گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ۔۔۔ قسط 2

in Tahaffuz, September 2012-October 2012, متفرقا ت

 حکیم لقمان کی نصیحتیں

حضرت حکیم لقمان اﷲ کے جلیل القدر نبی حضرت سیدنا ایوب علیہ السلام کے بھانجے ہیں۔ آپ نے ایک ہزار سال کی عمر پائی۔ قرآن مجید فرقان حمید میں آپ کے نام مبارک سے پوری ایک سورت ہے۔ آپ نے اپنے بیٹے کوجو نصیحتیں فرمائیں اسے قرآن نے یوں بیان کیا۔

یٰبنی انہا ان تک مثقال حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ او فی السمٰوٰت او فی الارض یات بہا اﷲ ان اﷲ لطیف خبیر (لقمان: ۱۶ پ ۲۱)

ترجمہ: اے میرے پیارے بیٹے! برائی اگر رائی کے دانہ کے برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمان میں یازمین میں کہیں ہو، اﷲ اسے لے آئے گا بے شک اﷲ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے (کنزالایمان)

پھر فرمایا:

یبنی اقم الصلوٰۃ وامر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی مااصابک ان ذلک من عزم الامور (لقمان: ۱۷ پ ۲۱)

ترجمہ: اے میرے پیارے بیٹے! نماز قائم رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو مصیبت تجھ پر پڑے، اس پر صبر کر، بے شک یہ ہمت کے کام ہیں (کنزالایمان)

مزید فرمایا:

ولا تصعر خدک للناس ولا تمش فی الارض مرحا ان اﷲ لایحب کل مختال فخور o واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ان انکر الاصوات لصوت الحمیر (لقمان: ۱۸ پ ۲۱)

ترجمہ: اور کسی سے بات کرنے میں اپنا منہ ٹیڑھا نہ کر اور زمین پر اترا کر نہ چل۔ بے شک اﷲ اترانے والے غرور کرنے والے کو پسند نہیں کرتا، اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست کر، بے شک سب آوازوں میں بری آواز گدھے کی ہے۔

تربیت اولاد میں سب سے اہم چیز

یہ مبارک نصیحتیں تو حضرت لقمان حکیم اپنے پیارے صاحبزادے کو فرما رہے ہیں مگر اس میں ہمارے لئے بھی مقام غوروفکر ہے تاکہ ہمارا بھی تربیت اولاد کا ذہن بنے اور یہ تمام نصیحتیں ہماری زندگی میںشامل ہوجائے اور یاد رہے کہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کے دل میں دین کی محبت پیدا کردیں۔ اگر آج ہم ان کے دل میں دین کی اہمیت و محبت پیدا کریں گے، کل یہ ہمارے ساتھ بدتمیزی نہیں کریں گے اور اس کی برکتیں یہ ظاہر ہوں گی کہ کل یہ ہمارے حقوق بھی سمجھیں گے۔

مزید انمول نصیحتیں

قرآن مجید فرقان حمید نے آپ کی نصیحتوں کا ذکر فرمایا۔ احادیث طیبہ میں بھی چند نصیحتوں کا ذکر ہے چنانچہ حضرت حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

1… بیٹا! علماء کی صحبت میں کثرت سے بیٹھا کرو۔

2… اﷲ تعالیٰ سے ایسی امید رکھو کہ اس کے عذاب سے بے خوف نہ ہوجائو اور اس کے عذاب سے ایسا خوف نہ کرو کہ اس کی رحمت سے ناامید ہوجائو۔

3… اﷲ سے بکثرت مغفرت مانگا کرو۔ نہ جانے کون سی گھڑی باعث قبولیت ہو۔

4… جو شخص جھوٹ بولتا ہے، اس کے چہرے کی رونق جاتی رہتی ہے۔ بیٹا! جھوٹ سے اپنے آپ کو بہت محفوظ رکھو۔

5… جس شخص کی عادتیں خراب ہوں گی، اس پر غم سوار ہوگا۔

6… جنازہ میں شرکت کیا کرو کیونکہ جنازہ آخرت کی یاد کو تازہ کرتا ہے۔

7… جب پیٹ بھرا ہوا ہو، اس وقت نہ کھاؤ۔

8… توبہ میں دیر نہ کرو کہ موت اچانک آجاتی ہے۔

9… بیٹا! قرض سے اپنے آپ کو ہمیشہ بچائو کیونکہ یہ دن کی ذلت اور رات کا غم ہے۔

زندگی کے آخری لمحات میں نصیحت

مشہور و معروف ولی کامل سیدنا فقیہ ابوللیث سمرقندی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان اپنے صاحبزادے کو اکثر نصیحتیں فرماتے رہتے اور جب وقت وصال آیا اس وقت بھی اپنے صاحبزادے کودنیاوی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنے، اﷲ سے ڈرنے، آخرت کی تیاری کرنے اور گناہوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا بیٹا! جب کوئی گناہ کرنا چاہو تو ایسی جگہ تلاش کرلینا جہاں اﷲ رب العالمین نہ دیکھے یعنی کبھی گناہ نہ کرنا کیونکہ ہر جگہ، ہر وقت، ہر حال میں اﷲ دیکھ رہا ہے۔

تربیت بھی اور دعا بھی

قرآن مجید فرقان حمید میں سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کی دعا کا ذکر کیا گیا۔

رب اجعلنی مقیم الصلوٰۃ ومن ذریتی (ابراہیم: ۴۰ پ ۱۲)

اے میرے رب مجھے نماز کا قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو (کنزالایمان)

مطلب یہ ہے کہ اسلامی تربیت بھی کرنی ہے اور اﷲ کی بارگاہ میں تڑپ کر گڑگڑاتے ہوئے دعائیں بھی مانگنی ہیں کہ اﷲ اولاد کو نیکی کی توفیق عطا فرمائے۔

قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد ہے:

یاایھا الذین امنوا قوا انفسکم واہلیکم ناراً (تحریم: ۶، پ ۲۸)

اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ (کنزالایمان)

تقویٰ کا بلند مقام

یاد رکھیں! تربیت کا پہلا رکن یہ ہے کہ والدین پہلے اپنے اوپر شریعت نافذ کردیں۔

حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی عظیم شخصیت میں آپ کے والدین کا بھی کردار موجود ہے۔ آپ کے والد گرامی کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ آدھا سیب آپ نے غلطی میں کھالیا تھا تو اس کو معاف کرانے کے لئے سات سال تک باغ کی بغیر اجرت مزدوری کی۔ آپ کی والدہ سیدہ ام الخیر رضی اﷲ عنہا شریعت کی ایسی پاسداری کرنے والی تھیں جنہیں کبھی کسی اجنبی مرد نے نہ دیکھا اور نہ آپ نے کسی نا محرم مرد کو دیکھا۔

ولیہ کی چادر کا مقام

حضرت سیدنا خواجہ نظام الدین اولیاء رضی اﷲ عنہ کی شخصیت اور مقام و مرتبے میں بھی آپ کی والدہ کا حصہ ہے۔ ایک مرتبہ دہلی میں بارش بند ہوگئی۔ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی التجا کی۔ آپ نے فرمایا، ابھی آتا ہوں۔ آپ گھر میں گئے۔ جب باہر تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں ایک دھاگہ تھا۔ اس دھاگے کو ہاتھ میں لئے ہوئے رو رو کر اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں دعا مانگنے لگے ’’اے مالک و مولیٰ تیرے بندے بارش کے منتظر ہیں۔ قحط سالی میں مبتلا ہیں۔ اے پروردگار تو جانتا ہے یہ دھاگہ میری اس نیک اور پرہیزگار والدہ کے دوپٹے کا ہے جس پر کسی نامحرم اجنبی مرد کی نگاہ نہیں پڑی۔ یہ دعا کرتے ہی بارش ہونے لگی۔ (اخبار الاخیار)

پیدائشی 18 پاروں کے حافظ

جب شادی ہوجاتی ہے تو شادی کی تقریب سے لے کر بچے کی پیدائش تک کتنے گناہ کئے جاتے ہیں، خصوصا جب عورت حاملہ ہوتی ہے اگر اس حالت میں عورت فلمیں ڈرامے دیکھے، میوزک سنے، غیبت، چغلی کرے یا جھوٹ بولے تو بتایئے اس کی گود میں اﷲ کا ولی کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ جب پڑھنے کے لئے گئے تو استاد نے کہا بیٹا پڑھو ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘‘ تو آپ نے ’’بسم اﷲ‘‘ پڑھ کر اٹھارہ پارے زبانی سنادیئے۔استاد نے فرمایا آگے پڑھیئے تو آپ نے فرمایا۔ اس سے آگے تو مجھے نہیں آتا۔ اس لئے کہ جب میں ماں کے پیٹ میں تھا تو مدت حمل میں اور دودھ پلانے کے زمانے میں میری والدہ نے یہی پارے پڑھے تھے، اتنا ہی مجھے یاد ہے۔

بچے کان میں اذان کی وجہ

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ بچے کی پیدائش پر دائیں کان میں اذان دی جاتی ہے اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے لیکن ہم اس نکتے کو نہیں سمجھے کہ اذان اور اقامت کیوں کہی جاتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بچہ دنیا میں آئے تو آتے ہی اس کے کان میں اﷲ کا ذکر اور اس کے رسولﷺ کا نام ڈالا جائے جبکہ دوسری طرف آج مونٹیسوری اور نرسری کے بچے کو میوزک اور گانوں کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے۔ افسوس! ہمارے موبائل فون ہوں یا بچوں کے کھلونے ہوں، اس سے میوزک کی آوازیں آرہی ہوتی ہیں تو جس بچے کی تربیت میوزک کے ماحول میں ہو، بھلا وہ اسلام کا مجاہد کیسے بن سکتا ہے۔ کیونکہ حضور پرنورﷺ فرماتے ہیں کہ موسیقی دل کو مردہ کردیتی ہے تو اب آپ خود ہی سوچیں کہ جس بچے کی پرورش میں پیدائش سے لے کر جوانی تک میوزک کا عمل دخل ہو، ہماری گاڑی چلے تو میوزک، اگر ریورس کریں تو میوزک، بریک ماریں تو میوزک، گھر کے دروازے کی گھنٹی بجے تو میوزک، الارم بجے تو میوزک پھر کیسے اپنے بچوں کے بارے میں امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ اسلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام کی خدمت سرانجام دیں گے۔ ہم کیسے امید کرسکتے ہیں کہ وہ محمود غزنوی بنیں گے۔ محمد بن قاسم کی طرح اسلام کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے اپنے سروں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں