رمشا مسیح کی آڑ میں قانون توہین رسالت ختم کرنے کی سازش

in Tahaffuz, September 2012-October 2012, ا د ا ر یے

 اس وقت پورے ملک میں رمشا مسیح کیس موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس کیس کے پیچھے کیا سازشیں پوشیدہ ہیں، سمجھدار لوگ اس سے بخوبی واقف ہیں لیکن اس سے ایک مرکزی سازش سامنے آئی جس سے عیسائی لابی کے عزائم سامنے آگئے۔ رمشا مسیح کیس کی آڑ میں قانون توہین رسالت ختم کرنے کا بھرپور مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اخبارات اس کے گواہ ہیں، روزانہ عیسائی تنظیموں کی جانب سے مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ جس میں صرف ایک ہی مطالبے پر زور دیا جاتا ہے کہ ملک پاکستان سے قانون توہین رسالت ختم کیا جائے۔ عیسائیوں کا کہنا ہے کہ :

قانون توہین رسالت پر عملدرآمد میں گڑبڑ ہے۔ اس کی آڑ میں جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں لہذا اس قانون کو ختم کیا جائے؟

جواب: یہاں پر درجنوں قوانین کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جن کا غلط استعمال ہوتا ہے، پولیس کا سارا نظام ہی غلط ہے، جگہ جگہ لوگوں پر غلط مقدمات بنائے جاتے ہیں اور وہ سالہا سال تک جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ کیا اس قانون کو ختم کردینا چاہئے۔

زنا کا قانون یہ ہے کہ عورت شکایت کرے تو زنا ہے۔ کیا اس قانون کا عورتیں غلط استعمال نہیں کررہی ہیں؟ بے شمار ایسے قوانین ہیں جن کا صحیح اور غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ کون سا ایسا قانون ہے جس کا غلط استعمال نہیں ہورہا؟ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ملک سے سرے سے قانون ہی ختم کردیا جائے۔

سوال: قانون توہین رسالت 295/C کا نشانہ غیر مسلم خصوصا مسیحی اقلیت کو بنایا جاتا ہے لہذا اس قانون کو ختم کیا جائے؟

جواب: قانون توہین رسالت انصاف پر مبنی اسلامی قوانین کے مجموعے کا نام ہے۔ اس قانون کے تحت مجرم یا ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا اختیار ہے، اس قانون میں کسی پر جھوٹا الزام لگانے والے کے لئے بھی سزا موجود ہے۔ مسیحی قائدین کا یہ کہنا کہ قانون توہین رسالت صرف غیر مسلموں یا صرف مسیحی اقلیت کے لئے ہے، دو وجہ سے غلط ہے۔

پہلی وجہ تو یہ ہے کہ امام محمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام یا سردار انبیاء سرور کونینﷺ کی شان میں گستاخی کرنیوالا مسلمان ہو یا کافر، قتل کیا جائے گا۔ اس لئے اس قانون میں صرف غیر مسلموں یا صرف مسیحی اقلیت کی تخصیص نہیں، کافر ہو یا مسلمان، گستاخ رسول واجب القتل ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ پچھلے بیس برسوں کے دوران توہین رسالت اور توہین قرآن کے الزام میں سات سو سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ مقدمات مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف درج کرائے لہذا یہ دعویٰ غلط ہے کہ 295/C کا نشانہ صرف غیر مسلم بنتے ہیں۔

سوال: کیا یورپ یا دوسرے ممالک میں بھی اس قسم کے قوانین ہیں؟

جواب: یورپی ممالک اور اس کے اتحادی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ پاکستان میں قانون توہین رسالت کا خاتمہ ہوجائے تاکہ وہ پاکستان میں بھی نعوذ باﷲ من ذالک سید عالمﷺ کی ناموس پر ضرب لگالیں۔ اگر وہ اس قانون کو ختم کرانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی منافقت ہے۔

امریکہ اور یورپ میں توہین مسیح کا قانون ہے، امریکہ کی بعض ریاستوں میں توہین مسیح کی سزا موت ہے۔ وہاں پر اس قانون اور اس کی سزا کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ بھی مجرم ٹھہرتا ہے۔ ہمارے یہاں قانون کی بڑی آزادی ہے۔ برطانیہ میں بھی توہین مسیح پر قانون ہے اور اس کی سزا عمر قید ہے کیونکہ برطانیہ میں سزائے موت ختم ہوچکی ہے۔ سب سے بڑی سزا عمر قیدہے۔ توہین مسیح تو بہت بڑا جرم ہے۔ وہاں پر ان معاملات میں یہ لوگ اس قدر حساس ہیں کہ مدر ٹریسا پر ایک فلم بنی جس میں وہ وجد میں آکر حضرت مسیح (عیسٰی علیہ السلام) کی شبیہ کے بوسے لیتی ہے تو اس فلم کی نمائش پر فورا ہی پابندی لگادی گئی۔ فلم کا معاملہ ہائوس آف لارڈ میں گیا۔ وہاں اس کی توثیق ہوئی اور وہاں یہ بھی کہا گیا کہ اگر آپ مدر ٹریسا کے حوالے سے بات کررہے ہیں تو آپ توہین مسیح کے قانون کو وسیع کریں اور اسے تمام انبیاء کرام کے لئے رکھیں۔ صرف حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لئے نہیں تو جواب یہ آیا کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ اگر اسلام پر جارحانہ حملہ ہوتا ہے تو ہمارے نزدیک وہ حملہ جائز ہے کیونکہ اسلام ہمارا مذہب نہیں ہے۔

آپ دیکھئے کہ برطانیہ خود کو ایک سیکولر ملک نہیں کہتا بلکہ وہ اپنی شناخت ایک مسیحی ملک کے طور پر رکھتا ہے اس کے پرچم پر صلیب آویزاں ہے۔ فلم بنانے والے یورپی یونین میں گئے۔ وہاں انہیں اجازت نہیں ملی۔ یورپ کی انسانی حقوق کی عدالتوں نے اس احتجاج کو خارج کردیا اور فلم پر پابندی برقرار رکھی کہ وہ ان معاملات میں دخل نہیں دیں گے کیونکہ یہ برطانیہ کا قانون ہے اور وہ کسی ملک کو اپنا قانون تبدیل کرنے کے لئے نہیں کہہ سکتے لیکن وہ ہمیں کہتے رہتے ہیں۔ یہ تو ان کا اپنا اصل ہے کہ وہ کتنے مذہبی ہیں اور اپنے معاملات میں کس قدر سخت گیر ہیں، لیکن مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنے نبیﷺ کی حرمت و ناموس کی حفاظت کا حق نہیں دینا چاہتے۔

یورپ اور قانون توہین انبیاء

پاپائے روم یا چرچ کے اقتدار میں آنے سے قبل یورپ میں رومن لاء (Roman Law) کی عملداری تھی۔ چونکہ انجیل میں کوئی قانون احکام موجود نہ تھے لیکن جب کلیسا نے اسٹیٹ (State) پر غلبہ و اقتدار حاصل کرلیا تو پوپ کے منہ سے نکلے ہوئے ہر حکم کو قانون کی بالادستی حاصل ہوگئی۔ تورات کے برعکس انجیل صرف پندونصائح کا مجموعہ تھا۔ اس لئے یورپ اور ایشیا میں جہاں جہاں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں، وہاں کاروبار حکومت چلانے کے لئے اہل کلیسا کو رومی قانون اور یہودیوں کے تالمودی قانون ہی پر انحصار کرنا پڑا۔

موسوی قانون کے تحت قبل مسیح علیہ السلام کے انبیاء کی اہانت اور تورات کی بے حرمتی کی سزا سنگسار مقرر تھی۔ رومن امپائر کے شہنشاہ جسٹینین (Justinain) کا دور حکومت طلوع اسلام سے چند سال قبل 528 تا 565 صدی عیسوی پر محیط ہے۔ رومن لاء کی تدوین کا سہرا بھی اسی کے سر ہے اور اس کو عدل و انصاف کا مظہر بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے جب دین مسیحی قبول کرلیا تو قانون موسوی کو منسوخ کرکے انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام کی بجائے صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا سزائے موت مقرر کی گئی۔ اس کے دور سے قانون توہین مسیح سارے یورپ کی سلطنتوں کا قانون بن گیا۔ روس اور اسکاٹ لینڈ میں اٹھارویں صدی تک اس جرم کی سزا سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔

روس میں بالشویک انقلاب کے بعد جب کمیونسٹ حکومت برسر اقتدار آئی تو سب سے پہلے اس نے دین و مذہب کو سیاست اور ریاست سے کلیتاً خارج کردیا۔ اس کے بعد یہاں سزائے موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیح کے جرم کی پاداش میں نہیںبلکہ مسیح کی جگہ اشتراکی امپریلزم کے سربراہ نے لے لی۔ اسٹالن جورشین امپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا، اس کی اہانت تو بڑی دور کی بات تھی، اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی ممالک محروسہ روس کا سنگین جرم بن گیا۔ ایسے سرپھرے لوگوں کے یا تو سر کچل دیئے جاتے تھے جس کی مثال لینن کے ساتھی ٹراٹسکی کی خونچکاں موت کی صورت میں موجود ہے۔ جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ میں پناہ گزیں تھا یا پھر ایسے مجرموں کو سائبیریا کے بیگار کیمپوں میں موت کے حوالے کردیا جاتا تھا۔ ایسی اذیت ناک سزائوں اور موت کی گرم بازاری نے زار روس کے دور سیاہ کی عقوبتوں کوبھی بھلادیا۔

برطانیہ میں بھی اگرچہ توہین مسیح کی جسمانی سزائے موت موقوف کردی گئی تھی، لیکن وہاں بھی اس جرم کی سزا کا قانون کامن لاء کے علاوہ بلاس فیمی ایکٹ(Blasphemy Act)  کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔ مناسب ہوگاکہ یہاں بلاس فیمی کے معنی کے ساتھ اس کی تعریف (Definaton)کی بھی وضاحت کردی جائے تاکہ اس کا صحیح مفہوم ذہن نشین ہوسکے۔

بلاس فیمی لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اہانت کے ہیں۔ لاطینی اصطلاح میں خدا کے وجود اور دین مسیح کی صداقت سے انکار یا نجات دہندہ عالم یسوع مسیح کی شان میں اہانت اور انجیل مقدس کی تحقیر اور تضحیک کو بلاس فیمو کہا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کی مستند قانونی لغت بلیکز لا ڈکشنری (Black’s Law Dictionary) کی رو سے بلاس فیمی ایسی تحریر یا تقریر ہے جو خدا، یسوع مسیح، انجیل یا دعائے عام کے خلاف ہو اور جس سے انسانی جذبات مجروح ہوں یا اس کے ذریعہ قانون کے تحت قائم شدہ چرچ کے خلاف جذبات کو مشتعل کیا جائے اور اس سے بد کرداری کو فروغ حاصل ہو۔ انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا میں بلاس فیمی کی تعریف ذرا کچھ مختلف ہے جس میں بتلایا گیا ہے کہ مسیحی مذہب کی رو سے بلاس فیمی گناہ ہے اور علمائے اخلاقیات بھی اس کی تائید کرتے ہیں جبکہ اسلام میں نہ صرف خدا کی شان میں بلکہ پیغمبر اسلام کی سان میں گستاخی بھی بلاس فیمی کی تعریف میں آتی ہے ۔        (انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا، ج 2، ص 74)

برطانیہ میں توہین مسیح (Blasphemy) کامن لاء کے تحت قابل تعزیر جرم ہے، جبکہ بلاس فیمی ایکٹ میں مجرم کے لئے جسمانی موت کی بجائے شہری موت (Civil Death) کی سزا مقرر ہے جس کی رو سے حکومت ایسے مجرم کے سارے شہری حقوق سلب کرنے کی مجاز ہے۔ بلاس فیمی اگر تقریری ہو تو دو معتبر گواہوں کی شہادت لازمی ہوگی اور اگر تحریری ہو تو ایسی تحریر ثبوت جرم میں پیش کی جائے گی۔

معروف جج پولاک کے خیال میں بلاس فیمی ایکٹ کے تحت کسی شخص کو تادیبی موت (Civil Death) کی سزا نہیں دی گئی مگر برطانیہ ہی کے ایک دوسرے ممتاز جج برام ویل نے صحیح طور پر جج پولاک (Pollock) کی تردید کی ہے۔ ہم برام ویل جج کی تائید میں ڈینس لی مون (Denis Lemon) ایڈیٹر گے نیوز  (Gay News) کے ایک اہم مقدمہ کا حوالہ دیں گے۔ لی مون پر 1978ء میں توہین مسیح کے الزام میں برطانیہ کی عدالت میں کیس دائر ہوا۔ ایڈیٹر لی مون پر الزام یہ تھا کہ اس نے حضرت مسیح پر ایک مزاحیہ نظم لکھی ہے جس میں اس نے ان کو ہم جنس پرستی کی طرف مائل دکھلایا تھا۔ اس مقدمہ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ صفائی کے وکلاء نے ملزم کی طرف سے دفاع میں یہ نکتہ اٹھایا کہ ملزم نے بلاس فیمی کا ارتکاب ارادتاً  (Wilfylly) یا قصداً (Motive) نہیں کیا تھا۔ یہ بات اس نے بطور تفریح کہی ہے جس سے اہانت یا توہین مقصود نہیں۔ یہ وہی عذر ہے جو گستاخان رسالت شروع سے کرتے چلے آئے ہیں۔ جس کا ذکر کلام الٰہی میں آج سے چودہ سو سال قبل ہی کردیا تھا اور انہیں یہ بھی بتایا تھا کہ یہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔

دیکھئے قرآن حکیم کا یہ ارشاد:

قل ابااﷲ واٰیاتہ ورسولہ کنتم تستھزؤن لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم (التوبہ 65)

’’تم اﷲ کے ساتھ ،اس کی آیات کے ساتھ اور اسکے رسولﷺ کے ساتھ استہزا (ہنسی مذاق) کرتے ہو۔ تمہارا کوئی عذر نہیں سنا جائے گا، بلاشبہ تم نے ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے۔‘‘

لی مون کے مقدمہ میں صفائی کے وکلاء کا تمام تر زور اسی نکتہ پر تھا کہ گے نیوز میں ملزم نے مسیح کے بارے میں ایسی بات تفریحاً یا دل لگی کے طور پر کی ہے جس میں اس کی نیت یا ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات بدنیتی سے کہی گئی ہے کہ بلاس فیمی یا توہین مسیح کے کیس میں ’’نیت‘‘ یا ’’ارادہ‘‘ غیر متعلق ہیں کیونکہ جو بات جناب مسیح کے بارے میں کہی گئی ہے اس کا براہ راست تعلق ایک واضح حقیقت سے ہے جس کی وجہ سے پیروان مسیح کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں۔ اس لئے کہ ہر وہ بات اور ہر وہ چیز جو خدا، یسوع مسیح اور بائبل کی تضحیک، استہزا، توہین اور تنقیص کا باعث ہو، وہ بلاس فیمی یا قانون توہین مسیح کے تحت لائق تعزیر جرم ہے۔ اس لئے لی مون کو بلاس فیمی لا کے تحت جیوری نے سزا سنائی۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں قانون تو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مذہب کا انکار کردیا جائے وہ قابل گرفت جرم نہیں لیکن مذہب کے خلاف ناشائستہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اس طرح اہانت رسولﷺ کے بارے میں قرآن مجید کی یہ وعید کی استہزا کرنے والوں کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ بیسوی صدی میں خود منکرین ہی کے ذریعہ پوری کرکے دکھلادی گئی۔ فیصلہ کا اقتباس برطانیہ کے کثیر الاشاعت روزنامہ THE TIMES LONDON میں 27 اگست 1998ء کو ڈیوڈہالو (David Hollow) نے رپورٹ کیا ہے جو درج ذیل ہے۔

BLASPHEMY AND BIGOTORY

Sincerity” and an “atmosphere of reverence” are not a sufficient defence against blasphemy. The 1978 conviction of Denis Lemon, editor of “Gay News” for publishing a poem suggesting that Jesus was a promiscous homosexual established that the intention, or motive, of an artist is irrelevant. It is a question of fact: Is Christian religious feeling “outraged and insulted”?

The law is clear: “Every publication is said to be blasphemous which contains any contemptuous, reviling, scurrilous or ludicrous matter relating to God, Jesus Christ, or the Bible” The law allow you to attack subvert or deny the Christain religion, but not in a way that is “indecent” or “intemperate

امریکہ اور اس کی اکثر سیکولر ریاستوں میں قانون توہین مسیح کو امریکی آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے منافی نہیں قرار دیا گیا۔ اس سلسلہ میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے بڑے دور رس فیصلے دیئے ہیں جو ملک عزیز کے معروضی حالات میں نہایت اہم ہیں۔ یہاں ہم امریکی سپریم کورٹ کے ایک معرکۃ الآراء فیصلے اسٹیٹ بنام موکس (State Vs. Mokas) سے ضروری اقتباس پیش کریں گے جس میں آزادی مذہب اور آزادی پریس کے بنیادی حقوق سے بحث کرتے ہوئے فاضل عدالت عظمیٰ نے جو متفقہ فیصلہ دیا ہے اس کی تلخیص حسب ذیل ہے۔

’’اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور اسٹیٹ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور ان میں باہمی کوئی ربط اور تعلق نہیں، لیکن اسلام، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے مقابلہ میں پیروان مسیح کی تعداد زیادہ ہے۔ حکومت کی زمام کار بھی ان ہی کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثرورسوخ ہے اور عیسائیت ریاست اور ملک کی غالب اکثریت کا مذہب ہے‘‘

فاضل عدالت نے اپنے بصیرت افروز فیصلہ میں تاریخ کے حوالے سے لکھا ہے:

’’اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب و تمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل میں دین و مذہب کا نہایت اہم رول رہا ہے اور اس ملک کے استحکام اور بقاء کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام اور تکریم سے وابستہ ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر سے علیحدہ نہ ہونے والا لازمی حصہ ہے‘‘

فاضل عدالت نے اس کی مزید توضیح کرتے ہوئے لکھا ہے

صدر امریکہ کی تقریب حلف وفاداری، اس کے علاوہ کانگریس اور مقننہ کی افتتاحی تقاریب اور عدالتوں کی کارروائی شہادت کا انجیل مقدس پر حلف سے آغاز سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ مملکت کے تکون یعنی عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کا بھی مذہب سے یک گونہ بالواسطہ تعلق ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنے ریفرنس کا جواب دیتے ہوئے حتمی طور پر یہ قرار دیا ہے کہ آزادی مذہب اور آزادی پریس کے آئینی تحفظات اور بنیادی حقوق، توہین مسیح کے قانون اور اس کی بابت قانون سازی کی راہ میں مزاحم نہیں ہیں۔

یورپ کے قانون داں بلاس فیمی کے قانون کی توجیہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ اس قانون کا محرک بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذہب پر حملہ دراصل ریاست پر حملے کے مترادف ہے۔ ان کی رائے میں اسی وجہ سے اکثر سیکولر ریاستوں میں بھی بلاس فیمی کو قابل تعزیر جرم بنادیاگیا۔

مقتین کی اس منطقی توجیہ اور امریکہ کی سپریم کورٹ کے ناقابل تردید دلائل کے بعد مزید کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یہ مملکت خداداد پاکستان، جسے غلامان محمد عربیﷺ نے علیحدہ قومیت کی بنیاد پر حاصل کیا تھا، جہاں ریاست کا سرکاری مذہب اسلام ہے، جہاں پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قرآن اور سنت رسولﷺ کے خلاف کوئی فیصلہ صادر نہ کرے اور نہ ہی انتظامیہ کو شرع پیغمبرﷺ سے سرمو اختلاف کی جسارت ہوسکتی ہے۔ ایسے میں کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر کسی کو یہ کھلی اجازت ہے کہ وہ مسلمانوں کے آقا و مولا سرکار ختمی مرتبتﷺ جن کے نام و ناموس پر مسلمان اپنی جان و مال اور ہرچیز قربان کرنے کو حاصل حیات سمجھتا ہے، کی شان میں گستاخی کرے اور قانون کی گرفت سے آزاد رہے۔

تاریخ کی یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ ماضی میںبرطانیہ، امریکہ، روس اور یورپ کے کسی ملک میں بھی جب تک چرچ اور اسٹیٹ، دین اور ریاست، ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے، اس وقت تک سارے ملکوں میں چرچ کو مملکت پر برتری حاصل تھی اور وہاں یسوع مسیح کی پرستش ہوتی رہی۔ اس کے درپردہ کلیسا کو ملک کے سیاہ وسفید پر اقتدار کلی حاصل تھا، جس نے نشہ اقتدار میں بدمست ہوکر انسانیت پر لرزہ خیز مظالم کئے جس کے خلاف بغاوت کے نتیجہ میں چرچ اور مملکت، دین اور سیاست کی تفریق عمل میں آئی۔ اس لئے ان ملکوں نے سیکولر یعنی لادینی طرز حکومت کو اپنالیا۔ اس کے باوجود ذوق پرستش ختم نہ ہوسکا اوراس نے ایک نئی صورت اختیار کرلی۔ اب یسوع مسیح کی بجائے ریاست کو فیٹش (Fetish) یعنی پوجمان شے بنالیاگیا اس لئے دنیا میں جہاں جہاں بھی سیکولر حکومتیں قائم ہوئیں وہاں ریاست کی مخالفت کو سنگین جرم بغاوت اور غداری قرار دیا گیا۔

آج دنیا کے تمام ملکوں میں خواہ وہ سیکولر ہوں، یا غیر سیکولر، جرم بغاوت کا قانون موجود ہے، جس کی سزا سزائے موت مقرر ہے۔ جو لوگ اس جرم کے الزام میں ماخوذ ہوں، انہیں گولیوں سے اڑا دیا جاتا ہے یا پھر انہیں تختہ دار پر کھینچا جاتا ہے۔ امریکہ جیسے مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں انہیں گیس چیمبرز یا الیکٹرک چیئر میں بٹھا کر اذیت ناک طریقہ سے ماردیا جاتا ہے اور جس ملک میں اس جرم کی سزا عمر قید ہے وہاں ایسے ملزموں کو عقوبت خانوں میں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے بند کردیاجاتا ہے۔ اس قانون کے خلاف آج تک کسی نے لب کشائی نہیں کی تو پھر کیا پاکستان ہی میں جو اس محسن انسانیتﷺ کی نسبت غلامی کی وجہ سے معرض وجود میں آیا اور جن کا نام نامی ہی اس ملک کے قیام اور بقاء کا ضامن ہے، ان کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف قانون توہین رسالت، قابل اعتراض قانون ہے؟؟؟ قانون رسالت پر اعتراض دین و مذہب بلکہ خود اپنی عقل و دانش اور فہم و فراست سے یکسر انکار ہے۔