تحریک نظام مصطفیٰ سے تحریک ناموسِ رسالتﷺ

in Tahaffuz, November 2012, تحفظ نا مو س ر سا لت, سید رفیق شاہ

 وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے اعلان کیا ہے کہ جو گستاخانہ فلم بنانے والے کو قتل کرے گا، اسے ایک لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد روشن خیال و مغرب نواز سیاستدانوں اور امریکہ اور یورپین ایوانوں میں بھونچال آگیا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر غلام احمد بلور سے اپنے بیان سے لاتعلقی و تردید کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ بلور صاحب کا ایک ہی بیان کہ مسلمان اور پختون کی ایک زبان ہے اور وہ بھی مسلمان ہے۔ گستاخانہ فلم کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ان دنوں صدر پاکستان آصف علی زرداری اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ میں ہے۔ ان کے ہمراہ دیگر لوگوں کے ساتھ بلور کے قائد اور باچا خان کے جانشین اسفندیار ولی بھی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے صدر زرداری اور اسفندیار ولی سے ملاقات کے دوران غلام احمد بلور کے جرأت مندانہ بیان پر افسوس اور مذمت کی جس پر صدر زرداری اور غلام احمد بلور کے قائد اسفندیار نے میڈم ہیلری کلنٹن کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا انفرادی عمل ہے۔ حکومت اور پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلور صاحب کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب برطانیہ کے کئی اراکین پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت سے بلور کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے کہ انتہا پسندوں کی برطانیہ میں کوئی گنجائش نہیں۔ وہیں امریکہ نے بھی سخت الفاظوں میں بیان کی مذمت اور انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی قرار دیا۔ حکومت پاکستان بھی وزیر ریلوے کے بیان سے مسلسل لاتعلقی کا اظہار کررہی ہے۔ بلور کا بیان کوئی انوکھا بیان نہیں، ایک اور وزیر مملکت جتوئی صاحب تاجر اتحاد اور معروف عالم دین علامہ خادم حسین رضوی نے بھی کروڑوں کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ بلور صاحب کے بیان میں ایسی کیا بات ہے کہ جس سے مغرب نواز میڈیا، سیاست دان اور امریکہ میں ہل چل مچی ہوئی ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ اگر ANP جیسی سیکولر جماعت کے اہم رہنما ناموس رسالت پر آزادی اظہار کے امریکی ایجنڈے کو فراموش کرکے اپنے ایمانی جذبہ کا اظہار کرتی ہے تو یقینا قابل تشویش تو ہے۔ بلور صاحب کے بیان کو 48 گھنٹے ہی گزرے تھے کہ 25 ستمبر کو نوائے وقت کو انٹرویو دیتے ہوئے بلور صاحب نے کہا کہ میں نے گستاخانہ فلم بنانے والے کے قتل پر انعام کا اعلان کرکے تحریک نظام مصطفیٰ طرز کی تحریک کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ تحریک نظام مصطفیٰ میں بھی عوام اخلاص کی بنیاد پر گھروں سے نکلے تھے جس میں ANP بھی شامل تھی۔ آج بلور صاحب کو معلوم ہوا کہ تحریک نظام مصطفیٰ محض ایک سیاسی تحریک تھی تو وہ بھی اس میں عوامی جذبات کی توہین اور دھوکہ دہی میں برابر کے مجرم ہے اور کل قیامت کے دن نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں وہ مجرموں کی صفوں میں ہوں گے۔ بلور صاحب کی زبان سے حقیقت بیان ہوچکی ہے۔ 21 ستمبر کے فسادات میں کون سے عوامل کارفرما تھے۔ اس تک پہنچنے میں اب کوئی دشواری نہیںہونی چاہئے۔ یوم عشق مصطفیٰ کے موقع پر ناموس رسالت کی آڑ میں جن شرپسندوں نے ڈالروں کے عوض تحریک حرمت رسولﷺ کو سبوتاژ کیا۔ بقول ملک عبدالرحمن کہ یہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے عناصر تھے۔ ملک صاحب کی خوبی ہے کہ وہ تخریب کاری کی اطلاع اور دہشت گردی کے اسباب تو بیان کرتے ہیں مگر ان کا سدباب نہیں کرپاتے۔ وہ کس کے اشاروں کے منتظر ہیں۔ وہ خود جانتے ہیں کہ بلور صاحب نے عاشقان مصطفیٰ کے جذبات کو مجروح کیا۔ انہیں جذباتی قوم قرار دیا۔ بدقسمتی کہ قوم کا حافظہ کمزور ہے۔ وہ کیوں بھول گئی کہ باچا خان کا سیاسی وارث اور پوری زندگی سیکولر ازم کا علمبردار رہا ہوں۔ وہ عظمت رسول کا علمبردار کیسے ہوسکتا ہے۔ بلور صاحب جلد اپنے اصل رنگ میں آگئے، اچھا ہوا۔