فہم القرآن ۔۔۔۔ گستاخ رسول کی ایک سزاسرتن سے جدا

in Tahaffuz, September 2012-October 2012, علامہ ارشد القادری, فہم القرآن

فلاوربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لایجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیماً O

ترجمہ: قسم ہے آپ کے پروردگار کی کہ وہ اس وقت تک مسلمان ہی نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں وہ آپ کو اپنا حکم نہ مان لیں اور پھر جب آپ ان کا فیصلہ کردیں تو وہ اپنے دلوں میں کسی طرح کی خلش نہ محسوس کریں اور آپ کا فیصلہ کھلے دل سے تسلیم کرلیں۔

شان نزول

سرکار اقدسﷺ کے عہد پاک میں ایک منافق اور ایک یہودی کے درمیان کھیت میں پانی ٹپانے پر جھگڑا ہوگیا۔ یہودی کا کھیت پہلے پڑتا تھا۔ منافق کا کھیت اس کے بعد تھا۔ یہودی کا کہنا تھا کہ پہلے میرا کھیت سیراب ہولے گا، تب تمہارے کھیت میں پانی جانے دوں گا۔ منافق کا اصرار تھا کہ پہلے میں اپنے کھیت کو سیراب کروں گا، اس کے بعد تمہارے کھیت میں پانی جائے گا۔

جب یہ جھگڑا کسی طرح طے نہ ہوسکا تو کسی ثالث کے ذریعے فیصلے کرانے کی بات ٹھہری۔ یہودی نے کہا کہ میں تمہارے پیغمبرﷺ ہی کو اپنا ثالث مانتا ہوں۔ ان سے اختلاف کے باوجود مجھے یقین ہے کہ وہ حق کے سوا کسی کی بھی پاسداری نہ کریں گے، منافق نے یہ سوچ کر کہ یہودی کے مقابلہ میں یقینا وہ میری رعایت کریں گے۔ کیونکہ میں اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہوں، یہودی کی پیشکش قبول کرلی۔

چنانچہ یہودی اور منافق دونوں اپنا مقدمہ لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔ سرکارﷺ نے دونوں فریق کا الگ الگ بیان سنا۔ نزاع کی تفصیل یہ واضح کررہی تھی کہ حق یہودی کے ساتھ ہے۔ چنانچہ حضورﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ سنادیا۔

یہودی فرحاں و شاداں وہاں سے اٹھا اور باہر آکر منافق سے کہا کہ اب تو میرے حق سے تمہیں انکار نہ ہوگا۔ منافق نے منہ لٹکائے پیشانی پر بل ڈالے جواب دیا کہ میں فیصلہ تسلیم نہیں کرتا۔ میرے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ تمہیں منظور ہو تو ہم اپنا مقدمہ حضرت عمر کے پاس لے چلیں، وہ صحیح فیصلہ کریں گے۔ یہودی نے جواب دیا۔ تم جس سے بھی فیصلہ کرائو رسول خداﷺ کا فیصلہ اپنی جگہ بحال رہے گا۔

چنانچہ دونوں حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دولت کدۂ اقبال پر حاضر ہوئے۔ منافق نے مقدمہ کی تفصیل بتاتے ہوئے اس بات کی بار بار تکرار کی کہ میں مسلمان ہوں اور یہ یہودی ہے۔ مذہبی عناد کی وجہ سے یہ مجھے نقصان پہنچانا چاہتا ہے، منافق کا بیان ختم ہوا تو یہودی صرف اتنا کہہ کر خاموش ہوگیا۔

یہ صحیح ہے کہ میں یہودی ہوں اور یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ لیکن سن لیا جائے کہ جو مقدمہ یہ آپ کے پاس لے کر آیا ہے۔ اس کا فیصلہ پیغمبر اسلام نے میرے حق میں کردیا ہے۔ یہ مسلمان ہوکر کہتا ہے کہ مجھے ان کا فیصلہ تسلیم نہیں ہے۔ یہ اپنے نمائشی اسلام کی رشوت دے کر آپ سے رسول خداﷺ کے خلاف فیصلہ کرانے آیا ہے۔ اب آپ کو اختیار ہے کہ جو فیصلہ چاہیں، کردیں۔

یہودی کا یہ بیان سن کر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ فرط جلال سے چہرہ تمتما اٹھا۔ عالم غیظ میں منافق سے صرف اتنا دریافت کیا کہ”کیا یہودی کی بات صحیح ہے؟’’

منافق نے دبی زبان سے اعتراف کیا کہ اس نے ٹھیک ہی کہاہے۔

منافق پر بغاوت کا جرم ثابت ہوگیا۔ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی عدالت میں ایک مرتد کی سزا کے لئے اب کوئی لمحہ انتظار باقی نہیں تھا۔ اسی عالم قہر وغضب میں اندر تشریف لے گئے۔ دیوار سے لگی ہوئی ایک تلوار لٹک رہی تھی، اسے بے نیام کیا۔ قبضے پر ہاتھ رکھے ہوئے باہر نکلے۔ فرط ہیبت سے منافق کی آنکھیں جھپک کر رہ گئیں۔

غیرت جلال میں ڈوبی ہوئی ایک آواز فضا میں گونجی۔

“حاکم ارض و سماوات کے فیصلے کا منکر اسلام کا کھلاہوا باغی ہے اور اس کے حق میں عمر کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کا سر قلم کردیا جائے”

یہ کہتے ہوئے ایک ہی وار میں منافق کے ٹکڑے اڑادیئے۔ ایک لمحے کے لئے لاش تڑپی اور ٹھنڈی ہوگئی۔

اس کے بعد مدینے میں ایک بھونچال سا آگیا۔ یہ خبر بجلی کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی۔ چارون طرف سے منافقین غول در غول دوڑ پڑے۔ گلی گلی میں شور برپا ہوگیا کہ حضرت عمر نے ایک مسلمان کو قتل کردیا۔ دشمنان اسلام کی بن آئی تھی۔ اپنی جگہ انہوں نے بھی یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ اب تک تو محمدﷺ کے ساتھیوں کی تلواریں صرف مشرکین کا خون چاٹتی تھیں۔ لیکن اب خود مسلمان بھی ان کے وار سے محفوظ نہیں ہیں۔

بات پہنچتے پہنچتے آخر سرکارﷺ کی بارگاہ تک پہنچی۔ مسجد نبوی کے صحن میں سب لوگ جمع ہوگئے۔ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی طلبی ہوئی۔ غیرت حق کا تیور ابھی تک اترا نہیں تھا۔ آنکھوں میں جلال عشق کا خمار لئے ہوئے حاضر بارگاہ ہوئے۔

سرکارﷺ نے دریافت فرمایا

“کیوں عمررضی اﷲ عنہ! مدینے میں یہ کیسا شور ہے؟ کیا تم نے کسی مسلمان کو قتل کردیا ہے؟”

جذبات کے تلاطم سے آنکھیں بھیگ گئی تھی۔ دل کا عالم زیر و زبر ہورہا تھا۔ بزم جاناں میں پہنچ کر عشق کی دبی ہوئی چنگاری بھڑک اٹھی تھی۔ بے خودی کی حالت میں کھڑے ہوکر جواب دیا۔

“عمر کی تلوار کسی مسلمان کے خون سے کبھی آلودہ نہیں ہوگی۔ میں نے ایسے شخص کو قتل کیاہے جس نے آپﷺ کے فیصلے سے انکار کرکے اپنی جان کا رشتہ حلقہ اسلام سے توڑ لیاتھا”

اپنی صفائی پیش کرکے حضرت عمررضی اﷲ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ فضا میں شہہ پر جبریل علیہ السلام کی آواز گونجی۔ اچانک عالم غیب کی طرف سرکار کی توجہ منعطف ہوگئی۔ دم کے دم میں محفل کا رنگ بدل گیا۔ حضرت روح الامین علیہ السلام نے خدائے ذوالجلال کی طرف سے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ وہی جواب جو فاروق اعظم نے دیا تھا۔ درج بالا آیت قرآنی میں ہمیشہ کے لئے ڈھل گیا۔ حدیثوں میں آیا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ اﷲ تعالیٰ ان کی زبان پر کلام کرتا ہے۔

تفسیر خازن و معالم التنزیل میں کلبی کے طریق سے حضرت امام ابو صالح و ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے:

وقال جبریل ان عمر رضی اﷲ عنہ فرق بین الحق والباطل فسمی الفاروق

یعنی جبریل علیہ السلام نے ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے حق و باطل میں امتیاز کردیا ہے۔ اس دن سے آپ کا لقب فاروق رکھاگیا۔

تشریح

یہ آیت اپنے موقع نزول کی روشنی میں مندرجہ ذیل امور کو خوب اچھی طرح واضح کرتی ہے۔

1… کلمہ اور اسلام کی نمائش کسی کو بھی بغاوت کی سزا سے نہیں بچا سکتی۔ مدنی تاجدارﷺ کی سرکار میں ذرا سی گستاخی یک لخت اسلام کا وہ سارا استحقاق چھین لیتی ہے جو کلمہ پڑھنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔

2…پیدائشی طور پر جو لوگ اسلام سے بے گانہ ہیں اور جنہوں نے کبھی بھی اپنے آپ کوکلمہ طیبہ سے وابستہ نہیں کیاہے۔ ان کے وجود کو کسی نہ کسی حالت میں یقینا برداشت کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اپنے اسلام کا اعلان کردینے کے بعد جو منکر ہوگئے یا اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے جنہوں نے نبی مرسلﷺ کی شان میں توہین آمیز رویہ اختیار کیا۔ انہیں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ اسلام کی زبان میں وہ مرتد ہیں۔ ان کا حال بالکل اس دوست کی طرح ہے جو رگ جاں سے قریب ہوجانے کے بعد یک بیک دغا دے دے۔ کسی بیگانے کو تو گلے لگایا جاسکتا ہے، لیکن اس کے منہ پر کوئی تھوکنا بھی گوارا نہیں کرے گا۔

انسان کی یہ عالمگیر فطرت ہے۔ ہر شخص کی زندگی میں اس طرح کی دو چار مثالیں ضرور مل سکتی ہیں۔ لیکن ماتم یہ ہے کہ فطرت کا یہ تقاضا انسان اپنے بارے میں تو تسلیم کرتا ہے لیکن خدا اور رسول کے معاملے میں فطرت کا یہ تقاضا فراموش کردیتا ہے۔

یہ اسلام و عقل کی فطرت ہی تو تھی کہ جس فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے بڑے بڑے کافران دنیا کو زندگی کا حق دیا۔ وہی فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ آج کلمہ اسلام سے برگشتہ ہوجانے والے مرتد کو ایک لمحہ بھی زندہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔

3… اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ کفر و ارتداد کچھ توحید و رسالت یا مذہب اسلام سے کھلم کھلا انکار پر ہی منحصر نہیں ہے۔ یہ بھی انکار ہی کے ہم معنی ہے کہ خدا کو اپنا خدا، یارسول کو اپنا رسول اور اسلام کو اپنا اسلام کہتے ہوئے کسی بھی رخ منصب رسالتﷺ کی تنقیص کردی جائے۔

ان کی پاکیزہ زندگی کا اگر بے غبار آنکھوں سے مطالعہ کیا جائے تو ہزاروں واقعات شہادت دیں گے کہ جب تک وہ زندہ رہے، نبیﷺ کے قدموں کے نیچے ان کے دل بچھے رہے۔ دین و دنیا کی ساری کامرانیوں اور ارجمندیوں کو انہوں نے اپنے حبیبﷺ کے دامن سے اس طرح باندھا تھا کہ کسی گرہ کاکھلنا تو بڑی بات، ڈھیلی تک نہیں ہوئی۔

اپنے پیارے نبیﷺ کی خوشنودی کے راستے میں اگر اپنا لاڈلا بیٹا بھی حائل ہوگیا، تو ان کی غیرت عشق کی تلوار نے اسے بھی معاف نہیں کیا۔ ان کی دوستی اور دشمنی کا محور نبی پاکﷺ کی مقدس پیشانی پر ابھرتی ہوئی لکیروں اور چہرۂ تاباں کی مسکراہٹوں کے گرد ہمیشہ گھومتا رہتا تھا۔ ایمان کے اس تقاضے کے ساتھ ان کی زندگی کا یہ پیمان کبھی نہیں ٹوٹ سکا کہ جو نبیﷺ کا ہے، وہی ان کا ہے اور جو نبیﷺ کا نہیں ہے، اس کے ساتھ ان کا کوئی رشتہ نہیں چاہئے،  خواہ خون ہی کی خمیر سے وہ رشتہ کیوں نہ وجود میں آیاہو۔