حضرت علامہ اویسی صاحب مسجد میں تشریف فرما تھے۔ چند اشخاص حاضر ہوئے اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ پر اعتراضات کرنے لگے۔ علامہ اویسی صاحب نے فرمایا کہ اس مجلس میں صرف ایک مسئلہ کے اعتراضات بیان کیجئے اور اپنے میں کسی صاحب کو سوالات کے لئے منتخب فرمالیں۔ ان میں ایک صاحب نے سوالات ذیل کئے اس کے جوابات علامہ اویسی صاحب نے بیان فرمائے جنہیں ہم نے کتابچہ کی صورت میں جمع کرکے ناظرین کو پیش کررہے ہیں۔

سوال

پیغمبر علیہ السلام جناب علی (رضی اﷲ عنہ) کی خلافت تحریر فرمانا چاہتے تھے۔ حضرت عمر (رضی اﷲ عنہ) سے کاغذ، قلم ودوات طلب فرمائی تو انہوں نے نہ دی بلکہ یہ کہا کہ رسول اﷲﷺ ہذیان کہتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے۔ یہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے بڑی غلطی کی۔

جواب

جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔ آپ کی ابتداء  ہی غلط بلکہ کتب اہل اسلام میں الٹایہ موجود ہے کہ پیغمبر علیہ السلام اپنے مرض الموت میں جناب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت تحریر فرماگئے تھے جیسا کہ مشکوٰۃ شریف صفحہ 555 پر واضح الفاظ میں موجود ہے۔ نیز اس طعن کرنے سے اتنا پتہ چل گیا کہ خم غدیر کے موقع پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ خلیفہ مقرر نہیں ہوئے تھے اور عید غدیر مناکر شیعہ لوگ خواہ مخواہ بدنام ہورہے ہیں۔ آپ کا یہ دعویٰ پیغمبر علیہ السلام نے کاغذ، قلم، دوات حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے طلب فرمائی تو یہ بھی جھوٹ ہے بلکہ آپ نے جمیع حاضرین سے کہ جن میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ، حضرت عباس رضی اﷲ عنہ اور گھر کی عورتیں وغیرہ بھی شامل ہیں، کاغذ، قلم، دوات طلب فرمایا جیسا کہ

بخاری شریف کتاب الجزیۃ، باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب جلد 10،ص 426، رقم الحدیث 2932 پر موجود ہے۔

فقال ائتونی بکتف اکتب لکم کتابا

یعنی حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ کتب لاؤ تاکہ میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم راہ حق کو نہ گم کرو۔

غور فرمایئے حدیث میں ’’ائتونی‘‘ صیغہ جمع مذکر مخاطب بول کر پیغمبر علیہ السلام جمیع حاضرین سے کتف طلب فرمارہے ہیں۔ فقط حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے اور ان سے طلب ہی کیوں فرماتے جبکہ وہ ان کا گھر ہی نہ تھا کہ جس میں قلم دوات طلب کی گئی بلکہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا حجرہ تھا، جیسا کہ بخاری شریف جلد 1، صفحہ 382 پر ہے اور پھر اگر قریب تھا تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا گھر لہذا اگر خاص طور پر طلب فرماتے تو ان سے کہ جن کا گھر بعید تھا۔ بہرحال نقل و عقل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے پیغمبر علیہ السلام نے قلم دوات طلب نہیں فرمائی۔

(تمام شیعہ متفق ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا گھر مدینہ شریف کے شہر کے آخری کونے پر تھا)

2۔ آپ اس کا کیا جواب دیں گے کہ حضور اکرمﷺ تین دن زندہ (دنیوی زندگی) رہے اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ باوجوہ قریب البیت ہونے کے بھی ان کی تعمیل حکم نہ کرسکے اور بقول شیعہ خلافت بھی انہیں کی تحریر ہوئی تھی اور ادھر حکم رسول بھی تھا لہذا اگر باقی سب صحابہ مخالف تھے تو ان پر لازم تھا کہ چھپے یا ظاہر ضرور لکھوا لیتے تاکہ یوم سقیفہ یہی تحریر پیش کرکے خلیفہ بلافصل بن جاتے مگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ یا تو تحریر ہی سرے سے ضروری نہ تھی بلکہ ایک امتحانی پرچہ تھا کہ جس میں حضور اکرمﷺ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی رائے سے اتفاق فرمایا ورنہ آپ پر کتمان حق اور وحی کا الزام عائد ہوگا حالانکہ جماعت انبیاء اس سے بالاتر ہے۔

3۔ اگر یہ ضروری تحریر تھی یا وحی الٰہی تھی اور کاغذ دوات نہ لانے والا خواہ مخواہ ہی مجرم ہوتا تو اس جرم کے مرتکب حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے بجائے اہل بیت کو ہونا لازم آتا ہے۔ اس لئے کہ وہ ہر وقت گھر میں رہتے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کہ جن کا گھر باقی صحابہ کی نسبت قریب تھا اور اگر وہ مجرم نہیں تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ بھی مجرم نہیں۔ لہذا شیعوں کا یہ کہنا کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے کاغذ اور دوات حضورﷺ نے طلب فرمائی، باطل ہوا۔

سوال

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے العیاذ باﷲ حضور اکرمﷺکی طرف ہذیان کی نسبت کی؟

جواب

یہ بھی جھوٹ اور افتراء ہے بلکہ بخاری شریف کتاب الجزیۃ، باب اخراج الیہودمن جزیرۃ العرب، جلد 10، ص 426، رقم الحدیث 2932 پر یوں موجود ہے:

فقالو مالہ اہجر استفہموہ

یعنی حاضرین نے کہا کہ حضورﷺ کا کیا حال ہے۔ کیا آپﷺ دنیا سے ہجرت فرمانے لگے ہیں۔ آپ سے دریافت تو کرلو۔

اور عبارت میں قالوا بصیغہ جمع مذکر غائب موجود ہے لہذا پہلی جہالت تو شیعوں کی یہ ہوئی کہ صیغہ جمع سے ایک شخص واحد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ مراد لے لیا۔ دوسری جہالت یہ کہ ہجر کا معنی برخلاف عربیت بلکہ برخلاف سباق و سیاق ہذیان لکھ مارا حالانکہ ہجر معنی ہذیان کیا جائے تو آگے استفہموہ نے بتادیا کہ ہجر کے معنی وہی دار دنیا سے جدا ہونے کا ہی ہے نہ کچھ اور۔

(2) اگر ہجر بمعنی ہذیان بھی تسلیم کرلیا جائے تو بھی مفید نہیں کیونکہ اہجر سین ہمزہ استفہام انکاری موجود ہے کہ جس سے نفی ہذیان مفہوم ہورہی ہے معنی یہ ہوگا کہ کیا حضورﷺ کوئی ہذیان فرما رہے ہیں۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہوش سے فرمارہے ہیں ذرا دریافت تو کرلو۔ بہرکیف حضرت عمر رضی اﷲ عنہ تو ویسے ہی اس مقولہ کے قائل نہ تھے۔ باقی رہے قائلین تو چونکہ ہجر بمعنی ہذیاب ثابت نہیں ہوا، اگر ہوا تو بوجہ ہمزہ استفہام منفی ہوگیا لہذا وہ بھی اس سے بری ہوگئے۔

سوال

اگر یہی بات ہے تو پھر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے حسبنا کتاب اﷲ کیوں کہا؟

جواب

اول تو اکثر روایات میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا یہ مقولہ ہی نہیں شمار ہوا۔

(2) حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے جب یہ خیال فرمایا کہ اﷲ کا دین اور قرآن مکمل ہوچکا ہے کہ جس پر ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ شاہد ہے اور حضورﷺ کا یہ حکم بطور وحی الٰہی اور وجوب نہیں بلکہ بطور مشورہ ہے تو آپ نے بطور مصلحت اور مشورہ عرض کردیا کہ یارسول اﷲﷺ آپ تحریر قرطاس کی تکلیف نہ فرمائیں۔ کتاب اﷲ کو ہمارے لئے کافی سمجھیں جس پر حضورﷺ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے موافقت ظاہر فرمائی اور تحریر قرطاس پر زور دینے والوں کو ڈانٹ دیا۔ چنانچہ بخاری شریف کتاب الجہاد والسیر، باب ہل یستشفع الی اہل الذمۃ ومعاملتہم جلد 10، ص 268، رقم الحدیث 2825 پر ہے:

دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعونی الیہ

اور اگر قرآن کو کامل مکمل کتاب جاننا ہی جرم ہے تو اﷲ تعالیٰ کے ارشاد گرامی کا کیا مطلب ہوگیا ’’واعتصموا بحبل اﷲ جمیعا‘‘ نیز حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا نہج البلاغہ جلد 3ص 57 پر ہے۔ واﷲ واﷲ فی القرآن نیز کتاب مذکور جلد 2 صفحہ 27 پر ہے فاوصیک بالاعتصام بحبلہ اور جلد 2 صفحہ 22 پر ہے ومن اتخذ قولہ دلیلا ہدیٰ دیکھئے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی ہدایت کے لئے قرآن کو کافی قرار دیا لہذا ان کے قول سے اگر انکار بالسنۃ لازم نہیں آئے گا تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے حق میں کیونکر مفہوم مخالف لیا جاسکے گا۔ اگر بربنائے نیستی وبربنائے مصلحت مشورہ دینا رسول اﷲﷺ کی نافرمانی ہے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ حسب روایت مذہب شیعہ یقینا منکر رسول ہیں۔ چنانچہ جنگ حدیبیہ کے موقع پر حضورﷺ نے فرمایا۔ اے علی! مٹایئے مگر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پیغمبر علیہ السلام کو صاف جواب دیا کہ میں اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ رسول اﷲﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اسے مٹایا۔ اگر اس واقعہ میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو نافرمان نہیں کہا جاسکتا تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو بھی نہ کہا جائے کیونکہ بربنائے مصلحت و حکمت حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حکم نبوی کی خلاف ورزی کی ہے تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو بھی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے خلاف ورزی کی ہے، نہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے، بلکہ وہی ہوا جو رسول اﷲﷺ چاہتے تھے۔ مزید تفصیل فقیر کی کتاب القسطاس فی حدیث القرطاس میں ہے۔

فضائل عمر از لسان حیدر رضی اﷲ عنہ

تتمہ شیعہ صاحبان خواہ مخواہ سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جو کچھ فرمایا، وہ بھی ملاحظہ ہو۔ جب خلیفہ ثانی عمر رضی اﷲ عنہ نے روم پر چڑھائی کی اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا کہ نواحی اسلام کو غلبہ دین سے بچانے اور مسلمانوں کی شرم رکھنے کا اﷲ ہی کفیل ہے۔ وہ ایسا خدا ہے جس نے انہیں اس وقت فتح دی جب ان کی تعداد نہایت قلیل تھی اور کسی طرح فتح نہیں پاسکتے تھے۔ انہیں اس وقت مغلوب ہونے سے روک رہا ہے جب یہ کسی طرح روکے نہیں جاسکتے اور وہ خداوند عالم حی لایموت ہے۔ اب اگر تو خود دشمن کی طرح کوچ کرے اور تکلیف اٹھائے تو پھر یہ سمجھ لے کہ مسلمانوں کو ان کے اقصائے بلاؤ تک پناہ نہ ملے گی اور تیرے بعد کوئی ایسا مرجع نہ ہوگا جس کی طرف وہ رجوع کریں لہذا تو دشمن کی طرف اس شخص کو بھیج جو کار آزمودہ ہو، اس کے ماتحت ان لوگوں کو روانہ کرو جو جنگ کی سختیوں کے متحمل ہوں اور اپنے سردار کی نصیحت کو قبول کریں۔ اب اگر خدا غلبہ نصیب کرے گا تب تو وہ چیز ہے جسے تو درست رکھتا ہے اور اگر اس کے خلاف ظہور میں آیا تو ان لوگوں کا مددگار اور مسلمانوں کا مرجع تو موجود ہے (نیرنگ فصاحت، ص 19)

ہم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے عربی کلام کا ترجمہ شیعہ کی کتب نیرنگ فصاحت سے لیا ہے، تاکہ ان کو یہ عذر نہ ہوکہ ترجمہ میں دست اندازی کی گئی ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے اس کلام سے حسب ذیل امور ثابت ہوئے ہیں:

1: حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ پر پورا اعتماد تھا۔ ہر معاملہ میں ان سے مشورہ لیا جاتا، ورنہ یہ مسلّم ہے کہ کوئی شخص اپنے دشمن سے اس طرح کا مشورہ ہرگز نہیں لیا کرتا۔

2: حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا ملجا و ماوا سمجھتے تھے، اسی وجہ سے آپ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اس مہم میں بذات خود معرکہ کارِزار میں جائیں۔ اگر خدانخواستہ باہمی کدورت ہوتی تو یہ مشورہ نہ دیتے کہ آپ لڑائی میں نہ جائیں بلکہ ان کو تو یہ خواہش چاہئے تھی کہ یہ خود وہاں جائیں، ان کا کام تمام ہو اور آپ کے لئے جگہ خالی ہو۔ اس بات سے ظاہر ہوا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے صادق دوست تھے۔

3: حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی کامیابی کو اسلام کی کامیابی تصور کرتے تھے۔ اس لئے ان کو تسلی دی کہ اﷲ تعالیٰ تمہارا اور مسلمانوں کا خود حامی و ناصر ہے۔ جب مسلمان تھوڑے تھے، اس وقت بھی ان کی حفاظت فرمائی اور اب تو بفضل خدا مسلمانوں کی تعداد کثیر ہے پھر اس کی تائید و نصرت پر کیوں نہ بھروسہ کیا جائے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے کلام سے یار لوگوں کی اس من گھڑت بات کی بھی تردید ہوتی ہے کہ مسلمان بعد وفات رسولﷺ صرف تین چار ہی رہ گئے ہیں۔ ایسا ہوتا تو آپ یوں فرماتے پہلے مسلمانوں کی تعداد کثیر تھی۔ اب گنتی کے چند آدمی رہ گئے ہیں۔ ان کو اس مہم پر بھیجو تو فتح ہوگی ورنہ شکست۔