تاجدار کشور ولایت حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی مجلس وعظ کا ایک پرسوز واقعہ عشق الٰہی کی کشش کا زندہ جاوید ثبوت ہے۔فرماتے ہیں کہ

ایک دن بغداد کے سب سے بڑے وسیع میدان میں ان کا جلسۂ وعظ منعقد ہوا۔ جوں ہی انہوں نے تقریر شروع کی، ہر طرف آہوں کا دھواں اٹھنے لگا۔خشیت الٰہی کی ہیبت سے کلیجے شق ہوگئے۔ کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو فرطِ اثر سے اشک بار نہ ہوا، ثناء وعظ میں احمد بن یزید نامی خلیفہ بغداد کا ایک مصاحب بڑے کروفر سے آیا اور ایک طرف مجلس میں بیٹھ گیا۔

اس وقت آپ یہ فرما رہے تھے کہ تمام مخلوقات میں انسان سے زیادہ ضعیف کوئی مخلوق نہیں ہے لیکن باوجود ضعف کے وہ خدا کی نافرمانی کرنے میں سب سے زیادہ جری اور بہادر ہے۔

احمد بن یزید کے دل پر آپ کے اس جملے کا اتنا گہرا اثر پڑا کہ وہیں وہ گھائل ہوکر رہ گیا۔ دل کے قریب ایک سلگتی ہوئی آگ نے ریاست و امارت کی ساری آن کو آن واحد میں خاکستر کرکے رکھ دیا۔ اب اس پہلو میں ایک مسکین درویش کا دل تھا۔ شاہانہ کروفر کی دنیا اب بدل چکی تھی۔

وعظ کی مجلس ختم ہونے کے بعد جب گھر پہنچا تو ایک نامعلوم ہیجان سے دل کی دنیا زیروزبر تھی۔ ساری رات بے چینیوں کی اضطراب میں صبح ہوتے ہی وہ حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ چہرے کی افسردگی، آنکھوں کا خمار اور آواز کی بے خودی بتا رہی تھی، کہ یہ اپنے آپ میں نہیں ہے۔

وہ بڑی مشکل سے اتنے الفاظ کہہ سکا۔

’’حضور! رات کا نشتر جگر کے پار ہوگیا ہے۔ عشق الٰہی کی آگ میں سلگ رہا ہوں۔ خدا کے سواء ہر چیز سے دل کی انجمن کو خالی کرلیا ہے۔ اب مجھے وہ راستہ بتایئے جو بارگاہ یزدانی تک پہنچتا ہے۔ میری کشتی بیج منجدھار میں ہے۔ اب ساحل تک پہنچا دیجئے۔‘‘

حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا ’’صبر و شکیب سے کام لو، رحمت الٰہی اس راہ کے مسافروں کی خود دستگیری فرماتی ہے۔ تم نے دریافت کیا ہے تو سن لو کہ خدا تک پہنچنے کے دو راستے ہیں:

عام راستہ تو یہ ہے کہ فرائض کی پابندی کرو۔ سجدہ عبادت کے کیف سے روح کو سرشار رکھو۔ گناہوں سے بچو، شیطان کی پیروی سے اپنی زندگی کو محفوظ رکھو، مشاغل دنیا سے تعلق رکھتے ہوئے سرکار مصطفیﷺ کی غلامی حق ادا کرو۔

اور خاص راستہ یہ ہے کہ دنیا سے بے تعلق ہوجاؤ۔ یاد الٰہی میں اس طرح بے خود ہوجاؤ کہ خدا سے بھی سوائے اسی کی ذات کے کسی دوسری چیز کی طلب نہ رکھو۔

حضرت سری سقطی کی گفتگو ابھی یہیں تک پہنچی تھی کہ اچانک حضرت احمد بن یزید کے منہ سے ایک چیخ بلند ہوئی اور وہ عشق الٰہی کے اضطراب میں بے خود و مستانہ وار جیب و دامن کی دھجیاں اڑاتے ہوئے صحرا کی جانب نکل گئے۔

کچھ دنوں بعد احمد ابن یزید کی ماں روتی ہوئی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آبدیدہ ہوکر عرض کیا۔

حضور! میرا ایک ہی فرزند تھا، جسے دیکھ کر میں اپنی آنکھوں کی تشنگی بجھاتی تھی۔ چند دنوں سے وہ نہ جانے کہاں غائب ہوگیاہے۔ ہمارے پڑوسیوں نے خبر دی ہے کہ ایک شب وہ آپ کی مجلس وعظ میں شریک ہوا تھا۔ اسی وقت سے اس کی حالت غیر ہوگئی۔ آپ کے چند جملوں نے اسے دیوانہ بنادیا۔ آہ! اب مجھے اپنی اولاد کا ماتم کرنا ہوگا۔

حضرت نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔

اے ضعیفہ! صبروشکر سے کام لے۔ تیرا بیٹا ضائع نہیں ہوا ہے۔ وہ جب بھی میرے پاس آئے گا۔ میں تجھے خبر دوں گا۔ خدا کی طرف بڑھنے والوں پر ماتم کا انداز اختیار کرنا خدا کی وفادار کنیزوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔

چند ہی دنوں بعد گرد آلود چہرے، پراگندہ بال اور ایک سرشار دیوانے کی سج دھج میں احمد ابن یزید حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ چہرے پر نظر پڑتے ہی حضرت نے جلال عشق کا تیور پہچان لیا۔ اٹھ کر سینے سے لگایا۔ خیروعافیت دریافت کی اور بہت دیر تک اپنے پاس بٹھائے رکھا۔

اسی درمیان میں ماں کو اطلاع بھجوائی کہ تمہارا بیٹا آگیا ہے۔ آکر ملاقات کرلو۔ ماں کو جیسے ہی خبر ملی، اپنی بہو اور پوتے کو ساتھ لے کر روتی پیٹتی اپنے بیٹے کے پاس آئی اور اس کے چہرے کی بلائیں لیتے ہوئے کہا۔

بیٹا! تو اپنی بوڑھی ماں اور بیوی کو چھوڑ کر کہاں چلا گیا تھا۔ تیرے فراق میں روتے روتے ہمارے آنچل بھیگ گئے۔ انتظار میں آنکھیں پتھرا گئیں۔ چل واپس چل اپنے گھر کو آباد کر۔ ہماری امیدوں کا چمن مرجھاگیا ہے پھر سے اسے شاداب کر۔

بیوی نے فرط غم سے منہ ڈھانپ لیا اور سسکیاں بھرتے ہوئے کہا۔ میرے سرتاج! آخر ہم سے کیا بھول ہوئی کہ تم اس طرح روٹھ کر چلے گئے۔ جیتے جی اپنے بچے کو تم نے یتیم بنادیا۔ تمہارے سوا ہمارے ارمانوں کا کون نگراں ہے؟

ماں اور بیوی نے ہزار منت و سماجت کی لیکن دیوانہ عالم ہوش کی طرف پلٹنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ روح پر سرور عشق کا اتنا گہرا نشہ تھا کہ ہزار جھنجھوڑنے کے بعد بھی عالم نہیں بدلا۔ ایک دیوانہ عشق کا کیف دیکھنے کے لئے سارا شہر امنڈ آیا تھا۔ دیوانہ ایک بار پھر بے خودی کی حالت میں اٹھا اور صحرا کی طرف رخ کیا۔ قدم اٹھنا ہی چاہتے تھے کہ پیچھے سے بیوی نے دامن تھام لیا اور آبدیدہ ہوکر کہنے لگی۔

ہماری آرزؤں کا خون کرکے جانا ہی چاہتے ہو تو اکیلے مت جاؤ۔ اپنے اس بچے کو بھی ہمراہ لے جاؤ!

اس آواز پر حضرت احمد ابن یزید کے قدم رک گئے۔ انہوں نے اپنے ننھے منے بچے کے ساتھ جسم سے قیمتی لباس اتار کر اپنا پھٹا ہوا کمبل اس کے جسم پر لپیٹ دیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں زنبیل دی اور دوسرے ہاتھ سے پکڑ کر جونہی اسے اپنے ہمراہ لے کر چلے، بیوی اس دردناک منظر کی تاب نہ لاسکی۔ سارا مجمع اس رقت انگیز عالم کو دیکھ کرآبدیدہ ہوگیا۔ ماں کو اپنے لخت جگر کی جدائی برداشت نہ ہوسکی۔ بے تحاشا دوڑ کر اس نے اپنے بچے کو باپ کے ہاتھ سے چھین کر اپنے سینے سے لپٹا لیا۔

حضرت احمد ابن یزید نے پلٹ کر ایک بار پھر اپنے بچے کو دیکھا اور پلکوں کا آنسو سینے کی تپتی ہوئی خاکستر میں جذب ہوکر رہ گیا۔ فضاء میں ایک دردناک نعرے کی آواز گونجی اور لوگوں کے دل ہل گئے۔ آنکھ کھلی تو حضرت احمد ابن یزید نگاہوں سے اوجھل ہوچکے تھے۔

چاندنی رات تھی۔ حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر چہل قدمی کررہے تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہوکر سلام کیا اور کہا کہ میں احمد بن یزید کا ایک پیغام لے کر آیا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا ہے کہ میری رحلت کا وقت قریب آگیا ہے۔ ایسے نازک مرحلے میں حضور کی تشریف آوری میری تسکین خاطر کا ذریعہ ہوگی۔

یہ خبر سن کر حضرت سری سقطی آبدیدہ ہوگئے۔ حاضرین مجلس سے کہا کہ خدا کا ایک بندہ مسکین جس کے نالہ شبینہ سے صحرائے عشق میں ایک شور برپا تھا۔ افسوس کہ آج اس کا آخری وقت آگیا ہے۔ اب رات کی تنہائیوں کا پرسوز فریادی اور ویرانوں کا عبادت گزار ہمیشہ کے لئے دنیا سے رخصت ہورہا ہے۔ چلو اس چراغ حرم کی بجھتی ہوئی لو کو آخری بار دیکھ آئیں۔ رحمت پروردگار کے نزول کی یہ بہت اہم گھڑی آگئی ہے۔ یہ کہتے ہوئے اچانک اٹھے اور اس اجنبی شخص کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ بغداد کے ایک مشہور قبرستان میں پہنچ کر وہ اجنبی شخص رک گیا اور ایک نحیف ولاغر انسان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

’’یہی ہے وہ عالم جاوید کا مسافر جس نے دم رخصت آپ کو آواز دی ہے‘‘

حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بالیں کے قریب بیٹھ کر آواز دی۔

احمد بن یزید نے آنکھیں کھول دیں اور ہچکی لیتے ہوئے سانس میں کہا۔

’’میرے مرشد! گواہ رہنا کہ میں توحید الٰہی اور رسالت محمدیﷺ کے اقرار پر اپنا دم توڑ رہا ہوں۔ ایک بندہ سیاہ کار اپنے رب کے حضور اس حال میں جارہا ہے کہ اس کا نامۂ اعمال گناہوں سے بوجھل ہے۔ اسے زندگی کی طویل مہلت ملی لیکن اپنے پروردگار کی خوشنودی کا کوئی سامان نہ کرسکا‘‘

یہ کہتے کہتے آواز حلق میں پھنس گئی۔ آنکھوں سے دو موتی ڈھلکے اور گریبان کی دھجی میں جذب ہوگئے۔ آنکھیں بند ہوتے ہی لبوں میں ایک جنبش ہوئی اور کلمہ شہادت کی مدہم سی آواز پر روح عالم بالا کی طرف پرواز کرگئی۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون

حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مرگ عاشق کا یہ دردناک منظر نہیں دیکھا گیا۔ فرط غم سے آنکھیں ڈبڈبا آئیں، آسمان کی طرف منہ کرکے کہا۔

’’تیری ادائے بے نیازی کے قربان! باغیوں کو حریر و دیبا کی مسند اور پھولوں کی سیج پر موت آتی ہے اور تیری مملکت کے وفا شعار مسکینوں کو ایک ٹوٹا ہوا بوریا بھی نصیب نہیں ہے۔

یہ کہہ کر تجہیز و تکفین کے ارادے سے شہر کی طرف جونہی پلٹے، دیکھا کہ ہر طرف سے لوگوں کا ایک ہجوم چلا آرہا ہے۔

اچھنبے سے دریافت کیا کہ یہ لوگ کہاں جارہے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ابھی ابھی آسمان سے ایک غیبی آواز سنائی پڑی ہے کہ جو لوگ خدا کے ایک ولی کے جنازے میں شریک ہونا چاہتے ہوں وہ شوبز کے قبرستان میں جمع ہوجائیں۔ اس آواز کو سن کر سارا بغداد امنڈتا ہوا چلا آرہا ہے۔

حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ خبر سن کر آسمان کی طرف رخ کیا اور کہا ’’تیری شان بندہ نوازی کے قربان! زمین کی ننگی پیٹھ پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے والوں کا یہ اعزاز عمر بھر جو دشت غربت میں زندگی کی شام وسحر گزارتا رہا، آج بغداد اس کے قدموں میں تونے جمع کردیا۔ دنیائے فانی میں جس عاشق گمنام کی توقیر کا یہ حال ہے عالم جاوید میں اس کی شوکتوں کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔‘‘ سچ کہا ہے تیری کتاب مجید نے کہ

’’اﷲ نیکوکاروںکا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘