بریلی میں اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر اعلیٰ حضرت ہی کی شان میں ایک اپنی منقبت پڑھ کر سنائی، جس کے ایک شعر میں اس مقبولیت کاذکر اس طرح کیا:

عرب میں جاکے ان آنکھوں نے دیکھا جس کی صولت کو

عجم کے واسطے لاریب وہ قبلہ نما تم ہو

حرمین شریفین سے واپسی کے اس موقع پر، جب حضرت علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ نے اپنی پوری منقبت پڑھ کر سنا دی تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا

’’مولانا میں آپ کی خدمت میں کیا پیش کروں؟ (اپنے عمامے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے، جو بہت قیمتی تھا، فرمایا) اگر اس عمامے کو پیش کروں تو آپ اس دیار پاک سے تشریف لارہے ہیں، یہ عمامہ آپ کے قدموں کے لائق بھی نہیں، البتہ میرے کپڑوں میں سب سے بیش قیمت ایک جبہ ہے، وہ حاضر کئے دیتا ہوں‘‘

چنانچہ اعلیٰ حضرت نے کاشانہ اقدس سے سرخ کاشانی مخمل کا جبہ مبارکہ لاکر عطا فرمایا اور حضرت مبلغ اعظم نے سروقد کھڑے ہوکر، دونوں ہاتھ پھیلا کر، اس جبے کو آنکھوں سے لگایا، لبوں سے چوما، سر پر رکھا، پھر سینے سے دیر تک لگائے رہے

(ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ‘‘ حیات اعلیٰ حضرت‘‘ شائع کردہ مکتبہ نبویہ، لاہور ص 119تا 120)

مبلغ اعظم علیہ الرحمہ کے داماد (ڈاکٹر فریدہ احمد صاحبہ کے شوہر) پروفیسر محمد احمد صدیقی صاحب نے مجلہ ’’عظیم مبلغ اسلام‘‘ (شائع کردہ خواتین اسلامی مشن، پاکستان گلشن اقبال کراچی ستمبر 2003) کے صفحہ 24 پر مبلغ اعظم کے خلفاء کے تحت دو ناموں

’’ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری (مبلغ اعظم کے بڑے داماد یعنی مرحومہ امت السبوح سبحیہ صاحبہ کے شوہر) اور مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ حضرت علامہ ابو داؤد محمد صادق رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنی تالیف ’’شاہ احمد نورانی‘‘ حصہ اول کے صفحہ 12 پر رقم طراز ہیں

’’مولانا شاہ احمد نورانی کو اپنے والد بزرگوار علیہ الرحمہ سے بیعت و خلافت اور سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں منسلک ہونے کا شرف حاصل ہے اور آپ نے پاکستان و بیرون پاکستان اپنی وسیع تبلیغی مساعی و مسلسل دینی جدوجہد اور شریعت و طریقت کی خدمات سرانجام دے کر اپنے والد ماجد کی نیابت و جانشینی کا حق ادا کیا۔‘‘

حضرت مبلغ اعظم علیہ الرحمہ کے خلفاء میں تیسرا نام ’’فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا حافظ قاری مفتی فضل الرحمن رحمانی صدیقی قادری مدنی علیہ الرحمہ‘‘ کا بھی ملتا ہے چنانچہ جناب شیخ محمد عارف قادری ضیائی مدنی علیہ الرحمہ اپنی تالیف ’’سیدی ضیاء الدین احمد القادری‘‘ جلد دوم (شائع کردہ حزب القادریہ، لاہور) کے صفحہ 409 پر رقم طراز ہیں

’’مبلغ اسلام حضرت علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی قادری رحمتہ اﷲ علیہ نے  1365ھ میں، جبکہ آپ (حضرت علامہ فضل الرحمن مدنی) کی عمر 21 برس تھی، سند حدیث کے ساتھ جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت عنایت فرمائی اور وہ تسبیح عنایت فرمائی جو سیدنا اعلیٰ حضرت عظیم البرکت (امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی) رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ (حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقی) کو عطا فرمائی تھی۔ اس دن آپ (حضرت فضل الرحمن مدنی) کے سب سے بڑے بیٹے حضرت حافظ حبیب الرحمن قادری رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کاعقیقہ تھا‘‘

حضرت مولانا فضل الرحمن مدنی علیہ الرحمہ اعلیٰ حضرت کے مرید و خلیفہ قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین احمد رحمانی صدیقی (حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی اولاد کو ’’رحمانی صدیقی‘‘ یا صرف ’’رحمانی‘‘ کہا جاتا ہے) قادری مہاجر مدنی علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند و جانشین اور شاہ احمد نورانی صدیقی کے سسر اور ہم سبق تھے۔ آپ اور قائد ملت اسلامیہ دونوں نے ایک ساتھ ہی اسناد حضرت شیخ القرا حسن الشاعر علیہ الرحمہ کے دامن شفقت میں قرأت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ مبلغ اعظم حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ پیشہ ور معلم یا مدرس تو نہ تھے، لیکن تبلیغ دین کے جذبے کے تحت آپ نے یہ میدان بھی خالی نہیں چھوڑا۔ خانہ کعبہ میں درس قرآن مجید بھی دیتے رہے، مسجد نبوی شریف میں باب سیدنا صدیق اکبر کے سامنے ستون سے متصل بیٹھ کر گنبد خضرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں بہت سے طلبہ کو تفسیر جلالین اور کتب احادیث بخاری شریف و مشکوٰۃ شریف بھی پڑھاتے رہے اور ان کے سوالات کے جوابات بھی ارشاد فرماتے رہے۔ متعدد علمائے کرام کو مسجد نبوی میں حدیث کی سندیں بھی عطا فرمائیں۔ مبلغ اعظم کے شاگردوں کی تعداد سے متعلق رفیقِ مولانا نورانی حضرت سید شاہ فرید الحق صاحب علیہ الرحمہ مجلہ ’’عظیم مبلغ اسلام‘‘ (شائع کردہ خواتین اسلامی مشن پاکستان، گلشن اقبال کراچی ستمبر 2003) کے صفحہ 29 پر فرماتے ہیں ’’کتنوں نے شاگردی اختیار کی ،صحیح تعداد کا اندازہ ممکن نہیں ہے۔ تھوڑا بہت اندازہ ایک سووینیئر (Souvenir) کے ان الفاظ سے ہوتا ہے جو ماریشس میں1941ء میں مولانا کی آمد کے موقع پر انگریزی میں شائع ہوا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ان کے لاتعداد شاگرد ہیں جن میں صرف ماریشس میں ان کے 10 ہزار شاگردوں پر اس جزیرے کو فخر ہے‘‘ الغرض، دنیا کے بہت سے لوگوں کو آپ کے شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کے چند خاص خاص شاگردوں کے نام یہ ہیں۔

(1) امام شاہ احمد نورانی صدیقی (2) مولانا فضل الرحمن انصاری (3) مسٹر عزیز ایچ عباسی، نیوزی لینڈ (4) ڈاکٹر محمد عالم، آسٹریلیا (5) جے ماجد، سیلون  (6) ڈاکٹر ایچ۔ ایس منشی، مدیر دی جینوئن اسلام، سنگاپور (7) سید ابراہیم الشگوف (8) میجی گن یونیورسٹی کے ماہر تعلیم مسٹر عبدالباسط (9) 1950ء میں شرقی ریاست ہائے متحدہ کے مفتی حضرت عبدالرحمن لٹسر آپ کے شاگرد ہوئے (10) جانشین قطب مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن مدنی نے مبلغ اعظم علیہ الرحمہ سے ’’ادب‘‘ وغیرہ کی کتب کا درس لے کر، علوم کی تکمیل کی اور سند حدیث کے ساتھ جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل کی۔

مبلغ اعظم نے اپنی پوری زندگی میں تقریبا 35 بار حج بیت اﷲ کی سعادت حاصل کی۔ آپ نے پہلا حج 1919ء میں ادا فرمایا۔ آپ نے اپنی تبلیغی زندگی کا باقاعدہ آغاز 1914ء سے کیا۔ تبلیغ دین کے سلسلے میں بے شمار ممالک کے دورے کئے۔ آپ کی تبلیغ کے نتیجے میں مسلمان ہونے والے افراد کی تعداد کے متعلق آپ کے خلف الرشید حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ نے آپ کے عرس شریف کے موقع پر ’’مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا

’’میرے والد رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی زندگی میں تقریبا ایک لاکھ سے زائد عیسائیوں، ملحدوں، ہندوؤں اور کافروں کو مسلمان کیا‘‘ (خطاب مورخہ 21 مئی 1999ء (بعد نماز عشاء) مل والا اپارٹمنٹ، رنچھوڑ لائن کراچی)

سب سے زیادہ عیسائیوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ بہت سے قادیانیوں کی بھی توبہ اور ایمان کا آپ سبب بنے۔ آپ کی تبلیغی مساعی سے ایک طرف غیر مسلموں نے اسلام سے رشتہ جوڑا تو دوسری جانب آپ کے علم و عمل سے متاثر ہوکر لاکھوں مسلمان آپ کے دامن سے وابستہ ہوئے۔ چنانچہ آپ کے داماد پروفیسر محمد احمد صدیقی صاحب لکھتے ہیں ’’پوری دنیا میں آپ کے 10 لاکھ سے زیادہ مرید تھے‘‘ (مجلہ ’’عظیم مبلغ اسلام‘‘ ص 24)

آپ نے بے شمار ملکوں میں متعدد مساجد، لائبریریز، تعلیمی، تبلیغی ادارے قائم فرمائے، اسپتال اور یتیم خانے تعمیر کرائے، کئی ایک رسالے (مثلا 1931ء میں سنگاپور سے رئیل اسلام سنگاپور ہی سے 1936ء سے دی جینؤن اسلام وغیرہ) جاری کئے۔ مبلغ اعظم نے کئی تنظیمیں بھی تشکیل دیں۔ مثلا کمیونزم اور لادینیت کے خلاف سنگاپور میں 1949ء میں ’’تنطیم بین المذاہب‘‘ قائم فرمائی۔ اس موقع پر آپ کی خدمات کے اعتراف میں مختلف ادیاب کے پیشواؤں نے متفقہ طور پر آپ کو His EXalted Eminence (فضیلت مآب) کا خطاب دیا۔ سعودی حکومت نے حاجیوں پر ٹیکس لگایا تو آپ نے بڑی کوشش اور بحث و مباحثہ کرکے والی سعودی عرب سلطان عبدالعزیز بن سعود کو حج ٹیکس ختم کرنے پر مجبور کردیا۔ آپ کے اس کارنامے سے آج تک دنیا بھر کے مسلمان فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن صد افسوس! اکثر مسلمان اپنے محسن کے اس عظیم احسان سے ناواقف ہیں۔ تحریک پاکستان میں بھی آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اس تحریک میں آپ نے قدم قدم پر مسلمانوں کی عملی طور پر رہنمائی فرمائی۔ آپ ہی کی کوششوں سے عرب ممالک سمیت تمام عالم اسلام مطالبہ پاکستان کا حامی بنا۔

(نوٹ: آپ کے مبارک فرزند حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ نے بھی اپنے عالم شباب میں، تقاریر و عملی کردار کے ذریعے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور 1970ء تا 2003ء یعنی تادم رخصت پاکستان کے لئے آپ کی خدمات کسی سے مخفی نہیں)

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ مبلغ اعظم حضرت علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ کے تعلقات بڑے دوستانہ تھے۔ قیام پاکستان کے تین دن بعد، پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی خصوصی دعوت پر مرکزی عیدگاہ مسجد، جامع کلاتھ مارکیٹ، کراچی میں آپ نے عیدالفطر کا خطبہ دیا اور نماز بھی پڑھائی، جس میں قائداعظم، لیاقت علی خاں اور سردار عبدالرب نشتر وغیرہم زعمائے ملک نے شرکت کی۔ قائداعظم نے آپ کو ’’گشتی سفیر پاکستان‘‘ کا خطاب دیا۔ آپ کے بڑے بھائی حضرت مولانا نذیر احمد صدیقی خجندی علیہ الرحمہ سے بھی قائداعظم بہت سے امور میں رہنمائی لیتے تھے، یہاں تک کہ جب قائداعظم نے ایک پارسی لڑکی رتن بائی سے نکاح کرنا چاہا تو مولانا نذیر احمد علیہ الرحمہ ہی کے پاس لے کر آئے، آپ نے اسے مسلمان کیا اور نکاح پڑھایا۔ مبلغ اعظم علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی ایک بہترین ادیب بھی تھے، چنانچہ آپ نے اپنی عدیم الفرصت کے باوجود، چند تصانیف و تالیفات بھی یادگار چھوڑی ہیں۔ جن میں احکام رمضان المبارک، بہار شباب، دیوبندی مولویوں کا ایمان، ذکر حبیب حصہ اول، فرت من قسورہ، کتاب التصوف مسمیٰ بہ، لطائف المعارف، مرزائی حقیقت کا اظہار، المراۃ القادیانیہ (عربی) The Mirror، How to Preach Islam، The Elementary Teaching of Islam (for Hanafis)، The Clarion Call وغیرہ کتب شامل ہیں۔ آپ کی تین بڑی تمنائیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ:

مدینے جاؤں، نہ آ ؤں، وہیں پہ رہ جا ؤں

درِ حبیب پہ قصہ تمام ہوجائے

چنانچہ اسی امید پر، بروز پیر 20 صفر المظفر 1366ھ مطابق 13 جنوری 1947ء کو آپ نے رہائش کیلئے مدینہ منورہ میں زمین خریدی، جس کا قطعہ تاریخ سید اسلام الحی سیفی ندوی متوطن مسعود منزل، بلیا و مدیر ’’علم و ادب، دہلی‘‘ نے حسب ذیل کہا

(امداد صابری: ’’تذکرہ شعراء حجاز‘‘، دہلی 1969ء)

بارک اﷲ عالم مقبول

شیخ عبدالعلیم فکرش راست

شد بہ تملیک قطعۂ اراضی

کہ بہ طیبہ خرید و خیر بخواست

ثمرۂ یافت ایں زِ عشق رسول

گو یمش کز درِ رسول عطاست

چوں رسیدم بہ ایں خبر سیفیؔ

ذہن تاریخ فی البدیہہ بخواست

گفتم از ارض طیبہ مضمونش

بارک اﷲ لک، بلا کم و کاست

(1366ھ)

قیام پاکستان کے بعد اس قطعۂ اراضی پر ایک مکان بنواکر اسے ’’وقف علی الاولاد‘‘ کردیا اور شرط رکھ دی کہ اگر میری کوئی نرینہ اولاد نہ رہے، تو یہ مکان مسجد نبوی کی ملکیت میں شامل کرلیا جائے۔ آپ کی دوسری تمنا یہ تھی کہ موت سنت نبوی کے مطابق 63 برس کی عمر میں آئے۔ چنانچہ جب آپ کی عمر شریف 62 سال کی ہوئی تو( 1372ھ 1953ء) میں آپ نے مستقل طور پر مدینہ منورہ ہی میں رہائش اختیار کرلی اور کہیں آنا جانا، یہاں تک کہ تبلیغی دوروں کو بھی موقوف کردیا۔ جب کوئی آپ کو کہیں آنے کی دعوت دیتا تو فرماتے ’’میری زندگی کا صرف ایک سال رہ گیا ہے، وہ میں یہاں مدینہ منورہ ہی میں گزاروں گا‘‘ چنانچہ آپ کی یہ تمنا اور پیشن گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ 22 اور 23 ذی الحجہ (اتوار اور پیر) کی درمیانی شب 1373ھ مطابق 22 اگست 1954ء کو مدینہ منورہ ہی میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کے دادا سسر، قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین احمد قادری مدنی علیہم الرحمہ نے پڑھائی۔ حضرت مبلغ اعظم علیہ الرحمہ نے اپنے ایک خطاب کے دوران جس کی آڈیو کیسٹ راقم کے پاس موجود ہے، چند نعتیہ اشعار پڑھے، جن میں ایک شعر یہ بھی تھا۔

قریب روضہ اقدس اگر مدفن میسر ہو

دل مضطر کو آغوش لحد آغوش مادر ہو

اﷲ تبارک و تعالیٰ نے جنت البقیع میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہاکے مبارک قدموں میں آپ کو دفن کے لئے جگہ عطا کرکے آپ کی یہ تیسری خواہش بھی پوری فرمادی۔ اس فقیر نے  عرض کیا ہے:

مل گیا مدفن قریب روضہ اقدس انہیں

یعنی مقبول خدا ہے دعوت عبدالعلیم

میں اپنے اس مضمون کا اختتام رفیق مولانا نورانی جمیل ملت حضرت علامہ جمیل احمد نعیمی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کے ان کلمات پر کرتا ہوں

’’آپ (علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ) کے خانوادے اور آپ کی دینی، سماجی، اصلاحی اور تبلیغی خدمات پر بہت کچھ تحریر کیا جاسکتا ہے، لیکن افسوس صد افسوس! کہ ہم نے اس عظیم عالم اور مبلغ اسلام، جن کی تعمیر و تشکیل پاکستان میں دیگر علماء و مشائخ اہل سنت کے ساتھ عظیم و بیش بہا خدمات ہیں (کو) فراموش کردیا۔ اگر دیانت داری سے توجہ کی جائے تو آپ کی خدمات سنہری حروف میں تحریر کئے جانے کے قابل ہیں۔ احقر نے اپنے بعض اکابر سے یہ بھی سنا ہے کہ علامہ موصوف کی ایمانی، روحانی اور تبلیغی صلاحیتوں کو دیکھ کر بعض غیر مسلموں نے یہاں تک کہا کہ ان عظیم صلاحیتوں کی شخصیت اگر ہمارے پاس ہوتی تو ہم نہ صرف ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے، بلکہ ان کو اس سے کہیں زیادہ بلند مقام دیتے۔ بقول شاعر

وہ لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیئے

ڈھونڈا تھا آسماں نے جنہیں خاک چھان کر

(مجلہ ’’عظیم مبلغ اسلام‘ شائع کردہ خواتین اسلامی مشن، پاکستان، گلشن اقبال کراچی ص 32)