شیخ اعظم ایک پہلودار شخصیت

in Tahaffuz, September 2012-October 2012, جمال الرافع اشرفی, شخصیات

جان کر منجملۂ خاصان میخانہ مجھے

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

ہر دور میں انسان اپنے علمی و تحقیقی کارناموں اور قومی و فلاحی خدمات کی بنیاد پر عظمت و شہرت کی بلندی پر پہنچتا رہا ہے۔ آج بھی یہی دستور فطرت جاری و ساری ہے۔ شیخ اعظم حضرت مولانا سید اظہار اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ بھی تادم آخر اپنی علمی، دینی، تبلیغی اور تعمیری کارناموں اور قومی و ملی خدمات کی بدولت شوکت و عزت کے اوج ثریا پر متمکن نظر آتے ہیں۔ ہمارے ممدوح گرامی کو جہاں سرکار غوثیت مآب، خواجہ غریب نواز، قدوۃ الکبریٰ حضرت مخدوم سمنانی اور دیگر اولیائے کاملین کے فیضان اور روحانی تصرفات پر کامل یقین تھا، وہیں اس عالم اسباب میں جہد مسلسل اور اخلاص عمل کی ضرورت و اہمیت اور اس کے حتمی نتائج سے بھی خوب واقفیت تھی۔ حضرت کی حیات مبارکہ کے آخری 35 سالہ دور پر نظر کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آپ کا نصب العین امت مسلمہ کا روشن و تابناک مستقبل تھا۔ اس عظیم مقصد کے لئے آپ نے اپنی حیات مستعار وقف کی ہوئی تھی۔ آپ کا ہر کام فقط اپنے معبود حقیقی کی رضا اور محسن انسانیتﷺ کی خوشنودی کے لئے ہوتا۔ دنیاوی شہرت اور ناموری کا کوئی دخل نہ ہوتا۔ ہمیشہ اپنی دینی و ملی خدمات کو رب کریم کی توفیق اور فضل قرار دیتے اور فرماتے یہی میرا توشۂ آخرت ہے۔ یہی رضائے الٰہی ایک مرد مومن کا مقصود حیات ہوتی ہے۔

حضرت کی ایک دیرینہ خواہش یہ تھی کہ کم از کم ہمارے والد ماجد اور خود ہماری سرپرستی میں چلنے والے مدارس اسلامیہ سے ایسے مبلغین اور داعیان اسلام نکلیں جو موجودہ دور میں دعوت و تبلیغ کے نئے تقاضوں پر پورا اتریں اور اس میدان کی تکنیکی صلاحیتوں سے بھی آراستہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کے مروجہ نصاب تعلیم سے حضرت کبھی مطمئن نہیں رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت اپنے تبلیغی اسفار کے تجربے کی روشنی میں موجودہ دور کے فارغ التحصیل علماء کے اندر جن اضافی معلومات کی ضرورت، اہمیت اور افادیت کو محسوس فرماتے، اس ضرورت کی تکمیل مروجہ نصاب تعلیم کے ذریعہ ممکن نظر نہیں آتی۔ پہلے تو حضرت نے اس مسئلہ پر دینی درسگاہوں کے تجربہ کار اساتذہ سے تبادلہ خیال فرمایا اور سعی بلیغ فرمائی کہ ضروری ترمین پر اتفاق رائے ہوجائے۔ کچھ حضرات نے آپ کی تجویز سے اتفاق تو کیا مگر کسی مصلحت کے پیش نظر اس کو عملی جامہ پہنانے کی ہمت نہ جٹا سکے۔ کبھی کبھی حضرت اکتا کر یہ فرماتے کہ دنیا کی تمام یونیورسٹیوں، کالجوں، اور اسکولوں کے نصاب تعلیم میں بدلتے حالات اور ضرورت کے تحت ضروری ترامیم ہوتی رہتی ہیں مگر مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم کو کیوں ’’لاتبدیل لکلمات اﷲ‘‘ کے مرتبے پر لاکھڑا کردیا گیا ہے۔ جب آپ کو یقین ہوگیا کہ اس قسم کی گفت و شنید سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہونے  والا تو آپ نے ان بلاوجہ کی مصلحتوں کی اصلاح فرماتے ہوئے جامع اشرف کے قیام سے قبل ہی 1978ء میں عرس مخدومی کے موقع پر خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں میں ایک تعلیمی کنونشن منعقد فرمایا۔ جس میں ملک کے جلیل القدر اور طویل تدریسی تجربہ رکھنے والے اکابر علمائے اہل سنت مثلا حضور مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمن قادری، امام النحو علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی اور امین شریعت مفتی رفاقت حسین مظفر پوری قدست اسرارہم اور دیگر متعدد علماء و دانشوران نے شرکت فرمائی۔ کنونشن میں جملہ ماہرین درسیات نے اپنے قیمتی خیالات و تجربات پیش فرمائے۔ پھر باتفاق آراء ایک ایسے جامع اور جدید نصاب تعلیم کی ترتیب کافیصلہ لیا گیا جس میں علوم اسلامیہ کے علاوہ عربی زبان میں تحریر و تقریر پر یکساں قدرت اور انگریزی، ہندی، ریاضی، سائنس، جغرافیہ اور معلومات عامہ کی ضروری معلومات کی پوری رعایت ہو۔ نصاب تعلیم کی ترتیب کے لئے آزمودہ کار علمائے کرام اور دانشوروں پر مشتمل ایک بورڈ کی تشکیل بھی ہوگئی۔ اس فیصلے پر حضرت ممدوح گرامی بہت مسرور ہوئے اور فرمایا بحمدﷲ ’’علمائے کرام کا فیصلہ میرے منشاء کے عین مطابق ہے مگر اصل مرحلہ تو ترتیب کا ہے‘‘ واقعی یہ مرحلہ ہنوز طے ہونا باقی ہے۔

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

مجھے خوب یاد ہے کہ 1978ء میں حضرت نے خانقاہ اشرفیہ حسنیہ میں حجرۂ حضرت صدر الافاضل کی طرف جاتے ہوئے جہاں حضور صدر العلماء اور حضور مجاہد ملت کا قیام تھا، مجھ سے دریافت فرمایا کہ ’’میاں کہاں پڑھ رہے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا۔ الجامعہ الاشرفیہ میں! فرمایا ’’آئندہ سال سے ان شاء اﷲ اسی خانقاہ میں معیاری تعلیم کا انتظام ہورہا ہے۔ اب آپ کو کہیں نہیں جانا ہے، یہیں پڑھنا ہے‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 1979ء میں ہماری تعلیم اپنے مرکز عقیدت ہی میں شروع ہوگئی اور یہیں سے فراغت بھی حاصل ہوئی۔ یہاں پرہمیں جو ماحول اور سکون میسر ہوا، وہ کہیں نہیں ہوا۔

ایسی ہی سنگین صورتحال میں جبکہ ہندوستان کی خانقاہوں سے روحانی اقدار و روایات رخصت ہورہی تھیں اور کہیں کچھ نظر بھی آتی تھیں تو ان کی حیثیت ’’چراغ سحر‘‘ کی رہ گئی تھی۔ بقول شاعر مشرق:

قم باذن اﷲ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے

خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گور کن

تو حضرت ہی نے آہنی عزم کے ساتھ اس جمود کو توڑتے ہوئے ان روایات میں نئی روح پھونکی اور ان رسوم کہن کی تجدید و احیاء کی جانب انقلابی قدم بڑھایا… ایک اور اہم بات یہ ارشاد فرمائی کہ ’’اگر مستقبل قریب میں ایک مستحکم تعلیمی ادارہ اس خانقاہ سے متصل قائم نہیں ہوا تو اس صدی کے اختتام تک آنے والی نسلوں میں ہمارے سلسلہ کی پہچان تک شاید باقی نہ رہے اور باد مخالف کے تند وتیز جھونکے سب کچھ اڑالے جائیں‘‘ اسی سے آپ اندازہ کریں کہ حضرت کے سینے میں خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سے متصل ایک عظیم اور قابل فخر دینی درس گاہ کے قیام کی کیسی شدید تڑپ تھی؟ یہی وہ اسباب و عوامل ہیں جو قیام جامع اشرف میں بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ قیام کے بعد ابتدائی 5-4 سال حضرت کے لئے بڑے صبر آزما رہے اور سخت کرب و اضطراب میں گزرے۔ اکثر نامساعد حالات اور مخالفانہ سازشوں سے آپ کے قلب نازک کو سخت صدمہ پہنچتا اور آنسوئوں کی دھار میں تبدیل ہوجاتا۔ جب شام کو آپ اپنے گھر کچھوچھہ شریف واپس جاتے تو خاموشی کے ساتھ حضرت مخدوم المشائخ کی نشست گاہ کے سامنے برآمدے پر ٹہلنے لگتے۔ آپ کے والد ماجد آپ کی اضطرابی کیفیت محسوس فرماتے ہوئے بڑی شفقت سے فرماتے ’’اظہار میاں! کیا بات ہے؟ کیوں پریشان ہیں؟ بیٹھئے تو سہی‘‘ جب آپ بیٹھ جاتے تو اپنے مسائل اور پریشانیوں کو بیان فرماتے تو جواب ملتا ’’صبر کیجئے، اﷲ نے صبر کرنے والوں کو اپنی معیت کی بشارت دی ہے۔ اس کے علاوہ ان مع العسر یسراً کی خوشخبری بھی دی ہےیہ سکون بخش کلمات سن کر آپ کو بڑی تقویت ملتی اور ایک نئے عزم کے ساتھ لوٹتے۔ ان تمام منفی صورت حال کا سامنا آپ نے اپنی مضبوط قوت ارادی کے ساتھ کیا۔ میں پورے وثوق کے ساتھ بلاخوف تردید یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میرے ممدوح ذی وقار نے خانقاہ اشرفیہ حسنیہ کے پہلو میں علم و دانش اور فکر و آگہی کا جو حسین شہر بسایا ہے وہ رہتی دنیا تک اگر ایک طرف پوری دنیائے سنیت کے لئے فیض بار رہے گا تو دوسری جانب پورے خانوادۂ اشرفیہ کی عظمتوں کا امین اور سرمایۂ افتخار بنا رہے گا۔ درگاہ کچھوچھہ شریف اور اس کے قرب و جوار میں اب کئی مدارس قائم ہوچکے ہیں اور سب اپنے اپنے طور پر علوم دینیہ کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہیں، مگر یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ ان سارے مدارس کے قیام کا اصل محرک ’’جامع اشرف‘‘ ہی ہے۔ اس حقیقت کے اعتراف میں میرے خیال سے کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی کچھ اور خانقاہوں کے ارباب حل و عقد بھی گہری نیند سے بیدار ہوئے اور قابل لحاظ تعلیمی، تبلیغی اور تعمیری سرگرمیاں شروع ہوئیں جو میں نے بچشم خود دیکھیں اور صاف محسوس کیا کہ یہ ساری جلوہ سامانیاں اور برکتیں جامع اشرف کی رہین منت ہیں۔ کوئی بھی دینی کام اگر نقل اور تقلید ہی کے طور پر ہو تو اس کے مستحسن اور لائق ستائش ہونے میں کوئی دو رائے نہیں اور جہاں تک تقلید کا تعلق ہے تو ہم بحمدہ تعالیٰ ’’مقلد‘‘ ہیں۔ حضول برکت و سعادت کے لئے مختلف خانقاہوں اور تعلیمی اداروں میں جاتا رہتا ہوں۔ بقول بلبل شیراز:

در اقصایٔ عالم بگشتم بسے

بسر بردم ایام باہر کسے

تمتع زہر گوشۂ یافتم

زہر خرمنے خوشۂ یافتم

حضرت کے عزم محکم کا یہ حال تھا کہ جب کسی کام کا آغاز فرماتے تو اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے۔ جامع اشرف، مسجد اعلیٰ حضرت، مولانا احمد اشرف ہال، مختار اشرف لائبریری، اشرف حسین میوزیم، روضۂ مخدوم المشائخ اور خانقاہ کی دیگر تعمیرات آپ کے جمالیاتی ذوق اور شاہجہانی مذاق تعمیر کا نمونہ تو ہیں ہی مگر سلطان العارفین، برہان العاشقین حجۃ اﷲ فی الارض مولانا جلال الدین رومیؔ قدس سرہ کی مثنوی شریف جس کے بارے میں مشہور ہے

مثنویٔ مولویٔ معنوی

ہست قرآں در زباں پہلوی

ایسی مہتم بالشان کتاب کا ترجمہ وہ بھی نظم میں کتنا مشکل کام ہے، یہ ارباب فہم و دانش پر مخفی نہیں۔ اس امر ذی شان کے عہد مصمم اور پھر آغاز کے پیچھے کون سی روحانی قوت اورغیبی تائید کارفرما تھی، اس کا علم تو حضرت ہی کو ہوسکتا ہے۔ حضرت کی اس جرأت قلندرانہ کو سلام! کہ آ نے نہ صرف فارسی کے منظوم کلام کا ترجمہ سلیس اردو نظم میں کیا بلکہ بحر کے اوزان کی رعایت بھی ملحوظ رکھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے دفتر اول کا ترجمہ مکمل ہوگیا۔ مثنوی شریف کے علاوہ حضرت کو مخدوم بہار شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری قدس سرہ کی ’’مکتوبات صدی‘‘ بھی بے حد پسند تھی۔ جامع اشرف میں تحصیل علم کے دوران اس کتاب مستطاب کے پسندیدہ اقتباسات پڑھ کر ہم لوگوں کو سناتے اور جوش میں فرماتے کہ اگر کسی کو توحید کا حقیقی مفہوم سمجھنا ہو تو مخدوم بہار کی اس کتاب سے سمجھے۔

دعوت و تبلیغ کے میدان میں بھی حضرت مرد مجاہد کی تصویر نظر آتے۔ چالیس پچاس سال قبل گائوں دیہات کی ناہموار سڑکوں پر تکلیف دہ سواریوں کے ذریعہ اور پیدل ہفتوں سفر فرماتے اور دین متین کی تبلیغ کی راہ میں پیش آنے والی تمام صعوبتوں کا خندہ جبیں اور ایمانی توانائی کے ساتھ خیر مقدم کرتے۔ اس راہ میں اپنی مساعی جمیلہ سے آپ نے کتنے ہی گم گشتگان راہ کو ایمان و ایقان کی شاہراہ ہدایت پر گامزن فرمادیا ہے۔

بہار میں دیگر مقامات کی نسبت بھاگلپور اور اس کے مضافات کا دورہ زیادہ ہوتا۔ بھاگل پور کے دورے میں فتح پور ضرور تشریف لاتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فتح پور میں آپ کے دادا جان عالم ربانی واعظ لاثانی مولانا شاہ سید احمد اشرف اشرفی جیلانی نور اﷲ مرقدہ کی واحد علمی یادگار ’’مدرسہ اشرفیہ نظامیہ‘‘ واقع ہے۔ جامع اشرف کے بعد حضرت کو اپنے دادا جان کے قائم کردہ اس علمی یادگار سے ایک جذباتی تعلق خاطر تھا۔ اس ادارہ کے تعلیمی نظام کے حوالے سے آپ ہمیشہ فکر مند رہے۔ راقم سلوطر اسی ادارہ کا ایک معمولی خادم ہے۔

شیخ اعظم کے مجموعی حالات و واقعات پر غائرانہ نظر ڈالنے سے میرے پردۂ ذہن پر یہ تاثر ابھرا کر سامنے آتا ہے کہ ممدوح گرامی اپنے پر دادا قطب ربانی شبیہ غوث الثقلین شاہ علی حسین کی قلندرانہ ادائوں، اپنے دادا جان، عالم ربانی مولانا احمد اشرف کے علمی وقار و تمکنت اور اپنے والد ماجد مخدوم المشائخ مولانا سید مختار اشرف کے کردار و عمل کا آئینہ اور پیکر نورانی تھے۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے: الولد سرلابیہ

آپ ایک عظیم خانوادے کے فرد کامل پھر جانشین مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی ہونے کی حیثیت سے بلا امتیاز تمام انسانوں کے ساتھ حسن سلوک اور محبت و شفقت سے پیش آتے۔ بلاشبہ آپ اپنے جد کریم صاحب خلق عظیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے اخلاق حسنہ کا نقش جمیل تھے۔ اس کے علاوہ اپنے خاندانی اثاثہ یعنی ’’عشق رسول‘‘ کی دولت گرانمایہ بھی آپ کو وراثتاً ملی تھی۔ اسی عشق رسول کی حرارت نے آپ کو تمام شعبہ ہائے حیات میں توانائی بخشی اور ہمیشہ جذبہ عمل سے سرشار رکھا۔ آپ کی تحریر و تقریر اور شاعری بھی اسی ’’اصل الاصول‘‘ کے محور پر گردش کرتی رہی۔

عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولین ہے عشق

عشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات

میری دعا ہے کہ مولائے کریم و کارساز شیخ اعظم کے لگائے ہوئے علم و عرفان کے حسین چمن کو تادیر سرسبز و شاداب رکھے۔ جو اپنی خوشبوئوں سے ایک عالم کو مہکائے اور آپ کے فرزند و جانشین قائد ملت حضرت مولانا الحاج سید شاہ محمود اشرف صاحب قبلہ مدظلہ العالیٰ کو آپ کا مظہر اتم اور آپ کے مشن کا سالار کارواں بنائے۔