والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی نگہداشت سے متعلق حضور سید عالمﷺ ارشاد فرماتے ہیں

عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ، عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال رغم انفہ ثم رغم انفہ ثم رغم انفہ قیل من یا رسول اﷲ قال من ادرک والدیہ عندالکبر احدہما او کلاہماثم لم یدخل الجنۃ

(مسلم شریف ثانی، ص 134، مشکوٰۃ شریف ص 418، اصح المطابع)

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ایک بار فرمایا: خاک آلود ہو اس کی ناک، پھر خاک آلود ہو اس کی ناک، پھر خاک آلود ہو اس کی ناک، عرض کی گئی کس کی؟ یارسول اﷲ! فرمایا، ’’اس کی جس نے بوڑھے ماں باپ یا ان دونوں میں سے ایک کو پایا پھر جنتی نہ ہوا‘‘ یعنی ان کی خدمت نہ کی، نہ کسی اور طرح ان کی خوشنودی حاصل کی جس کے سبب وہ جنت کا مستحق ہوتا۔ اس وعید شدید سے ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے سبق حاصل کریں اور اپنا انجام بد معلوم کرلیں۔

حدیث:حضور محسن انسانیتﷺ فرماتے ہیں۔ والدین کی نافرمانی سے بچو۔ اس لئے کہ جنت کی خوشبو ہزار برس کی راہ تک آتی ہے اور والدین کا نافرمان اس کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔ اور اسی طرح رشتہ توڑنے والا، بوڑھا زانی، تکبر سے اپنا ازار (تہبند) ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا بھی جنت کی خوشبو نہ پائے گا۔

(تفسیر مدارک جلد 2، ص 312، حیا الکتب مصر)

اس کے بعد حضورﷺ نے فرمایا۔ بلاشبہ کبریائی تو صرف رب العالمین ہی کولائق ہے۔

عن عبداﷲ بن عمر وقال قال رسول اﷲﷺ من الکبائر ان یشتم الرجل والدیہ قالوا یارسول وہل یشتم الرجل والدیہ؟ قال نعم یسبت ابا الرجل فیسب اباہ ویشتم امہ فیشتم امہ (بخاری، مسلم، ترمذی 2، ص 12)

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں سے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دے۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ! کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا! جب کہ وہ کسی شخص کے ماں باپ کو گالی دے اور جواب میں وہ اس کے ماں باپ کو گالی دے تو گویا اس نے خود ہی اپنے ماں باپ کو گالی دی (مشکوٰۃ ص 419)

عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اﷲﷺ ثلث دعوات مستجابات لاشک فیہن دعوۃ المظلوم ودعوۃ المسافر ودعوۃ الوالد علی ولدہ (ترمذی جلد 2، ص 13)

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں۔ اﷲ کے رسولﷺ نے فرمایا تین دعائیں ایسی ہیں جن کے مقبول ہونے میں کوئی شک نہیں۔ مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بیٹے پر بددعا۔

لہذا اولاد کو چاہئے کہ ہمیشہ ایسی حرکت سے پرہیز کرے جس کے سبب والدین کی اس کے حق میں بددعا کرنی پڑے اور والدین کو بھی حتی الامکان ان پر بددعا کرنے سے بچنا چاہئے ورنہ مقبول ہونے پر خود ہی پچھتانا پڑے گا، جیسا کہ مشاہدہ ہے۔

عن ابن عباس ان رسول اﷲﷺ قال من ولد بار ینظر الی والدیہ نظرۃ رحمۃ الا کتب اﷲ لہ بکل نظرۃ حجۃ مبرورۃ قالوا وان نظر کل یوم مائۃ مرۃ قال نعم! اﷲ اکبر واطیب

(رواہ البیہقی فی شعب الایمان، مشکوٰۃ ص 421)

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو بھی اطاعت شعار فرزند اپنے والدین کوایک بار نگاہ مہرورحم سے دیکھے اﷲ تعالیٰ اس کے بدلے ایک مقبول حج لکھے گا اور لوگوں نے عرض کیا، یارسول اﷲ! ہر دن سو بار دیکھے! ہاں اﷲ بہت بڑا اور طیب ہے۔

عن عبداﷲ بن عمر و رضی اﷲ عنہما قال قال رسول اﷲ ﷺ الکبائر الاشراک باﷲ وعقوق الوالدین و قتل النفس والیمین الغموس (رواہ البخاری)

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بڑے گناہوں میں سے اﷲ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی، کسی جان کو بلاوجہ شرعی قتل کرنا اورجھوٹی قسم کھانا ہے (مشکوٰۃ ص 17، بحوالہ بخاری)

عن ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما قال قال ورسول اﷲﷺ ان اشد الناس عذابا یوم القیمٰۃ من قتل نبیا او قتلہ نبی او قتل احد والدیہ والمصورون وعالم لم ینتفع بعلمہ (اخرجہ البیہقی کذا فی الدر المنشور)

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور انورﷺنے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب والا وہ ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کردیا یا جس کو کسی نبی نے قتل کیا ہو، یا جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو قتل کیا ہو، اور تصویر کھینچنے والوں کو اور اس عالم کو بھی سب سے زیادہ عذاب ہوگا جس نے اپنے علم نے نفع نہ حاصل کیا (در منثور جلد 4، ص 174)

عن ابن رزین العقیلی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ انہ اتی النبیﷺ فقال یارسول اﷲ ان ابی شیخ کبیر لا یستطیع الحج ولا العمرۃ ولا الظعن قال حج عن ابیک واعتم (رواہ الترمذی، وابو دائود النسائی و کذا فی المشکوٰۃ)

حضرت ابو زرین عقیلی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یارسول اﷲﷺ! یقینا میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو حج و عمرہ اور سفرکی طاقت و قوت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا۔ تم اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرو (مشکوٰۃ ص 222)

حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ حضور اقدسﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا۔ یا رسول اﷲ مجھ سے ایک بڑا گناہ ہوگیا ہے۔ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ حضورﷺنے فرمایا، کیا تیری ماں ہے؟ عرض کیا نہیں۔ پھر فرمایا کیا تیری کوئی خالہ ہے؟ عرض کیا جی ہاں، فرمایا تو اس کے ساتھ حسن سلوک کر (مشکوٰۃ ص 420)

اس سے معلوم ہوا کہ ماں یا خالہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی وجہ سے بہت سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ سے نیکیوں کی توفیق ملتی ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: اس شخص نے اپنے والد کے ساتھ اچھا برتائو نہیں کیا جس نے اپنے والد کو تیز نظر سے دیکھا، یعنی نگاہ سے ناراضگی کا اظہار کیا (تفسیر در منثور جلد 4، ص 171)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور انورﷺ نے ارشاد فرمایا: جو چاہے کہ خدا تعالیٰ اس کی عمر میں برکت دے اور اس کا رزق بڑھائے تو اس کو چاہئے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اپنے رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھے۔

(درمنثور)

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول مقدس ﷺ نے فرمایا کہ تم دوسروں کی عورتوں سے پرہیز کرکے پاک دامن ہوجائو۔ ایسا کرنے سے تمہاری عورتیں پاک رہیں گی اور اپنے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، ایسا کرنے سے تمہارے بیٹے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے اور جس شخص کے پاس اس کا بھائی معذرت چاہتا آئے تو اس کو معذرت قبول کرلینی چاہئے۔ وہ حق پر ہو خواہ ناحق پر، اگر کسی نے ایسا نہ کیا (یعنی معذرت قبول نہ کی) تو وہ میرے حوض کوثر پر نہ آئے۔ یعنی اس کو میرے حوض کوثر سے سیراب ہونے کا حق نہیں۔ (مستدرک حاکم جلد 4، ص 154)