ٹیلی فون اور موبائل کے ذریعے رویت ہلال کا ثبوت

in Tahaffuz, September 2012-October 2012, متفرقا ت, مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی

”ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں’’

اور

”زمانے کے بدلنے سے احکام بھی بدل جاتے ہیں“

یہ علمائے اصول فقہ کے مسلمہ اصول ہیں جو کتاب و سنت سے ماخوذ ہیں۔ جدید ذرائع ابلاغ نے جب سے قدم رکھا ہے، دنیا کو ایک گائوں بنادیا ہے۔ اس نے بے شمار مشکلیں حل کی ہیں تو بے انتہا مسائل بھی پیدا کئے ہیں۔ انہیں مسائل میں سے جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کا مسئلہ بھی ہے۔ پیش نظرتحریر اہل سنت کے وسیع نظر مفتی حضرت مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی کی ہے جو ٹیلی فون اور موبائل کے ذریعے رویت ہلال کے ثبوت میں وارد ہونے والے شبہات و اعتراضات کا بلیغ علمی ازالہ کرتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ تحریر جدید ذرائع ابلاغ سے رویت ہلال کے ثبوت کے باب میں ایک موثر پیش رفت ثابت ہوگی. (ادارہ)

سوال: ٹیلی فون اور موبائل کے ذریعہ استفاضہ خبر کا تحقق ہوکر رمضان وغیرہ کے چاند کا ثبوت ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جواب: کسی شہر سے ٹیلی فون اور موبائل کے ذریعے نہیں خود آکر بھی کچھ لوگ یہ گواہی دیں کہ وہاں لوگوں نے چاند دیکھا ہے یا فلاں سنی صحیح العقیدہ متدین عالم دین نے لوگوں کو روزہ رکھنے یا عید کرنے کے لئے کہا ہے تو وہ بھی وہ استفاضہ جو شرعاً حجت ہے، متحقق نہیں ہوگا۔ (فتح القدیر جلد ۲/ ص ۲۴۳)

پھر اس کے حوالے سے تنبیہ الغافل والوسنان ص ۲۵۲ میں ہے:

لوشہد جماعۃ ان اہل بلد کذا رأوا ہلال رمضان قبلکم بیوم فصاموا وہذا الیوم ثلاثون بحسابہم ولو یرہٰولاء الہلال لایباح لہم فطر غدو لا تترک التراویح ہٰذہ الیلۃ لان ہٰذہ الجماعۃ لم یشہدوا بالرویۃ ولاعلی شہادۃ غیرہم وانما حکوا رویۃ غیرہم

ایک جماعت یہ گوہی دے کہ فلاں شہر کے لوگوں نے ایک دن پہلے رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھا تھا جس کے حساب سے آج رمضان کی تیسویں تاریخ ہے، لیکن آج یہاں چاند دیکھا نہیں گیا تو آج کی رات تراویح چھوڑ دینا جائز ہے، نہ اس بناء پر کل عید کرنا جائز۔ کیونکہ اس جماعت نے اپنے دیکھنے کی گواہی دی، نہ دیکھنے والوں کی گواہی پر گواہی دی بلکہ دوسروں کو دیکھنے کو بیان کیا۔

علامہ شامی نے ردالمحتارج ۳/ ص۳۵۹ میں بھی فتح القدیر کے حوالے سے یہی عبارت نقل کرکے فرمایا:

قلت: وکذا… ان قاضی  تلک المصر امر الناس بصوم رمضان لانہ حکایۃ لفعل القاضی ایضاً ولیس بحجۃ

میں کہتا ہوں… اسی طرح اگر یہ گواہی دے کہ فلاں شہر کے قاضی نے لوگوں کو رمضان کے روازہ رکھنے کے لئے کہا ہے تو بھی گواہی نہیں مانی جائے گی کیونکہ یہ کہنا بھی قاضی کے فعل کی حکایت ہے اور قاضی کا فعل دلیل شرعی نہیں۔

ہاں! (الف) جس شہر میں لوگ سنی صحیح العقیدہ عالم دین کے فیصلے پر ہی روزہ و عید کرتے ہیں، اس شہر سے اتنے زیادہ لوگ خود آکر خبر دیں کہ یہاں سنی حضرات نے بربنائے رویت روزہ رکھا ہے یا عید کررہے ہیں بلکہ احتیاطاً اپنی طرف سے بھی ان نمبروں پر فون کرکے مزید اطمینان کرلیا جائے کہ انہیں لوگوں نے ٹیلی فون اور موبائل پر خبر دی ہے۔ اسی طرح دوسرے معلوم نمبروں پر بھی فون کرکے تصدیق حاصل کرلی جائے جس سے چاند ہوجانے کا ظن غالب ملحق بہ یقین ہوجائے تو اس استفاضۂ خبر کا تحقق ہوجائے گا جو شرعاً حجت ہے۔ کیونکہ استفاضۂ خبر سے ہی مقصود ہے۔

فتاویٰ رضویہ ج ۴ ص ۵۵۲ تا ۵۵۳ مترجم ج۱۰/ص۴۱۵ تا ۴۱۷ میں ہے:

جس اسلامی شہر میں… قاضی شرع نہیں، تو مفتی اسلام مرجع عوام و متبع الاحکام ہوکہ احکام روزہ عیدین اسی کے فتوے سے نفاذ پاتے ہیں… وہاں سے متعدد جماعتیں آئیں اور سب بیک زبان اپنے علم سے خبر دیں کہ وہاں فلاں دن بربنائے رویت روزہ ہوا یا عید کی گئی… یہ خبر اگرچہ نہ خود اپنی رویت کی شہادت ہے نہ کسی شہادت پر شہادت، مگر اس مستفیض خبر سے بالیقین یا بہ غلبہ ظن ملحق بالیقین وہاں رویت وصوم و عید کا ہونا ثابت ہوگا اور جبکہ وہ شہر اسلامی اور احکام حکام کی وہاں پابندی دوامی ہے، تو مظنون ہوگا کہ امر بحکم واقع ہوا تو اس طریقہ سے قضائے قاضی کی حجت شرعیہ ہے (ضمناً) ثابت ہوجائے گی۔

رد المحتار میں ہے:

ہذہ الاستفاضۃلیس فیہا شہادۃ علی قضاء قاض ولاعلی شہادۃ لکن لما کان بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بہا ان اہل تلک البلدۃ صاموا یوم کذا لزم العمل بہا لان البلدۃ لاتخلوعن حاکم شرعی عادۃ فلابدمن ان یکون صومہم مبنیا علی حکم حاکمہم الشرعی فکانت تلک الاستفاضۃ بمعنی نقل الحکم المذکور۔

اسی میں ہے:

قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلک البلدۃ جماعات متعد دون کل منہم یخبر عن اہل تلک البلدۃ انہم صاموا عن رویۃ، لامجرد الشیوخ الخ

تنبیہ الغافل والوسنان میں ہے:

لماکانت الاستفاضۃ بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بہا ان اہل تلک البلدۃ صاموا یوم کذا لزم العمل بہا لان المراد بلدۃ فیہا حاکم شرعی کما ہو العادۃ فی البلاد الاسلامیہ فلا بدان یکون خبرہم مبنیا علی حکم حاکمہم الشرعی فکانت تلک الاستفاضۃ بمعنی نقل الحکم المذکور…

دربارۂ استفاضہ یہ تحقیقی علامہ شامی کی ہے اور اس تقدیر پر وہ شرائط ضرور ہیں کہ صوم وعید بربنائے حکم حاکم شرعی عالم متبع احکام ہوا کرتا ہے۔

(ب) اسی طرح سنی صحیح العقیدہ متدین عالم دین کے ثبوت ہلال کا فیصلہ کرنے کی خبر دیں تو اس استفاصے کا تحقق ہوجائے گا جو شرعاً حجت ہے۔

فتح القدیر ج ۲/ص۲۴۳، پھر بحر الرائق ج ۲/ص۲۷۰، اور تنبیہ الغافل والوسنان للعلامۃ الشامی ص ۲۵۲ میں ہے:

ولو شہدوا ان قاضی بلدۃ کذا شہد عندہ اثنان برؤیۃ الہلال فی لیلۃ کذا وقضی بشہادتہما جاز لہذا القاضی ان یحکم بشہادتہما لان قضاء القاضی حجۃ وقد شہدوا بہ انتھی

اگر یہ گواہی دے کہ قاضی کے پاس دو آدمیوں نے فلاں رات چاند دیکھنے کی گواہی دی اور قاضی نے ان کی گواہی پر چاند ہوجانے کا فیصلہ کردیا تو اب مان لیا جائے گا کیونکہ قاضی کا یہ فیصلہ دلیل شرعی ہے اور جماعت نے اس کی گواہی دی۔

فتاویٰ رضویہ مترجم ج ۱۰ کے ص ۳۷۹ میں ہے:

جس شہر میں قاضی شرع ہو اوراسی کے حکم سے وہاں روزہ وعید ہوا کرتے ہوں، وہاں سے لوگ گروہ کے گروہ آئیں اور بالاتفاق اس حاکم شرع کا حکم بیان کریں (تو استفاضۂ شرعی متحقق ہوجائے گا اور قضائے قاضی کہ حجت شرعیہ ہے صراحتاً ثابت ہوجائے گی)

(ج) یونہی یہ بتائیں کہ وہاں ہمارے سامنے لوگ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرتے تھے، تو بھی استفاضۂ شرعی متحقق ہوگا۔

فتاویٰ رضویہ ہی میں ہے : اور ایک صورت یہ بھی متصور کہ دوسرے شہر سے جماعات کثیرہ آئیں اور سب بالاتفاق بیان کریں کہ وہاں ہمارے سامنے لوگ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرتے تھے جن کا بیان مورث یقین شرعی تھا۔ ظاہراً اس تقدیر پر وہاں کسی حاکم شرع کا ہونا ضروری نہیں کہ رویت فی نفسہا حجت شرعیہ ہے (۴۱۷)

(د) ایسے ہی اپنی ر ویت کی خبر دیں، تو بھی استفاضۂ شرعی کا تحقق ہوجائے گا کیونکہ جب دوسروں کے تعلق سے یہ کہنے پر کہ وہاں لوگ اپنی آنکھوں سے چاند دیکھنا بیان کرتے تھے، استفاضۂ شرعی کا تحقیق ہوجاتا ہے تو اپنے بارے میں یہ کہنے سے کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھا ہے، بدرجہ اولیٰ استفاضہ شرعی کا تحقق ہوجائے گا۔

شبہ: اعلیٰ حضرت نے تار کی خبر سے استفاضۂ شرعی کا تحقق تسلیم نہیں کیا ہے، تو ٹیلی فون اورموبائل سے کیسے تحقق ہوجائے گا؟

ازالہ شبہ: اعلیٰ حضرت نے تار سے استفاضہ شرعی کا تحقق نہ ہونے کی وجہیں یہ بیان کی ہیں:

(الف) جو چاہے تار گھر میں جائے اور جس کے نام سے چاہے تار دے آئے، وہاں نام اور نسب کی کوئی تحقیقات نہیں ہوتی۔ بالفرض اگر اصل خبر میں کوئی خلل شرعی نہ ہوتا تو ہم اس کا جامۂ اعتبار تار میں آکر یکسر تار تار، کہ وہ بیان ہم تک اصالۃ نہ پہنچا بلکہ نقل در نقل ہوکر آیا (فتاویٰ رضویہ ج ۱۰/ص۳۶۳)

(ب) نہ یہاں حد تواتر تک پہنچنا معقول کہ دس نہیں ہزار جگہ سے تار آئیں، ہم کو تو ایک ہی تار گھر سے ملیں گے اور کہیں دوچار بھی ہوئے تو یہ تواتر نہیں (۳۶۹)

(ج) یہاں اگر متعدد جگہ سے خط یا تار آئے بھی تو اولادً وہ ان وجوہ ناجوازی سے جنہیں ہم نے فتویٰ میں مفصلاً ذکر کیا، ہرگز بیان مقبول کے سلسلے میں نہیں آسکتے۔ ڈاک کے منشی، تار کے بابو، چٹھی رساں اکثر کفار یا عموماً مجاہیل یا فساق فجار ہوتے ہیں اور بفرض باطل آئیں بھی تو یہ تعدد مخبر عنہ میں ہوا نہ کہ مخبرین میں کہ یہاں تار لینے والے بابو اگر مسلمان ثقہ ہوں بھی تو ہرگز اتنی جماعت متعدد نہ ہوں گی جن کی اخبار پر یقین شرعی حاصل ہو، بالکل عامۂ بلاد میں صرف دو ایک ہی تار گھر ہوتے اور صدر ڈاک خانہ تو ایک ہی ہوتا ہے۔ اگرچہ بڑے شہر میں تقسیم کے لئے دوچار برانچ اور بھی ہوں (۴۲۷)

اور ظاہر ہے کہ سطور بالا میں موبائل اور جن ٹیلی فونوں کا اور جس طرح ان سے ملی ہوئی خبروں پر اطمینان و تصدیق کا تذکرہ ہوا، ان میں تار کے تعلق سے بیان شدہ وجوہ ناجوازی نہیں پائی جاتی ہیں۔ موبائل اور ان ٹیلی فون سے خبر نہ تو نقل در نقل ہوکر آتی ہے اور نہ ہی ایک ہی واسطہ سے ہم تک پہنچتی ہے۔

شبہ: اعلیٰ حضرت نے ٹیلی فون کی خبر کوبھی امور شرعیہ میں نامعتبر قرار دیا ہے تو اس سے استفاضۂ شرعیہ کا تحقق کیسے ہوجائے گا؟

ازالہ شبہ: پہلی بات تو یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کے زمانہ کو تو سو سال ہوگئے۔ آج سے تیس پینتیس سال پہلے بھی ٹیلی فون سے خبر کی یہ صورت نہیں تھی جو صورت آج ہے۔ اس وقت ٹیلی فون سے بات کرنے کے لئے پہلے مقامی ایکسچینج میں کال بک کرانی پڑتی تھی۔ پھر مقامی ایکسچینج دوسرے ایکسچینج سے رابطہ کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ ایکسچینج اس ٹیلی فون سے رابطہ کرنے کے بعد بطرز معکوس ٹیلی فون کرنے والے سے بات کراتے تھے، جس میں بسا اوقات گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا اور اب ٹیلی فون ہو یا موبائل، ان سے بات کرنے کے لئے ان واسطوں کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ آپ جن سے بات کررہے ہوتے ہیں، ان کا نمبر آپ کی نگاہ میں اور جو آپ سے بات کررہا ہوتا ہے۔ آپ کا نمبر ان کے سامنے ہوتا ہے بلکہ دونوں جانب تھری جی (3G) موبائل ہو تو آپ ان کو اور وہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اعلیٰ حضرت نے ٹیلی فون کے ذریعہ بیان کو استفاضۂ خبر کے تعلق سے نامعتبر نہیں قرار دیا تھا، بلکہ شہادت کے تعلق سے نامعتبر قرار دیا تھا، وہ بھی اس صورت میں جبکہ دونوں دوبدو نہ ہوں اور دوبدو ہوں تو شہادت کے باب میں بھی معتبر قرار دیا تھا۔

فتاویٰ رضویہ مترجم ج ۱۰/ص۳۶۷ میں ہے:

تار کی حالت ٹیلی فون درکنار، خط سے بھی بہت گری ہے… اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ خط بھی معتبر نہیں… تو شرعاً تار پر عمل کیونکر ممکن! یونہی ٹیلی فون کہ اس میں شاہد و مشہود نہیں ہوتا، صرف آواز سنائی دیتی ہے۔

اسی میں ص ۳۷۰ پر ہے: ٹیلی فون دینے والا اگر سننے والے کے پیش نظر نہ ہو تو امور شرعیہ میں اس کا کچھ اعتبار نہیں۔ اگرچہ آواز پہچانی جائے کہ آواز آواز کے مشابہ ہوتی ہے۔ اگر وہ شہادت دے معتبر نہ ہوگی۔ ہاں… اگر وہ اس کے پیش نظر ہے جسے دوبدو، آمنے سامنے سے تعبیر کرتے ہیں، یعنی اس کی دونوں آنکھیں اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہوں۔ ایک دوسرے کو دیکھ رہا ہو اور ٹیلی فون کا واسطہ صرف بوجہ آواز رسانی کے لئے ہوکہ اتنی دور سے آواز پہنچنا دشوار تھا تو اس صورت میں اس کی بات جس حد تک شرعاً معتبر ہوتی اب بھی ہوگی۔ مثلا خود اپنی رویت کی شہادت ادا کرے تو مانی جائے گی اگر وہ مقبول الشہادت ہے۔

شبہ: شامی میں علامہ رحمتی کے حوالے سے استفاضہ کی جو تعریف کی گئی ہے اس میں: ان تاتی من تلک البلدۃ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ جبکہ موبائل اور ٹیلی فون کی خبروں میں خبر دینے والا آتا نہیں ہے، تو ٹیلی فون کی خبروں پر استفاضۂ خبر کی تعریف کیسے صادق آئے گی؟

ازالہ شبہ: استفاضہ تو بعد کی چیز ہے، اس زمانہ میں مطلق خبر کے بھی حصول کی کوئی صورت”آئے، گئے’’ بغیر ممکن نہیں تھی۔ اس لئے علامہ رحمتی کی عبارت میں“آنے”کی بات ان کے زمانے کے اعتبار سے ایک امر واقعی تھی، احترازی نہیں کہ اس کے بغیر استفاضہ کا تحقق ہی نہ ہو۔ اگر“آنے” کی قید احترازی ہوتی اور“آنا”ضروری ہوتا تو تار کی خبر سے استفاضہ نہ ہونے سے متعلق اعلیٰ حضرت کو سطروں کی سطریں روشن فرمانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ تار میں خبر دینے والا“آتا”نہیں ہے، اس لئے اس سے استفاضہ نہیں ہوسکتا۔ علاوہ ازیں مطلع صاف ہونے کی صورت میں فقہائے کرام جمع عظیم کی رویت ضروری قرار دیتے ہیں، لیکن جمع عظیم کا اطلاق کتنے افراد پر ہوگا؟ اس سلسلہ میں امام محمد علیہ الرحمہ سے روایت ہے کہ قاضی کو جتنے لوگوں کے بیان پر اعتماد ہوجائے۔ صاحب بحرالرائق نے اسی کو حق کہا ہے اور امام ابو یوسف سے بھی ایک روایت یہی نقل کی ہے اور فرمایا ہے کہ ہر طرف سے مسلسل خبر آئے، یہ نہیں فرمایا ہے کہ لوگ آکر خبر دیں۔

چنانچہ تنبیہ الوسنان ص ۲۳۴ میں ہے۔

واذالم یکن فی السماء علۃ الشرط لہلال رمضان والفطر جمع عظیم یقع العلم الشرعی وہو غلبۃ الظن بخبرہم… ہذا ظاہرا الروایۃ ولم یقدر فیہا الجمع العظیم بشئی… وعن محمد تقویضہ الی رایٔ الامام قال فی البحر والحق مارویٔ عن محمد وابی یوسف ایضا ان العبرۃ لتواتر الخبر و مجیہ من کل جانب انتھی وذکر الشرنبلالی وغیرہ تبعا للمواہب ان الاصح روایۃ تقویضہ الی رایٔ الامام

مطلع صاف ہو تو رمضان کا چاند ہو یا عید کا چاند… سب کے ثبوت کے لئے اتنی بڑی جماعت کا دیکھنا شرط ہے جس کی خبر سے علم شرعی یعنی ظن غالب ہوجائے۔ جماعت میں کتنے لوگ ہوں؟ ظاہر الروایۃ میں تعداد متعین نہیں کی گئی ہے۔ امام محمد سے مروی ہے کہ قاضی کو ظن غالب جتنے لوگوں کی باتوں سے ہوجائے۔ بحرالرائق میں ہے کہ حق وہی ہے جو امام محمد اور امام ابو یوسف سے بھی مروی ہے یعنی ہر جانب سے مسلسل خبر آئے۔ شرنبلالی نے مواہب کی اتباع میں قاضی کے ظن غالب ہی کو زیادہ صحیح ٹھہرایا ہے۔

بحرالرائق ج ۲/ص ۲۶۹ میں ہے

وعن محمد استکثرہ الحاکم فہو کثیر وما استقلہ فہو قلیل

امام محمد سے مروی ہے کہ قاضی جس جماعت کو بڑی جماعت سمجھے، وہ بڑی جماعت ہے اور جس جماعت کو چھوٹی سمجھے، وہ چھوٹی جماعت۔

شبہ: علامہ شامی نے ردالمحتار میں استفاضہ کی تعریف علامہ رحمتی کے حوالہ سے ان لفظوں میں نقل کی ہے”جماعات متعددون’’ جن کا ترجمہ اعلیٰ حضرت نے”گروہ در گروہ’’ کے الفاظ سے کیا ہے جبکہ موبائل اور ٹیلی فون میں جماعت یا گروہ کا تصور ہی نہیں ہوسکتا تو اس سے استفاضہ شرعی کا تحقق کیسے ہوجائے گا؟

ازالہ شبہ: خود علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں استفاضہ کی جو تعریف کی ہے اس میں“جماعات متعددون”کے بجائے“الواردین”کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

اعلم ان المراد بالاستفاضۃ تواتر الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت الی بلدۃ التی لم یثبت بہا، لامجرد الاستفاضۃ لانہا قدتکون مبنیۃ علی اخبار رجل واحد مثلا فیشیع الخبر عنہ ولاشک ان ہذا لا یکفی بدلیل قولہم اذا استقاض الخبر وتحقق فان التحقق لایکون الا بماذکرنا

استفاضہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ خبر صرف مشہور ہوجائے، بلکہ جس شہر میں چاند کاثبوت ہوگیا ہے، اس شہر سے آنے والوں کے ذریعہ لگاتار خبر موصول ہو۔

تو معلوم ہوا کہ“جماعت ہو” یا“گروہ” اس سے مقصود یہ ہے کہ مخبرین اتنی تعداد میں ہوں کہ ان کی خبروں سے ظن غالب ہوجائے اور یہ مقصود مخبرین کی اتنی تعداد جن پر”جماعات متعدوہ’’ اور“گروہ درگروہ” صادر آئے، کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ مقصود نہیں ہے کہ مخبرین آئیں یا سارے مخبرین ایک ساتھ ہی خبر دیں، لہذا ٹیلی فون اور موبائل پر اتنے لوگ خبر دیں جن پر جماعات متعدوہ اور گروہ در گروہ صادق آئے اور قاضی کو ظن غالب ملحق بالیقین ہوجائے تو اس استفاضہ کا تحقق ہوجائے گا جو شرعاً حجت ہے۔

فقیر محمد مطیع الرحمن رضوی غفرلہ