انگور کی خصوصیات

in Tahaffuz, November 2012, متفرقا ت

انگور ہندی زبان کا لفظ ہے، اسے عربی میں عنب، زبیب، مویز، منقے، قشمش، یونانی میں انبالس، اسطافیوس، قلندوس، تورانی میں، اوزم، فارسی میں انگور، کشمش، سنسکرت میں دراکشا، مدہر سا، سوادوی، کرشنا، چاروپھلا، گوشنی، پریالا، گچہہ پھلا، امرت پھلا، رسالا سوادوپھلا، سپھلا وغیرہ بھورے انگور کو کپل دراکھشا، گوستنی، کپل پھلا، امرت رسا، مدہو ولی، سدھو پھلا وغیرہ انگور سیاہ کو کاکلی در اکھشا، جامبکا، پھلوتما، سورتا، داکھ، کالی داکھ وغیرہ بنگالی میں کسمس، انگور، بے دانہ انگلش میں Raisin Grape، Wine، Vitis، Vinifera، فرنچ میں Grape De Raisin کہا جاتا ہے۔

نوٹ: انگور جب تک سبز ہوتا ہے تو اس کو عربی میں عنب اور سیاہ انگور کو احداق البقر کہا جاتا ہے اور عام زبان میں چھوٹے انگور کو جس میں دانہ نہیں ہوتا، انگور بے دانہ کہتے ہیں۔ جب یہ خشک ہوجاتا ہے تو اس کو کشمش کہتے ہیں اور بڑے انگور کو خشک ہونے پر عربی میں زبیب اور مویز اور عام بول چال میں منقے کے نام سے مشہور ہوتا ہے۔ نیم پختہ انگور کو غوزہ اور جو نیم پختہ انگور خشک ہوجائے، اس کو غوزمویز کہتے ہیں۔

انگور بے حد خوش ذائقہ، میٹھا اور رس دار پھل ہے۔ موسم گرما کے اس پھل کو میوے کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے۔ اسے میووں میں وہی حیثیت حاصل ہے جو پھلوں میں گلاب اور پھلوں میں آم کو حاصل ہے۔تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی کاشت سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے کی تھی۔ اس کی کاشت یورپ میں تین ہزار سال اور شمالی افریقہ میں چھ ہزار سال سے ہورہی ہے۔ مصر کے اندر فرعونوں کے جو اہرام و مقبرے دریافت ہوئے ہیں ان میں انگور کے بیج پائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ پھلوں میں غالباً انگور ہی سب سے پہلے کاشت کیاگیا۔ اس کا اصل وطن ایشیاء بیان کیا گیا ہے کہ شاید فونیقیا کے لوگوں کی وساطت سے اس کا بیج یورپ پہنچا۔

انگور سے شراب کشید کرنے کا ذکر سب سے پہلے جمشید بادشاہ کے عہد میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ’’عجائب المخلوقات‘‘ نامی کتاب میں ایک واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ بہرحال یہ ہمارا موضوع نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انگور کا استعمال ہزاروں برس پہلے سے موجود ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں تقریبا ڈھائی کروڑ ایکڑ رقبے پر اس کی کاشت ہوتی ہے۔انگور کے اندر چکنائی اور پروٹین کم ہوتی ہے۔ جبکہ وٹامنز اور معدنیات کثیر تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کثیر مقدار میں گلوکوز بھی موجود ہوتا ہے۔ اس کے اندر پائی جانے والی غذائیت مندرجہ ذیل ہیں۔

وٹامن اے 80 انٹرنیشنل یونٹ، وٹامن  B1 0.06 ملی گرام، وٹامن B2 0.04 ملی گرام، نایاسین 0.2 ملی گرام، وٹامن سی 4 ملی گرام، پروٹین 1.4 گرام، چکنائی 1.4 گرام، نشاستہ 14.9 گرام، حرارے یعنی کیلوریز 70، کیلشیم 17 ملی گرام، فولاد 0.6 ملی گرام، فاسفورس 21 گرام اور گلوکوز 24 گرام پائے جاتے ہیں۔

1۔ جو انگور بیل پر پکتا ہے وہ خون پیدا کرتا ہے، بدن کو خوبصورت اور سڈول بناتا ہے۔2۔ بچوں کے لئے انگور کا استعمال نہایت مفید ہے۔ چھوٹے بچوں کو انگور کھلانے سے وہ بہت جلد تندرست اور صحت مند ہوجاتے ہیں۔ دانت نکلنے کے دنوں میں بچوں کو جو تکالیف ہوتی ہیں، انگور ان سب کا ازالہ کرسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے روزانہ صبح وشام ایک ایک چمچہ انگور کا رس پلانے سے دانت نکلنے کی تکالیف کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ اسی طریقہ استعمال سے قبض کی صورت میں فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بچوں کو سوکھے کی بیماری اور غشی کے دورے سے بھی محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔3۔ انگور کے مسلسل استعمال سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔ یہ کسی حد تک خون کی صفائی بھی کرتا ہے۔ دائمی قبض کے لئے اکسیر ہے۔ جسم کو توانائی بخشتا ہے اور تیزابیت کو کم کرتا ہے۔4۔ انگور گردوں سے پتھری کو نکالتا ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے چھوٹی چھوٹی پتھری خارج ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ گردوں اور مثانے کی تکالیف میں بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ انگور کی بیل کے پتے 25 گرام کو دو پیالے پانی میں اتنا جوش دیا جائے کہ آدھا پانی یعنی ایک پیالی باقی رہ جائے، اس کو چھان کر اس میں انگور کا رس 25 گرام ملاکر پیا جائے تو اس سے گردہ کی پتھری ریزہ ریزہ ہوکر نکل جاتی ہے۔5۔ انگور ہر عمر کے افراد کے لئے یکساں طور پر مفید ہے کیونکہ اس کے اندر غذائیت کے لحاظ سے وہ تمام اجزاء موجود ہیں جن کی انسانی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔6۔ اگر کسی عورت کو ایام باقاعدگی سے نہ آتے ہوں یا کم آتے ہوں تو ان کے لئے انگور کا استعمال نہایت فائدہ مند ہے۔ اگر اس کے رس کو شربت بزوری کے ساتھ ملاکر استعمال کیا جائے اور اس سے قبض دور ہوجاتی ہے اور عورتوں کی جملہ تکالیف میں بھی مفید ہے۔7۔ زمانہ قدیم میں یورپ میں معالجین مرگی کے مریضوں کو انگور کا استعمال کروایا کرتے تھے۔ تازہ میٹھے انگور لے کر ان کا رس نکال لیں اور روزانہ دن میں پانچ تولہ پئیں۔ اس کا باقاعدگی کے ساتھ استعمال مرگی کے لئے مفید ہے۔

8۔ 12 عدد بادام کا مغز اور 12 گرام خشک انگور یعنی کشمش کو رات کو پانی میں بھگو کر رکھ دیں۔ صبح اس کا استعمال کرنے سے دماغی اور جسمانی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔

9۔ 10 گرام خشک انگور (کشمش) رات کو عرق گلاب میں بھگو کر رات بھر اوس میں پڑا رہنے دیں۔ صبح نہار منہ کشمش کھا کر عرق پی لیں۔ دل کی کمزوری کے لئے نہایت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔10۔ دبلے پتلے کمزور اور بے رونق چہرہ والے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ انگور کا مسلسل استعمال کریں اور دودھ میں شہد ملاکر پیا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ جسم پر تیل کی مالش بھی کریں تو چہرے پر خوبصورتی آجائے گی اور جسم بھی فربہ ہوجائے گا۔