نعت حب رسولﷺ کا بہترین ذریعہ ہے اور آپﷺ کی مدح وثناء، توصیف کتنا عظیم عمل ہے اس کا اندازہ بخوبی اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کلام پاک میں سورۂ احزاب آیت 56 میں فرماتا ہے

“اﷲ اور اس کے فرشتے نبیﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں۔ اس لئے اے ایمان والوں تم بھی آپﷺ پر درود و سلام بھیجو”

لہذا حضرت حسان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی نعت کا اہتمام فرماتے تھے اور حدیث سے ثابت ہے کہ نعت گو کے لئے جنت کی بشارت ہے۔ لیکن یہ عمل اتنا ہی احتیاط کا متقاضی ہے اور اس کا جامع مظہر امام بوصیری رضی اﷲ عنہ کی قصیدہ گوئی ہے کہ قصیدہ بردہ شریف کی مقبولیت بارگاہ رسالت میں کیسی ہوئی، سب کے علم میں ہے۔ حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ کے اعلیٰ و ارفع کلام سے کون واقف نہیں اور کوئی بھی عاشق رسول عرفی و عامی سے ناآشنائی، نعت گوئی اور نعت خوانی میں بس اتنا فرق ہے کہ جو اشعار محبت رسول  کی گل کاری قلب پر کرتے ہیں ان کو خوش الحانی سے زبان سے بیان کردیاجائے لیکن افسوس صد افسوس دور حاضر میں نعت خوانی کو ایک فن کی شکل دے کر نہ صرف دین میں بگاڑ پیدا کیا جارہا ہے بلکہ اپنی دنیا وعقبیٰ بھی برباد کی جارہی ہے۔ پہلے نعت خوانوں نے اس پاک عمل میں میوزک کی آمیزش کی۔ جبکہ حدیث پاک ہے کہ ’’میں امزامیر (آلات موسیقی) کو توڑنے دنیا میں آیا ہوں‘‘۔ کبھی فلمی گانوں کی دھنوں پر نعت پڑھی جاتی ہے، کبھی کلاسیکل گائیک کی طرح اشعار میں تان لگاتے ہیں۔ ابھی تو ایک مذہبی چینل پر نعت خوانی کا مقابلہ شروع ہوگیا ہے جس میں دو ٹیمیں مدمقابل ہوتی ہیں اور معروف نعت خواں جیوری میں بیٹھے ہیں اور نمبرز کی تختی بلند کرکے بتاتے ہیں۔ نعت خواں کا رزلٹ پروگرام کا میوزک فارمیٹ انداز بھی کچھ کیبل کے انڈین چینل کے پروگرام Voice of India کا Copy Pest  ہے۔ ہم صحیح العقیدہ ہوکر بھی بدنام انہی طرز عمل سے ہورہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر انسان اپنی اپنی جگہ اپنے عمل خاص ہوکر دین عمل کا محاسبہ کرے اور دین میں جدتیں اور دینی اعمال میں جدت طرازی پیدا نہ کریں۔ اور اصلاح عمل کا اہتمام کیا جائے اور ہر فرد مومن اس کو اپنا فریضہ سمجھ کر یہ عمل کرے۔ خدانخواستہ ہم دین کا نقشہ یونہی بگاڑتے رہے تو اﷲ رب العزت ہماری دنیاوآخرت نہ بگاڑ دے لہذا دعا اور عمل کے اہتمام کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے کاموں سے باز رہیں اور دوسروں کو بھی رکھیں۔ اﷲ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔

آمین ثم آمین